TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان - ضرورت کے پیش نظرطلاق کے جائز ہونے، ضرورت کے بغیر اس کے ناجائز ہونے اور اس معاملے میں والدین کی اطاعت کا بیان - طلاق کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of طلاق کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 8 · 5 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۷۱۴۷)۔ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَلَّقَ حَفْصَۃَ بِنْتَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ثُمَّ ارْتَجَعَھَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۲۰)
۔ سیدنا عاصم بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کر لیا۔
Takhreej
(۷۱۴۷) تخریج: حدیث صحیح لغیرھ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۳۶۶(انظر: ۱۵۹۲۴)
Explanation
فوائد:… شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کا ایک درج ذیل شاہد بھی بیان کیا: قیس بن زید کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو طلاق دے دی، ان کے دو ماموں قدامہ اور عثمان، جو مظعون کے بیٹے تھے، ان کے پاس گئے، وہ رونے لگ گئیں اور انھوں نے کہا: اللہ تعالی کی قسم! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیر ہو جانے کی وجہ سے مجھے طلاق نہیں دی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے اور کہا: ((قَالَ لِیْ جِبْرِیْلُ علیہ السلام : رَاجِعْ حَفْصَۃَ، فَاِنَّھَا صَوَّامَۃٌ قَوَّامَۃٌ، وَاِنَّھَا زُوْجَتُکَ فِی الْجَنَّۃِ۔)) … جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: حفصہ سے رجوع کر لو، وہ تو بہت روزے رکھنے والی اور بہت قیام کرنے والی ہے اور جنت میں آپ کی بیوی ہے۔ (ابو نعیم نے اس کوالحلیۃ: ۲/ ۵۰ میں اور امام حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ مرسل ہے۔)
7147
Sahih
۔ (۷۱۴۸)۔ عَنْ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ لِی امْرَاَۃً فَذَکَرَ مِنْ طُوْلِ لِسَانِہَا وَإِیْذَائِھَا، فَقَال: ((طَلِّقْہَا))، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّھَا ذَاتُ صُبْحَۃٍ وَوَلَدٍ، قَالَ: ((فَأَمْسِکْہَا وَأْمُرْہَا، فَإِنْ یَکُ فِیہَا خَیْرٌ فَسَتَفْعَلْ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِینَتَکَ ضَرْبَکَ أَمَتَکَ))۔ (مسند احمد: ۱۶۴۹۷)
۔ سیدنا لقیط بن صبرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، پھر انھوں نے اس کی زبان درازی اور تکلیف دینے کی شکایت کی،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ پرانی رفیقہ حیات ہے اور اس سے میری اولاد بھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو اپنے پاس رکھو، البتہ تلقین کرتے رہو، اگر اس میں کوئی خیر و بھلائی ہوئی تو وہ اسے قبول کرے گی، لیکن تم نے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا جس طرح لونڈی کو مارا جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۱۴۸) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ بنحوہ ابوداود: ۱۴۴(انظر: ۱۶۳۸۴)
Explanation
فوائد:…ہر عورت میں خوبیوں کے ساتھ ساتھ بعض نقائص بھی پائے جاتے ہیں، اس بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ بیویوں کے مثبت پہلو کا زیادہ خیال رکھا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح بھی کی جائے۔
7148
Sahih
۔ (۷۱۴۹)۔عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((أیُّمَا اِمْرَاَۃٍ سَألَتْ زَوْجَہَا الطَّلَاقَ مِنْ غَیْرِ مَا بَأسٍ فَحَرَامٌ عَلَیْھَا رَائِحَۃُ الْجَنَّۃِ))۔ (مسند احمد: ۲۲۷۳۸)
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جوعورت بغیر کسی مجبوری کے اپنے خاوند سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے، اس پر جنت کی خوشبو حرام ہو گی۔
Takhreej
(۷۱۴۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۱۸۷ (انظر: ۲۲۳۷۹)
Explanation
فوائد:…اگر کوئی شرعی عذر ہو تو عورت خلع لے سکتی ہے، یا طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
7149
Sahih
۔ (۷۱۵۰)۔عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلٰی خِطْبَۃِ اَخِیْہِ، وَلَا تُنْکَحُ الْمَرْأۃُ عَلٰی عَمَّتِھَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَا تَسْألُ طَلَاقَ أُخْتِھَا لِتَکْتَفِیَٔ مَا فِیْ صَحْفَتِہَا وَلْتَنْکِحْ فَاِنَّمَا لَھَا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَھَا))۔ (مسند احمد: ۱۰۶۱۳)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی نہ کرے، کسی خاتون سے اس کی پھوپھی اور خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عوررت اپنی بہن کی طلاق کا سوال نہ کرے، تاکہ وہ اس کے پیالے میں جو کچھ ہے، اس کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ نکاح کر لے، کیونکہ اس کو وہ کچھ مل جائے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں لکھا ہو گا۔
Takhreej
(۷۱۵۰) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۴۰۸(انظر: ۱۰۶۰۵)
Explanation
فوائد:…اسلام نے مرد کو چار شادیوں کا حق دیا ہے، اگر کوئی آدمی دوسری شادی کرنا چاہے تو اس خاتون کو یہ شرط نہیں لگانی چاہیے کہ وہ پہلی بیوی کو طلاق دے دے، اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالی پر بھروسہ کر کے نکاح کرے، اللہ تعالی حالات کو سنوارنے پر قادر ہے۔
7150
Sahih
۔ (۷۱۵۱)۔عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَتْ تَحْتِی امْرَأَۃٌ أُحِبُّہَا وَکَانَ عُمَرُ یَکْرَہُہَا فَأَمَرَنِی أَنْ أُطَلِّقَہَا فَأَبَیْتُ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّ عِنْدَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ امْرَأَۃً کَرِہْتُہَا لَہُ فَأَمَرْتُہُ أَنْ یُطَلِّقَہَا فَأَبٰی فَقَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَا عَبْدَ اللّٰہِ! طَلِّقْ امْرَأَتَکَ۔)) فَطَلَّقْتُہَا۔ (مسند احمد: ۵۰۱۱)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے عقد نکاح میں ایک عورت تھی، مجھے اس سے بہت محبت تھی، لیکن میرے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، پس انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اس کو طلاق دے دوں،لیکن میں نے انکار کر دیا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ بن عمر کی ایک بیوی ہے، مجھے وہ ناپسند ہے، میں نے اس سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے، لیکن اس نے انکار کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد اللہ! اپنی بیوی کو طلاق دے دو۔ سو میں نے اسے طلاق دے دی۔
Takhreej
(۷۱۵۱) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۱۱۸۹، والنسائی: ۵/۳۳۹ (انظر: ۵۰۱۱)
Explanation
فوائد:…معلوم ہوا کہ والدین کا حکم نفس کی خواہشات پر مقدم ہے، جب اُن کا حکم دین کے موافق ہو گا، کیونکہ ظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس خاتون کو قلتِ دین کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں گے۔
7151
Sahih