سیدنا ابو بکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسواک کرنا منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے والا عمل ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مسواک کا لازمی طور پر اہتمام کرو، کیونکہ یہ منہ کو پاک کرنے والا اور ربّ کو راضی کرنے والا ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیاگیا کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ عنقریب اس کے بارے میں قرآن مجید نازل ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۵۳) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۳۳۰۰، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۱(انظر: ۲۱۲۵)
سیدنا ابن عباسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر زیادہ مسواک کرتے تھے، کہ ہمیں یہ خیال آنے لگا کہ اس کے بارے میں عنقریب قرآن نازل ہو جائے گا۔
سیدنا واثلہ بن اسقع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے مسواک کرنے کا اتنا حکم دیا گیا کہ میں ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کو فرض کر دیا جائے۔
سیدنا ابو امامہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریلؑ جب بھی میرے پاس تشریف لائے، تو انھوں نے مجھے مسواک کرنے کا حکم دیا، میں تو اس بات سے ڈرنے لگ گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ منہ کا سامنے والا حصہ ہی اکھاڑ دوں۔
Takhreej
(۵۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، عبید اللہ بن زحر الافریقی وعلی بن یزید الالھانی ضعیفان ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۹ (انظر: ۲۲۲۶۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ مسواک لوگوں کے بڑے آدمی کو دے دی اور فرمایا: بیشک جبریلؑ نے مجھے بڑے آدمی کو مسواک دینے کا حکم دیا۔
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَرَانِیْ اَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَائَ نِیْ رَجُلَانِ اَحَدُھُمَا اَکْبَرُ مِنَ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْاَصْغَرَ مِنْھُمَا فَقِیْلَ لِیْ: کَبِّرْ، فَدَفَعْتُہٗ اِلَی الْاَکْبَرِ مِنْھُمَا)) … میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں مسواک کر رہا تھا، پس میرے پاس دو آدمی آئے، ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا، پس جب میں نے چھوٹے کو مسواک پکڑانا چاہی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو، پس میں نے بڑے کو دے دی۔ (صحیح بخاری: ۲۴۶)
سیدنا تَمّام بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ جب لوگ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس اس حال میں آئے ہو کہ تمہارے دانتوں پر میل کچیل اور زردی نظر آ رہی ہے، مسواک کیا کرو، اگر امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں نے مسواک کو وضو کی طرح فرض کر دینا تھا۔
فوائد:… امام صنعانی نے کہا: مسواک کی فضیلت میں ایک سو سے زیادہ احادیث منقول ہیں، لیکن بڑا تعجب ہے کہ اتنی کثیر احادیث کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے بلکہ کئی فقہاء نے غفلت برتی ہے، پس یہ بڑی ناکامی ہے۔ (سبل السلام: ۱/ ۴۱)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور نمازِ عشا کو رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک مؤخر کر دیتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب رات کا پہلا ایک تہائی گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور طلوع فجر تک یہیں رہتے ہیں، اس دورانیے میں ایک کہنے والا یہ کہتا رہتا ہے: کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ اس کو دیا جائے، کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کو جواب دیا جائے، کیا شفا طلب کرنے والا کوئی مریض ہے کہ اس کو شفا دے دی جائے اور بخشش طلب کرنے والا کوئی گنہگار ہے کہ اس کو بخش دیا جائے۔
سیدنا زیدبن خالد جہنیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا۔ سیدنا زیدؓجب مسجد کی طرف آتے تھے تو کاتب کے قلم کی طرح ان کے کان پر مسواک ہوتی تھی، جب بھی نماز کھڑی کی جاتی تھی تو وہ نماز سے پہلے مسواک کرتے تھے۔
زوجۂ رسول سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسواک والی نماز کی فضیلت اس نماز پر ستر گنا زیادہ ہے، جس کے ساتھ مسواک نہ کی جائے۔
Takhreej
(۵۶۳) تخریج: حدیث ضعیف، وھذا اسناد منقطع، محمد بن اسحاق لم یسمع ھذا الحدیث من الزھری۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۴۵، والبیھقی: ۱/ ۳۸، وابن خزیمۃ: ۱۳۷(انظر: ۲۶۸۷۱)
زوجہ ٔ رسول سیدہ ام حبیبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر نماز کے ساتھ اس طرح مسواک کرنے کا حکم دے دیتا، جیسے وہ وضو کرتے ہیں۔
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر ہر نماز کے ساتھ مسواک استعمال کرنا چاہیے، اگرچہ وضو نہ بھی کرنا ہو اور اگر مسواک کی وجہ سے مسوڑھوں سے خون وغیرہ نکل آئے تو اس سے وضو متأثر نہیں ہو گا، اس کی مزید وضاحت آگے آ رہی ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا احساس نہ ہوتا تو میں ان کو ہر وضو کے ساتھ مسواک کرنے کا حکم دے دیتا اور نمازِ عشا کو ایک تہائی رات یا نصف رات تک مؤخر کر دیتا۔ ایک روایت میں ہے: میں ان کو ہر نماز کے ساتھ وضو کا اور ہر وضو کے ساتھ نماز کا حکم دے دیتا۔
فوائد:… وضو کے ساتھ مسواک کرنا تو نماز کی خاطر ہے، جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ سے ثابت ہو رہا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کے علاوہ بھی مسواک کرتے تھے، جیسا کہ اگلے ابواب میں وضاحت آ رہی ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے بھی یہ اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث سننے کے بعد سونے سے پہلے، جاگنے کے بعد، کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا تھا۔
Takhreej
(۵۶۶) تخریج: حدیث صحیح، وانظر لمرفوعہ الحدیث السابق
سیدنا ابو موسی اشعری ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر داخل ہوا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ زبان پر تھا اور اوپر کو مسواک کر رہے تھے۔ حماد نے اس کیفیت کو یوں بیان کیا کہ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے مسواک کو اٹھا رہے تھے، پھر حماد نے کہا کہ غیلان نے ہمیں یہ کیفیت بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طول میں مسواک کرتے تھے۔
ابو مطر کہتے ہیں: ہم مسجد میں امیرالمؤمنین سیدنا علیؓ کے پاس رحبہ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو دکھاؤ، یہ زوال کا وقت تھا، پس انھوں نے قنبر غلام کو بلایا اور کہا: پانی کا برتن میرے پاس لاؤ، پس انھوں نے ہتھیلیوں اور چہرے کو تین تین دفعہ دھویا، تین بار کلی کی اور انگلی کو منہ میں داخل کیا اور تین دفعہ ناک میں پانی چڑھایا۔ (پوری حدیث بَابُ صِفَۃِ الْوُضُوْئِ میں آئے گی۔)
Takhreej
(۵۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف المختار بن نافع ولجھالۃ ابی مطر البصری ۔ أخرجہ عبد بن حمید: ۹۵ (انظر: ۱۳۵۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی سوتے تھے، مسواک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہوتی تھی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوتے تو مسواک سے شروع کرتے۔