TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8687 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
لعان کی آیات کی تفسیر
۔ (۸۶۸۷)۔ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَہْلٍ أَ نَّہُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَ نْصَارِ جَائَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ رَأَ یْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَ تِہِ رَجُلًا أَ یَقْتُلُہُ؟ قَالَ: فَأَ نْزَلَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی شَأْنِہِ مَا ذُکِرَ فِی الْقُرْآنِ مِنْ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ: ((قَدْ قُضِیَ فِیکَ وَفِی امْرَأَ تِکَ۔)) قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَ نَا شَاہِدٌ، ثُمَّ فَارَقَہَا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۴۱)
۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس بارے میں بتائیں کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس کسی غیر آدمی کو پا لیتا ہے، کیا وہ اسے قتل کردے؟ اُدھر اللہ تعالی نے اس بارے میں قرآن مجید میںلعان سے متعلقہ آیات ناز ل فرما دیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ پس ان دونوں میاں بیوی نے لعان کیا، جبکہ میں (سہل) وہاں موجود تھا، پھراس آدمی نے اس عورت کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں جدا کر دیا۔
8687
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۶۸۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۲۳، ۴۷۴۵، ۴۷۴۶، ۵۳۰۹، ومسلم: ۱۴۹۲(انظر: ۲۲۸۵۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… حدیث نمبر (۷۱۹۴)اور اس سے بعد والی احادیث میں لعان کی تفصیل ملاحظہ ہو۔

Related Chapters

836
1
لعان کے سبب، تہمت والی آیات کی تفسیر، لعان اور سیدنا ہلال بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے واقعہ کا بیان
Musnad Ahmad
2
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
3
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
4
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
5
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ الحجرات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ قٓ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

13
Sahih Bukhari
4746
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ، قَالَ : فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَفَارَقَهَا ، فَكَانَتْ سُنَّةً أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، وَكَانَتْ حَامِلًا ، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا ، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا ، وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا .
Narrated Sahl bin Sa`d: A man came to Allah's Messenger and said, O Allah's Messenger ! Suppose a man saw another man with his wife, should he kill him whereupon you might kill him (i.e. the killer) (in Qisas) or what should he do? So Allah revealed concerning their case what is mentioned of the order of Mula'ana. Allah's Apostle said to the man, The matter between you and your wife has been decided. So they did Mula'ana in the presence of Allah's Messenger and I was present there, and then the man divorced his wife. So it became a tradition to dissolve the marriage of those spouses who were involved in a case of Mula'ana. The woman was pregnant and the husband denied that he was the cause of her pregnancy, so the son was (later) ascribed to her. Then it became a tradition that such a son would be the heir of his mother, and she would inherit of him what Allah prescribed for her.
مجھ سے ابوالربیع سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے، ان سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد نے کہ ایک صاحب ( یعنی عویمر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسے شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو دیکھا ہو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ قصاص میں قاتل کو قتل کر دیں گے۔ پھر اسے کیا کرنا چاہئے؟ انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے دو آیات نازل کیں جن میں لعان کا ذکر ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر دونوں میاں بیوی نے لعان کیا اور میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ پھر آپ نے دونوں میں جدائی کرا دی اور دو لعان کرنے والوں میں اس کے بعد یہی طریقہ قائم ہو گیا کہ ان میں جدائی کرا دی جائے۔ ان کی بیوی حاملہ تھیں، لیکن انہوں نے اس کا بھی انکار کر دیا۔ چنانچہ جب بچہ پیدا ہوا تو اسے ماں ہی کے نام سے پکارا جانے لگا۔ میراث کا یہ طریقہ ہوا کہ بیٹا ماں کا وارث ہوتا ہے اور ماں اللہ کے مقرر کئے ہوئے حصہ کے مطابق بیٹے کی وارث ہوتی ہے۔
Sahih Bukhari
5309
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنِ الْمُلَاعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فيها ، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ ، قَالَ : فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ ، فَلَمَّا فَرَغَا ، قَالَ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لِأُمِّهِ ، قَالَ : ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ .
Narrated Ibn Juraij: Ibn Shihab informed me of Lian and the tradition related to it, referring to the narration of Sahl bin Sa`d, the brother of Bani Sa`idi He said, An Ansari man came to Allah's Apostle and said, 'O Allah's Apostle! If a man saw another man with his wife, should he kill him, or what should he do?' So Allah revealed concerning his affair what is mentioned in the Holy Qur'an about the affair of those involved in a case of Lian. The Prophet said, 'Allah has given His verdict regarding you and your wife.' So they carried out Lian in the mosque while I was present there. When they had finished, the man said, O Allah's Apostle! If I should now keep her with me as a wife then I have told a lie about her. Then he divorced her thrice before Allah's Apostle ordered him, when they had finished the Lian process. So he divorced her in front of the Prophet . Ibn Shihab added, After their case, it became a tradition that a couple involved in a case of Lian should be separated by divorce. That lady was pregnant then, and later on her son was called by his mother's name. The tradition concerning their inheritance was that she would be his heir and he would inherit of her property the share Allah had prescribed for him. Ibn Shihab said that Sahl bin Sa`d As'Saidi said that the Prophet said (in the above narration), If that lady delivers a small red child like a lizard, then the lady has spoken the truth and the man was a liar, but if she delivers a child with black eyes and huge lips, then her husband has spoken the truth. Then she delivered it in the shape one would dislike (as it proved her guilty).
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے لعان کے بارے میں اور یہ کہ شریعت کی طرف سے اس کا سنت طریقہ کیا ہے، خبر دی بنی ساعدہ کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا اسے کیا کرنا چاہیئے؟ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے لیے تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر دونوں نے مسجد میں لعان کیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ چنانچہ لعان سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی انہیں تین طلاقیں دے دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی انہیں جدا کر دیا۔ ( سہل نے یا ابن شہاب نے ) کہا کہ ہر لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان یہی جدائی کا سنت طریقہ مقرر ہوا۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ان کے بعد شریعت کی طرف سے طریقہ یہ متعین ہوا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جایا کرے۔ اور وہ عورت حاملہ تھی۔ اور ان کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ بیان کیا کہ پھر ایسی عورت کے میراث کے بارے میں بھی یہ طریقہ شریعت کی طرف سے مقرر ہو گیا کہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور وہ بچہ کی وارث ہو گی۔ اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے وراثت کے سلسلہ میں فرض کیا ہے۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے، اسی حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ( لعان کرنے والی خاتون ) اس نے سرخ اور پستہ قد بچہ جنا جیسے وحرہ تو میں سمجھوں گا کہ عورت ہی سچی ہے اور اس کے شوہر نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے لیکن اگر کالا، بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا تھا۔ ( عورت جھوٹی ہے ) جب بچہ پیدا ہو تو وہ بری شکل کا تھا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے وہ بدنام ہوئی تھی ) ۔
Mishkat
3304
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ قَالَ: إِن عُوَيْمِر الْعَجْلَانِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وجدَ معَ امرأتِهِ رجُلاً أيقْتُلُه فيَقْتُلُونه؟ أمْ كَيفَ أفعل؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قدْ أُنْزِلُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا» قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رسولَ اللَّهِ إِن أَمْسكْتُها فطلقتها ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: انْظُرُوا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحسب عُوَيْمِر إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسِبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ فَكَانَ بَعْدُ يُنْسَبُ إِلَى أمه
سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! اس شخص کے بارے میں بتائیں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ، کیا وہ اسے قتل کر دے ، اس صورت میں وہ (مقتول کے ورثاء) اس کو قتل کر دیں گے یا اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں حکم نازل ہو چکا ہے ، تم اسے لے کر آؤ ۔‘‘ سہل بیان کرتے ہیں ، ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا ، اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا ، جب وہ دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر میں اسے رکھ لوں تو اس کا مطلب ہو گا میں نے اس پر جھوٹ باندھا ، اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انتظار کرو اور دیکھو اگر وہ سیاہ رنگ ، موٹی موٹی اور خوب سیاہ آنکھوں والے ، سرین بڑے بڑے اور موٹی موٹی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دے تو پھر میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس کے متعلق سچ کہا ہے ، اور اگر وہ سرخ رنگ کا ہوا ، گویا کہ وہ زہریلی چھپکلی ہے تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اس عورت پر جھوٹ باندھا ہے ۔‘‘ اس عورت نے اس طرح کے بچے کو جنم دیا جس طرح کی صفات رسول اللہ ﷺ نے عویمر کی تصدیق کے متعلق بیان فرمائی تھیں ، اس کے بعد اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ متفق علیہ ۔
Sahih Bukhari
4748
حَدَّثَنَا مُقَدَّمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَمِّي الْقَاسِمُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْهُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : أَنَّ رَجُلًا رَمَى امْرَأَتَهُ ، فَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَلَاعَنَا كَمَا قَالَ اللَّهُ ، ثُمَّ قَضَى بِالْوَلَدِ لِلْمَرْأَةِ ، وَفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ .
Narrated Ibn `Umar: A man accused his wife of illegal sexual intercourse and denied his paternity to her (conceived) child during the lifetime of Allah's Messenger . Allah's Messenger ordered them both to do Mula'ana as Allah decreed and then gave his decision that the child would be for the mother, and a divorce decree was issued for the couple involved in a case of Mula'ana.
ہم سے مقدم بن محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے چچا قاسم بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، قاسم نے عبیداللہ سے سنا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غیر مرد کے ساتھ تہمت لگائی اور کہا کہ عورت کا حمل میرا نہیں ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے دونوں میاں بیوی نے اللہ کے فرمان کے مطابق لعان کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ عورت ہی کا ہو گا اور لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی میں جدائی کروا دی۔
Sahih Bukhari
5259
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَاصِمُ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ، فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَ عُوَيْمِرٌ ، فَقَالَ : يَا عَاصِمُ ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ : لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا ، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ، قَالَ سَهْلٌ : فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: Uwaimir Al-`Ajlani came to `Asim bin Adi Al-Ansari and asked, O `Asim! Tell me, if a man sees his wife with another man, should he kill him, whereupon you would kill him in Qisas, or what should he do? O `Asim! Please ask Allah's Apostle about that. `Asim asked Allah's Apostle about that. Allah's Apostle disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Apostle was hard on him. When he returned to his family, 'Uwaimir came to him and said O `Asim! What did Allah's Apostle say to you? `Asim said, You never bring me any good. Allah's Apostle disliked to hear the problem which I asked him about. 'Uwaimir said, By Allah, I will not leave the matter till I ask him about it. So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Apostle who was in the midst of the people and said, O Allah's Apostle! If a man finds with his wife another man, should he kill him, whereupon you would kill him (in Qisas): or otherwise, what should he do? Allah's Apostle said, Allah has revealed something concerning the question of you and your wife. Go and bring her here. So they both carried out the judgment of Lian, while I was present among the people (as a witness). When both of them had finished, 'Uwaimir said, O Allah's Apostle! If I should now keep my wife with me, then I have told a lie . Then he pronounced his decision to divorce her thrice before Allah's Apostle ordered him to do so. (Ibn Shihab said, That was the tradition for all those who are involved in a case of Lian.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ عویمر العجانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے، اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو دیکھے تو کیا اسے وہ قتل کر سکتا ہے؟ لیکن پھر تم قصاص میں اسے ( شوہر کو ) بھی قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے گا؟ عاصم میرے لیے یہ مسئلہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ دیجئیے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات عاصم رضی اللہ عنہ پر گراں گزرے اور جب وہ واپس اپنے گھر آ گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے پوچھا کہ بتائیے آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ عاصم نے اس پر کہا تم نے مجھ کو آفت میں ڈالا۔ جو سوال تم نے پوچھا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار گزرا۔ عویمر نے کہا کہ اللہ کی قسم! یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے بغیر میں باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ وہ روانہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر کو پا لیتا ہے تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ اسے قتل کر دے؟ لیکن اس صورت میں آپ اسے قتل کر دیں گے یا پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں وحی نازل کی ہے، اس لیے تم جاؤ اور اپنی بیوی کو بھی ساتھ لاؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر دونوں ( میاں بیوی ) نے لعان کیا۔ لوگوں کے ساتھ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس وقت موجود تھا۔ لعان سے جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اس کے بعد بھی میں اسے اپنے پاس رکھوں تو ( اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ) میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اپنی بیوی کو تین طلاق دی۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والے کے لیے یہی طریقہ جاری ہو گیا۔
Sahih Bukhari
5308
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ ، فَقَالَ لَهُ : يَا عَاصِمُ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ ، فَقَالَ : يَا عَاصِمُ ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ : لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا ، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ ، فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ، قَالَ سَهْلٌ : فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا ، قَالَ عُوَيْمِرٌ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: 'Uwaimir Al-Ajlani came to `Asim bin Ad Al-Ansari and said to him, O `Asim! Suppose a man saw another man with his wife, would he kill him whereupon you would kill him; or what should he do? Please, O `Asim, ask about this on my behalf. `Asim asked Allah's Apostle about it. Allah's Apostle, disliked that question and considered it disgraceful. What `Asim heard from Allah's Apostle was hard on him. When `Asim returned to his family, 'Uwaimir came to him and said, O `Asim! What did Allah's Apostle. say to you? `Asim said to 'Uwaimir, You never bring me any good. Allah's Apostle disliked the problem which I asked him about. 'Uwaimir said, By Allah, I will not give up this matter until I ask the Prophet about it. So 'Uwaimir proceeded till he came to Allah's Apostle in the midst of people, and said, O Allah's Apostle! If a man sees another man with his wife, would he kill him, whereupon you would kill him, or what should he do? Allah's Apostle said, Allah has revealed some decree as regards you and your wives case. Go and bring her. So they carried out the process of Lian while I was present among the people with Allah's Apostle. When they had finished their Lian, 'Uwaimir said, O Allah's Apostle! If I should now keep her with me as a wife, then I have told a lie. So he divorced her thrice before Allah's Apostle ordered him. (Ibn Shihab said: So divorce was the tradition for all those who were involved in a case of Lian.)
ہم سے اسماعیل بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی نے خبر دی کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ عاصم آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے گا لیکن پھر آپ لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے۔ آخر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ پوچھ دو۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا۔ نبی کریم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اظہار ناگواری کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس کا بہت اثر لیا۔ پھر جب گھر واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا۔ عاصم! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا، عویمر! تم نے میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک میں یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کر لوں، باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے درمیان میں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ لوگ اسے ( قصاص ) میں قتل کر دیں گے، تو پھر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں ابھی وحی نازل ہوئی ہے۔ جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا۔ جب لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں تین طلاقیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی دے دیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے سنت طریقہ مقرر ہو گیا۔
Sahih Bukhari
7166
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ ؟ ، فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ .
Narrated Sahl: (the brother of Bani Sa`ida) A man from the Ansar came to the Prophet and said, If a man finds another man sleeping with his wife, should he kill him? That man and his wife then did Lian in the mosque while I was present.
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ پھر دونوں ( میاں بیوی ) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔
Sahih Bukhari
7304
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَىعَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَيَقْتُلُهُ أَتَقْتُلُونَهُ بِهِ ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ ؟ فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا ، فَرَجَعَ عَاصِمٌ ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَرِهَ الْمَسَائِلَ ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ : وَاللَّهِ لَآتِيَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَاءَ وَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْقُرْآنَ خَلْفَ عَاصِمٍ ، فَقَالَ لَهُ : قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ فِيكُمْ قُرْآنًا ، فَدَعَا بِهِمَا ، فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا ، ثُمَّ قَالَ عُوَيْمِرٌ : كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا ، فَفَارَقَهَا ، وَلَمْ يَأْمُرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا ، فَجَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا مِثْلَ وَحَرَةٍ ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ ، فَلَا أَحْسِبُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْأَمْرِ الْمَكْرُوهِ .
Narrated Sahl bin Sa`d As-Sa`idi: 'Uwaimir Al-`Ajlani came to `Asim bin `Adi and said, If a man found another man with his wife and killed him, would you sentence the husband to death (in Qisas,) i.e., equality in punishment)? O `Asim! Please ask Allah's Apostle about this matter on my behalf. `Asim asked the Prophet but the Prophet disliked the question and disapproved of it. `Asim returned and informed 'Uwaimir that the Prophet disliked that type of question. 'Uwaimir said, By Allah, I will go (personally) to the Prophet. 'Uwaimir came to the Prophet when Allah had already revealed Qur'anic Verses (in that respect), after `Asim had left (the Prophet ). So the Prophet said to 'Uwaimir, Allah has revealed Qur'anic Verses regarding you and your wife. The Prophet then called for them, and they came and carried out the order of Lian. Then 'Uwaimir said, O Allah's Apostle! Now if I kept her with me, I would be accused of telling a lie. So 'Uwaimir divorced her although the Prophet did not order him to do so. Later on this practice of divorcing became the tradition of couples involved in a case of Li'an. The Prophet said (to the people). Wait for her! If she delivers a red short (small) child like a Wahra (a short red animal). then I will be of the opinion that he ('Uwaimir) has told a lie but if she delivered a black big-eyed one with big buttocks, then I will be of the opinion that he has told the truth about her. 'Ultimately she gave birth to a child that proved the accusation. (See Hadith No. 269, Vol. 6)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے کہا، ہم سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی کے پاس آیا اور کہا اس شخص کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی دوسرے مرد کو پائے اور اسے قتل کر دے، کیا آپ لوگ مقتول کے بدلہ میں اسے قتل کر دیں گے؟ عاصم! میرے لیے آپ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھ دیجئیے۔ چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا لیکن آپ نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا اور معیوب جانا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے سوال کو ناپسند کیا ہے۔ اس پر عویمر رضی اللہ عنہ بولے کہ واللہ! میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا خیر عویمر آپ کے پاس آئے اور عاصم کے لوٹ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل کیا ہے، پھر آپ نے دونوں ( میاں بیوی ) کو بلایا۔ دونوں آگے بڑھے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر میں اسے اب بھی اپنے پاس رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں چنانچہ اس نے فوری اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔ پھر لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ رائج ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھتے رہو اس کا بچہ لال لال پست قد بامنی کی طرح کا پیدا ہو تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ عویمر ہی کا بچہ ہے۔ عویمر نے عورت پر جھوٹا طوفان باندھا اور اور اگر سانولے رنگ کا بڑی آنکھ والا بڑے بڑے چوتڑ والا پیدا ہو، جب میں سمجھوں گا کہ عویمر سچا ہے پھر اس عورت کا بچہ اس مکروہ صورت کا یعنی جس مرد سے وہ بدنام ہوئی تھی، اسی صورت کا پیدا ہوا۔
Sunnan Abu Dawood
2245
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ يَا عَاصِمُ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ يَا عَاصِمُ، ‏‏‏‏‏‏مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ:‏‏‏‏ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُوَيْمِرٌ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَسْطَ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ ؟ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَدْ أُنْزِلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ قُرْآنٌ، ‏‏‏‏‏‏فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سَهْلٌ:‏‏‏‏ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُوَيْمِرٌ:‏‏‏‏ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:‏‏‏‏ فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
Sahl bin Saad Al Saeedi said that ‘Uwaimir bin Ashqar Al Ajilani came to Asim bin Adl and said to him “Asim tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act? Ask the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم Asim, for me about it. Asim then asked the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم about it. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم disliked the question and denounced it. What Asim heard from the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم fell heavy on him. When Asim returned to his family ‘Uwaimr came to him and asked Asim “What did the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم say to you”? Asim replied “You did not do good to me”. The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم disliked the question that I asked him. Thereupon ‘Uwaimir said “I swear by Allaah, I shall not leave until I ask him about it. So, ‘Uwaimir came to the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم while he was sitting in the midst of the people. ” He said “Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم tell me about a man who finds a man along with his wife. Should he kill him and then be killed by you, or how should he act?” The Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم said “A revelation has been sent down about you and your wife so go away and bring her. Sahl said “So we cursed one another while I was along with the people who were with the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم. Then when they finished, ‘Umamir said “I shall have lied against her, Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم if I keep her. He pronounced her divorce three times before the Messenger of Allah صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلمcommanded him (to do so). Ibn Shihab said “Then this became the method of invoking curses. ”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی ( اجنبی ) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بغیر ضرورت ) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ( اجنبی ) آدمی کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ۱؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ ( لعان سے ) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو ( گویا ) میں نے جھوٹ کہا ہے چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی ( ان دونوں ) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔