TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان - اکٹھی اور الگ الگ تین طلاقوں کا بیان - طلاق کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 3 of طلاق کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 8 · 3 Hadith
۔ (۷۱۵۷)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ طَلَّقَ رُکَانَۃُ بْنُ عَبْدِ یَزِیدَ أَخُو الْمُطَّلِبِ امْرَأَتَہُ ثَلَاثًا فِی مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَیْہَا حُزْنًا شَدِیدًا، قَالَ فَسَأَلَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((کَیْفَ طَلَّقْتَہَا؟)) قَالَ: طَلَّقْتُہَا ثَلَاثًا، قَالَ فَقَالَ: ((فِی مَجْلِسٍ وَاحِدٍ۔)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّمَا تِلْکَ وَاحِدَۃٌ فَارْجِعْہَا إِنْ شِئْتَ۔)) قَالَ: فَرَجَعَہَا فَکَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ یَرٰی أَنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ کُلِّ طُہْرٍِِِِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو مطلب والے سیدنا رکانہ بن یزید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں اور پھر بہت سخت غمگین ہوئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے پوچھا: تم نے کس طرح طلاق دی ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک ہی مجلس میں۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ تو ایک ہی ہے، اگر رجوع کرنا چاہتے ہوتو کر لو۔ پس انھوں نے رجوع کر لیا، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے تھی کہ طلاق ہر طہر میں دی جائے۔
Takhreej
(۷۱۵۷) تخریج: قال الالبانی: فلا أقل من أن یکون الحدیث حسنا بمجموع الطریقین عن عکرمۃ ومال ابن القیم إلی تصحیحہ (ارواء الغلیل: ۷/ ۱۳۹)، أخرجہ ابوداود: ۲۱۹۶، ۲۲۰۶(انظر: ۲۳۸۷)
7157
Sahih
۔ (۷۱۵۸)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ الطَّلَاقُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأبِیْ بَکَرٍ وَسَنَتَیْنِ مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَۃٌ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ قَدِ اسْتَعْجَلُوْا فِیْ أمْرٍ کَانَ لَھُمْ فِیْہِ أنَاۃٌ فَلَوْ اَمْضَیْنَاہُ عَلَیْھِمْ فَأمْضَاہُ عَلَیْھِمْ۔ (مسند احمد: ۲۸۷۵)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دور خلافت میں اور سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زمانۂ خلافت کے شروع کے دو برسوں میں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگ اس کام میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، جس میں انہیں نہایت سوچ بچار سے قدم رکھنا چاہیے تھا، لہٰذا اگر ہم تینوں طلاقیں جاری ہونے کا فیصلہ کر دیں، پھر انھوں نے یہ فیصلہ جاری کر دیا۔
Takhreej
(۷۱۵۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۲(انظر: ۲۸۷۵)
Explanation
فوائد:…سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا یہ فیصلہ تعزیر اور سزا کے طور پر تھا، یہ ایک سیاسی اور انتظامی مسئلہ تھا، شرعی حکم اپنی جگہ پر برقرار ہے، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے میں اختیار کیا جاتا تھا، حنفی علماء نے بھی اس کو تعزیری اور سیاسی فیصلہ تسلیم کیا ہے جو کہ ایک حاکم وقت بعض اوقات جاری کر دیتا ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فقہ حنفی کی معروف کتاب جامع الرموز کتاب الطلاق اور حاشیہ طحطاوی۔
7158
Sahih
۔ (۷۱۵۹)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِ نِ السَّاعَدِیِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنْ عُوَیْمَرٌ أخُوْ بَنِی الْعََجْلَانِ إِمْرَئَ تَہُ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَلَمْتُہَا اِنْ اَمْسَکْتُہَا، ھِیَ الطَّلَاقُ وَھِیَ الطَّلاقُ وَھِیَ الطَّلاقُ (وَفِیْ لَفْظٍ) فَطَلَّقَھَا ثَلَاثًا قَبْلَ أنْ یَأمُرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ) قَالَ: فَصَارَتْ سُنَّۃَ الْمُتَلاعِنَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۹)
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب بنو عجلان کے آدمی سیدنا عویمر نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! اب اگر میں لعان کے بعد بھی اس کو اپنے گھر رکھوں تو یہ تو میرا اس پر ظلم ہو گا، لہٰذا اسے طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے۔ ایک روایت میں ہے: انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم سے پہلے ہی اس کو تین طلاقیں دے دیں۔ ایک روایت میں ہے: یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
Takhreej
(۷۱۵۹) تخریج: أخرجہ مطولا ومختصرا البخاری: ۴۲۳، ۴۷۴۵، ۴۷۴۶، ۵۳۰۹، ۷۱۶۶، ۷۳۰۴، ومسلم: ۱۴۹۲(انظر: ۲۲۸۳۱)
Explanation
فوائد:…اس روایت میں تین طلاقوں کا بیک وقت اثر انداز ہو جانا، اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، کیونکہ لعان سے نکاح خود بخود ختم ہو جاتا ہے، طلاق کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی، آگے چل کر لعان کی وضاحت ہو گی، جبکہ مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہو چکا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد ِ مبارک میں تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھیں، اس سے معلوم ہوا کہ طلاقٰن تین دی تو جاتی تھیں، لیکن اثر ایک طلاق کا ہوتا تھا۔
7159
Sahih