TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے - اگر خاوند خرچہ پورا نہ دے تو بیوی بغیر پوچھے خاوند کے مال سے پورا لے سکتی ہے - نفقہ کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of نفقہ کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 5 · 2 Hadith
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ہند ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! روئے زمین کے خیموں میں سے آپ کے خیمے سے بڑھ کر کوئی خیمہ ایسا نہ تھا جس کی ذلت مجھے پسند تھی، یعنی سب سے زیادہ آپ کے خیمہ والے تھے جنہیں میں ذلیل دیکھنا چاہتی تھی کہ اللہ انہیں ذلیل کرے، لیکن آج روئے زمین پر کوئی خیمے والے ایسے نہیں جن کے متعلق میں پسند کرتی ہوں کہ انہیں اللہ تعالیٰ عزت دے یعنی اب آپ کے خیمے والے ہی معزز دیکھنا چاہتی ہوں، اس کے جواب میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، یہی کیفیت دونوں طرف سے تھی، اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! پھر ہند نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان کنجوس آدمی ہیں، بچوں کا پورا خرچہ نہیں دیتے، اس میں کوئی حرج تو نہیں اگر ان کی اجازت کے بغیر میں بچوں کی عیالداری کے لیے ان کے مال میں سے کچھ لے کر خرچ کر دوں؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر آپ اچھے طریقہ سے خرچ کرنے کے لیے لے لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
Takhreej
(۷۲۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۴۶۰، ۵۳۵۹، ومسلم: ۱۷۱۴(انظر: ۲۵۸۸۸)
7262
Sahih
۔
۔ (دوسری سند)سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند ابو سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ایک کنجوس آدمی ہے، وہ مجھے اتنا خرچہ نہیں دیتا جو میری اولاد کے لیے کافی ہو، کفایت اس صورت میں کرتا ہے کہ میں اس کو بتلائے بغیر ہی ان کے مال میں سے کچھ لے لوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو اسے اچھے طریقہ سے لے سکتی ہو۔
Takhreej
(۷۲۶۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:…ایسی خاتون کے لیے انتہائی ضروری احتیاط یہ ہے کہ وہ جو خرچ لے، وہ عرف اور معتدل معاشرے کے مطابق ہو، مثلا اس کی خاوند کی حیثیت کے لوگون کا کھانا پینا، لباس، بچوں کی تعلیم وغیرہ کیسے ہے، اگر اس نے معروف طریقے سے زیادہ خرچ لیا تو وہ خائن قرار پائے گی، بہتر ہے کہ ایسی خاتون کسی سمجھدار اور راز دار آدمی سے مشورہ کر لے۔
7263
Sahih