مسح کی مدت مقرر کرنے کا بیان
۔ (۷۴۵)۔عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِیِّؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَمَرَ بِالْمَسْحِ عَلٰی الْخُفَّیْنِ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ لِلْمُسَافِرِ وَلَیَالِیَہُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمٌ وَلَیْلَۃٌ۔ (مسند أحمد:۲۴۴۹۵)
سیدناعوف بن مالک اشجعی ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ تبوک کے موَقَعَ پر حکم دیا کہ مسافر تین دنوں اور راتوں تک اور مقیم ایک دن اور ایک رات تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے۔
Takhreej
(۷۴۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۱۷۵، والبزار: ۲۷۵۷، والطبرانی فی الکبیر : ۱۸/۶۹، والدارقطنی: ۱/۱۹۷، والبیھقی: ۱/ ۱۷۵ (انظر: ۲۳۹۹۵)
Explanation
فوائد:… ان روایات سے معلوم ہوا کہ مقیم ایک دن یعنی چوبیس گھنٹوں تک اور مسافر تین دنوں تک موزوں پر مسح کر سکتا ہے، مزید وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ذہن نشین کر لیں کہ مسح کی مدت موزے پہننے سے نہیں، بلکہ اس وقت سے شروع ہو گی، جب سے وضو ٹوٹے گا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ ایک آدمی نے ظہر کے وقت وضو کر کے موزے لیے، لیکن عصر کے وقت وضو ٹوٹتا ہے تو مسح کی مدت کا آغاز عصر سے ہو گا۔
745
Sahih