TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

لہو و لعب کے بارے میں مسائل - لہو و لعب کے بارے میں مسائل - Book 139 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 139 of Musnad Ahmad, with 6 chapters and 28 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

28 Hadith · 6 Chapters
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
۔
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔
Takhreej
(۷۸۷۱) تخریج: حدیث حسن بمجموع طرقہ وشواھدہ، أخرجہ ابوداود: ۲۵۱۳ وأخرج القطعۃ الاخیرۃ بنحوہ مسلم: ۱۹۱۹ (انظر: ۱۷۳۰۰)
Explanation
فوائد:… تیر اندازی اور گھوڑے کی تربیت کا تعلق جہاد سے ہے، اس لیے یہ بڑے عظیم اعمال ہیں، البتہ عورت کے ساتھ کھیلنا ، اس سے میاں بیوی کے مابین بڑی محبت پیدا ہوتی ہے، اس لیے جائز کھیل کا اہتمام کرنا چاہیے، جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دوڑ کا مقابلہ کیا تھا۔
7871
Sahih
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
۔
۔ (دوسری روایت) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔
Takhreej
(۷۸۷۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
7871
Sahih
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، میں آگے نکل گئی، پھر ہم کچھ عرصہ ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میرا وجود بھاری ہو گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر مجھ سے مقابلہ کیا اور اس بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آگے نکل گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اُس کے مقابلے میں ہے۔
Takhreej
(۷۸۷۲) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ ابوداود: ۲۵۷۸(انظر: ۲۶۲۷۷)
7872
Sahih
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھی، میں ابھی لڑکی ہی تھی، اس لیے آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم آگے نکل جاؤ۔ پس وہ آگے چلے گئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا: آئو میں تم ست دوڑ کا مقابلہ کرتا ہوں۔ پھر مذکورہ بالا روایت کا باقی حصہ ذکر کیا۔
Takhreej
(۷۸۷۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
7873
Sahih
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ حبشہ کے لوگ عید کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ہتھیاروں سے کھیل رہے تھے، میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے اوپر سے کھیل کی طرف دیکھ رہی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دئیے تھے، پس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں پر سے ان کے کھیل کو دیکھتی رہی حتیٰ کہ میں خود اپنی مرضی کے مطابق پیچھے ہٹی۔
Takhreej
(۷۸۷۴) تخریج: أخرجہ البخاری:۵۱۹۰، ومسلم: ۸۹۲(انظر: ۲۴۲۹۶)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کا دل بہلانے کی کوشش کرتے تھے، یہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت اور حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کا ایک طریقہ ہے، اس موضوع سے متعلقہ روایات کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۷۱۲۵) کا باب۔
7874
Sahih
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
۔
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک سیاہ فام لونڈی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک غزوہ سے واپس لوٹے تھے، اس نے آکر کہا: میں نے نذرمان رکھی تھی کہ اگر اللہ تعالی آپ کو صحت و سلامتی کے ساتھ واپس لوٹائے گا تو میں دف بجائوں گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تونے یہ نذر مانی ہے تو اسے پورا کرلے اور اگر ایسی بات نہیں ہے تو اس طرح نہ کر۔ پس اس نے دف بجایا، اتنے میں جب سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے تو وہ بجاتی رہی، اور بھی لوگ آتے رہے اور وہ بجاتی رہی، لیکن جب سیدنا ت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ داخل ہوئے تو اس نے دف اپنے پیچھے رکھ دی اور کپڑا اوڑھ لیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمر! تجھ سے شیطان بھی ڈرتا ہے، میں بیٹھا ہوا تھا، یہ دف بجارہی تھی، یہ یہ افراد بھی آئے، لیکن یہ دف بجاتی رہی، جب تو داخل ہوا تو اس نے ایسے ایسے کر لیا۔
Takhreej
(۷۸۷۵) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ الترمذی: ۳۶۹۰ (انظر: ۲۲۹۸۹)
Explanation
فوائد:… عربوں کادف گول اور چھلنی کی شکل کا ہوتا ہے، اس کے چمڑے میں سوراخ نہیں ہوتے اور اس میں گھنٹیاں اور گھنگرو لگے ہوتے ہیں۔
7875
Sahih
عیدین جیسے مواقع پر دف بجانے کے جواز کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آئے اور میرے پاس دو لونڈیاں دو دف بجارہی تھیں، انھوں نے ان کو ڈانٹا، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، بیشک ہر قوم کی عید ہوتی ہے (جس پر وہ خوشی کرتی ہے)۔
Takhreej
(۷۸۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۹۸۷، ۹۸۸، ومسلم: ۸۹۲ (انظر: ۲۴۹۵۲)
Explanation
فوائد:… ثابت ہوا کہ بچیاں دُف (ڈھولکی) بجا کر جائز کلام، وہ نظم ہو یا نثر، پڑھ سکتی ہیں، ہمیں بھی شادی بیاہ اور عید کے موقعوں پر ایسا ہی اندازِ خوشی اپنانا چاہئے، نہ کہ بے پردگی اور بے حیائی پر مشتمل باطل رسومات۔
7876
Sahih
حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں حبشہ کے لوگ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے کھیلتے اور خوشی سے اچھلتے تھے اور کہتے تھے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صالح بندے ہیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا کہ یہ لوگ کیاکہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا یہ کہتے ہیں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صالح اور نیک بندے ہیں۔
Takhreej
(۷۸۷۷) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ ابن حبان: ۵۸۷۰ (انظر: ۱۲۵۴۰)
7877
Sahih
حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی آمد کی خوشی میں حبشہ کے لوگوں نے اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کھیل پیش کیا۔
Takhreej
(۷۸۷۸) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابوداود: ۴۹۲۳(انظر: ۱۲۶۴۹)
Explanation
فوائد:… اس مفہوم کی ایک اور حدیث درج ذیل ہے:
7878
Sahih
حبشیوں کے کھیل اور رقص کا بیان
۔
۔ سیدنا سعد بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عہد رسالت مآب ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہر چیز دیکھی ہے، صرف اس دور کی ایک چیز نہیں دیکھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے عید الفطر کے دن کھیل پیش کیا جاتا تھا۔
Takhreej
(۷۸۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف جابر بن یزید الجعفی، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۰۳(انظر: ۱۵۴۷۹)
Explanation
فوائد:… ان تمام احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جائز طریقہ سے صحابہ کرام ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں مسرت کا اظہار کرتے تھے، یہ خوشی کے وقت اور عید اور شادی وغیرہ کے موقع پر جائز ہے، لیکن وہ آلات استعمال نہ کئے جائیں جو ناجائز ہیں۔
7879
Zaeef
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ عکرمہ کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے، وہ ایک کبوتری کو سامنے باندھ کر اس کو تیر مار رہے تھے،سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ سول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذی روح اور جاندار چیز کو نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۱۸۷، والترمذی: ۱۴۷۵(انظر: ۲۴۷۴)
Explanation
فوائد:… یہ جانور کے ساتھ ظلم ہے، ذبح اور شکار کے طریقے پچھلے ابواب میں گزر چکے ہے، جس شکاری جانور یا پرندے کو ذبح کرنا ممکن ہو جائے، اس کو ذبح ہی کیا جائے گا۔
7880
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا، وہ کبوتری کے پیچھے دوڑ رہا تھا، آپ نے فرمایا: شیطان شیطاننی کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۱) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۴۹۴۰، وابن ماجہ: ۳۷۶۵(انظر: ۸۵۴۳)
Explanation
فوائد:… کبوتر بازی، بٹیر بازی اور مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطورِ تجارت یہ پرندے رکھے جائیں اور کھانے کے لیے ان کی خرید فروخت کی جائے اور شکار کر کے ایسے پرندوں کو پکڑا جائے تو پھر جائز ہے۔
7881
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے ساتھ مدینہ کے ایک راستے سے گزر رہا تھا، کچھ نوجوان مرغی کو باندھ کر اس پر تیر چلا رہے تھے اور انھوں مرغی کے مالک کو ہر وہ تیر دینا تھا، جو نشانے پر نہیں لگتا تھا، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ منظر دیکھ کر غصے ہوئے اور کہا: کس نے ایسے کیا ہے؟ پس وہ تتر بتر ہو گئے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے، جو حیوان کا مثلہ کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۷(انظر: ۳۱۳۳)
Explanation
فوائد:… اس موقع پر حیوان کا مثلہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ جس جانور کو ذبح کرنا ممکن ہو، اس پر تیر چلائے جائیں، جن کی وجہ سے اس کا چہرہ زخمی ہو جائے اور اس کی صورت بدل جائے اور تیر لگنے سے اس کے گوشت کے ٹکڑنے گرنے لگیں۔
7882
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ ان کے گھر سے نکلا، ہم قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے، جنہوں نے پرندہ گاڑ رکھا تھا اور اس پر نشانہ بازی کررہے تھے، انہوں نے پرندے کے مالک کو نشانے پر نہ لگنے والا ہر تیر دینے کا تقرر کر رکھا تھا، جب انہوں نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا تو وہ بھاگ گئے، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دریافت کیا: یہ کس نے کیا ہے، اللہ تعالی اس پر لعنت کرے جس نے یہ کیا ہے، بیشک نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ذی روح اور جاندار چیز پر نشانہ بازی کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7883
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ ہشام بن زید بن انس بن مالک کہتے ہیں: ہم اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر داخل ہوا، کچھ لوگ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کر رہے تھے، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ زندہ جانور کو باندھ کر ان پر نشانہ بازی کی جائے۔
Takhreej
(۷۸۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۵۶(انظر: ۱۲۷۴۶)
7884
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) ہشام بن زید کہتے ہیں: میں اپنے دادا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ دارالامارت میں داخل ہوا، پس کیا دیکھا کہ زندہ مرغی کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کی جا رہی ہے، جب اسے تیر لگتا تو وہ چلاتی تھی، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7885
Sahih
لہو و لعب کی ناجائز صورتوں کے ابواب حیوان کے ساتھ کھیلنے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زندہ جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ بازی کرنے سے منع فرمایا ہے، سیدنا ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اگر میرے پاس مرغی ہوتی تو میں اسے نہ باندھتا۔
Takhreej
(۷۸۸۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ الدارمی: ۱۹۷۴، والطبرانی: ۴۰۰۱، والبیھقی: ۹/ ۷۱، وابن حبان: ۵۶۰۹ (انظر: ۲۳۵۸۹)
Explanation
فوائد:… مذکورہ بالا تمام احادیث میں جانوروں کے ساتھ ظلم کی جو مثالیں پیش کی گئی ہیں، یہ ناعاقبت اندیش لوگوں کے کھیل ہیں، جبکہ ان کھیلوں میں جانوروں کے ساتھ بڑا ظلم کیا جا رہا ہے، شریعت تو ذبح کے وقت بھی جانور کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیتی ہے، یعنی ذبح کا ایسا طریقہ اختیار کیا جائے، جس سے جانور کو کم از کم تکلیف کا احساس ہو۔ایسے تمام کھیل ناجائز ہیں، جانوروں کو لڑانابھی اسی میں داخل ہے۔
7886
Sahih
جوا اور نرد (چوسر) جیسے کھیل کھیلنے کی حرمت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص قسم اٹھائے اور اپنی قسم میں کہے: مجھے لات کی قسم! تو وہ (اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے) کہے: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ آئو ہم جوا کھیلیں وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔
Takhreej
(۷۸۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۰۷، ۶۳۰۱، ومسلم: ۱۶۴۷(انظر: ۸۰۸۷)(۷۸۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۱۰۷، ۶۳۰۱، ومسلم: ۱۶۴۷(انظر: ۸۰۸۷)
Explanation
فوائد:… عربوں کی زبانوں پر کچھ کلمات بلا قصد جاری ہو جاتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایسے ہو جاتا تھا کہ ممنوعہ کلمات ان کی زبان پر آ جاتے تھے، لات و عزی کی قسموں کاتعلق بھی ان ہی کلمات سے ہے، یا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہالت یا بھول کر لات و عزی کی قسم کھالے، وگرنہ جو آدمی جان بوجھ کر تعظیماً لات وغیرہ کی قسم کھاتا ہے، وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کسی کو اختلاف نہیں، وہ خارج از اسلام ہو گا،دیکھیں حدیث نمبر (۵۲۹۲) والے باب کی احادیث اور ان کے فوائد۔
7887
Sahih
جوا اور نرد (چوسر) جیسے کھیل کھیلنے کی حرمت کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جونرد شیر کے ساتھ کھیلا، ایک روایت میں ہے: جو نرد کھیل کے نگینوں کے ساتھ کھیلا، اس نے اللہ تعالی اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کی ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۸) تخریج: حسن، أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۷۳۷، والحاکم: ۱/ ۵۰، وابویعلی: ۷۲۸۹، والبیھقی: ۱۰/ ۲۱۵ (انظر: ۱۹۵۲۱)
Explanation
فوائد:… نَرْد کا ترجمہ لُعْبَۃ الطَّاوِلَۃ کیا گیا ہے، یعنی لکڑی کے تختے پر کھیل، جس سے چوسر، کیرم بورڈ اور لڈو وغیرہ کی قسم کے کھیل مراد لیے جا سکتے ہیں۔
7888
Sahih
جوا اور نرد (چوسر) جیسے کھیل کھیلنے کی حرمت کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی نرد کھیل کے نگینوں کو پلٹتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے، وہ اللہ تعالی اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نافرمانی کرتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۸۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7889
Sahih