TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8429 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
سورۂ طلاق کی قراء ت کا بیان
۔ (۸۴۲۹)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَرَاَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔} (مسند احمد: ۵۲۶۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑھا {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ۔}
8429
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۴۲۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۴۷۱(انظر: ۵۲۶۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… متواتر قراء ت یوں ہے: {یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ۔}

Related Chapters

262
1
سورۂ ہود کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
2
سورۂ مریم کی قراء ات کا بیان
Musnad Ahmad
3
سورۂ فرقان کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
4
سورۂ روم کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
5
سورۂ زمر کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
6
سورۂ احقاف کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
7
سورۂ محمد کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
8
سورۂ ذاریات کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
9
سورۂ قمر کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
10
سورۂ لیل کی قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
11
سورۂ طلاق {یَااَیُّہَا النَّبِیُّّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَائَ…} کی تفسیر
Musnad Ahmad
12
فتح مکہ کے دن بنی اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی سورہ فتح کی قراءت کا تذکرہ
Sahih Muslim
13
Chapter: What has been mentioned about the Prophet (saws) performing Mas-h after the revelation of (Surat) Al-Ma'idah
باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About: Charity Is Taken from The Rich To Be Distributed To The Poor
باب: مالداروں سے صدقہ لے کر فقراء و مساکین کو لوٹانے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About A Person Who Marries A Woman, Then Divorces Her Before Having Intercourse With Her: Can He Marry Her Daughter Or Not?
باب: جو کسی عورت سے شادی کرے پھر دخول سے پہلے ہی اسے طلاق دیدے تو کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟​
Jam e Tirmazi
16
Chapter: : What Has Been Related About One Who Divorced His Wife Three Times, Then She Married Someone Else, And He Divorced Her Before Having Intercourse With Her
باب: آدمی بیوی کو تین طلاق دیدے پھر اس سے کوئی اور شادی کر کے دخول سے پہلے اسے طلاق دیدے تو اس کے حکم کا بیان​
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What has been related about the Sunnah divorce
باب: مسنون طلاق کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What has been related about a man who divorces his wife irrevocably
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What has been related about: The woman with three divorces gets no housing nor maintenance (from the husband)
باب: تین طلاق پائی عورت کو نہ رہنے کے لیے گھر ملے گا اور نہ کھانے پینے کا خرچہ
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What has been related about: There is no divorce before marriage
باب: نکاح سے پہلے طلاق واقع نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What has been related about: Divorce for a slave woman is twice
باب: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What has been related about the man who thinks to himself about divorcing his wife
باب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What has been related about seriousness and jest regarding divorce
باب: سنجیدگی سے اور ہنسی مذاق میں طلاق دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What has been related about a man whose father asks him to divorce (his wife)
باب: باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What has been related about: No woman should ask for the divorce of her sister
باب: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What has been related about the divorce pronounced by the Ma'tuh person
باب: پاگل اور دیوانے کی طلاق کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: The revelation of Allah's saying: Divorce is two times
باب: طلاق سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About 'The Poor Among The Muhajirin Will Enter Paradise Before The Rich Among Them'
باب: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پہلے جائیں گے
Jam e Tirmazi
29
بَاب الْقِرَاءَة فِي الصَّلَاة
نماز میں قراءت کا بیان
Mishkat
30
بَاب اخْتِلَاف الْقرَاءَات وَجمع الْقُرْآن
اختلاف قراءت اور قرآن کو جمع کرنے کا بیان
Mishkat
31
بَاب الْخلْع وَالطَّلَاق
خلع اور طلاق کا بیان
Mishkat
32
بَاب الْمُطلقَة ثَلَاثًا
جس عورت کو تین طلاقیں دی جائیں اس کا بیان
Mishkat
33
علی الاطلاق نماز کی فضیلت کے بارے میں
Musnad Ahmad
34
تکبیر تحریمہ کے بعد، قراء ت سے پہلے، {وَلَاالضَّآلِّیْنَ} کہنے کے بعد اور سورت (کی تلاوت)کے بعد یعنی رکوع سے پہلے سکتوں کا بیان
Musnad Ahmad
35
دعائے استفتاح اور قراء ت سے پہلے تعوذ کا بیان
Musnad Ahmad
36
سورۂ فاتحہ کی تلاوت کرتے وقت {بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ} (پڑھنے) کا بیان
Musnad Ahmad
37
مقتدی کی قراء ت اور جب اپنے امام کو سنے تو اس کے خاموش ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
38
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
Musnad Ahmad
39
آمین کہنے او رقراء ت میں اسے بلند آواز یاآہستہ کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
اس شخص کے حکم کا بیان جو قراء ت کا فریضہ اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا
Musnad Ahmad
41
نمازوں میں قراء ت کے متعلق جامع بیان
Musnad Ahmad
42
ظہر و عصر میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
43
مغرب میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
44
عشا میں قراء ت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
45
صبح میں اور جمعہ کی دن کی صبح میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
46
قراء ت کے سری اورجہری ہونے کا اور ترتیل وغیرہ کا بیان
Musnad Ahmad
47
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اور سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی قراء ت کا نماز میں حجت ہونے کا بیان جن کی قراء ت پر تعریف کی گئی ہے
Musnad Ahmad
48
سورۂ حج کے دو سجدوں اور سورۂ ص کے سجدہ کا بیان
Musnad Ahmad
49
فجر سے پہلے والی دو رکعتوں کی تخفیف اور ان میں قراء ت کا بیان
Musnad Ahmad
50
رات کی نماز میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اذکار، قراء ت اور دعاؤں کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

52
Musnad Ahmad
7156
۔ (۷۱۵۶)۔عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ أخْبَرَنِی أبُوالزُّبَیْرِ أنَّہُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أیْمَنَ یَسْألُ ابْنَ عُمَرَ وَأبُو الزُّبَیْرِ یَسْمَعُ فَقَالَ: کَیْفَ فِیْ رَجُلٍ طَلَّقَ إِمْرَأتَہُ حَائِضًا؟ فَقَالَ: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ إِمْرَأَتَہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ عُمَرُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ عَبْدَ اللّٰہِ طَلَّقَ إِمْرَأتَہُ وَھِیَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیُرَاجِعْھَا)) (عَلَیَّ وَلَمْ یَرَھُ شَیْئًا وَقَالَ فَرَدَّھَا) إِذَا طَہُرَتْ فَلْیُطَلِّقْ أوْیُمْسِکْ۔)) قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ} [الطلاق: ۱] قَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ: وسَمِعْتُ مُجَاھِدًا یَقْرَئُھَا کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۵۵۲۴)
۔ ابوزبیر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:عبد الرحمن بن ایمن نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سوال کیا جا رہا تھا، جبکہ میں سن رہا تھا، انھوں نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: میں ابن عمر نے عہد ِ نبوی میں اپنی بیوی کو اسی طرح طلاق دی تھی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! عبد اللہ نے اپنی بیوی کو حالت ِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ رجوع کر لے، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو وہ چاہے تو طلاق دے دے اور چاہے تو اپنے پاس رکھ لے۔ اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس کو کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا ابن عمر کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {یَا أیُّھَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَقَّتُمُ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ}… اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے مجاہد کو سنا کہ وہ اس آیت کو اسی طرح تلاوت کرتے تھے۔
Musnad Ahmad
8572
۔ (۸۵۷۲)۔ عَنِ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَ نَّہُ سَمِعَ جَابِرًا یَقُولُ: مَرِضْتُ فَأَ تَانِی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُنِی ہُوَ وَأَ بُو بَکْرٍ مَاشِیَیْنِ، وَقَدْ أُغْمِیَ عَلَیَّ فَلَمْ أُکَلِّمْہُ، فَتَوَضَّأَ فَصَبَّہُ عَلَیَّ فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ أَ صْنَعُ فِی مَالِی وَلِی أَ خَوَاتٌ؟ قَالَ: فَنَزَلَتْ آیَۃُ الْمِیرَاثِ {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} کَانَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أَ خَوَاتٌ، {إِنْ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ} [النسائ:۱۷۶]۔ (مسند احمد: ۱۴۳۴۹)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار ہو گیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پیدل چل کر میری تیمار داری کے لئے تشریف لائے، میں بیہوش تھا، سو آپ سے کوئی بات نہ کر سکا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وضو کیا اور مجھ پر پانی ڈالا، اس سے مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے مال کا کیا کروں، جبکہ میری بہنیں وارث ہیں؟ پس میراث سے متعلقہ یہ آیت نازل ہوئی {یَسْتَفْتُونَکَ قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیکُمْ فِی الْکَلَالَۃِ} … لوگ آپ سے فتوی پوچھتے ہیں، آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالی تم کو کلالہ کے بارے میں فتوی دیتا ہے۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اولاد نہیں تھی، صرف بہنیں تھیں، {إِنْ امْرُؤٌ ہَلَکَ لَیْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ} … اگر مرد فوت ہو جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو۔
Musnad Ahmad
8804
۔ (۸۸۰۴)۔ حَدَّثَنَا أَ بُو الْیَمَانِ أَ خْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنْ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَ خْبَرَنِی عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی ثَوْرٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ لَمْ أَ زَلْ حَرِیصًا عَلٰی أَنْ أَسْأَ لَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ الْمَرْأَ تَیْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللَّتَیْنِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا} حَتّٰی حَجَّ وَحَجَجْتُ مَعَہُ وَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَہُ بِإِدَاوَۃٍ فَتَبَرَّزَ ثُمَّ جَائَ فَسَکَبْتُ عَلٰییَدَیْہِ مِنْہَا فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أَ مِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! مَنِ الْمَرْأَ تَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللَّتَانِ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا} قَالَ: وَاعَجَبًا لَکَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! ہُمَا عَائِشَۃُ وَحَفْصَۃُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِیثَیَسُوقُہُ قَالَ کُنْتُ أَ نَا وَجَارٌ لِی مِنْ الْأَ نْصَارِ فِی بَنِی أُمَیَّۃَ بْنِ زَیْدٍ وَہُمْ مِنْ عَوَالِی الْمَدِینَۃِ وَکُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَنْزِلُیَوْمًا وَأَ نْزِلُ یَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُہُ بِمَا حَدَثَ مِنْ خَبَرِ ذٰلِکَ الْیَوْمِ مِنْ الْوَحْیِ أَ وْ غَیْرِہِوَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذٰلِکَ وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَی الْأَ نْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُہُمْ نِسَاؤُہُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا یَأْخُذْنَ مِنْ أَ دَبِ نِسَائِ الْأَ نْصَارِ فَصَخِبْتُ عَلَی امْرَأَ تِی فَرَاجَعَتْنِی فَأَ نْکَرْتُ أَ نْ تُرَاجِعَنِی قَالَتْ وَلِمَ تُنْکِرُ أَ نْ أُرَاجِعَکَ فَوَاللّٰہِ إِنَّ أَ زْوَاجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیُرَاجِعْنَہُ وَإِنَّ إِحْدَاہُنَّ لَتَہْجُرُہُ الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلِ فَأَ فْزَعَنِی ذٰلِکَ وَقُلْتُ لَہَا قَدْ خَابَ مَنْ فَعَلَ ذٰلِکِ مِنْہُنَّ ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَقُلْتُ لَہَا: أَیْ حَفْصَۃُ! أَ تُغَاضِبُ إِحْدَاکُنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْیَوْمَ حَتَّی اللَّیْلِ قَالَتْ نَعَمْ فَقُلْتُ قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَ فَتَأْمَنِینَ أَنْ یَغْضَبَ اللّٰہُ لِغَضَبِ رَسُولِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَہْلِکِی لَا تَسْتَکْثِرِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَا تُرَاجِعِیہِ فِی شَیْئٍ وَلَا تَہْجُرِیہِ وَسَلِینِی مَا بَدَا لَکِ وَلَا یَغُرَّنَّکِ أَ نْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَ وْضَأَ مِنْکِ وَأَ حَبَّ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یُرِیدُ عَائِشَۃَ قَالَ عُمَرُ: وَکُنَّا قَدْ تَحَدَّثْنَا أَ نَّ غَسَّانَ تُنْعِلُ الْخَیْلَ لِغَزْوِنَا فَنَزَلَ صَاحِبِی الْأَ نْصَارِیُّیَوْمَ نَوْبَتِہِ فَرَجَعَ إِلَیْنَا عِشَائً فَضَرَبَ بَابِی ضَرْبًا شَدِیدًا وَقَالَ أَ ثَمَّ ہُوَ فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَیْہِ فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ الْیَوْمَ أَ مْرٌ عَظِیمٌ، قُلْتُ: مَا ہُوَ؟ أَ جَائَ غَسَّانُ؟ قَالَ: لَا بَلْ أَ عْظَمُ مِنْ ذٰلِکَ وَأَہْوَلُ، طَلَّقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَہُ وَقَالَ عُبَیْدُ بْنُ حُنَیْنٍ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ اعْتَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَزْوَاجَہُ فَقُلْتُ خَابَتْ حَفْصَۃُ وَخَسِرَتْ قَدْ کُنْتُ أَ ظُنُّ ہٰذَا یُوشِکُ أَ نْ یَکُونَ فَجَمَعْتُ عَلَیَّ ثِیَابِی فَصَلَّیْتُ صَلَاۃَ الْفَجْرِ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَشْرُبَۃً لَہُ فَاعْتَزَلَ فِیہَا وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَإِذَا ہِیَ تَبْکِی فَقُلْتُ: مَا یُبْکِیکِ أَ لَمْ أَ کُنْ حَذَّرْتُکِ ہٰذَا؟ أَ طَلَّقَکُنَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: لَا أَدْرِی، ہَا ہُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِی الْمَشْرُبَۃِ فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ إِلَی الْمِنْبَرِ فَإِذَا حَوْلَہُ رَہْطٌ یَبْکِی بَعْضُہُمْ فَجَلَسْتُ مَعَہُمْ قَلِیلًا ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَۃَ الَّتِی فِیہَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ لِغُلَامٍ لَہُ أَ سْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ الْغُلَامُ فَکَلَّمَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ کَلَّمْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتّٰی جَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَرَجَعْتُ فَجَلَسْتُ مَعَ الرَّہْطِ الَّذِینَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِی مَا أَ جِدُ فَجِئْتُ الْغُلَامَ فَقُلْتُ اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَیَّ فَقَالَ قَدْ ذَکَرْتُکَ لَہُ فَصَمَتَ فَلَمَّا وَلَّیْتُ مُنْصَرِفًا قَالَ إِذَا الْغُلَامُ یَدْعُونِی فَقَالَ قَدْ أَ ذِنَ لَکَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَإِذَا ہُوَ مُضْطَجِعٌ عَلٰی رِمَالِ حَصِیرٍ لَیْسَ بَیْنَہُ وَبَیْنَہُ فِرَاشٌ قَدْ أَ ثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِہِ مُتَّکِئًا عَلَی وِسَادَۃٍ مِنْ أَ دَمٍ حَشْوُہَا لِیفٌ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ ثُمَّ قُلْتُ وَأَ نَا قَائِمٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَ طَلَّقْتَ نِسَائَکَ فَرَفَعَ إِلَیَّ بَصَرَہُ فَقَالَ لَا فَقُلْتُ اللّٰہُ أَ کْبَرُ ثُمَّ قُلْتُ وَأَ نَا قَائِمٌ أَ سْتَأْنِسُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ رَأَ یْتَنِی وَکُنَّا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ نَغْلِبُ النِّسَائَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِینَۃَ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُہُمْ نِسَاؤُہُمْ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ لَوْ رَأَ یْتَنِی وَدَخَلْتُ عَلٰی حَفْصَۃَ فَقُلْتُ لَہَا لَا یَغُرَّنَّکِ أَ نْ کَانَتْ جَارَتُکِ أَ وْضَأَ مِنْکِ وَأَ حَبَّ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرِیدُ عَائِشَۃَ فَتَبَسَّمَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَبَسُّمَۃً أُخْرٰی فَجَلَسْتُ حِینَ رَأَ یْتُہُ تَبَسَّمَ فَرَفَعْتُ بَصَرِی فِی بَیْتِہِ فَوَاللّٰہِ مَا رَأَ یْتُ فِی بَیْتِہِ شَیْئًایَرُدُّ الْبَصَرَ غَیْرَ اُہْبَۃٍ ثَلَاثَۃٍ فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ادْعُ اللّٰہَ فَلْیُوَسِّعْ عَلٰی أُمَّتِکَ فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَیْہِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْیَا وَہُمْ لَا یَعْبُدُونَ اللّٰہَ فَجَلَسَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ مُتَّکِئًا فَقَالَ: ((أَوَفِی ہٰذَا أَ نْتَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! إِنَّ أُولَئِکَ قَوْمٌ عُجِّلُوا طَیِّبَاتِہِمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا۔)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! اسْتَغْفِرْ لِی فَاعْتَزَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نِسَائَہُ مِنْ أَ جْلِ ذٰلِکَ الْحَدِیثِ حِینَ أَ فْشَتْہُ حَفْصَۃُ إِلٰی عَائِشَۃَ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً وَکَانَ قَالَ مَا أَ نَا بِدَاخِلٍ عَلَیْہِنَّ شَہْرًا مِنْ شِدَّۃِ مَوْجِدَتِہِ عَلَیْہِنَّ حِینَ عَاتَبَہُ اللّٰہُ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ فَبَدَأَ بِہَا فَقَالَتْ لَہُ عَائِشَۃُیَا رَسُولَ اللّٰہِ إِنَّکَ کُنْتَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَیْنَا شَہْرًا وَإِنَّمَا أَ صْبَحْتَ مِنْ تِسْعٍ وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً أَ عُدُّہَا عَدًّا فَقَالَ الشَّہْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَیْلَۃً فَکَانَ ذٰلِکَ الشَّہْرُ تِسْعًا وَعِشْرِینَ لَیْلَۃً قَالَتْ عَائِشَۃُ: ثُمَّ أَ نْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی آیَۃَ التَّخَیُّرِ فَبَدَأَ بِی أَوَّلَ امْرَأَ ۃٍ مِنْ نِسَائِہِ فَاخْتَرْتُہُ ثُمَّ خَیَّرَ نِسَائَہُ کُلَّہُنَّ فَقُلْنَ مِثْلَ مَا قَالَتْ عَائِشَۃُ۔ (مسند احمد: ۲۲۲)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: مجھے ہمیشہیہ خواہش رہی کہ میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے پوچھوں کہ وہ کون سی دو عورتیں ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا}… اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہیقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں۔ ایک مرتبہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا، (قضاء حاجت کے لئے) وہ راہ سے ہٹے، میں بھی ان کے ساتھ لوٹا لے کر مڑگیا، جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر لوٹے سے پانی ڈالا، انہوں نے وضو کیا، اب میں نے کہا: اے امیرالمومنین! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وہ دو بیویاں کون کون سی ہیں، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {إِنْ تَتُوبَا إِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُکُمَا}… اگر تم دونوں اللہ کی طرف توبہ کرو (تو بہتر ہے) کیونکہیقینا تمھارے دل (حق سے) ہٹ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا: اے ابن عباس! مجھے تم پر بڑا تعجب آرہا ہے، سنو، وہ دونوں عائشہ اور حفصہ ہیں، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بقیہ حدیث بیان کی کہ میں اور ایک میرا انصاری پڑوسی (محلہ) بنی امیہ میں رہتے تھے، جو مدینہ کے اونچے علاقہ میں واقع تھا، ہم دونوں باری باری سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، جس دن میں جاتا، اپنے ساتھی کو اس دن کی وحی وغیرہ کی تمام خبریں آکر بتا دیتا اورجب وہ جاتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتا، بات یہ ہے کہ ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب تھے، لیکن جب مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ انصاری عورتیں مردوں پر غالب ہیں، ہماری عورتیں بھی انصاری خواتین کی باتیں سیکھنے لگیں، ایک دن میںاپنی بیوی پر چیخا، اس نے آگے سے جواب دے دیا، اس کا پلٹ کر جواب دینا مجھے ناگوار گزرا، لیکن اس نے کہا: میرا جواب کیوں برا لگتا ہے؟ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دیتی ہیں اور کوئی کسی دن رات تک آپ کو چھوڑ بھی دیتی ہے، میں اس بات سے گھبرایا اور میں نے کہا: جس نے یہ کیا اس کا ستیاناس ہو، پھر میں تیار ہو کر چلا اور حفصہ کے پاس جا کر پوچھا؛ اے حفصہ! کیا تم میں سے کوئی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو رات تک خفا رکھتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: وہ تو نامراد اور خسارہ میں ہے، کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غصہ سے اللہ کو غصہ آجائے اور اس طرح وہ عورت ہلاک ہوجائے، اب تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ مانگا کرو نہ آپ کو کچھ جواب دیا کرو اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے باتیں کرنی چھوڑا کرو، اگر تمہیں ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لیا کرو اور تجھے یہ چیز دھوکے میں نہ ڈالے کہ تیری پڑوسن تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پسندیدہ ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی مراد سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تھیں، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم یہ بات سنتے رہتے تھے کہ غسان (شام کا بادشاہ) ہم سے لڑنے کے لئے گھوڑوں کے نعل لگوا رہا ہے، ایک مرتبہ میرا انصاری دوست اپنی باری کے دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر رہا اور شام کو واپس آیا تو میرا دروازہ زور سے کھٹکھٹایااور پوچھا: عمر ہیں؟ میں گھبرا کر ان کے پاس پہنچا تو وہ کہنے لگا: آج ایک بڑا حادثہ رونما ہوا ہے، میں نے کہا: وہ کیا؟ کیا غسانی لشکر تو نہیں آگیا؟ اس نے کہا: یہ بات نہیں، اس سے بھی بڑی بات واقع ہوئی ہے، ایک ہولناک واقعہ ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے، میں نے کہا: بس حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تو نامراد اور خسارے میں ہوگئی، میرا خیال تھا کہ عنقریب ایسے ہوگا، میں نے کپڑے پہنے اور صبح کی نماز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ادا کی، (نماز سے فارغ ہو کر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے ایک بالائی کمرے میں چلے گئے اور اس کے گوشے میں جا کر بیٹھ گئے اور میں حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس چلا گیا،کیا دیکھتا ہوں کہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تو رو رہی ہیں، میں نے پوچھا: کس بات سے رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں ڈرایا نہیں تھا؟ کیا تم کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ اس نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں ہے، آپ اس بالاخانے میں تشریف فرما ہیں پھر میں نکل کر منبر کے پاس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے چاروں طرف لوگ بیٹھے ہیں اور بعض رو رہے ہیں، میں تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھارہا، پھر میرا دل نہ رہ سکا اور میں اسی بالائی کوٹھڑی کے پاس، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم موجودتھے، آیا اور آپ کے حبشی غلام سے کہا: میرے لئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لو، غلام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جا کر عرض کیا اور واپس آکر کہا کہ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا اور تمہارا ذکر کیا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چپ ہو رہے، میں واپس آکر پھر ان لوگوں ساتھ بیٹھ گیا، جو منبر کے پاس تھے پھر دل نے بے قرار کیا اور میں نے غلام سے جا کر کہا: میرے لئے اجازت مانگو، وہ جا کر پھر لوٹا اور کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے، مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاموش رہے، پھر میں ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گیا، پھر میرا دل بے قرار ہوا اور میں نے جا کر غلام سے کہا: میرے لئے ایک مرتبہ پھر جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت مانگو، غلام اندر گیا اور واپس آکر مجھے کہا: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تمہارا ذکر کیا ہے، مگر آپ خاموش ہو رہے ہیں، پھر پلٹنے ہی لگا تھا کہ اچانک غلام نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تم کو اجازت دے دی، جب میں اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سرکار دوعالم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چھال بھرا تکیہ رکھے کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں، جس سے آپ کے جسد اطہر پر نشان پڑ گئے ہیں، میں نے جا کر کھڑے ہی کھڑے کہا: السلام علیکم، اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف آنکھ اٹھا کر فرمایا: نہیں، میں نے متعجب ہو کر کہا: اللہ اکبر، پھر میں نے کھڑے ہی کھڑے دل بہلانے کے واسطے عرض کیا: کاش آپ میری طرف متوجہ ہوں، ہم قریشی لوگ عورتوں پر غالب تھے، لیکن جب مدینہ آئے تو یہاں ایسی قوم کو دیکھا کہ ان کی عورتیں مردوں پر غالب ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے، پھر میں نیعرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ میرا حال سنیں تو میںکچھ کہنا چاہتا ہوں، میں نے حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جا کر اس سے کہا: تجھے یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تیری پڑوسن یعنی عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تجھ سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ کی محبوب بیوی ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوبارہ مسکرانے لگے، میں سرکار دوعالم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہنستے دیکھ کر بیٹھ گیا، آپ کے مکان کے اندر ہر طرف نگاہ اٹھا کر میں نے دیکھا، بس اللہ کی قسم! وہاں تین کھالوں کے علاوہ مجھے اور کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: آپ اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ آپ کی امت پر کشادگی کرے، فارس اورروم پر تو ہر چیز کی فراوانی کی گئی ہے اور ان کے پاس بے حد دنیاوی سامان ہے، جبکہ وہ اللہ کی عبادت بھی نہیں کرتے۔ پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹیک لگائے بیٹھے تھے، یہ سن کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم ابھی تک اس خیال کے بندے ہو؟ ان لوگوں کی اچھائیوں کا بدلہ ان کو اسی دنیا میں ملتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ میرے لئے بخشش کی دعا فرمائیے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی بات کی وجہ سے جو کہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر ظاہر کردی تھی، اپنی بیویوں سے انتیس دن تک الگ ہوگئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غصے سے فرمایا: میں ایک ماہ تک تمہارے پاس نہیں آؤں گا۔ جب انتیس دن گذرگئے، تو آپ پہلے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس گئے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی، ابھی تک تو انتیس دن ہوئے ہیں، میں مسلسل گن رہی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ مہینہ انتیس کا ہی ہوا، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: پھر اللہ نے آیت ِ تخییر نازل فرمائی، سب بیویوں سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے پوچھا، میں نے آپ کو اختیار کیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب بیویوں کو اختیار دیا، ان سب نے میری طرح کا جواب دیا۔
Musnad Ahmad
8905
۔ (۸۹۰۵)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُغِیْرَۃَ الضَّبِّیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: زَوَّجَنِیْ اَبِیْ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیَّ جَعَلْتُ لَا اَنْحَاشُ لَھَا عَمَّا بِیْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلاۃِ، فَجَائَ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ اِلٰی کَنَّتِہِ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْھَا، فَقَالَ لَھَا: کَیْفَ وَجَدْتِّ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرُ الرِّجَالِ، اَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ، لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَاَقْبَلَ عَلَیَّ، فَعَذَمَنِیْ، وَعَضَّنِیْ بِلِسَانِہٖ،فَقَالَ: اَنْکَحْتُکَامْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَھَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ اِلَّی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَانِیْ، فَاَرْسَلَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِیْ: ((اَتَصُوْمُ النَّھَارَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَمَسُّ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) قَالَ: ((اقْرَاِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ عَشَرَۃِ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ اَحَدُھُمَا اِمَّا حُصِیْنٌ وَاِمَّا مُغِیْرَۃُ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ ثَلاثٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تُزِیْدَنَّ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: (( صُمْ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ یَزَلْیَرْفَعُنِیْ، حَتّٰی قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا فَاِنَّہُ اَفْضَلُ الصِّیَامِ، وَھُوَ صِیَامُ اَخِیْ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: حُصَیْنٌ فِیْ حَدِیْثِہِ ثُمَّ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( فَاِنَّ لِکُلِّ عَابِدٍ شِرَّۃً، وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَاِمَّا اِلٰی سُنَّۃٍ، وَاِمَّا اِلٰی بِدْعَۃٍ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔)) قَالَ مُجَاھِدٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، حَیْثُ قَدْ ضَعُفَ وَکَبِرَ، یَصُوْمُ الْاَیَّامَ کَذٰلِکَ،یَصِلُ بَعْضَھَا اِلٰی بَعْضٍ، لِیَتَقَوّٰی بِذٰلِکَ، ثُمَّ یُفْطِرُ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرُاُ فِیْ کِلِّ حِزْبٍ کَذٰلِکَ، یَزِیْدُ اَحْیَانًا، وَیَنْقُصُ اَحْیَانًا، غَیْرَ اَنَّہٗیُوفِی الْعَدَدَ، اِمَّا فِیْ سَبْعٍ، وَاِمَّا فِیْ ثَلاثٍ، قَالَ: ثُمَّ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: لَاَنْ اَکُوْنَ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ (اَوْعَدَلَ)،لٰکِنِّیْ فَارَقْتُہُ عَلٰی اَمْرٍ اَکْرَہُ اَنْ اُخَالِفَہُ اِلیٰ غَیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور میری خوب ملامت کی اور مجھے برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میںنے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔
Musnad Ahmad
9643
۔ (۹۶۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ یَوْمًا فَاَتَی النِّسَائَ فِیْ الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَیْھِنَّ فَقَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ! مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ وَدِیْنٍ اَذْھَبَ لِقُلُوْبِ ذَوِی الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ، فَاِنِّیْ قَدْ رَاَیْتُکُنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَتَقَرَّبْنَ اِلَی اللّٰہِ مَااسْتَطَعْتُنَّ۔)) وَکَانَ فِیْ النِّسَائِ امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَاَخْبَرَتْہُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَخَذَتْ حُلِیًّا لَھَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَاَیْنَ تَذْھَبِیْنَ بِھٰذَا الْحُلِیِّ؟ فَقَالَتْ: اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلِہِ، لَعَلَّ اللّٰہَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیْ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ: وَیْلَکِ ھَلُمِّیْ فَتَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقَالَت: وَاللّٰہِ حَتّٰی اَذْھَبَ بِہٖاِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَھَبَتْ تَسْتَاْذِنُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ھٰذِہِ زَیْنَبُ تَسْتَاْذِنُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ: ((اَیُّ الزَّیَانِبِ ھِیَ؟)) فَقَالُوْا: امْرَاَۃُ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ، فَقَالَ: ((اِئْذَنُوْا لَھَا۔)) فَدَخَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَت: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ سَمِعْتُ مِنْکَ مَقَالَۃً، فَرَجَعَتُ اِلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَحَدَّثَتُہُ وَاَخَذْتُ حُلِیًّا اَتَقَرَّبُ بِہٖاِلَی اللّٰہِ وَاِلَیْکَ رَجَائَ اَنْ لَّا یَجْعَلَنِیَ اللّٰہُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ، فَقَالَ لِیَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیَّ وَعَلَی وَلَدِیْ فَاِنَّا لَہُ مَوْضِعٌ، فَقُلْتُ: حَتّٰی اَسْتَاْذِنَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَصَدَّقِیْ بِہٖعَلَیْہِ وَعَلٰی بَنِیْہِ فَاِنَّھُمْ لَہُ مَوْضِعٌ۔)) ثُمَّ قَالَتْ: یارَسُوْلَ اللہِ! اَرَاَیْتَ مَاسَمِعْتُ مِنْکَ حِیْنَ وَقَفْتَ عَلَیْنَا، ((مَارَاَیْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُوْلٍ قَطُّ وَلَا دِیْنٍ اَذْھَبَ بِقُلُوْبِ ذَوِیْ الْاَلْبَابِ مِنْکُنَّ۔)) قَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا نُقْصَانُ دِیْنِنَا وَعُقُوْلِنَا؟ فَقَالَ: ((اَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، فَالْحَیْضَۃُ الَّتِیْ تُصِیْبُکُنَّ، تَمْکُثُ اِحْدَاکُنَّ مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ تَمْکُثَ، لَاتُصَلِّی وَلَا تَصُوْمُ، فَذٰلِکَ مِنْ نُقْصَانِ دِیْنِکُنَّ، وَاَمَّا مَاذَکَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُوْلِکُنَّ، فَشَھَادَتُکُنَّ، اِنّمَا شَھَادَۃُ الْمَرْاَۃِ نِصْفُ شَھَادَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۸۸۴۹)
۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِفجر سے فارغ ہوئے ، مسجد میں موجود عورتوں کے پاس آئے، ان کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا: عورتوں کی جماعت! میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی، لہٰذا حسب ِ استطاعت اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ عورتوں میں عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی بھی موجود تھی ، اس نے اپنے خاوند کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہوئی باتوں کی اطلاع دی اور اپنا زیور لے کر نکل پڑی، سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ زیور لے کر کہاں جا رہی ہے؟ اس نے کہا: اس کے ذریعے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں نہ بنائے، انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اِدھر آ اور مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کا بہترین مصرف ہیں، اس نے کہا: اللہ کی قسم! اس وقت تک نہیں، جب تک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس نہ جاؤں، پس وہ چلی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت طلب کی، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتایا کہ یہ زینب آئی ہے اور آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگ رہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کون سی زینب ہے؟ لوگوں نے کہا؛ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو اجازت دے دو۔پس وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک میں نے آپ سے بات سنی، پھر میں اپنے خاوند سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف گئی، ان کو یہ حدیث بیان کی اور اس نیت سے اپنا زیور لے کر چل پڑی کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کرتی ہوں، اس امید میں کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم والوں میں سے نہ بنائے، لیکن ابن مسعود نے مجھے کہا: مجھ پر اور میرے بچوں پر صدقہ کر، ہم اس کے مستحق ہیں، میں نے کہا: جی میں پہلے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اجازت لے لوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اسی پر اور اس کے بیٹوں پر صدقہ کر دے، وہی اس کے مستحق ہیں۔ پھر اس خاتون نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب آپ صبح ہمارے پاس آئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نے عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود تم عورتوں سے زیادہ کسی عقل مند پر غالب آجانے والا کوئی نہیں دیکھا اور میں نے قیامت کے دن جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی۔ اے اللہ کے رسول! گزارش یہ ہے کہ ہمارے دین اور عقل کی کمی کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے جو نقصانِ دین کی بات کی، وہ یہ ہے کہ تم میں سے جب کسی کو حیض آتا ہے، تو وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق نماز پڑھنے سے اور روزے رکھنے سے رکی رہتی ہے، اس سے دین میں کمی آ جاتی ہے اور میں نے جو عقل کی کمی کی بات کی ہے تو وہ تمہاری گواہی کا مسئلہ ہے کہ ایک عورت کی گواہی کو مرد کی نصف شہادت کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
Musnad Ahmad
10051
۔ (۱۰۰۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ شَھِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَتَاہُ بَشِیْرٌیُبَشِّرُہُ بِظَفَرِ جُنْدٍ لَہُ عَلٰی عَدُوِّھِمْ، وَرَاْسُہُ فِیْ حِجْرِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا، فَقَامَ فَخَرَّ سَاجِدًا، ثُمَّ اَنْشَاَ یُسَائِلُ الْبَشِیْرَ، فَاَخْبَرَہُ فِیْمَا اَخْبَرَہُ اَنَّہُ وَلِیَ اَمْرَھُمُ امْرَاَۃٌ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْآنَ ھَلَــکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ، ھَلَـکَتِ الرِّجَالُ اِذَا اَطَاعَتِ النِّسَائَ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۹)
۔ سیدنا ابو بکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ خوشخبری دینے والا ایک آدمییہ خوشخبری دینے کے لیے آیا کہ وہ دشمن پر کامیاب ہو گئے ہیں، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی گودی میں تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے، سجدہ کیا اور پھر خوشخبری دینے والے سے سوال جواب کرنے لگے، اس نے ایک بات یہ بھی بتلائی کہ اُن لوگوں کی ذمہ دار خاتون تھی، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے، اس وقت مرد ہلاک ہو جائیں گے، جب عورتوں کی اطاعت کریں گے۔ تین بار ارشاد فرمایا۔
Musnad Ahmad
10731
۔ (۱۰۷۳۱)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النِّسَائَ کُنَّ یَوْمَ أُحُدٍ خَلْفَ الْمُسْلِمِینَیُجْہِزْنَ عَلٰی جَرْحٰی الْمُشْرِکِینَ، فَلَوْ حَلَفْتُ یَوْمَئِذٍ رَجَوْتُ أَنْ أَبَرَّ إِنَّہُ لَیْسَ أَحَدٌ مِنَّا یُرِیدُ الدُّنْیَا، حَتَّی أَنْزَلَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ} فَلَمَّا خَالَفَ أَصْحَابُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعَصَوْا مَا أُمِرُوا بِہِ، أُفْرِدَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی تِسْعَۃٍ سَبْعَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَرَجُلَیْنِ مِنْ قُرَیْشٍ وَہُوَ عَاشِرُہُمْ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ، قَالَ: ((رَحِمَ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَاتَلَ سَاعَۃً حَتّٰی قُتِلَ، فَلَمَّا رَہِقُوہُ أَیْضًا قَالَ: ((یَرْحَمُ اللّٰہُ رَجُلًا رَدَّہُمْ عَنَّا۔)) فَلَمْ یَزَلْیَقُولُ ذَا حَتّٰی قُتِلَ السَّبْعَۃُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِصَاحِبَیْہِ: ((مَا أَنْصَفْنَا أَصْحَابَنَا۔)) فَجَائَ أَبُو سُفْیَانَ فَقَالَ: اعْلُ ہُبَلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اَللَّہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ۔)) فَقَالُوا: اللّٰہُ أَعْلٰی وَأَجَلُّ، فَقَالَ أَبُو سُفْیَانَ: لَنَا عُزّٰی وَلَا عُزّٰی لَکُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((قُولُوا: اللّٰہُ مَوْلَانَا وَالْکَافِرُونَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: یَوْمٌ بِیَوْمِ بَدْرٍ، یَوْمٌ لَنَا وَیَوْمٌ عَلَیْنَا، وَیَوْمٌ نُسَائُ وَیَوْمٌ نُسَرُّ، حَنْظَلَۃُ بِحَنْظَلَۃَ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، وَفُلَانٌ بِفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا سَوَائً أَمَّا قَتْلَانَا فَأَحْیَائٌیُرْزَقُونَ، وَقَتْلَاکُمْ فِی النَّارِ یُعَذَّبُونَ۔)) قَالَ أَبُو سُفْیَانَ: قَدْ کَانَتْ فِی الْقَوْمِ مُثْلَۃٌ، وَإِنْ کَانَتْ لَعَنْ غَیْرِ مَلَإٍ مِنَّا مَا أَمَرْتُ وَلَا نَہَیْتُ وَلَا أَحْبَبْتُ وَلَا کَرِہْتُ وَلَا سَائَ نِیْ وَلَا سَرَّنِی، قَالَ: فَنَظَرُوا فَإِذَا حَمْزَۃُ قَدْ بُقِرَ بَطْنُہُ وَأَخَذَتْ ہِنْدُ کَبِدَہُ فَلَاکَتْہَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَأْکُلَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَأَکَلَتْ مِنْہُ شَیْئًا؟)) قَالُوا: لَا، قَالَ: ((مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُدْخِلَ شَیْئًا مِنْ حَمْزَۃَ النَّارَ۔)) فَوَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، وَجِیئَ بِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَوُضِعَ إِلَی جَنْبِہِ،فَصَلَّی عَلَیْہِ، فَرُفِعَ الْأَنْصَارِیُّ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، ثُمَّ جِیء َ بِآخَرَ فَوَضَعَہُ إِلَی جَنْبِ حَمْزَۃَ فَصَلَّی عَلَیْہِ، ثُمَّ رُفِعَ وَتُرِکَ حَمْزَۃُ، حَتَّی صَلَّی عَلَیْہِیَوْمَئِذٍ سَبْعِینَ صَلَاۃ۔ (مسند احمد: ۴۴۱۴)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ احد کے دن خواتین مسلمانوں کے پیچھے تھیں اور وہ مشرکین کے زخمی لوگوں کی مرہم پٹی اور خدمت کر رہی تھیں، میں اس روز قسم اُٹھا کر کہہ سکتا تھا کہ ہم میں سے ایک بھی آدمی دنیا کا خواہش مند اور طالب نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الْآخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ}… اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے، تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کر دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ جب بعض صحابہ سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہو گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم عدولی کے مرتکب ہوئے اور حالات نے رخ بدلا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سات انصار اور دو قریشیوں کے ایک گروپ میں علیحدہ ہو گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان میں دسویں فرد تھے، جب کفار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر چڑھ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس آدمی پر اللہ کی رحمت ہو جو ان حملہ آوروں کو ہم سے ہٹائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم برابر یہ بات کہتے رہے تاآنکہ ان میں سے سات آدمی شہید ہو گئے اور صرف دو آدمی باقی بچے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ان دونوں ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ان ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا (یعنی قریشیوں نے انصاریوں سے انصاف نہیں کیا کہ انصاری ہییکے بعد دیگرے نکل نکل کر شہید ہوتے گئے یا ہمارے جو لوگ میدان سے راہِ فرار اختیار کر گئے ہیں انہوں نے ہمارے ساتھ انصاف نہیں کیا)۔ ابو سفیان نے آکر کہا: اے ہبل! تو سربلند ہو تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے جواب میں تم یوں کہو اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلُّ (اللہ ہی بلند شان والا اور بزرگی والا ہے۔) صحابہ نے بلند آواز سے کہا: اَللّٰہُ أَعْلَی وَأَجَلّ۔ُپھر ابو سفیان نے کہا: ہمارا تو ایک عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کہو اللہ ہمارا مدد گار ہے اور کافروں کا کوئی بھی مدد گار نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا: آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے، آج ہمیں فتح ہوئی ہے، اس روز ہمیں شکست ہوئی تھی، ایک دن ہمیں برا لگا اور ایک دن ہمیں اچھا لگا، حنظلہ کے مقابلے میں حنظلہ، فلاں کے فلان مقابلے میں اور فلاں بالمقابل فلاں، یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمارے تمہارے درمیان کوئی برابری نہیں، ہمارے مقتولین زندہ ہیں، انہیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں ہیں، انہیں عذاب سے دو چار کیا جاتا ہے۔ ابو سفیان نے کہا: تمہارے یعنی مسلمانوں کے مقتولین کا مثلہ کیا گیا ہے ،یہ کام ہماری رائے یا مشاورت کے بغیر ہوا ہے، میں نے نہ اس کا حکم دیا اور نہ اس سے روکا۔ اور میں نے اسے پسند یا نا پسند بھی نہیں کیا، مجھے اس کا نہ غم ہوا ہے اور نہ خوشی۔ صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جب شہدائے کرام کو دیکھاتو سیّد نا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا پیٹ چاک کیا گیا تھا، ابو سفیان کی بیوی ہند نے ان کا جگر نکال کر اسے چبایا، مگر وہ اسے کھا نہ سکی،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے اس میں سے کچھ کھایا تھا؟ صحابہ نے عرض کیا: جی نہیں ،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ حمزہ کے جسم کے کسی بھی حصہ یا اس کے جزء کو جہنم میں داخل کرنے والا نہیں ہے۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو سامنے رکھ کر ان کی نماز جنازہ ادا کی، بعد ازاں ایک انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو لایا گیا، اسے سیّدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، انصاری کی میت کو اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی میت کو وہیں رہنے دیا گیا، پھر ایک اور شہید کو لایا گیا، اسے بھی سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں رکھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی، پھر اسے اُٹھا لیا گیا اور سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو وہیں رہنے دیا گیا،یہاں تک کہ اس روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی نماز جنازہ ستر بار ادا فرمائی۔
Musnad Ahmad
11537
۔ (۱۱۵۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ صُہَیْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَأَی الصِّبْیَانَ وَالنِّسَائَ مُقْبِلِینَ، قَالَ عَبْدُ الْعَزِیزِ: حَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: مِنْ عُرْسٍ، فَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُمْثِلًا فَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ، اللَّہُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَیَّ یَعْنِی الْأَنْصَارَ)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدَہِ اِنَّکُمْ لَاَحَبُّ النَّاسِ اِلَیَّ)) ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۸۲۸)
سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک شادی سے انصار کے بچوں اور عورتوں کو آتے ہوئی دیکھاتو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: اللہ گواہ ہے کہ تم لوگوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین ہو۔ اللہ گواہ ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تم انصار مجھے سب سے زیادہ محبوب لوگوں میں سے ہو۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔
Musnad Ahmad
11812
۔ (۱۱۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ، عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُغِیْرَۃَ الضَّبِّیِّ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: زَوَّجَنِیْ اَبِیْ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَیَّ جَعَلْتُ لَا اَنْحَاشُ لَھَا عَمَّا بِیْ مِنَ الْقُوَّۃِ عَلَی الْعِبَادَۃِ مِنَ الصَّوْمِ وَالصَّلاۃِ، فَجَائَ عَمْرُوبْنُ الْعَاصِ اِلٰی کَنَّتِہِ حَتّٰی دَخَلَ عَلَیْھَا، فَقَالَ لَھَا: کَیْفَ وَجَدْتِّ بَعْلَکِ؟ قَالَتْ: خَیْرُ الرِّجَالِ، اَوْ کَخَیْرِ الْبُعُوْلَۃِ، مِنْ رَجُلٍ، لَمْ یُفَتِّشْ لَنَا کَنَفًا، وَلَمْ یَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا، فَاَقْبَلَ عَلَیَّ، فَعَذَمَنِیْ، وَعَضَّنِیْ بِلِسَانِہٖ، فَقَالَ: اَنْکَحْتُکَ امْرَاَۃً مِّنْ قُرَیْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَھَا، وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ! ثُمَّ انْطَلَقَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَکَانِیْ، فَاَرْسَلَ اِلَیَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَتَیْتُہُ، فَقَالَ لِیْ: ((اَتَصُوْمُ النَّھَارَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((وَتَقُوْمُ اللَّیْلَ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ، وَاُصَلِّیْ وَاَنَامُ، وَاَمَسُّ النِّسَائَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ۔)) قَالَ: ((اقْرَاِ الْقُرْآنَ فِیْ کُلِّ شَہْرٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ عَشَرَۃِ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَجِدُنِیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ اَحَدُھُمَا اَمَّا حُصِیْنٌ وَاَمَّا مُغِیْرَۃُ، قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ ثَلاثٍ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: ((فَاقْرَاْہُ فِیْ کُلِّ سَبْعٍ لَا تَزِیْدَنَّ عَلٰی ذٰلِکَ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: (( صُمْ فِیْ کُلِّ شَھْرٍ ثَلاثَۃَ اَیَّامٍ۔)) قُلْتُ: اِنِّیْ اَقْوٰی مِنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَلَمْ یَزَلْ یَرْفَعُنِیْ، حَتّٰی قَالَ: ((صُمْ یَوْمًا وَاَفْطِرْ یَوْمًا فَاِنَّہُ اَفْضَلُ الصَّیَامِ، وَھُوَ صِیَامُ اَخَیْ دَاوُدَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔)) قَالَ: حُصَیْنٌ فِیْ حَدَیْثِہِ ثُمَّ قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( فَاِنَّ لِکُلِّ عَابِدٍ شِرَّۃً، وَلِکُلِّ شِرَّۃٍ فَتْرَۃٌ، فَاِمَّا اِلٰی سُنَّۃٍ، وَاِمَّا اِلٰی بِدْعَۃٍ، فَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی سُنَّۃٍ فَقَدِ اھْتَدٰی، وَمَنْ کَانَتْ فَتْرَتُہُ اِلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ فَقَدْ ھَلَکَ۔)) قَالَ مُجَاھِدٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو، حَیْثُ قَدْ ضَعُفَ وَکَبِرَ، یَصُوْمُ الْاَیَّامَ کَذٰلِکَ، یَصِلُ بَعْضَھَا اِلٰی بَعْضٍ، لِیَتَقَوّٰی بِذٰلِکَ، ثُمَّ یُفْطِرُ بَعْدَ تِلْکَ الْاَیَّامِ، قَالَ: وَکَانَ یَقْرُاُ فِیْ کِلِّ حِزْبٍ کَذٰلِکَ، یَزِیْدُ اَحْیَانًا، وَیَنْقُصُ اَحْیَانًا، غَیْرَ اَنَّہٗ یُوفِی الْعَدَدَ، اِمَّا فِیْ سَبْعٍ، وَاِمَّا فِیْ ثَلاثٍ، قَالَ: ثُمَّ کَانَ یَقُوْلُ بَعْدَ ذٰلِکَ: لَاَنْ اَکُوْنَ قَبِلْتُ رُخْصَۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا عُدِلَ بِہٖ (اَوْ عَدَلَ)، لٰکِنِّیْ فَارَقْتُہُ عَلٰی اَمْرٍ اَکْرَہُ اَنْ اُخَالِفَہُ اِلیٰ غَیْرِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۷۷)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے ایک قریشی عورت سے میری شادی کر ! جو چیز آدمی کے پاس نہ ہو اس کو بیچنا جائز نہیں۔ اسی طرح کچے پھل کی بیع بھی درست نہیں البتہ بیع سلم میں معاملہ طے کرتے وقت بائع کے پاس چیز کا موجود ہونا شرط نہیں امام بخاری نے اس حوالہ سے باب قائم کیا ہے۔ تفصیل دیکھیں، صحیح بخاری: ۲۲۴۴ اور اس کا باب۔ (عبداللہ رفیق) دی، جب میں اس پر داخل ہوا تو میں نے اس کا کوئی اہتمام نہ کیا اور نہ اس کو وقت دیا، کیونکہ مجھے روزے اور نماز کی صورت میں عبادت کرنے کی بڑی قوت دی گئی تھی، جب سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھا: تو نے اپنے خاوند کو کیسا پایا ہے؟ اس نے کہا: وہ بہترین آدمی ہے، یا وہ بہترین خاوند ہے، اس نے نہ میرا پہلو تلاش کیا اور نہ میرے بچھونے کو پہچانا (یعنی وہ عبادت میں مصروف رہنے کی وجہ سے اپنی بیوی کے قریب تک نہیں گیا )۔ یہ کچھ سن کر میرا باپ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے بہت ملامت کی اور برا بھلا کہا اور کہا: میں نے حسب و نسب والی قریشی خاتون سے تیری شادی کی ہے اور تو اس سے الگ تھلگ ہو گیا اور تو نے ایسے ایسے کیا ہے، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میرا شکوہ کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو دن کو روزہ رکھتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور رات کو قیام کرتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور حق زوجیت بھی ادا کرتا ہوں، جس نے میری سنت سے بے رغبتی اختیار کی، وہ مجھ سے نہیں ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایک ماہ میں قرآن مجید کی تلاوت مکمل کیا کر۔ میںنے کہا: میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ قوی پاتاہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر دس دنوں میں مکمل کر لیا کرو۔ میں نے کہا: جی میںاپنے آپ کو اس سے زیادہ قوت والا سمجھتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر تین دنوں میں ختم کر لیا کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو سات دنوں میں تلاوت مکمل کر لیا کر اور ہر گز اس سے زیادہ تلاوت نہ کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ماہ میں تین روزے رکھا کر۔ میں نے کہا: جی میں اس سے زیادہ طاقتور ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے آگے بڑھاتے گئے، یہاں تک کہ فرمایا: ایک دن روزہ رکھ لیا کر اور ایک دن افطار کر لیا کر، یہ افضل روزے ہیں اور یہ میرے بھائی داود علیہ السلام کے روزے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر عبادت گزار میں حرص اور رغبت پیدا ہوتی ہے، پھر ہر رغبت کے بعد آخر سستی اور کمی ہو تی ہے، اس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے یا بدعت کی طرف، پس جس کا انجام سنت کی طرف ہوتا ہے، وہ ہدایت پا جائے گا، اور جس کا انجام کسی اور شکل میں ہو گا، وہ ہلاک ہو جائے گا۔ امام مجاہد کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمزور اور بوڑھے ہو گئے تو وہ اسی مقدار کے مطابق روزے رکھتے تھے، بسا اوقات چند روزے لگاتار رکھ لیتے، پھر اتنے ہی دن لگاتار افطار کر لیتے، اس سے ان کا مقصد قوت حاصل کرنا ہوتا تھا، اسی طرح کا معاملہ اپنے قرآنی حزب میں کرتے تھے، کسی رات کو زیادہ حصہ تلاوت کر لیتے اور کسی رات کو کم کر لیتے، البتہ ان کی مقدار وہی ہوتی تھی،یا تو سات دنوں میں قرآن مجید مکمل کر لیتے،یا تین دنوں میں۔ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بعد میں کہا کرتے تھے: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رخصت قبول کر لی ہوتی تو وہ مجھے دنیا کی ہر اس چیز سے محبوب ہوتی، جس کا بھی اس سے موازنہ کیا جاتا، لیکن میں عمل کی جس روٹین پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے جدا ہوا تھا، اب میں ناپسند کرتا ہوں کہ اس کی مخالفت کروں۔