TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 8971 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 13 of 26 in this chapter
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
۔ (۸۹۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلاَُ الْمِیْزَانَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ تَمْلَاُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا بَیْنَ السَّمٰوٰتِ) وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نَوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ عَلَیْکَ اَوْ لَکَ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُوْبِقُھَا اَوْ مُعْتِقُھَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۶)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میںیا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔
8971
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۹۷۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۲۳(انظر: ۲۲۹۰۸)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… صدقہ، صدقہ کرنے والے کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ منافق عدمِ ایمان کی وجہ سے صدقہ و خیرات سے اجتناب کرتا ہے۔ جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔ ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔

Related Chapters

402
1
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
2
وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
3
باب چہارم: حکمرانی طلب کرنے سے ممانعت اور اس سے نفرت دلانے کا بیان
Musnad Ahmad
4
6)Chapter: Regarding The Prohibition Of Facing The Qiblah When Defecating And Urinating.
باب: پیشاب یا پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
5
7)Chapter: What Has Been Related About The Permission for That
باب: کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی ممانعت​
Jam e Tirmazi
6
Chapter: What Has Been Related About Prohibiting Recitations While Bowing and Prostrating
باب: رکوع اور سجدے میں قرأت کی ممانعت
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Al-Ikhtisar (Holding The Hip) In Salat
باب: نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Begging
باب: دوسروں سے مانگنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Against Wishing For Death
باب: موت کی تمنا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About the Prohibition Of Slapping The Cheeks And Tearing The Clothes During A Calamity
باب: مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Plaster Graves And Write On Them
باب: قبریں پختہ کرنے اور ان پر لکھنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What has been related about it being disliked for women to visit the graves
باب: عورتوں کے لیے قبروں کی زیارت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Celibacy
باب: بے شادی زندگی گزارنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Coercing A Female Orphan To Marry
باب: یتیم لڑکی کو شادی کرنے پر مجبور کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Muhaqalah and Muzabanah
باب: محاقلہ اور مزابنہ کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Two Sales In One
باب: ایک بیع میں دو بیع کرنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition From Making Exceptions
باب: بیع میں استثناء کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Wine And The Prohibition Of That
باب: شراب کی بیع اور اس کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: The Prohibition Of Selling In The Masjid
باب: مسجد میں خرید و فروخت کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition of Mutilation
باب: مردہ کے مثلے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Killing Women And Children
باب: عورتوں اور بچوں کے قتل کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Combing Except Every Other Day
باب: ہر روز گنگھی کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About The Riding Mayathir
باب: ریشمی زین پر سوار ہونے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Predator Skins
باب: درندے کی کھال استعمال کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Eating And Drinking With The Left Hand
باب: بائیں ہاتھ سے کھانے پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About It Is Disliked To Prepare Nabidh In Ad-Dubba', An-Naqir, And An-Hantam
باب: تونبی، مٹکا (سبز رنگ کے برتن) اور لکڑی کے برتن میں نبیذ بنانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition Of Drinking While Standing
باب: کھڑے ہو کر پینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: خاتمہ والے اعمال معتبر ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What has been Related About The Prohibition of Passing an Unsheathed Sword
باب: ننگی تلوار لینے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: Which Of The People Is The Best And Which Of Them Is The Worst
باب: لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا​
Jam e Tirmazi
34
باب: قیامت کے دن انسانی اعمال پر گواہیوں کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: شوہر کی اجازت کے بغیر ان کی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
36
باب: بڑھاپے کے (سفید) بال اکھیڑنے کی ممانعت
Jam e Tirmazi
37
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ
دوران نماز نا جائز اور مباح اعمال کا بیان
Mishkat
38
بَاب مَالا يدعى على الْمَحْدُود
جس شخص پر حد قائم کی جائے اس پر بددعا کرنے کی ممانعت کا بیان
Mishkat
39
بَابُ مَا يُنْهَى
ہجر ، قطع تعلقی اور عیب جوئی کی ممانعت کا بیان
Mishkat
40
اسلام اور ہجرت کا پہلے والے گناہوں کو مٹا دینے، دورِ جاہلیت کے اعمال کی وجہ سے مؤاخذہ ہونے اور مسلمان ہو جانے والے کافر کے پہلے والے عمل کے حکم کا بیان
Musnad Ahmad
41
اذان پر اجرت لینے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
42
تبرک و تعظیم کے لیے انبیاء وصالحین کی قبروں کو مساجد بنانے کی ممانعت
Musnad Ahmad
43
نماز میں مسلمانوں کے ننگا ہونے کی ممانعت اور ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کا جواز
Musnad Ahmad
44
نماز میں بلند آواز سے قراء ت کرنے کی ممانعت، جب وہ دوسرے نمازی پر (قراء ت) گڈ مڈ کر رہا ہو
Musnad Ahmad
45
رکوع و سجود میں قرآن پڑھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
47
نماز میں کلام کرنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
48
نمازی کا امام کی طرف یا دائیں جانب کھنکارنے اور نماز میں کوکھوں پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
49
دشمن کے علاقے کی طرف سفر کرتے وقت مصحف (قرآن مجید) ساتھ لے جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
50
جس عورت کا خاوند غائب ہو، اس پر (مرد) کے داخل ہونے کی ممانعت اس کا سبب اور ایسا کرنے والے کی وعید کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

6
Musnad Ahmad
9224
۔ (۹۲۲۴)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْحَیَائُ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْاِیْمَانُ فِی الْجَنَّۃِ، وَالْبَذَائُ مِنَ الْجَفَائِ، وَالْجَفَائُ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۱۹)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیائ، ایمان سے ہے اور ایمان جنت میں (لے جانے والا) ہے اوربد کلامی و بد زبانی، اکھڑ مزاجی اور بدخلقی سے ہے اوراکھڑ مزاجی آگ میں(لے جانے والی) ہے۔
Musnad Ahmad
9229
۔ (۹۲۲۹)۔ عَنْ اَبِی اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: ((اَلْحَیَائُ وَالْعِیُّ شُعْبَتَانِ مِنَ الْاِیْمَانِ، وَالْبَذَائُ وَالْبَیَانُ شُعْبَتَانِ مِنَ النِّفَاقِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۶۸)
۔ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حیا اور کلام پر عدم قدرت ایمان کے دو شعبے ہیں اوربد کلامی اور کلام پر قدرت نفاق کے دو شعبے ہیں۔
Musnad Ahmad
9450
۔ (۹۴۵۰)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ اَحَبَّ (وَقَالَ ھَاشِمٌ: مَنْ سَرَّہُ) اَنْ یَجِدَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ، فَلْیُحِبَّ الْمَرْئَ وَ لَا یُحِبُّہُ اِلَّا لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۷۹۵۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایمان کا ذائقہ پسند کرتا ہو یایہ چیز اس کو خوش کرتی ہو، وہ کسی شخص سے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے۔
Musnad Ahmad
10638
۔ (۱۰۶۳۸)۔ (عَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَدِمْتُ بِأَخِیْ مَعْبَدٍ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! جِئْتُکَ بِأَخِیْ لِتُبَایِعَہُ عَلَی الْھِجْرَۃِ، فَقَالَ: ((ذَھَبَ أَھْلُ الْھِجْرَۃِ بِمَا فِیْھَا (وَفِیْ لَفْظٍ: مَضَتِ الْھِجْرَۃُ لِأَھْلِھَا)۔)) فَقُلْتُ: عَلٰی أَیِّ شَیْئٍ تُبَایِعُہُ؟ قَالَ: ((عَلَی الْاِسْلَامِ وَالْاِیْمَانِ، وَالْجِھَادِ)) قَالَ: فَلَقِیْتُ مَعْبَدًا بَعْدُ وَکَانَ ھُوَ أَکْبَرَھُمَا فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ: صَدَقَ مُجَاشِعٌ۔ (مسند احمد: ۱۵۹۴۵)
۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کوملا ، جبکہ وہ سیدنا مجاشع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔
Musnad Ahmad
13105
۔ (۱۳۱۰۵)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنِّیْ لَاَوَّلُ النَّاسِ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ عَنْ جُمْجُمَتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَا فَخْرَ وَاُعْطٰی لِوَائَ الْحَمْدِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا سَیِّدُ النَّاسِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَلَافَخْرَ، وَاِنِّیْ آتِیْ بَابَ الْجَنَّۃِ فَآخُذُ بِحَلْقَتِہَا، فَیَقُوْلُوْنَ: مَنْ ھٰذَا؟ فَاَقُوْلُ: اَنَا مُحَمَّدٌ، فَیَفْتَحُوْنَ لِیْ، فَاَدْخُلُ فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ، فَاَسْجُدُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلُ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعُ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْیَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ شَعِیْرٍ مِنَ الْاِیْمَانِ، فَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ فَاُقْبِلُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ ذٰلِکَ، فَاُدْخِلُہُ الْجَنَّۃَ فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ فَاَسْجُدُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلْ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ اَیْ رَبِّ! فَیَقُوْلُ اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہٖنِصْفَحَبَّۃٍ مِّنْ شَعِیْرٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ فَاَدْخِلْہُمُ الْجَنَّۃَ، فَاَذْھَبُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ اُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ، فَاِذَا الْجَبَّارُ عَزَّوَجَلَّ مُسْتَقْبِلِیْ فَاَسْجُدُ لَہُ فَیَقُوْلُ: اِرْفَعْ رَاْسَکَ یَامُحَمَّدُ! وَتَکَلَّّمْ یُسْمَعْ مِنْکَ وَقُلْ یُقْبَلْ مِنْکَ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَاَرْفَعُ رَاْسِیْ، فَاَقُوْلُ: اُمَّتِیْ اُمَّتِیْ فَیَقُوْلُ اِذْھَبْ اِلٰی اُمَّتِکَ، فَمَنْ وَجَدْتَّ فِیْ قَلْبِہِ مِثَقْالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ فَاَدْخِلْہُ الْجَنَّۃَ، فَاَذْھَبُ فَمَنْ وَجَدْتُّ فِیْ قَلْبِہِ مِثْقَالَ ذٰلِکَ اَدْخَلْتُہُمُ الْجَنَّۃَ وَفَرَغَ اللّٰہُ مِنْ حِسَابِ النَّاسِ وَاَدْخَلَ مَنْ بَقِیَ مِنْ اُمَّتِیَ النَّارَ مَعَ اَھْلِ النَّارِ فَیَقُوْلُ اَھْلُ النَّارِ: مَا اَغْنٰی عَنْکُمْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْبُدُوْنَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ، لَاتُشْرِکُوْنَ بِہٖشَیْئًا، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُعَزَّوَجَلَّ: فَبِعِزَّتِیْ لَاُعْتِقَنَّھُمْ مِنَ النَّارِ، فَیُرْسِلُ اِلَیْہِمْ فَیَخْرُجُوْنَ وَقَدِ امْتُحِشُوْا فَیُدْخَلُوْنَ فِیْ نَہْرِ الْحَیَاۃِ فَیَنْبُتُوْنَ فِیْہِ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ غُثَائِ السَّیْلِ وَیُکْتَبُ بَیْنَ اَعْیُنِہِمْ ہٰؤُلَائِ عُتَقَائُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَیُذْھَبُ بِہِمْ فَیَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُ لَھُمْ اَھْلُ الْجَنَّۃِ: ھٰؤُلَائِ الْجَہَنَّمِیُّوْنَ، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ: بَلْ ھٰؤُلَائِ عُتَقَائُ الْجَبَّارِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۴۹۶)
سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے میرے وجود سے زمین پھٹے گی اور اس بات پر مجھے فخر نہیں ہے، قیامت کے دن مجھے حمد کا جھنڈا دیا جائے گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا، قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا، اس پر بھی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اور اس پر بھی مجھے فخر نہیں ہے، میںجنت کے دروازے پر جا کر اس کے کڑے کو پکڑوں گا، وہ پوچھیں گے کہ کون ہے؟ میں کہوں گا: میں محمد ہوں، پس وہ میرے لیے جنت کا دروازہ کھول دیں گے، جب میںجنت کے اندر داخل ہوں گا تو اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا، میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا:اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات قبول کی جائے گی، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی،چنانچہ میں سجدہ سے اپنا سر اٹھا کر کہوں گا:اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اور جس آدمی کے دل میں جو کے برابر بھی ایمان ہو، اسے جنت میں لے آؤ، میں آکر جس جس آدمی کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا اسے جنت میں داخل کردوں گا، پھر جب اللہ تعالیٰ میرے سامنے آئے گا تو میں اس کے سامنے سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ،کہوتمہاری بات سنی جائے گی،بات کرو، تمہاری بات مقبول ہوگی، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول ہوگی، سو میں سجدہ سے سر اٹھا کر کہوں گا: اے رب! میری امت، میری امت، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں نصف جو کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ، چنانچہ میں جا ؤں گا اور جن لوگوں کے دلوں میں اتنا ایمان پاؤں گا، ان کو جنت میں لے آؤں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہوگا اور میں پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے محمد! اپنا سر اٹھاؤ، کہو تمہاری بات سنی جائے گی، کہو تمہاری بات مقبول ہو گی،سفارش کرو، تمہاری قبول کی جائے گی،میں سجدہ سے سر اٹھا کر عرض کروں گا: اے رب! میری امت، میری امت۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تم اپنی امت کی طرف جاؤ اورجس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان پاؤ، اسے جنت میں لے آؤ۔ پس میں جس جس کے دل میں اتنا ایمان پاؤں گا، اسے جنت میں لے آؤں گا، اُدھر اللہ تعالیٰ لوگوں کے محاسبہ سے فارغ ہوکر میری امت کے باقی لوگوں کو جہنمیوں کے ساتھ جہنم میں داخل کر چکا ہوگا، لیکن اہل جہنم ان سے کہیں گے: تم تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے، لیکن تمہیں اس بات کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مجھے اپنی عزت کی قسم: میں ان لوگوں کو ضرور بالضرور جہنم سے آزاد کروں گا، پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو ان کی طرف بھیجے گا، چنانچہ ان کو جہنم سے نکالا جائے گا، جبکہ وہ جل جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر ان کو نہر حیات میں ڈالا جائے گا، وہ وہاں اس طرح اگ آئیں گے، جیسے سیلاب کے پتے تنکوں اور جھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، ان کی آنکھیں کے درمیان یعنی ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ بندے اللہ تعالیٰ کے آزاد کیے ہوئے ہیں، پھر انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان جہنم والے کہیں گے، لیکن اللہ تعالیٰ فرمائے گا:نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔
Musnad Ahmad
13109
۔ (۱۳۱۰۹)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا خَلَصَ الْمُوْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَاَمِنُوْا، فَمَا مُجَادَلَۃُ اَحَدِکُمْ لِصَاحِبِہٖ فِیْ الْحَقِّ یَکُوْنُ لَہُ فِی الدُّنْیَا بَاَشَّدَّ مُجَادَلَۃً لَہُ مِنَ الْمُوْمِنِیْنَ لِرَبِّہِمْ فِیْ اِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ اُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ: یَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا! اِخْوَانُنَا کَانُوْا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا وَیَصُوْمُوْنَ مَعَنَا وَیَحُجُّوْنَ مَعَنَا فَاَدْخَلْتَہُمُ النَّارَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِذْھَبُوْا، فَاَخْرِجُوْا مَنْ عَرَفْتُمْ فَیَاْتُوْنَھُمْ فَیَعْرِفُوْنَہُمْ بِصُوَرِھِمْ لَاتَاْکُلُ النَّارُ صُوَرَھُمْ فَمِنْھُمْ مَنْ اَخَذَتْہُ النَّارُ اِلٰی اَنْصَافِ سَاقَیْہِ وَمِنْہُمْ مَنْ اَخَذَتْہُ اِلٰی کَعْبَیْہِ فَیُخْرِجُوْنَہُمْ، فَیَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مَنْ اَمَرْتَنَا، ثُمَّ یَقُوْلُ: اَخْرِجُوْا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ وَزْنُ دِیْنَارٍ مِّنَ الْاِیْمَانِ، ثُمَّ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہِ وَزْنُ نِصْفِ دِیْنَارٍ، حَتّٰییَقُوْلَ: مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖمِثْقَالُذَرَّۃٍ۔)) قَالَ: اَبُوْسَعِیْدٍ فَمَنْ لَّمْ یُصَدِّقْ بِہٰذَا فَلْیَقْرَاْ ہٰذِہِ الْآیَۃَ {اِنَّ اللّٰہَ لَایَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّاِنْ تَکُ حَسَنَۃًیُّضَاعِفُہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًاعَظِیْمًا} ((قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا قَد اَخْرَجْنَا مَنْ اَمَرْتَنَا فَلَمْ یَبْقَ فِی النَّارِ اَحَدٌ فِیْہِ خَیْرٌ قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ اللّٰہُ: شَفَعَتِ الْمَلَائِکَۃُ وَشَفَعَ الْاَنْبِیَائُ وَشَفَعَ الْمُوْمِنُوْنَ وَبَقِیَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ قَالَ: فَیَقْبِضُ قَبْضَۃً مِّنَ النَّارِ اَوْ قَالَ: قَبْضَتَیْنِ، نَاسٌ لَمْ یَعْمَلُوْا لِلّٰہِ خَیْرًا قَطُّ قَدِ احْتَرَقُوْا حَتّٰی صَارُوْا حُمَمًا قَالَ: فَیُوْتٰی بِہِمْ اِلٰی مَائٍ یُقَالُ لَہُ مَائُ الْحَیَاۃِ فَیُصَبُّ عَلَیْہِمْ فَیَنْبُتُوْنَ کَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّۃُ فِیْ حَمِیْلِ السَّیْلِ فَیَخْرُجُوْنَ مِنْ اَجْسَادِھِمْ مِثْلَ اللُّوْ لُؤِ، فِیْ اَعْنَا قِہِمُ الْخَاتَمُ عُتَقَائُ اللّٰہِ، قَالَ فَیُقَالُ لَھُمْ: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ فَمَا تَمَنَّیْتُمْ اَوْ رَأَیْتُمْ مِنْ شَیْئٍ فَہُوَ لَکُمْ، عِنْدِیْ اَفْضَلُ مِنْ ہٰذَا قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا وَمَا اَفْضَلُ مِنْ ذٰلِکَ؟ قَالَ: فَیَقُوْلُ: رِضَائِیْ عَلَیْکُمْ فَلَا اَسْخَطُ عَلَیْکُمْ اَبَدًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۲۰)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب اہل ایمان جہنم سے نجات پا کر مطمئن ہو جائیں گے تو دنیامیں کوئی مومن اپنے حق کے بارے میں اس قدر نہیں جھگڑتا، جتنا زیادہ یہ ایمان والے اپنے ان اہل ایمان بھائیوں کے بارے میں اپنے ربّ سے جھگڑا کریں گے، جن کو جہنم میں داخل کر دیا گیا ہوگا، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ ہمارے بھائی ہیں، ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے تھے، ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے، ہمارے ساتھ حج کرتے تھے، تو نے ان کو جہنم میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا جاؤ، تم ان میں سے جن جن کو پہچانتے ہو، ان کونکال لاؤ۔ وہ ان کے پاس آئیں گے اور ان کو چہروں سے پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں کو نہیں جلائے گی، ان میں کسی کو آگ نے اس کی نصف پنڈلی تک اور کسی کو ٹخنوں تک جلایا ہوا ہوگا، وہ ان کو نکال لائیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیںجن لوگوں کو وہاں سے نکال لانے کی اجازت دی تھی ان کو تو ہم لے آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ایک دینار کے برابر بھی ایمان ہو، اب اس کو بھی نکال لاؤ، اس کے بعد فرمائے گا:جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، اس کو بھی نکال لاؤ، یہ سلسلہ جاری رہے گایہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جس کو اس حدیث پر یقین نہیں آتا ،وہ یہ آیت پڑھ لے: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا} (بے شک اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اگر کسی کی وہ (ذرہ برابر) بھی نیکی ہو تو وہ اسے بڑھا دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت زیادہ اجر عطا فرماتا ہے)۔اہل ایمان کہیں گے: اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جن لوگوں کو نکال لانے کی اجازت دی تھی، ان کو تو ہم نکال لائے ہیں، اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا، جس کے دل میں کوئی خیر ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتے سفارش کر چکے، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور اہل ایمان نے بھی سفارش کر لی ہے، اب ارحم الرحمین باقی رہ گیا ہے، پھر اللہ تعالیٰ ایک یادو مٹھیاں بھر کر ایسے جہنمیوں کو نکالے گا، جنہوںنے کبھی بھی نیکی نہیں کی ہوگی اور وہ جل جل کر کوئلے بن چکے ہوں گے، پھر انہیں ماء الحیاۃ کی طرف لایا جائے گا اور وہ ان پر ڈالا جائے گا،اس سے وہ یوں اگنے لگیں گے، جیسے سیلاب کے تنکوں اورجھاگ وغیرہ میں دانے اگتے ہیں، وہ اپنے جسموں میںسے موتیوں کی مانند صاف شفاف چمکتے ہوئے نکلیں گے، ان کی گردنوں پر ایک مہر ہوگی اس پر عُتَقَائُ اللّٰہ لکھا ہوا ہوگا، ان سے کہا جائے گا: تم جنت میں داخل ہو جاؤاور تم جو تمنا کرو گے اور جو چیز دیکھو گے، وہ تمہاری ہو گی۔ اور تمہارے لیے میرے پاس اس سے بھی ایک بہترین چیز ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے ربّ ! اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: وہ ہے تمہارے اوپر میری رضا مندی، چنانچہ اب میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔