مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان - مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان - Book 148 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 148 of Musnad Ahmad, with 11 chapters and 16 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنُ بِالْعَیْنِ} آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے النَّفْسَ کے آخر پر زبر پڑھی اور الْعَیْنُ کے آخر پر پیش۔
Takhreej
(۸۴۱۸) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابو علی بن یزید، جھّلہ ابو حاتم، وذکرہ ابن حبان فی الثقات ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۷۶، ۳۹۷۷، والترمذی: ۲۹۲۹ (انظر: ۱۳۲۴۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تمام سنتیںیاد کی ہیں، البتہ مجھے یہ علم نہ ہو سکا کہ رسول اللہ ظہر اور عصر کی نمازوں میں قراء ت کرتے تھے یا نہیں، نیز میں یہ بھی نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم {وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عُتِیًّا} والی آیت میں لفظ {عُتِیًّا} پڑھتے تھے یا{عُسِیًّا} (دونوں الفاظ کے معانی بڑھاپے اور عمر رسیدگی کے ہیں)
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ہشام بن حکیم بن حزام کے پاس سے گزرا جو سورۂ فرقان پڑھ رہے تھے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ کی بات ہے، جب میں نے ان کی قراء توں کو غو رسے سنی تو سمجھا کہ وہ ایسی قراء توں پر قرآن مجید پڑھ رہے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائی،قریب تھا کہ میں نماز میں ہی ان کی طرف لپک پڑتا، لیکن میں نے انتظار کیا،یہاں تک کہ انھوں نے سلام پھیرا، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو پکڑ لیا اور کہا: تم کو کس نے یہ سورت پڑھائی ہے؟ انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی ہے، میں نے کہا: تم جھوٹ بول رہے ہو، پھر میں ان کو کھینچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا اورکہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ان سے سورۂ فرقان سنی ہے، یہ ان قراء توں کے مطابق پڑھتے ہیں، جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں چھوڑ دو، اے عمر! اے ہشام پڑھو۔ انہوں نے آپ پر وہی قراء ت کی، جو میں نے سنی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! تم پڑھو۔ پس میں نے وہی قراء ت پڑھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھائی تھی، وہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح نازل ہوئی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقینا قرآن مجید سات قراء توں پر نازل ہوا ہے، جو بھی میسر آئے اس کے مطابق پڑھ لو۔
۔ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخر میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! قرآن مجید سارے کا سارا درست ہے، جب تک کہ عذاب کی جگہ مغفرت کا اور مغفرت کی جگہ عذاب کا لفظ نہ بولا جائے۔
Takhreej
(۸۴۲۲) تخریج: اسنادہ حسن (انظر: ۱۶۳۶۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حق کے معاملے میںانتہائی محتاط تھے، اس لیے جب انھیںیہ گمان ہوا کہ یہ آدمی قرآن کی تلاوت صحیح نہیں کر رہا تو انھوں نے اس پر سختی کی۔
۔ عطیہ عوفی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما پر یہ آیت تلاوت کی:{الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضَعْفًا} لیکن انھوں نے کہا: اس آیت کے الفاظ یوں ہیں: {اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا}، پھر کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اسی طرح قراء ت کی تھی، جس طرح تم نے مجھ پر کی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اسی طرح ٹوکا تھا، جس طرح میں نے تجھے ٹوکا ہے۔
Takhreej
(۸۴۲۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عطیۃ بن سعد العوفی ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۹۷۸، والترمذی: ۲۹۳۶(انظر: ۵۲۲۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جو الفاظ بیان کیے ہیں، وہ متواتر ہیں۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ قراء ت کرتے ہوئے سنا: {یَاعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا وَلَا یُبَالِیْ اَنَّہٗھُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ}
Takhreej
(۸۴۲۴) تخریج: اسنادہ ضعیف (انظر: ۲۷۶۰۶)
Explanation
فوائد:… اس آیت کی متواتر قراء ت یوں ہے: {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۔} یعنی وَلَا یُبَالِیْ کے الفاظ اس قراء ت میں نہیں ہیں اور اَنَّہُ کی جگہ إِنَّہُ (ہمزہ کے فتحہ کی جگہ کسرہ) ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک آدمی کو سنا، وہ سورۂ احقاف کی تلاوت کر رہا تھا،اس نے ایک قراء ت پڑھی، جبکہ ایک دوسرے آدمی نے دوسری قراء ت پڑھی جو اِس نے نہیں پڑھی تھی اور پھر میں نے ایسی قراء ت پڑھی جو ان دونوں نے نہیں پڑھی تھی، سو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اختلاف میں نہ پڑو، بیشک تم سے پہلے والے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جائزہ لے لو، جو آدمی تم میں زیادہ پڑھا ہوا، اس کی قراء ت سے پڑھ لیا کرو۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن حکیم سات قراء ات پر نازل ہوا، اسی لیے عَلِیْمًا حَکِیْمًا کے بجائے غَفُوْرًا رَحِیْمًا پڑھا جا سکتا ہے۔
Takhreej
(۸۴۱۶) تخریج: اسنادہ حسن ۔ أخرجہ الطحاوی فی شرح مشکل الآثار : ۳۱۰۱ (انظر: ۸۳۹۰)
Explanation
فوائد:… علامہ سندھی نے کہا: اس حدیث کے دوسرے حصے کا معنییہ ہے کہ عَلِیْمًا حَکِیْمًا کی جگہ پر غَفُوْرًا رَحِیْمًا یا اس کے برعکس پڑھنا جائز ہے۔ واللہ اعلم۔ طبری اور ابن عبد البر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ، فَاقْرَؤُوْا وَلاَ حَرَجَ، وَلٰکِنْ لاَ تَخْتِمُوا ذِکْرَ رَحْمَۃٍ بِعَذَابٍ، وَلاَ ذِکْرَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ۔)) … بیشکیہ قرآن سات قسم کی لغات پر نازل ہوا، پس تم کسی بھی لغت میں اس کی تلاوت کر سکتے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، البتہ اتنا خیال رکھو کہ رحمت کے ذکر کو عذاب کے ذکر کے ساتھ اور عذاب کے ذکر کو رحمت کے ذکر کے ساتھ ختم نہ کرو۔
۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔
فوائد:… آسِن میں دو لغتیں ہیں: آسِن اور أَ سِن ۔ یاء کے ساتھ اس لفظ کی کوئی قراء ت نہیں ہے، ممکن ہے کہ اس آدمی کا سوال صحیح نہ ہو، اس لیے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کے سوال کا جواب ہی نہیں دیا، بلکہ اس کو ایک سوال کی طرف لگا دیا۔ ان بیس سورتوں کی تفصیلیہ ہے: علقمہ اور اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: أَ تَی ابْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّی أَ قْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِی رَکْعَۃٍ فَقَالَ أَ ہَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ وَنَثْرًا کَنَثْرِ الدَّقَلِ لٰکِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَقْرَأُ النَّظَائِرَ السُّورَتَیْنِ فِی رَکْعَۃٍ النَّجْمَ وَالرَّحْمٰنَ فِی رَکْعَۃٍ وَاقْتَرَبَتْ وَالْحَاقَّۃَ فِی رَکْعَۃٍ وَالطُّورَ وَالذَّارِیَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَإِذَا وَقَعَتْ وَنُونَ فِی رَکْعَۃٍ وَسَأَ لَ سَائِلٌ وَالنَّازِعَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَوَیْلٌ لِلْمُطَفِّفِینَ وَعَبَسَ فِی رَکْعَۃٍ وَالْمُدَّثِّرَ وَالْمُزَّمِّلَ فِی رَکْعَۃٍ وَہَلْ أَ تٰی وَلَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فِی رَکْعَۃٍ وَعَمَّ یَتَسَاء َلُونَ وَالْمُرْسَلَاتِ فِی رَکْعَۃٍ وَالدُّخَانَ وَإِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ فِی رَکْعَۃٍ۔ قَالَ أَ بُو دَاوُد ہَذَا تَأْلِیفُ ابْنِ مَسْعُودٍ رَحِمَہُ اللّٰہُ۔ … ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں مفصل سورتیں ایک رکعت میںپڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا تم شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو؟ یا سوکھی ردی کھجوروں کی طرح بکھیرتے ہو؟ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکساں قسم کی دو دو سورتیں ایک رکعت میںپڑھا کرتے تھے، سورۂ نجم اور سورۂ رحمن ایک رکعت میں، سورۂ قمر اور سورۂ حاقہ ایک رکعت میں، سورۂ طور اور سورۂ ذاریات ایک رکعت میں، سورۂ واقعہ اور سورۂ قلم ایک رکعت میں، سورۂ معارج اور سورۂ نازعات ایک رکعت میں، سورۂ مطففین اور سورۂ عبس ایک رکعت میں، سورۂ مدثر اور سورۂ مزمل ایک رکعت میں، سورۂ دہر اور سورۂ قیامہ ایک رکعت میں، سورۂ نبأ اور سورۂ مرسلات ایک رکعت میں اور سورۂ دخان اور سورۂ تکویر ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ امام ابوداود نے کہا: یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی تالیف تھی۔
۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن ؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پڑھایا {اِنِّیْ اَنَا الرَّزَّاقُ ذُوالْقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ}۔
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یوں پڑھایا: {وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ} ایک آدمی نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! مُدَّکِرٍ ہے یا مُذَّکِّرٍ ؟انہوں نے کہا، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مُدَّکِرٍ پڑھایا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پڑھا {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔}
۔ علقمہ کہتے ہیں: میں شام گیا، مسجد دمشق میں داخل ہوا، اس میں دو رکعت نماز ادا کی اور یہ دعا کی: اے اللہ! مجھے نیک ہم نشین مہیا فرما، پھر میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا، انھوں نے کہا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا:کوفہ والوں میں سے۔ انھوں نے کہا: تم نے ابن ام عبد یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ یہ سورت کیسے پڑھتے ہیں: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشَی وَالنَّہَارِ إِذَا تَجَلّٰی} میں نے کہا: وہ اس طرح پڑھتے ہیں: {وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثٰی}، انھوں نے کہا: میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا، لیکنیہ لوگ مجھے شک میں ڈال دیا،یہ چاہتے ہیں کہ میں {وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْأُنْثٰی} پڑھوں، لیکن میں ان کی بات نہیں مانوں گا۔ پھر انھوں نے کہا: کیاتمہارے اندر یہ تین افراد نہیں ہیں: صاحب الوساد، رازدان، جس کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا اور اور جن کو شیطان سے محفوظ کر دیا گیا۔ صاحب الوساد ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں، راز دان سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہیں اور جن کو شیطان سے محفوظ کیا گیا، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ ہیں۔ (ایک روایت میں ہے): سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے علقمہ سے کہا: کیا تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراء ت کے مطابق پڑھتے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے کہا: سورۂ لیل پڑھو، انھوں نے یوں پڑھا: {وَاللَّیْلِ إِذَا یَغْشٰی وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی}۔ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا، پھر وہ مسکرا پڑھے۔
فوائد:… سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحب الوساد تھے، اس لقب کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((إِذْنُکَ عَلَیَّ أَ نْ یُرْفَعَ الْحِجَابُ وَأَ نْ تَسْتَمِعَ سِوَادِی حَتَّی أَ نْہَاکَ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: میری طرف سے تیرے لیے اجازت یہ ہے کہ پردہ اٹھا دیا جائے اور تو میرے وجود کو دیکھ لے، الا یہ کہ میں تجھے منع کر دوں۔ (صحیح مسلم) سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے راز دان تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ صحابۂ کرام میں مخفی امور، علاماتِ قیامت اور احوالِ آخرت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سب سے زیادہ سوال کرنے والے یہ صحابی تھے۔
جس صحابی کو شیطان سے محفوظ کر دیا گیا تھا، وہ سیدنا عمار بن یاسر تھے، جب ابو خیثمہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے احادیث بیان کرنے کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس سے پوچھا: تو کن لوگوں میں سے ہے؟ اس نے کہا: اہل کوفہ سے، اس پر سیدنا ابوہریرہ نے کہا: تَسْأَ لُنِیْ وَفِیْکُمْ عُلَمَائُ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَالْمُجَارُ مِنَ الشَّیْطَانِ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ۔ … تو مجھ سے سوال کرتا ہے، جبکہ تم میں علمائے اصحابِ رسول اور شیطان سے محفوظ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں۔(ابن عساکر)
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابراہیمی صحیفے رمضان کی پہلی رات کو، تورات رمضان کی چھٹی رات کو،انجیل رمضان کی تیرہ تاریخ کو اور قرآن مجید رمضان کی چوبیس تاریخ کو نازل ہوا۔