۔ (۸۳۸۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ اِذَا مَرَّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ،وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔
Takhreej
(۸۳۸۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۷۷۲(انظر: ۲۳۲۶۱)
Explanation
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر توجہ کے ساتھ تلاوت کیا کرتے تھے کہ حسب ِ امکان آیات کے تقاضے بھی پورے کرتے جاتے۔ اس موضوع پر صرف یہی حدیث صحیح ہے کہ رحمت، عذاب اور تسبیح والی آیات پر مطلوبہ ذکر کرنا چاہیے، مقتدی کو چاہیے کہ وہ خاموش رہے اور امام کی قراء ت پر یہ دعائیں نہ کرے، کیونکہ قراء ت کے وقت مقتدی کے لیے خاموش رہنے کا عام حکم ہے، ما سوائے سورۂ فاتحہ کے، امام اور منفرد کو اس سنت پر عمل کرنا چاہیے۔
8384
Sahih