TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

موزوں پر مسح کرنے کے ابواب - موزوں پر مسح کرنے کے ابواب - Book 15 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 15 of Musnad Ahmad, with 7 chapters and 32 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

32 Hadith · 7 Chapters
مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۵)۔عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَیَالِیَہُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۵)
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۵، والبزار: ۲۷۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/۶۹، والدارقطنی: ۱/۱۹۷، والبیھقی: ۱/ ۱۷۵ (انظر: ۲۳۹۹۵)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔
745
Sahih
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
۔ (۷۴۶)۔عَنْ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِمْسَحُوْا عَلَی الْخِفَافِ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ۔)) وَلَوِ اسْتَزَدْنَاہُ لَزَادَنَا۔ (مسند أحمد: ۲۲۲۰۱)
سیدنا خزیمہ بن ثابت انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تینوں دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتے ہو۔ اگر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے زیادہ (دنوں کی رخصت) کا مطالبہ کرتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ ہمیں زیادہ رخصت دے دیتے۔
Takhreej
(۷۴۶) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۷، وابن ماجہ: ۵۵۳ (انظر: ۲۱۸۵۷)
746
Sahih
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
۔ (۷۴۷)۔ (وَعَنْہُ مِن طَرِیقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: جَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَیَوْمًا وَلَیْلَۃً لِلْمُقِیْمِ وَأَیْمُ اللّٰہِ! لَو مَضَی السَّائِلُ فِی مَسْأَلَتِہِ لَجَعَلَہَا خَمْسًا۔(مسند أحمد:۲۲۲۲۶)
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے مسافر کے لیے تین دنوں کی اور مقیم کے لیے ایک دن اور رات کی رخصت دی، اللّٰہُ کی قسم! اگر سائل مزید سوال کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پانچ دنوں کی رخصت دے دینی تھی۔
Takhreej
(۷۴۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… ان دونوں روایات سے واضح طور پر یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ مسافر کو تین سے زیادہ دنوں تک مسح کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
747
Sahih
موزوں پر مسح کی مدت کے عدم تعین کے قائلین کی دلیل کا بیان
۔ (۷۴۸)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: قَرَأْتُ فِی کِتَابٍ لِعَطَائِ بْنِ یَسَارٍ مَعَ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: فَسَأَلْتُ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّیْنِ، قَالَتْ: قَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَکُلُّ سَاعَۃٍ یَمْسَحُ الْاِنْسَانُ عَلٰی الْخُفَّیْنِ وَلَا یَنْزِعُہُمَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۷۳۶۴)
کرنے کی گنجائش ہے، البتہ اس موضوع پر درج ذیل روایت قابل توجہ ہے: حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: خَرَجتُ مِنَ الشَّامِ إِلٰی الْمَدِیْنَۃِ یَوْمَ الْجُمَعَۃِ، فَدَخَلْتُ عَلٰی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: مَتٰی أَوْلَجْتَ خُفَّیْکَ فِی رِجْلَیْکَ؟ قُلْتُ: یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، قَالَ: فَھَلْ نَزَعْتَھُمَا؟ قُلْتُ: لَا۔ قَالَ: أَصَبْتَ السُّنَّۃَ۔…میں جمعہ کے روز شام سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا، (جب وہاں پہنچا تو) حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس گیا۔ انھوں نے کہا: تم نے موزے کب پہنے تھے؟ میں نے کہا: جمعہ کے روز۔ انھوں نے پوچھا: کیا پھر ان کو اتارا ہے؟ میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: تم نے سنت کی موافقت کی ہے۔ (شرح معانی الآثار: ۱/۴۸،دارقطنی: ص۷۲، حاکم: ۱/۱۸۰ـ ۱۸۱،صحیحہ: ۲۶۲۲) جب صحابی کسی عمل یا قول کو سنت کہہ دے تو اس کی مراد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی سنت ہوتی ہے۔ اس حدیث کا پچھلے باب کی احادیث سے تعارض ہے، کیونکہ ان میں مسافر کو تین دنوں کی اور اس میں سات دنوں کی گنجائش دی گئی ہے۔ ان دو احادیث میں اس طرح جمع و تطبیق ممکن ہے کہ سات دنوں والی روایت کو ضرورت اور جماعت کی معیت میں رہنے کی وجہ سے موزے نہ اتار سکنے پر محمول کیا جائے، شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کا بھی یہی خیال ہے۔
Takhreej
(۷۴۸) تخریج: اسنادہ ضعیف علی نکارۃ فی متنہ، عمر بن اسحاق بن یسار لیس بالقوی۔ أخرجہ الدارقطنی: ۱/ ۱۹۹، وأخرج بنحوہ ابویعلی: ۷۰۹۴ (انظر: ۲۶۸۲۷)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، نیز یہ مسح سے متعلقہ کسی خاص مسئلے پر دلالت نہیں کرتی۔
748
Zaeef
موزے کی پشت پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۴۹)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ عَلٰی ظُہُوْرِ الْخُفَّیْنِ، قَالَ عَبْدُاللّٰہِ: قَالَ أَبِیْ: حَدَّثَنَاہُ سُرَیْجٌ وَالْہَاشِمِیُّ أَیْضًا۔(مسند أحمد:۱۸۴۱۵)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے موزوں کی پشتوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۴۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۱(انظر: ۱۸۲۲۸)
749
Sahih
موزے کی پشت پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۰)۔ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِیْ طَالِبٍؓ قَالَ: کُنْتُ أَرٰی أَنَّ بَاطِنَ الْقَدَمَیْنِ أَحَقُّ بِالْمَسْحِ مِنْ ظَاہِرِہِمَا حَتّٰی رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ ظَاہِرَہُمَا۔ (مسند أحمد: ۷۳۷)
سیدنا علی بن ابو طالبؓ کہتے ہیں: میری رائے تو یہ تھی کہ پاؤں کے نچلے والے حصے پر مسح کرنا، اوپر والے حصے پر مسح کرنے کی بہ نسبت زیادہ حق رکھتا ہے، یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے دیکھ لیا۔
Takhreej
(۷۵۰) تخریج: حدیث صحیح بمجموع طرقہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۳(انظر: ۷۳۷)
750
Sahih
موزے کی پشت پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۱)۔ عَنْ عَبْدِخَیْرٍ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ؓ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ ظَہْرَ قَدَمَیْہِ وَقَالَ: لَولَا أَنِّیْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَغْسِلُ ظُہُوْرَ قَدَمَیْہِ لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُوْنَہُمَا أَحَقُّ بِالْغُسْلِ۔ (مسند أحمد: ۱۰۱۴)
عبد ِ خیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا علیؓ کو دیکھا کہ انھوں نے پاؤں کی پشت پر مسح کیا اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو پاؤں کے ظاہری حصے پر مسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں یہی سمجھتا کہ پاؤں کا نیچے والا حصہ مسح کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
(۷۵۱) تخریج: اسنادہ صحیح۔ أخرجہ عبدالرزاق: ۵۷، والحمیدی: ۴۷، والنسائی فی الکبری : ۱۲۰۰، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۱۰۱۴)
Explanation
فوائد:… اس حدیث کے دوسرے طرق میں موزوں پر مسح کا ذکر ہے، اس لیے ہم نے اس حدیث میں غسل کے لفظ کے معانی مسح کرنے کے کیے ہیں۔ اِس مسح کا طریقہ یہ ہے ہاتھ گیلا کر کے پاؤں کے سامنے والے ظاہری حصے پر پھیر دیا جائے۔
751
Sahih
موزوں کے نیچے والے اور اوپر والے دونوں حصوں پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۲)۔حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا الْوَلِیدُ بْنُ مُسْلِمٍ ثَنَا ثَوْرٌ عَنْ رَجَائِ ابْنِ حَیْوَۃَ عَنْ کَاتِبِ الْمُغِیْرَۃِ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ فَمَسَحَ أَسْفَلَ الْخُفِّ وَأَعْلَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۸۳۸۳)
سیدنا مغیرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور موزوں کے نیچے والے اور اوپر والے، دونوں حصوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۵۲) تخریج: اسنادہ ضعیف، الولید بن مسلم یدلس ویسوّی، ثم ان بین ثور بن یزید ورجاء بن حیوۃ انقطاعا۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۵، والترمذی: ۹۷، وابن ماجہ: ۵۵۰(انظر: ۱۸۱۹۷)
Explanation
فوائد:… موزوںکے صرف ظاہری حصوں پر مسح کیا جائے گا، پچھلے باب میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
752
Zaeef
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۳)۔عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔ (مسند أحمد:۱۸۳۹۳)
سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جرابوں اور جوتوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۵۳) تخریج: قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۵۹، والترمذی: ۹۹، وابن ماجہ: ۵۵۹ (انظر: ۱۸۲۰۶)
Explanation
فوائد:… حدیث نمبر (۶۸۱)کی شرح میں جرابوں پر مسح کرنے وضاحت کی جا چکی ہے۔
753
Sahih
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۴)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّۃَ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَّلَوۃِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۸)
سیدنا اوس بن ابی اوسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا، اس میں جوتوں پر مسح کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔
Takhreej
(۷۵۴) تخریج: قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۶۰، وزاد: ومسح علی نعلیہ وقدمیہ، وعند الطبرانی والحازمی: ومسح علی قدمیہ (انظر: ۱۶۱۵۸)
754
Sahih
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۵)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلٰی نَعْلَیْہِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۶۸)
۔ (دوسری سند) سیدنا اوس بن ابو اوس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے وضو کیا اور جوتوں پر مسح کیا۔
Takhreej
(۷۵۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک النخعی، ولانقطاعہ، یعلی بن عطاء لم یدرک اوس بن ابی اوس، بینھما والد یعلی، وھو مجھول، وانظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… جوتوں پر مسح کے جائز ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں، ایک یہ کہ جوتوںکے ساتھ موزے یا جرابیں بھی پہنی ہوئی تھیں، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ باوضو ہونے کے باوجود یہ وضو کررہے تھے، جس میں پاؤں پر مسح کیا جاتا ہے، جیسا کہ چند ابواب پہلے اس مسئلہ کی وضاحت ہو چکی ہے۔
755
Zaeef
جرابوں اورجوتوں پر مسح کرنے کا بیان
۔ (۷۵۶)۔ (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَالِثٍ)۔عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَبِیْ أَوْسٍ الثَّقَفِیِّؓ قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی کِظَامَۃَ قَومٍ فَتَوَضَّأَ۔ (مسند أحمد: ۱۶۲۵۶)
۔ (تیسری سند) سیدنا اوس ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ قوم کی دو کنووں کے درمیان والی نالی کے پاس گئے اور وضو کیا۔
Takhreej
(۷۵۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
756
Zaeef