TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے

Chapter 9 of سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 9 of 17 · 11 Hadith
۔
۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب یہودی لوگ تم پر سلام کرتے ہیں تو وہ (اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کے بجائے) اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کہتے ہیں، اس لیے تم بھی جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا کرو۔
Takhreej
(۸۲۷۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۲۸، ومسلم: ۲۱۶۴ (انظر: ۴۵۶۳)
Explanation
فوائد:… اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ کا معنی یہ ہے: تم پر ہلاکت اور موت واقع ہو۔
8278
Sahih
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب تم کو سلام کہیں تو تم جواب میں وَعَلَیْکُمْ کہا کرو۔
Takhreej
(۸۲۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۵۸، ومسلم: ۲۱۶۳ (انظر: ۱۱۹۴۸)
8279
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے اور اس نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ۔ لوگوں نے اس کا جواب دیا، لیکن اللہ کے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے ایسے ایسے کہا ہیں نا؟ اس نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب اہل کتاب میں سے کوئی تم پر سلام کہے تو تم صرف عَلَیْکَ کہا کرو۔ یعنی جو کچھ تونے کہا، تجھ پر بھی وہی کچھ ہو۔
Takhreej
(۸۲۸۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۶۹۷، والترمذی: ۳۳۰۱ (انظر: ۱۳۲۴۰)
8280
Sahih
۔
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اہل کتاب میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں سلام کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، بس جب یہ لوگ تم کو سلام کہیں تو تم یہ کہہ کر ان کا جواب دیا کرو: وَعَلَیْکُمْ۔
Takhreej
(۸۲۸۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۲۶ (انظر: ۱۳۱۹۳)
8281
Sahih
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی جواباً یہی الفاظ دوہراتے ہوئے فرمایا: اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ ۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بندروں اور خنزیروں کے بھائیو! تم پر موت اور ہلاکت واقع ہو، اور تم پر اللہ تعالی کی لعنت اور غضب برسے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عائشہ ! رک جائو۔ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو کچھ انہوں نے کہا ہے، کیا وہ آپ نے سنا نہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! میں نے ان کو جو جواب دیا ہے، کیا تم نے وہ نہیں سنا، نرمی جس چیز میں بھی پیدا ہو، وہ اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی کو نکال دیا جائے، تو یہ (نرمی کا نہ ہونا) اسے عیب دار بنا دیتا ہے۔ ایک روایت میںہے: بیشک اللہ تعالیٰ ہر معاملے میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۲۸۲) تخریج:حدیث صحیح (انظر: ۱۳۵۳۱)
Explanation
ٖفوائد:… قارئین کرام! غور کریں کہ جب یہودی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے سلامتی کی دعا کی بجائے ہلاکت اور موت کی بد دعاکر رہے تھے، اس وقت بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے جواب میں فحش گوئی اور بد گوئی کو پسند نہیں کیا، اس سے ہمیں اپنے بولوں کا اندازہ کر لینا چاہیے۔
8282
Sahih
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکَ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عَلَیْکُمْ (تم پر بھی ہو)۔ لیکن سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: تم پر ہو اللہ کی لعنت، بلکہ سب لعنت کرنے والوں کی لعنت تم پر ہو۔ انہوں نے کہا: اے عائشہ! تمہارے باپ تو اتنے سخت گو نہ تھے، جب وہ چلے گئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: جو تو نے سخت الفاظ کہے ہیں، تجھے کس چیز نے ان پر آمادہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے سنا نہیں کہ ان یہودیوں نے کیا کہا تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے دیکھا نہیں کہ میں نے بھی جوابا عَلَیْکُمْ کہا تھا، میں ان پر جو بد دعا کروں گا، وہ ان تک پہنچے گی، لیکن مجھ پر جو وہ بد دعا کریں گے، وہ مجھ تک نہیں پہنچے گی۔
Takhreej
(۸۲۸۳) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا ابن ابا بکر بن محمد بن عمرو لم یذکروا لہ سماعا من عائشۃ (انظر: ۲۴۸۵۱)
8283
Sahih
۔
۔ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک یہودی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور (السلام علیکم کی بجائے) کہا:اے محمد! اَلسَّامُ عَلَیْکُمْ (یعنی آپ پر موت اور ہلاکت ہو)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ حضرت عائشہ کہتی ہیں: میں نے بات تو کرنا چاہی لیکن مجھے معلوم تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ناپسند کریں گے، اس لیے میں خاموش رہی۔ دوسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم (آپ پر موت اور ہلاکت پڑے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وَعَلَیْکَ (اور تجھ پر بھی ہو)۔ اب کی بار بھی میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ناپسندکرنے کی وجہ سے (خاموش رہی)۔ پھر تیسرا یہودی آیا اور کہا: اَلسَّامُ عَلَیْکُم۔ مجھ سے صبر نہ ہو سکا اور میں یوں بول اٹھی: بندرو اور خنزیرو! تم پر ہلاکت ہو، اللہ کا غضب ہو اور اس کی لعنت ہو۔ اللہ تعالی نے جس انداز میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سلام نہیں کہا، کیا تم وہ انداز اختیار کرنا چاہتے ہو؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بدزبانی اور فحش گوئی کو پسند نہیں کرتا، ان (یہودیوں) نے اَلسَّامُ عَلَیْکَ کہا اور ہم نے بھی (بد گوئی سے بچتے ہوئے صرف وَعَلَیْکَ کہہ کر) جواب دے دیا۔ دراصل یہودی حاسد قوم ہے اور (ہماری کسی) خصلت پر اتنا حسد نہیں کرتے جتنا کہ سلام اور آمین پر کرتے ہیں۔
Takhreej
(۸۲۸۴) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۸۵۶(انظر: ۲۵۰۲۹)
8284
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یہودی لوگوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سلام کہنے کے بہانے کہا: اے ابو القاسم ! اَلسَّامُ عَلَیْکَ،آپ نے یوں جواب دیا: وَعَلَیْکُمْ۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا، جبکہ وہ غصے میں تھیں: اے اللہ کے نبی! کیا آپ نے سنا ہے کہ انھوں نے کیا کہا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل، میں نے سنا ہے اور میں نے ان کا جواب بھی دے دیا ہے، بات یہ ہے کہ ان کے خلاف ہماری بددعائیں تو قبول ہو جاتی ہیں، لیکن ہمارے خلاف ان کی بددعائیں قبول نہیں ہوتیں۔
Takhreej
(۸۲۸۵) تخریج:أخرجہ مسلم:۲۱۶۶ (انظر: ۱۵۱۰۶)
Explanation
فوائد:… ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب اہل کتاب اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہیں یا اس لفظ کو تبدیل کر کے کوئی بددعا کر یں تو ان کے جواب میں وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی ہو) کہہ دیا جائے۔ جمہور کا یہی مسلک ہے، حافظ ابن حجرؒ نے اسی کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل روایت نقل کی:
8285
Sahih
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب لوگوں کے گھر آتے تو اس کی دیوار کے نزدیک کھڑے ہوتے اور اس کے دروازے کے سامنے نہ آتے تھے۔
Takhreej
(۸۲۸۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابوداود: ۵۱۸۶(انظر: ۱۷۶۹۲)
8286
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب اجازت طلب کرنے کے لیے کسی کے گھر کے دروازے پر آتے تو سامنے کھڑے نہ ہوتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دیوار کے ساتھ چلتے، یہاں تک کہ اجازت طلب کر لیتے یا پھر واپس چلے جاتے۔
Takhreej
(۸۲۸۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ اجازت لینے والے یا دستک دینے والے کو دروازے کے سامنے کھڑا نہیں ہونا چاہیے، تاکہ کوئی بے پردگی نہ ہو اور کوئی راز فاش نہ ہو اور کوئی شرمندگی نہ ہو۔
8287
Sahih
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں ہوں، میں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں، میں … یہ کیا ہوتا ہے۔ محمد راوی کہتے ہیں: گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لفظ میں کو ناپسند کیا۔
Takhreej
(۸۲۸۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۲۵۰، ومسلم: ۲۱۵۵ (انظر: ۱۴۱۸۵)
Explanation
فوائد:… غور کریں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سنہری عادات و اطوار پر، کتنی سنجیدگی اور وقار ہے، چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ قبل ان عادات کو متعارف کروایا جا رہا تھا۔
8288
Sahih

Chapters

17
01
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
3 Hadith
03
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
3 Hadith
04
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
4 Hadith
05
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
06
سوار، پیدل کوسلام کہے اور …
2 Hadith
07
بچوں اور عورتوں کو سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
08
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
09
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
11 Hadith
10
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
3 Hadith
11
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
12
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
5 Hadith
14
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
5 Hadith
15
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
4 Hadith
16
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
3 Hadith
17
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.