۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلع لینے والی اور خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔
Takhreej
(۷۱۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فالحسن البصری لم یسمع من ابی ھریرۃ، أخرجہ النسائی: ۶/ ۱۶۸ (انظر: ۹۳۵۸)
Explanation
فوائد:…منافق سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو بظاہر خاوند کا مطیع ثابت کرتی ہے، لیکن اندرونِ خانہ نافرمان ہے، لہٰذا وہ منافق ہے۔
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہ ، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ خوش شکل نہ تھے، اس لیے سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا ڈر آڑے نہ آتا ہو تو میں ثابت کودیکھ کر اس کے چہرے پر تھوک دوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حبیبہ! کیا تو وہ باغ، جو ثابت نے حق مہر کے طور پر دیا تھا، وہ اسے واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت کے ہاں پیغام بھیجا، وہ آئے، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ان کو وہ باغ لوٹا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی، یہ اسلام میں سب سے پہلا پیش آنے والا خلع تھا۔
Takhreej
(۷۱۷۳) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۲۰۵۷ (انظر: ۱۶۰۹۵)
۔ سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ فجر کے لیے باہر تشریف لائے تو حبیبہ کو اپنے دروازے پر پایا، جبکہ ابھی تک اندھیرا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، خیر تو ہے؟ انھوں نے کہا:میں اور میرا خاوند ثابت، بس اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت کو بلایا، وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے مجھے اپنی دلی کیفیت بتائی ہے، یہ تمہارے پاس نہیں رہنا چاہتی۔ اتنے میں سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ میرے پاس موجود ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ اپنا مال لے لو۔ پس انھوں نے اس سے مال لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔
فوائد:…سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ باکردار اور بااخلاق تھے حتیٰ کہ ان کی بیوی نے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ ان کے اخلاق اور دین پر کوئی نکتہ چینی نہیں کر سکتی، لیکن اسلام نے خاوند کی ناشکری سے منع کیا ہے، ان کے خوش شکل نہ ہونے کی وجہ سے ان کی بیوی ان کے ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی۔
۔ سیدنا سعد بن ہشام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر مدینہ کی جانب سفر کیا تاکہ وہاں موجود اپنی جاگیر کو فروخت کریں اور اسے ہتھیار اورگھوڑے خریدنے پر صرف کریں اور رومیوں کے خلاف جنگ کرتے ہوئے شہید ہو جائیں، اس دوران ان کی ملاقات اپنے قبیلہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ ہوئی، انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں چھ افراد نے اسی طرح کا عزم ظاہر کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ کیا تمہارے لیے میرے اندر عمدہ نمونہ نہیں ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا، یہ سن کر سیدنا سعد نے انہیں گواہ بنا کر کہا کہ اس نے اپنی بیوی سے رجوع کیا، پھر وہ ہماری طرف آئے اور ہمیں بتایا کہ وہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے وتر کے متعلق سوال کیا، پھر طویل حدیث بیان کی۔
فوائد:…ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَھُنَّ فَاَمْسِکُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْھُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَاَشْھِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْکُمْ وَاَقِیْمُوْا الشَّھَادَۃَ لِلّٰہِ} … پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں یا تو قاعدہ کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں الگ کر دو اور آپس میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ کر لو اور اللہ کی رضامندی کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔ (سورۂ طلاق: ۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہوں، پھر کسی دوسرے شخص نے اس سے شادی کر کے دروازہ بند کیا ہو اور پردہ لٹکا لیا ہو (یعنی خلوت میں لے گیا ہو)،لیکن پھربغیر جماع کیے اسے طلاق دے دے، تو کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہو سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک دوسرا شوہر اس سے جماع کرکے لطف اندوز نہ ہو لے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا،جس نے اپنی بیوی کو (تین) طلاقیں دے دیں، پھر اس عورت نے کسی دوسرے شخص سے شادی کرلی، پھر وہ اس کے پاس تو گیا لیکن جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی، اب کیا وہ پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ عورت تب تک پہلے شوہر سے نکاح نہیں کر سکتی، جب تک دوسرا شوہر اور وہ باہمی طور پرجنسی تعلق سے لطف اندوز نہ ہو لیں۔
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں! جب تک وہ دونوں ایک دوسرے سے جنسی تعلق قائم کر کے لطف اندوز نہ ہو لیں۔
۔ سیدنا عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غمیصاء یا رمیصاء نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اپنے خاوند کی شکایت کی اور اس نے یہ تاثر بھی دیا کہ اس کا خاوند اس تک پہنچ نہیں پاتا (یعنی اس میں جماع کی صلاحیت نہیں ہے) ،تھوڑی دیر تک اس کا خاوند بھی آ گیا اور اس نے بتایا کہ یہ غلط بیانی سے کام لے رہی ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ کسی طرح پہلے خاوند کے پاس چلی جائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: اس کی تجھے اس وقت تک اجازت نہیں، جب تک دوسرا مرد تجھ سے بذریعہ نکاح لطف اندوز نہ ہو جائے۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی آئی، جبکہ میں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، وہ کہنے لگی کہ رفاعہ نے مجھے طلاق بتّہ دے دی ہے اور سیدنا عبد الرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میری شادی ہو گئی ہے، لیکن اس کا خاص عضو تو میرے اس کپڑے کے جھالر کی طرح ہے، پھر اس نے اپنی چادر کا جھالر پکڑ کر وضاحت کی، اُدھر سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی، انھوں نے باہر سے ہی کہا: اے ابوبکر! تم اس خاتون کو منع کیوں نہیں کرتے، یہ کس طرح کھلے انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس قسم کی باتیں کر رہی ہے، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بس زیر لب مسکرا دیا اور کچھ نہ کہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرا ارادہ یہ ہے کہ تو دوبارہ رفاعہ کے پاس چلی جائے، نہیں، بالکل نہیں، تو اس وقت تک نہیں جا سکتی، جب تک کہ تو اس خاوند سے مزہ نہ اٹھا لے اور وہ تجھ سے لطف اندوز نہ ہو لے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: پھر وہ عورت دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ اس کا شوہر اس سے جماع کرچکاہے، لیکن پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہلے شوہر کی طرف لوٹنے سے منع کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! اگراس عورت کا ارادہ یہی ہے کہ وہ رفاعہ کے لئے اسے حلال کرے تو اس کا دوبارہ نکاح پو را نہ ہو۔ بعدازاں وہ عورت سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں ان کے پا س (اسی غرض) سے آئی تو ان دونوں نے بھی اسے منع کردیا۔
Takhreej
(۷۱۸۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، عطاء الخراسانی صاحب اوھام کثیرۃ، ثم ھو لم یسمع من ابن عباس (انظر: ۳۴۴۱)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو (تین) طلاقیں دیں، اس نے دوسرے خاوند سے شادی کر لی، وہ اس کے پاس آیا، لیکن اس کا عضو خاص کپڑے کی جھالر کی مانند تھا، وہ اس کے قریب صرف ایک مرتبہ ہی آیا تھا اور اس بار بھی جماع نہ ہو سکا، اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور کہا: کیا میں پہلے خاوند کے حق میں حلال ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنے پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہو سکتی، تاوقتیکہ دوسرا خاوند تجھ سے لذت اندوز نہ ہو جائے اور تو اس سے لذت اندوز نہ ہو جائے۔
فوائد:…ارشادِ باری تعالی ہے: {فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ فَاِنْ طَلَّقَھَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یَّتَرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّآ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ} … پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں، جب تک کہ وہ عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۰)