قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب - قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب - Book 143 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 143 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 24 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیں۔
فوائد: …نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ سے یمن کی طرف ان دو صحابہ کو بھیجا تھا اور ان کو روانہ کرنے کا ایک مقصد قرآن مجید کی تعلیم بھی تھا۔
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے، سیاہ، سفید اور سرخ رنگ والا، ہر کوئی اس کو سیکھتا ہے،اس کو اس وقت سے پہلے پہلے سیکھ لو، جب لوگ اسے سیکھیں گے، لیکنیہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اس کے الفاظ اس طرح سیدھے کریں گے، جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ دنیا میں ہی اس کی اجرت طلب کریں گے، آخرت تک تاخیر نہیں کریں گے۔
Takhreej
(۸۳۴۲) تخریج: حدیث حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۸۳۱ (انظر: ۲۲۸۶۵)
Explanation
فوائد:…ایسے لوگ تکلف کر کے قرآن مجید کے الفاظ میں حسن بھرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ لوگ ان کی طرف راغب ہوں، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشین گوئی کی، اب ایسے ہی واقع ہو چکا ہے۔
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مسلمانوں کی مصلحتوں میں) مصروف رہتے تھے، جب بھی کوئی ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ہم میں سے کسی آدمی کے ساتھ ملا دیتے تاکہ وہ اسے قرآن پاک کی تعلیم دے۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی میرے حوالے کیا،وہ میرے گھر میں ہی رہتا تھا، میں اسے وہی کھانا دیتا، جو میرے گھر والے کھاتے تھے، میں اسے قرآن پاک پڑھاتا تھا،جب وہ اپنے گھرچلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر حق ہے تو اس نے مجھے کمان بطورِ تحفہ دی، میں نے اس جیسی بہترینلکڑی اور اس جیسی بنی ہوئی کمان نہیں دیکھی تھی، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیرے کندھوں کے درمیان آگ کا انگارا ہے، جو تو نے لٹکا لیا ہے۔
Takhreej
(۸۳۴۳) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۴۱۶، ۳۴۱۷، وابن ماجہ: ۲۱۵۷ (انظر: ۲۲۷۶۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: عَلَّمْتُ نَاسًا مِنْ أَ ہْلِ الصُّفَّۃِ الْکِتَابَۃَ وَالْقُرْآنَ، فَأَ ہْدَی إِلَیَّ رَجُلٌ مِنْہُمْ قَوْسًا لَیْسَتْ لِی بِمَالٍ وَأَ رْمِی عَنْہَا فِی سَبِیلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، فَسَأَ لْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((إِنْ سَرَّکَ أَ نْ تُطَوَّقَ بِہَا طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَاقْبَلْہَا۔)) … میں نے اہل صفہ کے کچھ لوگوں کو کتابت اور قرآن مجید کی تعلیم دی،ان میں سے ایک آدمی نے مجھے ایک کمان تحفہ دی، میں نے کہا: یہ میرے لیے کوئی مال تو نہیں ہے، (یہ تو جہاد میں کام آنے والا ہتھیار ہے) میں اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکوں گا، (اس لیے لے لیتا ہوں)، لیکن جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اس کی وجہ سے تجھے آگ سے طوق پہنا دیا جائے تو قبول کر لے۔ (مسند احمد: ۲۲۶۸۹)
۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: جن صحابہ نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دس آیات پڑھ لیتے تھے تو اگلی دس آیات اس وقت تک نہ پڑھتے تھے، جب تک وہ ان آیات پر عمل نہیں کر لیتے تھے، انھوں نے کہا: ہم نے علم اور عمل دونوں چیزوں کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی۔
Takhreej
(۸۳۴۴) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۴۶۰، والطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۱۴۵۱ (انظر: ۲۳۴۸۲)
Explanation
فوائد:… قرآن مجید کی تعلیم پر اجرت لینا کیسا ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۶۱۴۱)کا باب اور اس کی شرح۔
قارئین کرام! اس بحث کا مطالعہ کریں، قرآن کریم کی تعلیم سے متعلقہ افراد کا معاملہ بڑا حساس ہے، ان کو سنجیدگی سے غور کر کے اپنے ارادے کاجائزہ لینا چاہیے۔