TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8779 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
{وَفُرُشٍ مَرْفُوْعَۃٍ} کی تفسیر
۔ (۸۷۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ قَالَ: (({وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} [الواقعۃ: ۳۴] وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ ارْتِفَاعَہَا کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، وَإِنَّ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ لَمَسِیرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد:)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} … اور اونچے اونچے بستروں میں ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: ان کی بلندی اتنی ہو گی، جیسے آسمان اور زمین کے درمیان بلندی ہے، جبکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
8779
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۸۷۷۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف ابن لھیعۃ، ولضعف روایۃ دراج عن ابی الھیثم ۔ أخرجہ الترمذی: ۲۵۴۰، ۳۲۹۴(انظر: ۱۱۷۱۹)

Related Chapters

737
1
Chapter: What Has Been Related About: And For Those Upon Whom It Is Difficult.
باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر
Jam e Tirmazi
2
باب: آیت کریمہ: «لهم البشرى في الحياة الدنيا» ”ان کے لیے دنیاوی زندگی میں بشارت ہے“ کی تفسیر کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
باب: اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کرنے والے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
باب: سورۃ فاتحہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
5
باب: سورۃ البقرہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
6
باب: سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
7
باب: سورۃ نساء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
8
باب: سورۃ المائدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
9
باب: سورۃ الانعام سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
10
باب: سورۃ الاعراف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
11
باب: سورۃ الانفال سے بعض آیات کی تفسیر​
Jam e Tirmazi
12
باب: سورۃ التوبہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
13
باب: سورۃ یونس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
14
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
15
باب: سورۃ یوسف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
16
باب: سورۃ الرعد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
17
باب: سورۃ ابراہیم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
18
باب: سورۃ الحجر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
19
باب: سورۃ النحل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
20
باب: سورۃ بنی اسرائیل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
21
باب: سورۃ الکہف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
22
باب: سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
23
باب: سورۃ طہٰ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
24
باب: سورۃ انبیاء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
25
باب: سورۃ الحج سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
26
باب: سورۃ المومنون سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
27
باب: سورۃ النور سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
28
باب: سورۃ الفرقان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
29
باب: سورۃ الشعراء سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
30
باب: سورۃ النمل سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
31
باب: سورۃ قص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
32
باب: سورۃ العنکبوت کی بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
33
باب: سورۃ الروم سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
34
باب: سورۃ لقمان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
35
باب: سورۃ السجدہ سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
36
باب: سورۃ الاحزاب سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
37
باب: سورۃ سبا سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
38
باب: سورۃ فاطر (ملائکہ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
39
باب: سورۃ یس سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
40
باب: سورۃ الصافات سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
41
باب: سورۃ ص سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
42
باب: سورۃ الزمر سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
43
باب: سورۃ مومن سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
44
باب: سورۃ حم سجدہ (سورۃ فصلت) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
45
باب: سورۃ حم عسق (سورۃ شوریٰ) سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
46
باب: سورۃ الزخرف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
47
باب: سورۃ الدخان سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
48
باب: سورۃ الاحقاف سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
49
باب: سورۃ محمد سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
50
باب: سورۃ الفتح سے بعض آیات کی تفسیر
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
5182
۔ (۵۱۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Musnad Ahmad
8685
۔ (۸۶۸۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: {وَہُمْ فِیہَا کَالِحُوْنَ} [المؤمنون: ۱۰۴] قَالَ: ((تَشْوِیہِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُہُ الْعُلْیَا حَتّٰی تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِہِ، وَتَسْتَرْخِی شَفَتُہُ السُّفْلٰی حَتّٰی تَضْرِبَ سُرَّتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ۔}… ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ کی تفسیریہ ہے کہ آگ انہیں بھون ڈالے گی، اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سرکے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک جائے گا، یہاں تک کہ ناف سے جا ٹکرائے گا۔
Musnad Ahmad
8729
۔ (۸۷۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظاَلِمٌ لِنَفْسِہٖوَمِنْہُمْمُقْتَصِدٌوَمِنْہُمْسَابِقٌبِالْخَیْرَاتِ} قَالَ: ((ھٰؤُ لَائِ کُلُّہُمْ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ وَکُلُّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۶۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:{ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ}… پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی متوسط درجے کا ہے اور ان میں سے کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ (اس آیت میں مذکورہ) سب لوگوں کا مرتبہ ایک ہی ہے اور سارے جنت میںجائیں گے۔
Musnad Ahmad
9325
۔ (۹۳۲۵)۔ عَنْ سَعَیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ شَکَا اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَتَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ اَبَاسَعِیْدٍ! فَاِنَّ الْفَقْرَ اِلیٰ مَنْ یُّحِبُّنِیْ مِنْکُمْ اَسْرَعُ مِنَ السَّیْلِ عَلیٰ اَعْلَی الْوَادِیْ، وَمِنْ اَعْلَی الْجَبَلِ اِلیٰ اَسْفَلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۹)
۔ سیدنا ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔
Musnad Ahmad
12082
۔ (۱۲۰۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَکُونُ أُمَرَائُ تَغْشَاہُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، یَظْلِمُونَ وَیَکْذِبُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ، فَصَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ، وَیُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَیُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۱۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
Musnad Ahmad
12108
۔ (۱۲۱۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَطْمَئِنُّ إِلَیْہِمُ الْقُلُوبُ، وَتَلِینُ لَہُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْمَئِزُّ مِنْہُمُ الْقُلُوبُ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْہُمُ الْجُلُودُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوںگے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
Musnad Ahmad
12292
۔ (۱۲۲۹۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ اشْتَکَی عَلِیًّا النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لَا تَشْکُوا عَلِیًّا، فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَأُخَیْشِنٌ فِی ذَاتِ اللّٰہِ أَوْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۹)
سیدنا ابو سعد خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔
Musnad Ahmad
12355
۔ (۱۲۳۵۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی مَرَرْتُ بِوَادِی کَذَا وَکَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْہَیْئَۃِیُصَلِّی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اذْہَبْ إِلَیْہِ فَاقْتُلْہُ۔))قَالَ: فَذَہَبَ إِلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا رَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ کَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ فَرَجَعَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُمَرَ: ((اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) فَذَہَبَ عُمَرُ فَرَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِی رَآہُ أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: فَکَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی رَأَیْتُہُیُصَلِّی مُتَخَشِّعًا فَکَرِہْتُ أَنْ أَقْتُلَہُ، قَالَ: (یَا عَلِیُّ! اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) قَالَ: فَذَہَبَ عَلِیٌّ فَلَمْ یَرَہُ فَرَجَعَ عَلِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّہُ لَمْ یُرَہْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہَذَا وَأَصْحَابَہُ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَعُودُونَ فِیہِ حَتَّییَعُودَ السَّہْمُ فِی فُوقِہِ، فَاقْتُلُوہُمْ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۳۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا فلاں وادی میں گزر ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل آدمی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کردو۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی طرف واپس گئے تو اسے اسی حالت میں پایا، آپ نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا،آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آگئے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کرآؤ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہا ں گئے، تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے دیکھا تھا، انہوں نے بھی اسے قتل کر ناٹھیک نہ سمجھا، انہوں نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے انتہائی خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا اس لیے اس کو قتل کرنا ٹھیک نہ سمجھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے تو آپ نے اسے وہاں نہ دیکھا، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! وہ مجھے تو نظر نہیں آیا، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت خوب کریں گے، مگر وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا اور یہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے کمان میں سے تیر نکل جاتا ہے، یہ دین میں واپس نہیں آئیں گے حتی کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، تم انہیں قتل کر دینا، یہ تمام لوگوںمیں سے بد ترین لوگ ہوں گے۔
Musnad Ahmad
12363
۔ (۱۲۳۶۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ، قَالَ: ((لَا، وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ، لَیَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَکُمْ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ مِنْ عَلَامَۃٍیُعْرَفُونَ بِہَا؟ قَالَ: ((فِیہِمْ رَجُلٌ ذُو یُدَیَّۃٍ أَوْ ثُدَیَّۃٍ مُحَلِّقِی رُئُ وْسِہِمْ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَحَدَّثَنِی عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَلِیَ قَتْلَہُمْ، قَالَ: فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ بَعْدَمَا کَبِرَ وَیَدَاہُ تَرْتَعِشُ یَقُولُ: قِتَالُہُمْ أَحَلُّ عِنْدِی مِنْ قِتَالِ عِدَّتِہِمْ مِنَ التُّرْکِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۰۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ پختہ قسم اٹھاتے تو اس طرح فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کے اعمال کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو معمولی سمجھو گے، وہ قرآن تو پڑھیں گ، لیکن قرآن ان کے سینوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ صحابۂ کرام نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی کچھ علامات بیان فرما دیں، جن سے وہ پہنچانے جاسکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ یوں ہوگا، جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: مجھ سے بیس یا اس سے بھی زائد صحابہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو قتل کیا تھا۔ عاصم سے مروی ہے کہ میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، وہ کہتے تھے: ان خوارج کو قتل کرنا میرے نزدیک انہی کے بقدر ترکوں سے لڑنے سے افضل اور اہم ہے۔