TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب - قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب - قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 10 · 8 Hadith
۔ (۸۳۵۷)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَْنَ اَبِیْہٖ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَرَأَ اَلْفَ آیَۃٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، کُتِبَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَعَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَائِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰئِکَ رَفِیْقًا، اِنْ شَائَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی چیز کو اس قدر غور سے نہیں سنا جتنا وہ اپنے نبی کی آواز سننے کے لئے کان لگاتے ہیں، جب وہ قرآن بلند آواز سے پڑھ رہا ہو۔
Takhreej
(۸۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/۳۹۹، وابویعلی: ۱۴۸۹، والحاکم: ۲/ ۸۷ (انظر: ۱۵۶۱۱)
Explanation
فوائد:… خشوع و خضوع، رقت اور خوبصورت آواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنا اللہ تعالی کے ہاں پسندیدہ عمل ہے۔
8357
Zaeef
۔ (۸۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اَذِنَ اللّٰہُ لِشَیْئٍ مَا اَذِنَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَتَغَنّٰی بِالْقُرْآنِ، زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: فِیْمَایَجْھَرُ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۷۶۵۷)
۔ سیدناسعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک گا کر نہیں پڑھتا، وہ ہم سے نہیں ہے۔ وکیع راوی نے اس کا یہ معنی بیان کیا: وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مستغنی ہو جاتا ہے۔
Takhreej
(۸۳۵۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۰۲۳، ۵۰۲۴، ۷۴۸۲، ومسلم: ۷۹۲ (انظر: ۷۶۷۰)
Explanation
فوائد:…وکیع راوی کا بیان کیا ہوا معنی درست نہیں ہے، اس کا صحیح معنی قرآن پاک کو خوبصورت آواز میں پڑھنے کا ہے۔ ( وہ ہم سے نہیں جو قرآن مجید کے ساتھ (اور چیزوں سے) مستغنی نہیں ہوتا۔ حدیث کا یہ مفہوم بھی ٹھیک ہے، امام بخاری نے اسی زیر مطالعہ حدیث کے لیے عنوان قائم کر کے قرآن مجید کییہ آیت پیش کی ہے۔ {اَوَ لَمْ یَکْفِہِمْ اَنَّآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ یُتْلٰی عَلَیْہِمْ } (العنکبوت: ۵۱) کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی ہے، وہ ان پر پڑھی جاتی ہے۔ یعنییہ کتاب پہلی کتب سماوی سے مستغنی کرتی ہے فضول اشعار اور تحریروں سے بے پرواہ کرتی ہے۔ (بخاری، باب من لم یتغنی بالقرآن قبل الحدیث: ۵۰۲۲) معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے دونوں مفہوم درست ہیںیہ حدیث نبوی کا ایک کمال ہے۔) (عبداللہ رفیق) بلاشبہ خوبصورت آواز سے قرآن مجید کے حسن میں اضافہ ہوتاہے اور تلاوت کرنے والوں اور سننے والوں میں مزید تلاوت کرنے اور سننے کی تمنا پیدا ہوتی ہے، لیکن اس معاملے میں تکلف سے گریز کرنا ضروری ہے۔ معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت مخصوص سریلی آواز کا اہتمام کیا جائے، لیکن اس معاملے میں عرب کے لہجے کو سامنے رکھنا چاہیے، جیسے حرم مکی کے امام تلاوت کرتے ہیں، زیادہ تکلف سے بچنا چاہیے، جیسے آج کل مصری قراء کی تلاوت کا انداز ہے۔
8358
Sahih
۔ (۸۳۵۹)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ))، قَالَ وَکِیْعٌ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ): یَعْنِی: یَسْتَغْنِیْ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۵۴۹)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بلند آواز سے قرآن کی تلاوت کرنے والا اعلانیہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور پوشیدہ آواز میں تلاوت کرنے والا مخفی انداز میں صدقہ کرنے والے کی طرح ہے۔
Takhreej
(۸۳۵۹) تخریج: صحیح لغیرہ ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۴۷۰ (انظر: ۱۵۴۹)
Explanation
فوائد:…مخفی صدقہ افضل ہے، کیونکہ اس میں ریاکاری کا شبہ نہیں ہوتا، اگر ریاکاری کا شبہ نہ ہو اور کسی کو نصیحت کرنا مقصود ہو تو اعلانیہ صدقہ بھی درست ہے، یہی حکم تلاوت ِ قرآنِ مجید کا ہے،
8359
Sahih
۔ (۸۳۶۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَاھِرُ بِالْقُرْآنِ کَالْجَاھِرِ بِالصَّدَقَۃِ، وَالْمُسِرُّ بِالْقُرْآنِ کَالْمُسِرِّ بِالصَّدَقَۃِ)) (مسند احمد: ۱۷۵۸۱)
۔ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ذو بِجادَین نامی ایک آدمی کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ بہت زیادہ گڑگڑانے والا ہے۔ یہ آدمی بہت زیادہ قرآن مجید کی تلاوت کر کے ذکر میں مشغول رہنے والا تھا اور دعا کرتے وقت اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔
Takhreej
(۸۳۶۰) اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوداود:۱۳۳۳، والنسائی: ۵/ ۸۰، والترمذی: ۲۹۱۹ (انظر: ۱۷۴۴۴)
Explanation
فوائد:… اَوَّاہ کے معانی: آہیں بھرنے والا، گڑگڑانے والا، زیادہ رونے والا، زیادہ دعائیں کرنے والا
8360
Sahih
۔ (۸۳۶۱)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ: ذُوا الْبِجَادَیْنِ: ((اِنَّہٗ اَوَّاہٌ۔)) وَذٰلِکَ اَنَّہٗکَانَرَجُلًاکَثِیْرَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ وَیَرْفَعُ صَوْتَہٗفِی الدُّعَائِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۲)
۔ سیدنا فضالہ بن عبید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی طرف بہت زیادہ کان لگاتے ہیں، جو قرآن پاک خوبصورت آواز سے پڑھتا ہے، گانے والی کا مالک بھی گانے والی کی طرف اتنا کان نہیں لگاتا۔
Takhreej
(۸۳۶۱) تخریج: حسن لغیرہ ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۸۱۳ (انظر: ۱۷۴۵۳)
8361
Sahih
۔ (۸۳۶۲)۔ عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَلّٰہُ أَ شَدُّ أَ ذَنًا إِلَی الرَّجُلِ حَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ مِنْ صَاحِبِ الْقَیْنَۃِ إِلَی قَیْنَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۴۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک آدمی کی تلاوت کی آواز سنی اور پوچھا: یہ کون ہے؟ کسی نے کہا: یہ عبداللہ بن قیس ہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق اس کو داود علیہ السلام کی بانسریاں عطا کی گئی ہیں۔
Takhreej
(۸۳۶۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، فان اسماعیل بن عبید اللہ لم یدرک فضالۃ بن عبید، بینھما میسرۃ مولی فضالۃ، وھو مجھول ۔ أخرجہ الحاکم: ۱/ ۵۷۰، والبیھقی: ۱۰/ ۲۳۰ (انظر: ۲۳۹۴۷)
8362
Zaeef
۔ (۸۳۶۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَأَۃَ رَجُلٍ فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) قِیْلَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ قَیْسٍ، فَقَالَ: ((لَقَدْ اُوْتِیَ ھٰذَا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۹۸۰۵)
۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس اشعری کو داود علیہ السلام کی بانسریوں میں سے ایک بانسری عطا کی گئی ہیں۔
Takhreej
(۸۳۶۳) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۱۳۴۱ (انظر: ۹۸۰۶)
Explanation
فوائد:… بانسری سے مراد خوبصورت آواز ہے اور آل داود سے مراد خود داود علیہ السلام ہیں۔
8363
Sahih
۔ (۸۳۶۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ اَبِیْہٖ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ: ((اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ قَیْسٍ الْاَ شْعَرِیِّ اُعْطِیَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗدَ۔)) (مسنداحمد: ۲۳۴۲۱)
۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی آوازوں کے ذریعہ قرآن پاک کو خوبصورت بناؤ۔
Takhreej
(۸۳۶۴) تخریج: اسنادہ صحیح ۔ أخرجہ ابوعوانۃ: ۳۸۹۰، وابن حبان: ۸۹۲ (انظر: ۲۳۰۳۳)
Explanation
فوائد:… ان روایات کا مقصود یہ ہے کہ تجوید و حسن صوت اور خوش آوازی و خوش الحانی کے ساتھ ایسے سوز میں تلاوت کی جائے کہ جس سے رقت طاری ہو جائے اور حرفوں کی ادائیگی اس طرح ہو کہ اس میں کمییا بیشی نہ ہو۔ زیادہ تکلف اور تصنع سے بچا جائے، جیسے آج کل کے بہت سے قاری بالخصوص مصر کے بعض قراء تلاوت کرتے ہیں۔
8364
Sahih

Chapters

10
01
(قرآن پاک پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت)
11 Hadith
02
قرآن پاک دلکش آواز میں پڑھنے کی ترغیب
8 Hadith
03
قرآن پاک ٹھہر ٹھہر کر (ترتیل سے) پڑھا جائے
7 Hadith
04
بوریت کے ڈر سے قراء ت ِ قرآن میںمیانہ روی اختیار کرنے کا، نیز اس چیز کا بیان کہ کتنے دنوں میں قرآن مجید کی تکمیل کی جائے
4 Hadith
05
قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان
2 Hadith
06
سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قراء ت کی فضیلت کا بیان مکمل قرآن مجید حفظ کر لینے والے صحابۂ کرام کا بیان
6 Hadith
07
عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان
2 Hadith
08
قرآن مجید سننے کی فضیلت اور اس وقت رونے کا بیان
3 Hadith
09
قرآن مجید کی دیکھ بھال کرنے اور اس کو یاد رکھنے کا بیان اور اس سے ممانعت کہ بندہ یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں
5 Hadith
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
7 Hadith
No chapter matched that.