TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان

Chapter 14 of سلام، اجازت لینے اور دوسرے آداب کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 14 of 17 · 5 Hadith
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی آدمی اپنے دوست سے ملتا ہے تو کیا اسے اس کے لیے جھکنا چاہئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے پھر پوچھا: کیا اس سے معانقہ کرے اور اس کا بوسہ لے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا: تو پھر کیا اس سے مصافحہ کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر چاہے تو۔
Takhreej
(۸۳۰۵) صحیح، ذکرہ الالبانی فی صحیحتہ، أخرجہ الترمذی: ۲۷۲۸، وابن ماجہ: ۳۷۰۲ (انظر: ۱۳۰۴۴)
8305
Sahih
۔
۔ بنو عنز قبیلے کا ایک آدمی بیان کرتا ہے، میں سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ آیا، جب وہ واپس ہوئے تو لوگ ان سے علیحدہ ہوئے اور میں نے کہا: ا ابوذر! میں آپ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض امور کے بارے میں سوال کرتا ہوں۔انہوں نے کہا: لیکن اگر وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا راز ہوا تو میں تمہیں نہیں بتائوں گا، میں نے کہا: رازدارانہ معاملہ نہیں ہے،بات یہ ہے جب ایک آدمی دوسرے آدمی سے ملتا ہے تو اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے، کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا: تو نے واقعی باخبر آدمی سے سوال کیا ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب بھی مجھے ملے ہیں، ہمیشہ میرا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیا ہے، البتہ ایک بار مصافحہ نہیں کیا تھا، یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زندگی کے آخری لمحات میں ہوا تھا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف پیغام بھیجا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی چارپائی پر تھے، یہ اس وقت کی بات ہے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت میں مبتلا تھے، میں نے آپ کو لیٹا ہوا پایا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جھکا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا دست مبارک اٹھایا اور مجھے ساتھ لگا لیا، یہ انداز تو مصافحہ سے کس قدر بہتر اور عمدہ تھا۔
Takhreej
(۸۳۰۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ العنزی، وایوبُ بن بشیرالعدوی، روی عنہ غیر واحد، وذکرہ ابن حبان فی ثقاتہ لکن جھّلہ ابن خراش (انظر: ۲۱۴۴۳)
8306
Zaeef
۔
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں اور ایک ان میں سے دوسرے کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مصافحہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ ان کی دعا میں شریک ہو (یعنی قبول کرے) اور ان کے ہاتھوں کو اس وقت تک جدا نہ کرے،، جب تک ان کو بخش نہ دے۔
Takhreej
(۸۳۰۷) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ البزار: ۲۰۰۴، وابویعلی: ۴۱۳۹ (انظر: ۱۲۴۵۱)
8307
Sahih
۔
۔ ابو دائود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملا، انہوں نے مجھے سلام کہا، میرا ہاتھ پکڑا،مسکرائے اور کہا: کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہارے ساتھ ایسا کیوں کیا ہے؟ میں نے کہا: معلوم تو نہیں ہے! لیکن میرا یقین ہے تم نے جو کچھ بھی کیا ہے، اس میں خیر ہی ہو گی، پھر انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے ملے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا، جس طرح میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھ سے اسی طرح پوچھا تھا، جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں اور ان میں سے ایک اپنے ساتھی پر سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے، لیکن یہ عمل صرف اللہ تعالی کے لیے ہو، تو وہ ابھی تک جدا نہیں ہوتے، کہ اللہ تعالی ان کو بخش دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۰۸) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، ابوداود نفیع بن الحارث الاعمی متروک، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۶۲۶ (انظر: ۱۸۵۴۸)
8308
Zaeef
۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک حدیث اس آدمی سے پہنچی، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی تھی،پس میں نے سواری خریدی، پھر میں نے اس پر کجا وہ باندھ کر ایک ماہ کا سفر کیا، یہاں تک کہ میں اس کے پاس شام پہنچ گیا، وہ سیدنا عبداللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ میں نے دربان سے کہا: عبداللہ سے کہو کہ جابر ملاقات کے لئے دروازے پر حاضر ہے، انھوں نے پوچھا: عبداللہ کا بیٹا جابر،میں نے کہا: جی ہاں، پس وہ اپنا کپڑا روندتے ہوئے باہر آئے اور وہ مجھ سے بغلگیر ہو گئے اور میں ان سے بغلگیر ہو گیا، پھر میں نے کہا: جی مجھے آپ کے حوالے سے ایک حدیث موصول ہوئی ہے (وہ براہِ راست سننے کے لیے آیا ہوں)، پھر ایک طویل حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۸۳۰۹) اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۳۷، والبخاری فی الادب المفرد : ۹۷۰ (انظر: ۱۶۰۴۳)
Explanation
فوائد:… یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں قیامت کے دن قصاص اور بدلا دلانے کا ذکر ہے، یہاں اس کو ذکر کرنے کا مقصود یہ ہے کہ صحابہ نے آپس میں معانقہ کیا تھا۔
8309
Sahih

Chapters

17
01
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
8 Hadith
02
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
3 Hadith
03
سلام اور اس کے جواب کے الفاظ کا بیان
3 Hadith
04
اس چیز کا بیان کہ اگر کوئی آدمی، نمازی اور قضائے حاجت کرنے والے کو سلام کہے تو وہ کیا کرے
4 Hadith
05
مجلس میں آنے والے اور جانے والے کا سلام کہنے کے مستحب ہونے کا بیان
2 Hadith
06
سوار، پیدل کوسلام کہے اور …
2 Hadith
07
بچوں اور عورتوں کو سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
08
اہل کتاب کو سلام کہنے میں پہل کرنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
09
اہل کتاب کو سلام کا جواب کیسے دیا جائے
11 Hadith
10
پردہ اٹھانے، اجازت سے پہلے دیکھنے اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
3 Hadith
11
کسی گھر میں مالک کی اجازت کے بغیر داخل ہونے سے اور خاوندوں کی اجازت کے بغیر ان کی بیویوں کے پاس جانے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
12
اجازت طلب کرنے کی کیفیت، اس کے الفاظ اور اس سے پہلے سلام کہنے کا بیان
4 Hadith
13
اس چیز کا بیان کہ تین بار اجازت طلب کی جائے، اگر اجازت نہ دی جائے تو آدمی واپس چلا جائے
5 Hadith
14
مصافحہ، معانقہ، ہاتھ پر بوسہ دینے اور آنے والے کے لیے کھڑا ہونے کا بیان مصافحہ اور معانقہ کا بیان
5 Hadith
15
مصافحہ کا آغاز کرنے والے پہلے شخص کا اور مردوں کا عورتوں سے مصافحہ کرنے کی کراہت کا بیان
4 Hadith
16
ہاتھ اور پیشانی کابوسہ لینے کا بیان
3 Hadith
17
آنے والے کے لئے کھڑا ہونے کا بیان
4 Hadith
No chapter matched that.