TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12292 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 20 in this chapter
فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث
۔ (۱۲۲۹۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ اشْتَکَی عَلِیًّا النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لَا تَشْکُوا عَلِیًّا، فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَأُخَیْشِنٌ فِی ذَاتِ اللّٰہِ أَوْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۹)
سیدنا ابو سعد خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔
12292
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۲۹۲) تخریج: زینب بنت کعب مختلف فی صحبتھا، روی عنھا ابنا اخویھا، وزکرھا ابن حبان فی الثقات ، واخرج لھا اصحاب السنن، اخرجہ الحاکم: ۱/ ۶۸(انظر: ۱۱۸۱۷)

Related Chapters

2,076
1
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
2
باب دوم: یزید کے دور خلافت و امارت میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدہ فاطمۂ زہرا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت سب سے الم ناک اور افسوس ناک واقعہ ہے فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور ان کے مقتل کے بارے میں مروی احادیث اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے غم کا بیان
Musnad Ahmad
3
باب دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فضائل اور ان کا اپنے اسلاف کی اقتداء کرنا
Musnad Ahmad
4
باب دوم: سیدنا عثمان کے مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرنا اور ان میں ان کا حق پر ہونا
Musnad Ahmad
5
فصل دوم: سیدنا عثمان کا اللہ تعالیٰ کی کتاب کا مطیع ہونا، ان کا لوگوں کے سامنے عذر خواہی کرنااور لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کرنا اور ان کے مناقب
Musnad Ahmad
6
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
7
بعض دیگر عرب قبائل کے بارے میں وارد احادیث کا بیان فصل اول: سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی حدیث، جس میں متعدد عرب قبائل کا تذکرہ ہے
Musnad Ahmad
8
اس کے الفاظ کے بارے میں ثابت ہونے والے مواد کا بیان فَصْلٌ فِیْمَا رُوِیَ فِیْ ذٰلِکِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ فصل: سیدناعبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی تشہد
Musnad Ahmad
9
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے علاوہ دوسرے صحابہ سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
10
فصل دوم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مرتدین سے قتال کا بیان
Musnad Ahmad
11
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
12
فصل دوم: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تواضع کا بیان
Musnad Ahmad
13
فصلِ دوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلا فت میں ۱۵ ھ ؁ میں ہونے والے واقعۂ یرموک کا بیان
Musnad Ahmad
14
فصل دوم: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خاص طور پر سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ جو رازدارانہ باتیں کیں، ان کا بیان
Musnad Ahmad
15
فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا
Musnad Ahmad
16
باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا
Musnad Ahmad
17
فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے
Musnad Ahmad
18
فصل دوم: خوارج، ان کے قائد کی علامت اور ان کی خدمت اور اس کا بیان کہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اور یہ بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا گروہ بر حق تھا
Musnad Ahmad
19
فصل دوم: اس امر کابیان ہے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مشابہت رکھتے تھے
Musnad Ahmad
20
باب دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب
Musnad Ahmad
21
فصل دوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا قتل اور ان کے سر کے ساتھ ابن زیاد کا سلوک
Musnad Ahmad
22
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
23
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
Musnad Ahmad
24
فصل دوم: قبیلہ ازد اور حمیر کے بارے میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
25
سیدنا علی اور سیدنا عثمانؓکے علاوہ دوسرے صحابہ سے وضو کے بارے مروی احادیث
Musnad Ahmad
26
مصحف عثمانی کے بارے میں سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی رائے
Musnad Ahmad
27
غزوۂ حنین کے دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ فرمانا کہ جس نے کسی کافر کو قتل کیا، اس سے حاصل ہونے والا مال اسی کو ملے گا ، سیدنا انس بن مالک ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی والدہ سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جو کچھ کہا اور سیدنا خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زخمی ہونے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس کے بارے میں اہتمام کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
28
رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیماری کے آغاز سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات تک کی تفصیل کے بارے میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی جامع حدیث
Musnad Ahmad
29
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اہل بیت کی معیشت کا بیان اس موضوع سے متعلقہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی احادیث
Musnad Ahmad
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث
Musnad Ahmad
31
ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ محبت، آپ کے بارے میں ان کی غیرت اور سیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آپ کی حیات ِ مبارکہ میں جو جو عمل کیا کرتی تھیں، بعد میں بھی ان کی حفاظت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
32
ان فضائل و مناقب کا تذکرہ جو سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں مشترک ہیں
Musnad Ahmad
33
سیدنا زید بن حارثہ، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن رواحہ اور سیدنا خالد بن ولید کے مشترکہ مناقب کا تذکرہ
Musnad Ahmad
34
سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، ان کا واقعہ اور ان کے قبول اسلام کا از اول تا آخر مکمل اور مفصل واقعہ
Musnad Ahmad
35
سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے فتاوی کی فصل
Musnad Ahmad
36
فصل: نبوت، خلافت اورملوکیت کے مراحل پر مشتمل سیدنا حذافہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ایک جامع حدیث
Musnad Ahmad
37
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان تم میں سے ہر کوئی نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے پوچھ گچھ ہو گی کی وضاحت
Musnad Ahmad
38
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
Musnad Ahmad
39
فصل دوم: اللہ کی نافرمانی کی صورت میں کسی انسان کی اطاعت نہیں ہے
Musnad Ahmad
40
باب دوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت اور واقعۂ سقیفہ کا بیان
Musnad Ahmad
41
باب سوم: صدیق اکبر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دورخلافت میں واقع ہونے والے بعض واقعات کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی میراث کے مطالبہ کرنے کے لیے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجنا
Musnad Ahmad
42
فصل سوم: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے زمانۂ خلافت میں قرآن مجید کو یکجا جمع کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
43
فصل سوم: سیدنا صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبوں کا بیان اسلام میں ان کے پہلے خطاب کا بیان
Musnad Ahmad
44
خلیفۂ دوم امیر المومنین سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ متعلق ابواب باب اول: سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف سے سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں خلافت کا تقرر
Musnad Ahmad
45
فصل: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنت میں سیدناعمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے جو کچھ دیکھا، اس کا اور ان کی غیرت کا بیان
Musnad Ahmad
46
فصل سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے علم کی وسعت، قوتِ دین، ان کی نیکی اورزہد کا بیان
Musnad Ahmad
47
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
Musnad Ahmad
48
فصل پنجم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی ہیبت اور وقار کا بیان
Musnad Ahmad
49
باب سوم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں، فیصلوں اور ان کے دور خلافت میں پیش آنے والے بعض واقعات کا بیان اس باب کی کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض فتووں اور فیصلوں کا بیان
Musnad Ahmad
50
فصل سوم: بیت المقدس کی فتح ، جابیہ مقام پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا مشہور خطاب اور۱۶ھ میں خالد بن ولید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو امارت سے معزول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
5182
۔ (۵۱۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہٗ۔ (مسند أحمد: ۱۱۳۶۶)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Musnad Ahmad
8685
۔ (۸۶۸۵)۔ عَنْ أَ بِی سَعِیدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: {وَہُمْ فِیہَا کَالِحُوْنَ} [المؤمنون: ۱۰۴] قَالَ: ((تَشْوِیہِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُہُ الْعُلْیَا حَتّٰی تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِہِ، وَتَسْتَرْخِی شَفَتُہُ السُّفْلٰی حَتّٰی تَضْرِبَ سُرَّتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۵۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {تَلْفَحُ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ۔}… ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ کی تفسیریہ ہے کہ آگ انہیں بھون ڈالے گی، اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سرکے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک جائے گا، یہاں تک کہ ناف سے جا ٹکرائے گا۔
Musnad Ahmad
8729
۔ (۸۷۲۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ فِیْ ھٰذِہِ الْآیَۃِ: {ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظاَلِمٌ لِنَفْسِہٖوَمِنْہُمْمُقْتَصِدٌوَمِنْہُمْسَابِقٌبِالْخَیْرَاتِ} قَالَ: ((ھٰؤُ لَائِ کُلُّہُمْ بِمَنْزِلَۃٍ وَاحِدَۃٍ وَکُلُّہُمْ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۶۷)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا:{ثُمَّ أَ وْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِینَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْہُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ وَمِنْہُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْہُمْ سَابِقٌ بِالْخَیْرَاتِ بِإِذْنِ اللّٰہِ}… پھر ہم نے اس کتاب کے وارث اپنے وہ بندے بنائے جنھیں ہم نے چن لیا، پھر ان میں سے کوئی اپنے آپ پر ظلم کرنے والا ہے اور ان میں سے کوئی متوسط درجے کا ہے اور ان میں سے کوئی اللہ کے حکم سے نیکیوں میں آگے نکل جانے والا ہے، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ (اس آیت میں مذکورہ) سب لوگوں کا مرتبہ ایک ہی ہے اور سارے جنت میںجائیں گے۔
Musnad Ahmad
8779
۔ (۸۷۷۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَ نَّہُ قَالَ: (({وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} [الواقعۃ: ۳۴] وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ إِنَّ ارْتِفَاعَہَا کَمَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ، وَإِنَّ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَ رْضِ لَمَسِیرَۃُ خَمْسِ مِائَۃِ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد:)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {وَفُرُشٍ مَرْفُوعَۃٍ} … اور اونچے اونچے بستروں میں ہوں گے۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے: ان کی بلندی اتنی ہو گی، جیسے آسمان اور زمین کے درمیان بلندی ہے، جبکہ آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔
Musnad Ahmad
9325
۔ (۹۳۲۵)۔ عَنْ سَعَیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنْ اَبِیْہِ، اَنَّہُ شَکَا اِلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَاجَتَہُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اصْبِرْ اَبَاسَعِیْدٍ! فَاِنَّ الْفَقْرَ اِلیٰ مَنْ یُّحِبُّنِیْ مِنْکُمْ اَسْرَعُ مِنَ السَّیْلِ عَلیٰ اَعْلَی الْوَادِیْ، وَمِنْ اَعْلَی الْجَبَلِ اِلیٰ اَسْفَلِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۹۹)
۔ سیدنا ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اپنی محتاجی کی شکایت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو سعید! صبر کرو، کیوں جو بندہ مجھ سے محبت کرتاہے، اس کی طرف فقر و فاقہ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھتا ہے، جیسے سیلاب (کا ریلہ) وادی کی بلندی سے اور پہاڑ کی چوٹی سے پستی کی طرف بڑھتا ہے۔
Musnad Ahmad
12082
۔ (۱۲۰۸۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَکُونُ أُمَرَائُ تَغْشَاہُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ، یَظْلِمُونَ وَیَکْذِبُونَ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَیْہِمْ، فَصَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَلَیْسَ مِنِّی وَلَسْتُ مِنْہُ، وَمَنْ لَمْ یَدْخُلْ عَلَیْہِمْ، وَیُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ، وَیُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ، فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۱۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔
Musnad Ahmad
12108
۔ (۱۲۱۰۸)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَطْمَئِنُّ إِلَیْہِمُ الْقُلُوبُ، وَتَلِینُ لَہُمُ الْجُلُودُ، ثُمَّ یَکُونُ عَلَیْکُمْ أُمَرَائُ تَشْمَئِزُّ مِنْہُمُ الْقُلُوبُ، وَتَقْشَعِرُّ مِنْہُمُ الْجُلُودُ۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: أَنُقَاتِلُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((لَا، مَا أَقَامُوا الصَّلَاۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۴۲)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے او پر ایسے حکمران آئیں گے، جن کی حکمرانی پر تمہارے دل مطمئن ہوںگے اور تمہاری جلد ان کی اطاعت کے لیے نرم ہوگی، لیکن ان کے بعد ایسے حکمران بھی آئیں گے، جن سے تمہارے دل نفرت کریں گے اور ان کے خوف سے تمہارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم ایسے حکمرانوں سے لڑائی کریں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تک وہ نماز قائم رکھیں گے، اس وقت تک ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
Musnad Ahmad
12355
۔ (۱۲۳۵۵)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ جَائَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی مَرَرْتُ بِوَادِی کَذَا وَکَذَا، فَإِذَا رَجُلٌ مُتَخَشِّعٌ حَسَنُ الْہَیْئَۃِیُصَلِّی، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اذْہَبْ إِلَیْہِ فَاقْتُلْہُ۔))قَالَ: فَذَہَبَ إِلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا رَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ کَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ فَرَجَعَ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُمَرَ: ((اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) فَذَہَبَ عُمَرُ فَرَآہُ عَلٰی تِلْکَ الْحَالِ الَّتِی رَآہُ أَبُو بَکْرٍ، قَالَ: فَکَرِہَ أَنْ یَقْتُلَہُ، قَالَ: فَرَجَعَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی رَأَیْتُہُیُصَلِّی مُتَخَشِّعًا فَکَرِہْتُ أَنْ أَقْتُلَہُ، قَالَ: (یَا عَلِیُّ! اذْہَبْ فَاقْتُلْہُ۔)) قَالَ: فَذَہَبَ عَلِیٌّ فَلَمْ یَرَہُ فَرَجَعَ عَلِیٌّ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّہُ لَمْ یُرَہْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ ہَذَا وَأَصْحَابَہُ یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ، ثُمَّ لَا یَعُودُونَ فِیہِ حَتَّییَعُودَ السَّہْمُ فِی فُوقِہِ، فَاقْتُلُوہُمْ ہُمْ شَرُّ الْبَرِیَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۱۳۵)
سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں تشریف لائے اور کہا: اللہ کے رسول! میرا فلاں وادی میں گزر ہوا تو وہاں ایک حسین وجمیل آدمی انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز ادا کررہا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کردو۔ ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کی طرف واپس گئے تو اسے اسی حالت میں پایا، آپ نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا،آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آگئے، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تم جا کر اسے قتل کرآؤ۔ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ وہا ں گئے، تو اسے اسی حالت میں پایا جس حالت میں ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے دیکھا تھا، انہوں نے بھی اسے قتل کر ناٹھیک نہ سمجھا، انہوں نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! میں نے اسے انتہائی خشوع کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا اس لیے اس کو قتل کرنا ٹھیک نہ سمجھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی! تم جاؤ اور اسے قتل کردو۔ علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گئے تو آپ نے اسے وہاں نہ دیکھا، علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے واپس آکر کہا: اللہ کے رسول! وہ مجھے تو نظر نہیں آیا، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ اور اس کے ساتھی قرآن کی تلاوت خوب کریں گے، مگر وہ ان کے سینے سے نیچے نہ اترے گا اور یہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے کمان میں سے تیر نکل جاتا ہے، یہ دین میں واپس نہیں آئیں گے حتی کہ تیر اپنی کمان میں واپس آجائے، تم انہیں قتل کر دینا، یہ تمام لوگوںمیں سے بد ترین لوگ ہوں گے۔
Musnad Ahmad
12363
۔ (۱۲۳۶۳)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا حَلَفَ وَاجْتَہَدَ فِی الْیَمِینِ، قَالَ: ((لَا، وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الْقَاسِمِ بِیَدِہِ، لَیَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِی، تُحَقِّرُونَ أَعْمَالَکُمْ مَعَ أَعْمَالِہِمْ، یَقْرَئُ وْنَ الْقُرْآنَ، لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ،یَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ، کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ۔)) قَالُوْا: فَہَلْ مِنْ عَلَامَۃٍیُعْرَفُونَ بِہَا؟ قَالَ: ((فِیہِمْ رَجُلٌ ذُو یُدَیَّۃٍ أَوْ ثُدَیَّۃٍ مُحَلِّقِی رُئُ وْسِہِمْ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَحَدَّثَنِی عِشْرُونَ أَوْ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وَلِیَ قَتْلَہُمْ، قَالَ: فَرَأَیْتُ أَبَا سَعِیدٍ بَعْدَمَا کَبِرَ وَیَدَاہُ تَرْتَعِشُ یَقُولُ: قِتَالُہُمْ أَحَلُّ عِنْدِی مِنْ قِتَالِ عِدَّتِہِمْ مِنَ التُّرْکِ۔ (مسند احمد: ۱۱۳۰۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ پختہ قسم اٹھاتے تو اس طرح فرماتے: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابو القاسم کی جان ہے! میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کے اعمال کے مقابلہ میں اپنے اعمال کو معمولی سمجھو گے، وہ قرآن تو پڑھیں گ، لیکن قرآن ان کے سینوں سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے، جیسے شکار میں سے تیر صاف نکل جاتا ہے۔ صحابۂ کرام نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کی کچھ علامات بیان فرما دیں، جن سے وہ پہنچانے جاسکیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان میں سے ایک آدمی کا ہاتھ یوں ہوگا، جیسے عورت کا پستان ہوتا ہے اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: مجھ سے بیس یا اس سے بھی زائد صحابہ نے بیان کیا کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کو قتل کیا تھا۔ عاصم سے مروی ہے کہ میں نے ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا وہ عمر رسیدہ ہوچکے تھے اور ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، وہ کہتے تھے: ان خوارج کو قتل کرنا میرے نزدیک انہی کے بقدر ترکوں سے لڑنے سے افضل اور اہم ہے۔