Chapter 34 of Chapters on tafsir in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
Narrated Zuhair:
Qabus bin Abi Zabyan narrated to us, that his father narrated to him, he said: 'We said to Ibn 'Abbas: What is the meaning of the saying of Allah the Mighty and Sublime: Allah has not made for any man two hears inside his body.? (33:4) He said: The Prophet of Allah (ﷺ) stood one day for Salat, then he was unsure (regarding how much he had prayed). The hypocrites who prayed with him said: 'Don't you see that he has two hearts, a heart with you and another with them?' So Allah revealed: 'Allah has not made for any man two hearts inside his body.'
ابوظبیان کہتے ہیں کہ ہم نے ابن عباس رضی الله عنہما سے کہا: ذرا بتائیں اللہ تعالیٰ کے اس قول «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» ”اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے ہیں“ ( الاحزاب: ۴ ) ، کا کیا معنی و مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نماز پڑھ رہے تھے کہ آپ سے کچھ سہو ہو گیا، آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والے منافقین نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں ان کے دو دل ہیں ایک تم لوگوں کے ساتھ اور ایک اوروں کے ساتھ ہے۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما جعل الله لرجل من قلبين في جوفه» نازل فرمائی۔
Narrated Anas:
My paternal uncle Anas bin An-Nadr - after whom I was named - did not participate in the battle of Badr with the Messenger of Allah (ﷺ). This distressed him and he said: 'I was absent from the first battle which the Messenger of Allah (ﷺ) attended. By Allah! If Allah gives me the opportunity to participate in another battle along with the Messenger of Allah (ﷺ), then Allah will see what I will do!' He said: He did not want to say more than that. A year later, he attended the battle of Uhud, where he saw Sa'd bin Mu'adh and said: 'O Abu 'Amr where are you going?' He said: 'I long for the fragrance of Paradise and I have found it near the mountains of Uhud.' He fought them until he was killed. They found more than eighty wounds on his body, be they from blows of a sword, puncture wounds, or arrows. My paternal aunt Ar-Ruba'i bin An-Nadr said: 'I could not recognize my brother except by his finger tips.' And this Ayah was revealed: 'Among the believers are men who have been true to their covenant with Allah; of them some have fulfilled their vow, and some of them are still waiting, but they have never changed in the least (33:23).'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نضر رضی الله عنہ جن کے نام پر میرا نام رکھا گیا تھا جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہیں ہوئے تھے، یہ بات انہیں بڑی شاق اور گراں گزر رہی تھی، کہتے تھے: جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس حاضر و موجود تھے میں اس سے غیر حاضر رہا، ( اس کا مجھے بےحد افسوس ہے ) مگر سنو! قسم اللہ کی! اب اگر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کا موقع ملا تو یقیناً اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کچھ کرتا ہوں، راوی کہتے ہیں: وہ اس کے سوا اور کچھ کہنے سے ڈرتے ( اور بچتے ) رہے، پھر اگلے سال وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ احد میں شریک ہوئے، سعد بن معاذ رضی الله عنہ کا ان سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا: ابوعمرو! کہاں کا ارادہ ہے انہوں نے کہا: اے واہ! میں تو احد پہاڑ کے پرے جنت کی خوشبو پا رہا ہوں پھر وہ لڑے اور اس شان سے لڑے کہ شہید کر دیئے گئے، ان کے جسم میں اسی ( ۸۰ ) سے کچھ زائد چوٹ تیر و نیزہ کے زخم پائے گئے۔ میری پھوپھی ربیع بنت نضر رضی الله عنہا نے کہا: میں اپنے بھائی کی نعش صرف ان کی انگلیوں کے پوروں سے پہچان پائی، اسی موقع پر آیت «رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر وما بدلوا تبديلا» ”ایمان والوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کے ساتھ جو انہوں نے وعدے کیے تھے ان میں وہ پورے اترے، ان میں سے کچھ تو انتقال کر گئے اور کچھ لوگ مرنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے اس میں یعنی ( اللہ سے کیے ہوئے اپنے معاہدہ میں کسی قسم ) کی تبدیلی نہیں کی“ ( الاحزاب: ۲۳ ) ، نازل ہوئی۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Anas bin Malik:
My paternal uncle was absent from the fighting of Badr, so he said: 'I was absent from the first fight the Messenger of Allah (ﷺ) fought with idolaters, so if Allah grants me to participate in a fight with the idolaters, then Allah will see what I will do!' So on the Day of Uhud, when the Muslims were driven back he said: 'O Allah! Indeed I am innocent before you of what these people - meaning the idolaters - have done, and I beg of You to excuse these people for what they have done - meaning the Companions. Then he went forward and met up with Sa'd. He said: 'O my brother! Whatever you do, I am with you!' But he was not able to do the same as him. He was found with more than eighty wounds, between blows with the sword, thrusts of a spear, or arrow wounds. We would say: 'It was about him and his companions that (the following) was revealed: 'Of them some have fulfilled their vow, and some of them are still waiting, but they have never changed in the least (33:23). (One of the narrators) Yazid said: Meaning this Ayah.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کے چچا ( انس بن نضر ) بدر کی لڑائی میں غیر حاضر تھے، انہوں نے ( افسوس کرتے ہوئے ) کہا: اس پہلی لڑائی میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے لڑائی میں غیر موجود رہا، اب اگر اللہ نے مشرکین سے مجھے کسی جنگ میں لڑنے کا موقع دیا تو اللہ ضرور دیکھے گا کہ میں ( بے جگری و بہادری سے کس طرح لڑتا اور ) کیا کرتا ہوں۔ پھر جب جنگ احد کی لڑائی کا موقع آیا، اور مسلمان ( میدان سے ) چھٹ گئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس شر سے جسے یہ لوگ یعنی مشرکین لے کر آئے ہیں اور ان سے یعنی آپ کے صحابہ سے جو غلطی سرزد ہوئی ہے، اس کے لیے تجھ سے معذرت خواہ ہوں، پھر وہ آگے بڑھے، ان سے سعد بن معاذ رضی الله عنہ کی ملاقات ہوئی، سعد نے ان سے کہا: میرے بھائی! آپ جو بھی کریں میں آپ کے ساتھ ساتھ ہوں، ( سعد کہتے ہیں ) لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہ میں نہ کر سکا، ان کی لاش پر تلوار کی مار کے، نیزے گھوپنے کے اور تیر لگنے کے اسّی ( ۸۰ ) سے کچھ زیادہ ہی زخم تھے، ہم کہتے تھے کہ ان کے اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں آیت «فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر» اتری ہے۔ یزید ( راوی ) کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ( پوری ) آیت ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- انس بن مالک کے چچا کا نام انس بن نضر رضی الله عنہما ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ۸۰۸)
Narrated Musa bin Talhah:
I entered upon Mu'awiyah and he said:' Shall I not give you some good news?' I said: 'Of course!' He said: 'I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: 'Talhah is among those who fulfilled their vow.'
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ رضی الله عنہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے کہا: ضرور، سنائیے، کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”طلحہ رضی الله عنہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے «ممن قضى نحبه» فرمایا ہے“، یعنی جو اپنا کام پورا کر چکے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ رضی الله عنہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- جبکہ یہ حدیث موسیٰ بن طلحہ صرف طلحہ کی حدیث سے روایت کی جاتی ہے، ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
Narrated Musa and 'Eisa, the sons of Talhah:
from their father: The Companions of the Prophet (ﷺ) said, to an unknowing Bedouin man: 'Ask him who it is that has fulfilled his vow.' They were not in the habit of asking questions out of their respect and reverence for him. So the Bedouin asked him, but he turned away from him. Then he asked him again, but he turned away from him. Then again he asked him, but he turned away from him. Then I stood looking from the door of the Masjid, while I was wearing a green garment, and I saw the Prophet (ﷺ), he said: 'Where is the one who was asking about the one who fulfilled his vow?' The Bedouin said: 'Here I am O Messenger of Allah!' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'This is one who has fulfilled his vow.'
طلحہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل دیہاتی سے کہا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھے کہ اس سے مراد کیا ہے؟ وہ لوگ خود آپ سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں کر رہے تھے، وہ آپ کا ادب و احترام کرتے تھے اور آپ سے ڈرتے بھی تھے، اعرابی نے آپ سے پوچھا، مگر آپ نے اعراض کیا، اس نے پھر پوچھا، آپ نے پھر اس کی طرف توجہ نہ دی، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر بےرخی برتی، پھر میں مسجد کے دروازے سے نمودار ہوا اور ( اندر آیا ) میں ( نمایاں ) سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، جب آپ نے مجھے دیکھا تو آپ نے فرمایا: ” «ممن قضى نحبه» سے متعلق پوچھنے والا شخص کہاں ہے“؟ اعرابی، ( گنوار دیہاتی ) نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص ( طلحہ ) انہی لوگوں میں سے ہے، جنہوں نے اپنے کام اور ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف یونس بن بکیر کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:
When the Messenger of Allah (ﷺ) was ordered to tell his wives to make a choice, he started with me. He said: 'O 'Aishah! I am going to mention something to you, but you should not hasten (to reply) until you have consulted your parents.' She said: And he knew that my parents would not have ordered me to part from him.' She said: Then Allah [Most High] revealed: 'O Prophet! Say to your wives: If you desire the life of this world and its glitter then come...' until reaching: '...for the good doers among you an enormous reward (33:28 & 29).' I said: 'For what should I consult my parents? Indeed I want Allah, His Messenger, and the abode of the Hereafter.' The (remaining) wives of the Prophet (ﷺ) did the same as I did.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دے دیں ۱؎ تو آپ نے اپنی اس کاروائی کی ابتداء مجھ سے کی: آپ نے کہا: عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ رکھتا ہوں، تم اپنے ماں باپ سے مشورہ لیے بغیر جواب دہی میں جلد بازی نہ کرنا، عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ آپ خوب سمجھتے تھے کہ میرے والدین مجھے آپ سے جدائی و علیحدگی اختیار کر لینے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها فتعالين» سے لے کر یہاں تک «للمحسنات منكن أجرا عظيما» ۲؎ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں ماں باپ سے مشورہ لوں؟ ( نہیں مجھے کسی مشورہ کی ضرورت نہیں ) میں اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہوں اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں، آپ کی دیگر بیویوں نے بھی ویسا ہی کچھ کہا جیسا میں نے کہا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث زہری سے بھی مروی ہے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عائشہ سے روایت کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الأحزاب ۴ (۴۷۸۵)، صحیح مسلم/الطلاق ۴ (۱۴۷۵)، سنن النسائی/النکاح ۲ (۳۲۰۳)، والطلاق ۲۶ (۳۴۶۹)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ۲۰ (۲۰۵۳) (تحفة الأشراف : ۱۷۷۶۷)، و مسند احمد (۶/۷۸، ۱۰۳، ۱۸۵، ۲۴۸، ۲۶۴)، وسنن الدارمی/الطلاق ۵ (۲۲۷۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی وہ چاہیں تو آپ کے ساتھ رہیں اور تنگی کی زندگی گزاریں، اور اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہتی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دیں۔ ۲؎ : ” اے نبی ! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ تمہیں اگر دنیا اور دنیا کی زینت چاہیئے تو آؤ میں کچھ دے کر چھوڑ چھاڑ دوں، (طلاق کے ساتھ کچھ مال دے کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں) اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کو چاہتی ہو اور آخرت کا گھر تمہیں مطلوب ہے تو اللہ نے تم نیکو کاروں کے لیے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے “ (الاحزاب : ۲۸-۲۹)۔
Narrated 'Umar bin Abi Salamah - the step-son of the Prophet (ﷺ):
When these Ayat were revealed to the Prophet (ﷺ): 'Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with a thorough purification (33:33)' in the home of Umm Salamah, he called for Fatimah, Hasan, Husain, and wrapped him in the cloak, and 'Ali was behind him, so he wrapped him in the cloak, then he said: 'O Allah! These are the people of my house, so remove the Rijs from them, and purify them with a thorough purification.' So Umm Salamah said: 'And I, Prophet of Allah?' He said: 'You are in your place (meaning you are already a member of my household), and you are goodness.'
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر پرورش عمر بن ابی سلمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ تعالیٰ یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کی گھر والو! تم سے وہ ( ہر قسم کی ) گندگی کو دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے“ ( الاحزاب: ۳۳ ) ، ام سلمہ رضی الله عنہا کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ نے فاطمہ و حسن حسین ( رضی الله عنہم ) کو بلایا اور انہیں ایک چادر کے نیچے ڈھانپ دیا، علی رضی الله عنہ آپ کی پیٹھ کے پیچھے تھے آپ نے انہیں بھی چادر کے نیچے کر لیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ یہ ہیں میرے اہل بیت، میرے گھر والے، ان سے ناپاکی دور کر دے اور انہیں ہر طرح کی آلائشوں سے پوری طرح پاک و صاف کر دے“، ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: اور میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، اے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: ”تم اپنی جگہ ہی ٹھیک ہو، تمہیں خیر ہی کا مقام و درجہ حاصل ہے“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے جسے عطاء عمر بن ابی سلمہ سے روایت کرتے ہیں غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف و أعادہ في المناقب ۳۲ (برقم ۳۷۸۷) (تحفة الأشراف : ۱۰۶۸۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی اس آیت میں وارد «اہل البیت» سے مراد بتصریح نبوی علی، فاطمہ، حسن اور حسین ہیں، ازواج مطہرات کو اگرچہ دیگر فضیلتیں حاصل ہیں مگر وہ اس آیت کے اس لفظ کے مفہوم میں داخل نہیں ہیں۔
Narrated Anas bin Malik:
For six months, the Messenger of Allah (ﷺ) would pass by the door of Fatimah when going to the Fajr prayer saying: 'As-Salat O People of the house! Allah only wishes to remove the Rijs from you, O members of the family, and to purify you with thorough purification (33:33).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی الله عنہا کے دروازے کے سامنے سے چھ مہینے تک گزرتے رہے، جب فجر کے لیے نکلتے تو آپ کا معمول تھا کہ آپ آواز دیتے «الصلاة يا أهل البيت» ”اے میرے گھر والو! نماز فجر کے لیے اٹھو“ «إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» ”اللہ چاہتا ہے کہ تمہاری نجاست تم سے دور کر دے اور تمہیں پورے طور پر پاک کر دے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حماد بن سلمہ کی روایت سے ہی جانتے ہیں، ۲- اس باب میں ابوالحمراء، معقل بن یسار اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:
If the Messenger of Allah (ﷺ) was to have concealed anything that was revealed to him, then he would have concealed these Ayat: 'When you said to him on whom Allah has bestowed grace (meaning by Islam); and you have done a favor (meaning that he was a slave and you freed him) Keep your wife to yourself, and have Taqwa of Allah. But you did hide in yourself that which Allah will make manifest, you did fear the people whereas Allah had better right that you should fear Him' up to His saying: 'And Allah's command must be fulfilled (33:37).' They said: 'He married his wife's son, so Allah revealed: 'Muhammad is not the father of any of your men, but he is the Messenger of Allah and the Last of the Prophets (33:40).' The Messenger of Allah (ﷺ) had taken (adopted) him as a son when he was small, and he remained being called 'Zaid bin Muhammad' until he grew up to adulthood, then Allah revealed: 'Call them by their fathers, then your brothers in religion and your Mawali (33:5). (Say) So-and-so, the Mawla of so-and-so, and; So-and-so, the brother of so-and-so. 'That is more just with Allah' meaning that doing that is more just to Allah.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کی کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه» ”جب آپ اس شخص سے جس پر اللہ نے اسلام کے ذریعہ انعام کیے تھے اور آپ نے بھی ( اسے آزاد کر کے ) اس پر انعام و احسان کیے تھے کہہ رہے تھے کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رہنے دو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو، اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا تم لوگوں کے ( لعن طعن ) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ تم اس سے ڈرو“، سے لے کر «وكان أمر الله مفعولا» تک چھپا لیتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے ( زینب سے ) شادی کر لی تو لوگوں نے کہا: آپ نے اپنے ( لے پالک ) بیٹے کی بیوی سے شادی کر لی، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين» ”محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تم لوگوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں بلکہ وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ( آخری نبی ) ہیں“، نازل فرمائی، زید چھوٹے تھے تبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا، وہ برابر آپ کے پاس رہے یہاں تک کہ جوان ہو گئے، اور ان کو زید بن محمد کہا جانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم» ”انہیں ان کے ( اصلی باپ کی طرف ) منسوب کر کے پکارو ( جن کے نطفے سے وہ پیدا ہوئے ہیں ) یہ اللہ کے نزدیک زیادہ مبنی بر انصاف بات ہے، لیکن اگر تم ان کے باپوں کو نہ جانتے ہو ( کہ وہ کون ہیں ) تو وہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں“، فلاں فلاں کا دوست ہے اور فلاں فلاں کا دینی بھائی ہے ۴؎، «هو أقسط عند الله» یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف پر مبنی کا مفہوم یہ ہے کہ پورا انصاف ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔ اس سند سے مسروق نے عائشہ سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے تو آپ یہ آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» چھپاتے، ( اس روایت میں ) یہ حدیث کی پوری روایت نہیں کی گئی ہے ۵؎۔
وضاحت: ۴؎ : اگر وہ آزاد ہوں تو ترجمہ ہو گا ” فلاں فلاں کے دوست، حلیف “ اور اگر آزاد کردہ غلام ہوں تو ترجمہ ہو گا ” فلاں فلاں کا آزاد کردہ غلام “ یہی بات «موالیکم» کے ترجمہ میں بھی ملحوظ رہے۔ ۵؎ : یعنی : اس حدیث کی دو سندوں میں شعبی کے بعد ” مسروق “ کا اضافہ ہے، اور یہی سندیں متصل ہیں (یہ آگے آ رہی ہیں) پہلی سند میں انقطاع ہے۔
Narrated 'Aishah [may Allah be pleased with her]:
If the Prophet (ﷺ) was to have hidden anything from the Revelation, then he would have hidden this Ayah: 'When you said to him on whom Allah has bestowed grace and you have done a favor (33:37).'
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی میں سے کوئی چیز چھپا لینے والے ہوتے تو آیت «وإذ تقول للذي أنعم الله عليه وأنعمت عليه» کو چھپاتے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Ibn 'Umar:
We called Zaid bin Harithah nothing but 'Zaid bin Muhammad' until the Qur'an was revealed (saying): 'Call them by their fathers, that is more just according to Allah (33:5).'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر ہی پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی: «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”ایسے لوگوں کو ان کے اصلی باپوں کے ناموں کے ساتھ پکارو یہی اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/تفسیر الأحزاب ۲ (۴۷۸۲)، و۵ (۴۷۸۶)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۱۰ (۲۴۲۵)، ویأتي عند المؤلف في المناقب (۳۸۱۴) (تحفة الأشراف : ۷۰۲۱)
Narrated Dawud bin Abi Hind:
from Ash-Sha'bi regarding the saying of Allah [the Mighty and Sublime]: 'Muhammad is not the father of any one of your men (33:40)' he said: No male children of his would live among them.
عامر شعبی اللہ کے اس قول «ما كان محمد أبا أحد من رجالكم» ” ( لوگو! ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نہیں“ ( الاحزاب: ۴۰ ) ، کے بارے میں کہتے ہیں: اس سے مراد زندہ نہ رہنے والی نرینہ اولاد ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ورنہ نرینہ اولاد تو آپ کے یہاں بھی پیدا ہوئی ہے۔
Narrated Umm 'Umarah Al-Ansariyyah:
that she came to the Prophet (ﷺ) and said: I do not see bu that everything is for the men, and I do not see anything being mentioned for the women. So this Ayah was revealed: 'Indeed the Muslim men and the Muslim women, the believing men and the believing women... (33:35)'
ام عمارہ انصاریہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: کیا بات ہے میں ہر چیز مردوں ہی کے لیے دیکھتی ہوں اور عورتوں کا ( قرآن میں ) کہیں ذکر نہیں ملتا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن المسلمين والمسلمات والمؤمنين والمؤمنات» آخر آیت تک۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ حدیث صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے۔
Narrated Anas:
When this Ayah was revealed: 'But you did hide in yourself that which Allah will make manifest... (33:37)' about Zainab bint Jahsh, Zaid had come to the Prophet (ﷺ) complaining, and he wanted to divorce her, so he consulted with the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said: 'Keep your wife to yourself, and have Taqwa of Allah (33:37).'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”تم اس چیز کو اپنے جی میں چھپا کر رکھ رہے ہو جس کو اللہ ظاہر کرنے والا ہے، اور تم ( اللہ سے ڈرنے کی بجائے ) لوگوں سے ڈر رہے ہو“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کی شان میں نازل ہوئی ہے ( ان کے شوہر ) زید شکایت لے کر ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے اور انہوں نے زینب کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، اس پر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشورہ لیا تو آپ نے فرمایا: «أمسك عليك زوجك واتق الله» ”اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو ( طلاق نہ دو ) اور اللہ سے ڈرو ( الاحزاب: ۳۷ ) “ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
وضاحت: ۱؎ : یہاں ایک جھوٹی روایت لوگوں نے گھڑ رکھی ہے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل میں ان کی بات چھپا رکھی تھی وہ یہ کہ وہ زینب سے محبت کرتے تھے اور خود ان سے شادی چاہتے تھے اس لیے چاہتے تھے کہ زید جلد طلاق دے دیں معاذاللہ، حالانکہ جس بات کے چھپانے کی طرف اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اشارہ کر رہا ہے، وہ یہ تھی کہ : اچھا ہوتا کہ زید زینب کو نہیں چھوڑتے، ورنہ بحکم الٰہی زینب سے مجھے ہی شادی کرنی ہو گی، تب لوگ کہیں گے : لو محمد نے اپنے لے پالک بیٹے کی مطلقہ سے شادی کر لی (یہ چیز ان کے یہاں معیوب سمجھی جاتی تھی) اسی کو اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ ایک دن اللہ اس کو ظاہر کر دے گا، اس شادی میں سماج سے ایک غلط روایت کو دور کرنا ہے، اور لوگوں کو صحیح بات بتانی ہے کہ لے پالک بیٹا صلبی بیٹا نہیں ہوتا کہ اس کی مطلقہ یا بیوہ حرام ہو جائے، اسی طرح لے پالک سے، دیگر خونی معاملات میں حرمت و حلت کی بات صحیح نہیں ہے۔
Narrated Anas:
When this Ayah was revealed about Zainab bint Jahsh: 'So when Zaid had completed his aim with her, We gave her to you in marriage (33:37)' - he said: She used to boast to the wives of the Prophet (ﷺ): 'Your families married you (to him) while Allah married me (to him) from above the Seven Heavens.'
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت «فلما قضى زيد منها وطرا زوجناكها» ”زید نے جب ان سے اپنی حاجت پوری کر لی ( انہیں طلاق دے دی ) تو ہم نے تمہاری شادی اس سے کر دی“ ( الاحزاب: ۳۷ ) ، زینب بنت جحش رضی الله عنہا کے بارے میں اتری ہے۔ انس کہتے ہیں: چنانچہ اسی بناء پر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیویوں پر یہ کہہ کر فخر کرتی تھیں کہ تمہاری شادیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے گھر والوں ( رشتہ داروں ) نے کی ہیں، اور میری شادی تو اللہ نے آپ سے ساتویں آسمان پر کر دی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/التوحید ۲۲ (۷۴۲۱)، سنن النسائی/النکاح ۲۶ (۳۲۵۴) (تحفة الأشراف : ۳۰۷، و مسند احمد (۳/۲۲۶)
Narrated Umm Hani bint Abu Talib:
The Messenger of Allah (ﷺ) proposed to me, but I asked him to excuse me. Then Allah [Most High] revealed: 'Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hand possess - whom Allah has given to you, and the daughters of your paternal uncles, and the daughters of your paternal aunts, and the daughters of your maternal uncles, and the daughters of your maternal aunts, who migrated with you, and a believing woman if she offers herself to the Prophet... (33:50)' She said: So I was not lawful for him because I did not perform Hijrah; I was one of the Tulaqa (those that accepted Islam after the conquest of Makkah).'
ام ہانی بنت ابی طالب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شادی کا پیغام دیا، تو میں نے آپ سے معذرت کر لی ۱؎ تو آپ نے میری معذرت قبول کر لی، پھر اللہ نے یہ آیت «إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك وبنات عمك وبنات عماتك وبنات خالك وبنات خالاتك اللاتي هاجرن معك وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اے نبی ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جنہیں تو ان کے مہر دے چکا ہے اور وہ لونڈیاں بھی جو اللہ نے غنیمت میں تجھے دی ہیں اور تیرے چچا کی لڑکیاں اور پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموؤں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ باایمان عورت جو اپنا نفس نبی کو ہبہ کر دے“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، نازل فرمائی ام ہانی کہتی ہیں کہ اس آیت کی رو سے میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوئی کیونکہ میں نے ہجرت نہیں کی تھی میں ( فتح مکہ کے موقع پر ) «الطلقاء» آزاد کردہ لوگوں میں سے تھی، ( اور اسی موقع پر ایمان لائی تھی ) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے اور ہم اس کو سُدّی کی روایت صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas:
All types of women were prohibited for the Messenger of ALlah (ﷺ) except for the believing women among those who emigrated. (Allah) said: 'It is not lawful for you (to marry other) women after this, nor to change them for other wives even though their beauty attracts you, except those whom your right hand possesses (33:52). - And Allah made your believing girls lawful 'And a believing woman if she offers herself to the Prophet (33:50)' and He made every woman of a religion other than Islam unlawful. Then He said: And whoever disbelieves in faith then fruitless is his work; and in the Hereafter he will be among the losers (5:5). And he said: Verily We have made lawful to you your wives, to whom you have paid their due, and those whom your right hands possess - whom Allah has given you up to His saying: A privilege to only you, not for the (rest of) the believers (33:50). He made the other types of women unlawful.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مومن اور مہاجر عورتوں کے سوا دوسری عورتوں سے شادی کرنے سے روک دیا گیا، ( جیسا کہ ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” «لا يحل لك النساء من بعد ولا أن تبدل بهن من أزواج ولو أعجبك حسنهن إلا ما ملكت يمينك» ”آپ کے لیے آج کے بعد کوئی عورت حلال نہیں، اور آپ کے لیے یہ بھی حلال نہیں کہ موجودہ بیویوں میں سے کسی بیوی کو ہٹا کر من بھائی عورت سے شادی کر لیں، سوائے ان لونڈیوں کے جن کے آپ مالک بن جائیں“ ( الاحزاب: ۵۲ ) ، اللہ نے ( نبی کے لیے ) تمہاری جوان مومن مسلمان عورتیں حلال کر دی ہیں۔ «وامرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي» ”اور وہ ایمان والی عورت بھی اللہ نے حلال کر دی ہیں جو اپنے آپ کو نبی کو پیش کر دے“، اور اسلام کے سوا ہر دین والی عورت کو حرام کر دیا ہے۔ پھر اللہ نے فرمایا: ” «ومن يكفر بالإيمان فقد حبط عمله وهو في الآخرة من الخاسرين» ”جو ایمان کا منکر ہوا اس کا عمل ضائع گیا، اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو گا“ ( المائدہ: ۵ ) ، اور اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے «يا أيها النبي إنا أحللنا لك أزواجك اللاتي آتيت أجورهن وما ملكت يمينك مما أفاء الله عليك» سے لے کر «خالصة لك من دون المؤمن» ”اے نبی! ہم نے تیرے لیے تیری وہ بیویاں حلال کر دی ہیں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں اور وہ باندیاں تمہارے لیے حلال کر دی ہیں جو اللہ نے تمہیں بطور مال فیٔ ( غنیمت ) میں عطا فرمائی ہیں“ ( الاحزاب: ۵۰ ) ، تک، یہ حکم تمہارے لیے خاص ہے ۱؎ اور دوسرے مومنین کے لیے نہیں ( ان کا نکاح بغیر مہر کے نہیں ہو سکتا ) ان کے علاوہ عورتوں کی اور قسمیں حرام کر دی گئی ہیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے عبدالحمید بن بہرام کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ۲- احمد بن حنبل کہتے ہیں: عبدالحمید بن بہرام کی شہر بن حوشب سے روایات کے لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وضاحت: ۱؎ : اس خاص حکم سے مراد یہ ہے کہ نبی کے سوا کسی اور مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ بغیر مہر اور بغیر ولی کے عورت سے شادی کر لے، اپنے آپ کو بغیر مہر کے ہبہ کرنا صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، اس کا تعلق چچا زاد، پھوپھی زاد خالہ زاد اور ماموں زاد بہنوں سے شادی سے نہیں ہے، جبکہ اس دور کے بعض متجددین نے یہ شوشہ چھوڑا ہے۔
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) did not die until the women had been made lawful for him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کے لیے سب عورتیں حلال ہو چکی تھیں ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وضاحت: ۱؎ : یعنی پچھلی حدیث میں مذکور حرام کردہ عورتیں بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کر دی گئیں تھیں، یہ استنباط عائشہ رضی الله عنہا یا دیگر نے اس ارشاد باری سے کیا ہے، «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ” (اے ہمارے حبیب و خلیل نبی !) تمہیں یہ بھی اختیار ہے کہ تم ان عورتوں میں سے جس کو چاہو پیچھے رہنے دو (اس سے شادی نہ کرو یا موجود بیویوں میں سے جس کی چاہو باری ٹال دو) اور جس کو چاہو اپنے پاس جگہ دو، (گو اس کو باری نہ بھی ہو) “ (الأحزاب : 51)۔
Narrated Anas bin Malik:
I was with the Prophet (ﷺ), and he came to the door of a woman with whom he had consummated marriage, and some people were with her. So, he left to fulfill his need, and was prevented (from her). Then he came back, and some people were still with her. Then he left to fulfill his need and came back and they had gone. He said: So, I mentioned that to Abu Talhah and he said: 'If it is as you say, something shall surely be revealed concerning this,' and the Verse of Hijab was revealed.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ اپنی ایک بیوی کے کمرے کے دروازہ پر تشریف لائے جن کے ساتھ آپ کو رات گزارنی تھی، وہاں کچھ لوگوں کو موجود پایا تو آپ وہاں سے چلے گئے، اور اپنا کچھ کام کاج کیا اور کچھ دیر رکے رہے، پھر آپ دوبارہ لوٹ کر آئے تو لوگ وہاں سے جا چکے تھے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر آپ اندر چلے گئے اور ہمارے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا ( لٹکا دیا ) میں نے اس بات کا ذکر ابوطلحہ سے کیا: تو انہوں نے کہا اگر بات ایسی ہی ہے جیسا تم کہتے ہو تو اس بارے میں کوئی نہ کوئی حکم ضرور نازل ہو گا، پھر آیت حجاب نازل ہوئی ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
وضاحت: ۱؎ : آیت حجاب سے مراد یہ آیت ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم» سے «إن ذلكم كان عند الله عظيما» تک ” یعنی اے ایمان والو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، لیکن تم پہلے ہی اس کے پکنے کا انتظار نہ کرو، بلکہ جب بلایا جائے تو داخل ہو جاؤ اور جب کھا چکو تو فوراً منتشر ہو جاؤ، …اور جب تم امہات المؤمنین سے کوئی سامان مانگو تو پردے کی اوٹ سے مانگو … “ (الأحزاب : 53)۔
Narrated Al-Ja'd bin Abi 'Uthman:
from Anas bin Malik: The Messenger of Allah (ﷺ) got married, and he went in with his wife. He said: So my mother, Umm Sulaim prepared some Hais in a Tawr (a vessel made of brass and stone) and said: 'O Anas! Take this to the Prophet (ﷺ).' I said to him: 'My mother sent this to you, and she conveys her Salam, and says: 'This is a little something from us for you.' He said: 'Put it down.' Then he said: 'Go and invite so-and-so, so-and-so, and so-and-so for me, and whomever you meet.' He named some people, and said: I invited those he named, and whomever I met. - He (Al-Ja'd) said: I said to Anas: 'How many of you were there?' He said: 'Roughly about three-hundred.' - He (Anas) said: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'O Anas! Bring me the Tawr.' He said: They entered until the Suffah (a shaded part of the Masjid in Al-Madinah) and the apartment were full. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let groups of ten in, and let each person eat what is near him.' He said: They ate until they were full. He said: A group exited, and another group entered, until all of them ate.' He said: He said to me: 'O Anas! Remove it.' He said: So I took it. I could not tell if there was more when I first put it down, or when I picked it up. He said: Groups of them sat talking in the house of the Messenger of Allah (ﷺ), while the Messenger of Allah (ﷺ) and his wife sat facing the wall. They began to be burdensome on the Messenger of Allah (ﷺ), so the Messenger of Allah (ﷺ) went out to greet his women folk, then he returned, they realized that they had overburdened him, so they hastened for the gate and all of them exited. The Messenger of Allah (ﷺ) came until he lowered the curtain, and entered while I was sitting in the apartment. He did not remain there long before he left me, and these Ayat were revealed. So the Messenger of Allah (ﷺ) went out to recite them to the people: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's house unless permission is given to you for a meal, not to wait for its preparation. But when you are invited, enter, and when you have taken your meals, dispense without sitting for a talk. Verily, such annoys the Prophet...' till the end of the Ayah (33:53)' Al-Ja'd said: Anas said: 'I am the earliest of the people to encounter these Ayat, and to be screened from the wives of the Prophet (ﷺ).
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی ( زینب بنت جحش رضی الله عنہا ) کے پاس تشریف لے گئے، اس موقع پر میری ماں ام سلیم رضی الله عنہا نے حیس ۱؎ تیار کیا، اسے ایک چھوٹے برتن میں رکھا، پھر ( مجھ سے ) کہا: ( بیٹے ) انس! اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے کہو: اسے میری امی جان نے آپ کے پاس بھیجا ہے اور انہوں نے آپ کو سلام عرض کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تھوڑا سا ہدیہ میری طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہے، اللہ کے رسول! میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں نے عرض کیا: میری امی جان آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ میری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا ہدیہ ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے رکھ دو“، پھر فرمایا: ”جاؤ فلاں فلاں، اور فلاں کچھ لوگوں کے نام لیے اور جو بھی تمہیں ملے سب کو میرے پاس بلا کر لے آؤ“، انس کہتے ہیں: جن کے نام آپ نے لیے تھے انہیں اور جو بھی مجھے آتے جاتے ملا اسے بلا لیا، راوی جعد بن عثمان کہتے ہیں: میں نے انس رضی الله عنہ سے پوچھا: کتنے لوگ رہے ہوں گے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں: پھر مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انس «تَور» پیالہ لے آؤ“۔ انس کہتے ہیں: لوگ اندر آئے یہاں تک کہ صفہ ( چبوترہ ) اور کمرہ سب بھر گیا، آپ نے فرمایا: ”دس دس افراد کی ٹولی بنا لو اور ہر شخص اپنے قریب سے کھائے“، لوگوں نے پیٹ بھر کر کھایا، ایک ٹولی ( کھا کر ) باہر جاتی اور دوسری ٹولی ( کھانے کے لیے ) اندر آ جاتی اس طرح سبھی نے کھا لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: ”انس: اب ( برتن ) اٹھا لو“۔ میں نے ( پیالہ ) اٹھا لیا، مگر ( صحیح صحیح ) بتا نہ پاؤں گا کہ جب میں نے پیالہ لا کر رکھا تھا تب اس میں حیس زیادہ تھا یا جب اٹھایا تھا تب؟ کچھ لوگ کھانے سے فارغ ہو کر آپ کے گھر میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ ( انہوں نے کچھ بھی خیال نہ کیا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ دیوار کی طرف منہ پھیرے بیٹھی ہیں، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بوجھ بن گئے، آپ وہاں سے اٹھ کر اپنی دوسری بیویوں کی طرف چلے گئے اور انہیں سلام کیا ( مزاج پرسی کی ) اور پھر لوٹ آئے، جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ لوٹ آئے ہیں تو انہیں احساس و گمان ہوا کہ وہ لوگ آپ کے لیے باعث اذیت بن گئے ہیں، تو وہ لوگ تیزی سے دروازہ کی طرف بڑھے اور سب کے سب باہر نکل گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دروازہ کا پردہ گرا دیا اور خود اندر چلے گئے، میں کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ تھوڑی ہی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور آپ پر یہ آیتیں اتریں پھر آپ نے باہر آ کر لوگوں کو یہ آیتیں «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه ولكن إذا دعيتم فادخلوا فإذا طعمتم فانتشروا ولا مستأنسين لحديث إن ذلكم كان يؤذي النبي» ”اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لیے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو، بلکہ جب بلایا جائے تب جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہو جایا کرو، نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے“ ( الاحزاب: ۵۳ ) ، آخر تک پڑھ کر سنائیں۔ میں ان آیات سے سب سے پہلا واقف ہونے والا ہوں، اور اسی وقت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں پردہ کرنے لگیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- جعد: عثمان کے بیٹے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ دینار کے بیٹے ہیں اور ان کی کنیت ابوعثمان بصریٰ ہے، اور یہ محدثین کے نزدیک ثقہ ( قوی ) ہیں، ان سے یونس بن عبید، شعبہ اور حماد بن زید نے روایت کی ہے۔