TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار

Chapter 1 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 12 · 14 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۹۳۴۴)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا َرسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ اَشَدُّ بَـلَائً؟ قَالَ: ((اَلاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الصَّالِحُوْنَ، ثُمَّ الْاَمْثَلُ فَالْاَمْثَلُ، یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلٰی حَسْبِ دِیْنِہِ، فَاِنْ کَانِ فِیْ دِیْنِہِ صَلَابَۃٌ زِیْدَ فِیْ بَلائِہِ، وَاِنْ فِیْ دِیْنِہِ رِقَّۃٌ خُفِّفَ عَنْہُ، وَمَا یَزَالُ الْبَلَائُ بِالْعَبْدِ حَتّٰییَمْشِیْ عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۱)
۔ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگوں کی آزمائش سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام اور پھر دوسرے نیکوکار، اور پھر وہ جو دوسروں سے افضل اور بہتر ہو، دراصل آدمی کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر اس کے دین میں سختی اور پابندی ہو گی تو اس کی آزمائش بھی سخت ہو جائے گی اور اگر اس کے دین میں نرمی اور سستی ہو گی تو اس کی آزمائش میں بھی ہلکا پن آجائے گا اور ایسے بھی ہوتا ہے کہ ایک بندہ آزمائشوں میں مبتلا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ روئے زمینپر چل رہا ہوتا ہے اور اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔
Takhreej
(۹۳۴۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الدارمی: ۲۷۸۳، والطیالسی: ۲۱۵، والبزار: ۱۱۵۵، وابن ابی شیبۃ: ۳/۲۳۳ (انظر: ۱۴۸۱)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور راضی رکھنے کا سب سے بڑا ہتھیار صبر ہے، اس باب کی احادیث اور آخر میں بیان کی گئی شرح پر غور کریں۔
9344
Sahih
۔ (۹۳۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَزَالُ الْبَلَائُ بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَۃِ، فِیْ جَسَدِہِِ، وَفِیْ مَالِہِ، وَفِیْ وَالِدِہِ، حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ وَمَاعَلَیْہِ خَطِیْئَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۷۸۴۶)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن مرد و زن کے جسم، مال اور والدین میں آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے تو اس کا کوئی گناہ باقی نہیں ہوتا۔
Takhreej
(۹۳۴۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الدارمی: ۲۷۸۳، والطیالسی: ۲۱۵، والبزار: ۱۱۵۵، وابن ابی شیبۃ: ۳/۲۳۳ (انظر: ۱۴۸۱)
9345
Sahih
۔ (۹۳۴۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الزَّرْعِ، لَا تَزَالُ الرِّیْحُ تَمِیْلُہُ، وَلایَزَالُ الْمُؤْمِنُ یُصِیْبُہُ الْبَلائُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ کَشَجَرَۃِ الْاَرْزِ، لاتَھْتَزُّ حَتّٰی تُحْصَدَ۔)) (مسند احمد: ۷۱۹۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس کھیتی کی طرح ہے، جس کو ہوا کبھی اِدھر جھکاتی ہے اور کبھی اُدھر، یہ حدیث سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۴) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الدارمی: ۲۷۸۳، والطیالسی: ۲۱۵، والبزار: ۱۱۵۵، وابن ابی شیبۃ: ۳/۲۳۳ (انظر: ۱۴۸۱)
9346
Sahih
۔ (۹۳۴۷)۔ ( وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَثَلُ الْمُؤُمِنِ مَثَلُ خَامَۃِ الزَّرْعِ مِنْ حَیْثُ انْتَھَی الرِّیْحُ کَفَتْھَا، فَاِذَا سَکَنَتِ اعْتَدَلَتْ وَکَذٰلِکَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ یَتَکَفَّاُ بِالْبَلائِ، وَمَثَلُ الْکِافِرِ کَمَثَلِ الْاَرْزَۃِ، صَمَّائُ مُعْتَدِلَۃٌیَقْصِمُھَا اللّٰہُ اِذَا شَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال ابتدائی نرم کھیتی کی مانند ہے، جب اس تک ہوا پہنچتی ہے تو وہ جھک جاتی ہے اور جب ہوا تھم جاتی ہے تو وہ سیدھی ہو جاتی ہے، بالکل اسی طرح مؤمن کی مثال ہے، جو آزمائشوں کی وجہ سے ہچکولے کھاتا رہتا ہے، اور منافق کی مثال صنوبر کے اس درخت کی طرح ہے، جو ٹھوس اور سخت ہونے کی وجہ سے ایک حالت پر برقرار رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو توڑ دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۷) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ مومن اپنے نفس کو بطور عاریہ لی ہوئی ایک چیز سمجھے، اس کو لذات و شہوات سے دور رکھے، مصائب و حوادث کا محور سمجھے، نیز اسے یہیقین ہونا چاہیے کہ اس کے نفس کو تو آخرت کے لیے پیدا کیاگیا ہے، اس طرح سے آزمائشیں اس کے حق میں بہت آسان ہو جائیں گی۔ رہا مسئلہ منافق کا تو سرے سے اس پر نازل ہونے والے امتحانات ہی کم ہوتے ہیں، تاکہ آخرت میں اس کے عذاب میں کوئی کمی نہ ہونے پائے۔ مومن اور منافق دونوں کے حق میں ہواؤں کی طرح آزمائشوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن ان سے متأثر ہونے والا اور عبرت حاصل کرنے والا صرف مؤمن ہوتا ہے، جب بھی اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بلا آپڑتی ہے تو وہ اپنے طرزِ حیات کا جائزہ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰکی کوئی نافرمانی تو نہیں ہو گئی کہ وہ مجھے سزا دے رہا ہو۔ ہر جسمانی، ذہنی اور مالی آزمائش اس کے لیےیہی پیغام لاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اس سے دور نہ ہو۔ نیز وہ ہر آزمائش پر صبر کرتا ہے اور اسلامی احکام کے مطابق اس کے تقاضے پورا کرتا ہے، اس طرح اس کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ لیکن منافق مضبوط تنے والے درخت کی طرح ان آزمائشوں سے متأثر نہیں ہوتا، وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی پروا کرتا ہے نہ اس کے عذابوں کی پروا۔ حتی کہ ایک دن اچانک کوئی بڑی آفت آتی ہے، جو اس کی زندگی کو ختم کر دیتی ہے۔ یک لخت گرا اور جڑیں تک نکل آئیں وہ پیڑ جسے آندھی میں ہلتے نہیں دیکھا
9347
Sahih
۔ (۹۳۴۸)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖخَیْرًایُصِیْبُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۳۴)
۔ سیدنا ابو ہریر ہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس آدمی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو آمائشوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۴۸) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۴۵ (انظر: ۷۲۳۵)
9348
Sahih
۔ (۹۳۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: وَضَعَ رَجُلٌ یَدَہُ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: وَاللّٰہِ! مَا اُطِیْقُ اَنْ اَضَعَ یَدِیْ عَلَیْکَ مِنْ شِدَّۃِ حُمَّاکَ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّا مَعْشَرُ الْاَنْبِیَائِیُضَاعَفُ لَنَا الْبَلائُ کُمَایُضَاعَفُ لَنَا الْاَجْرُ، اِنْ کَانَ النَّبِیُ مِنَ الاَنْبِیَائِیُبْتَلٰی بِالْقُمَّلِ حَتّٰییَقْتُلَہُ، وَاِنْ کَانَ النَّبِیُّ مِنَ الْاَنْبِیَائِ لَیُبْتَلٰی بِالْفَقْرِ حَتّٰییَاْخُذَ الْعَبَائَ ۃَ فَیَجَوْبَھَا، وَاِنْ کَانُوْا لَیَفْرَحُوْنَ بِالْبَلاَئِ کَمَا تَفْرَحُوْنَ بِالرَّخَائِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۹۱۵)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنا ہاتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر رکھا اور کہا: اللہ کی قسم! آپ کا بخار اس قدر تیز ہے کہ میں آپ پر ہاتھ رکھنے کی طاقت نہیں پاتا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء کی جماعت ہیں، جیسے ہمارے لیے اجر و ثواب کو بڑھا دیا جاتا ہے، اس طرح ہمارے لیے آزمائشوں کو سخت کر دیتا ہے، انبیاء میں ایک ایسا نبی بھی تھا کہ اس کو جوؤں سے اس طرح آزمایا گیا کہ قریب تھا کہ وہ اس کو قتل کر دیں، ایسے نبی بھی تھے کہ جن کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس طرح آزمایا گیا کہ وہ چوغہ لے کر اس کو کاٹتے تھے، اور وہ انبیاء آزمائشوں کی وجہ سے اس طرح خوش ہوتے تھے، جیسے تم خوشحالی کی وجہ سے خوش ہوتے ہو۔
Takhreej
(۹۳۴۹) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن ابی سعید، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۰۲۴(انظر: ۱۱۸۹۳)
9349
Zaeef
۔ (۹۳۵۰)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَقَدْ اُوْذِیْتُ فِی اللّٰہِ تَعَالٰی وَمَایُؤْذٰی اَحَدٌ، وَاُخِفْتُ فِی اللّٰہِ وَمَا یُخَافُ اَحَدٌ، وَلَقَدْ اَتَتْ عَلَیَّ ثَلَاثَۃٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ثَلَاثُوْنَ) مِنْ بَیْنِیَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ وَمَالِیْ وَلِعَیَالِیْ طَعَامٌ یَّاْکُلُہُ ذُوْ کَبِدٍ اِلاَّ مَایُوَارِیْ اِبِطُ بِلَالٍ۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۳۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالیٰ کی وجہ سے تکلیف دی گئی اور اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی اور مجھے اللہ تعالیٰ کے بہ سبب ڈرایا گیا اور اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھ پر ایسے تین دن بھی آئے کہ پورا دن اور رات گزر جاتے تھے، جبکہ میرے اور میرے اہل و عیال کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو جاندار کھا سکے، ما سوائے اس کے جو بلال اپنی بغل میں چھپا کر لاتے تھے۔
Takhreej
(۹۳۵۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن ماجہ: ۱۵۱، والترمذی: ۲۴۷۲(انظر: ۱۲۲۱۲)
Explanation
فوائد:… خاص طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف دینے کے لیے نشانہ بنایا جاتا تھا، کیونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو بتوں کی پوجاپاٹ سے منع کرتے اور صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، کوئی قتل کی دھمکی دیتا، کوئی سوشل بائیکاٹ کرتا، کوئی کسی سزا کی وعید سناتا۔
9350
Sahih
۔ (۹۳۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ حُذَیْفَۃَ، عَنْ عَمَّتِہِ فَاطِمَۃَ، اَنَّھَا قَالَتْ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ نَعُوْدُہُ فِیْ نِسَائٍ، فَاِذَا سِقَائٌ مَعَلَّقٌ نَحْوَہُ یَقْطُرُ ماَؤُہُ عَلَیْہِ مِنْ شِدَّۃِ مَا یَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمّٰی، قُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، لَوْ دَعَوْتَ اللّٰہَ فَشَفَاکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مِنْ اَشَدِّ النَّاسِ بَلائً الْاَنْبِیَائُ، ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَیَلُوْنَھُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۱۹)
۔ ابو عبیدہ اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تیمار داری کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں میں تشریف رکھتے تھے، ہم نے دیکھا کہ ایک مشکیزہ لٹکا ہوا تھا اور اس کا پانی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ٹپک رہا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بخار کی گرمی کی شدت محسوس ہو رہی تھی، بہرحال ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے اور وہ آپ کو شفا دے دیتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں، پھر وہ لوگ جو (نیکی اور تقویمیں) ان سے کم ہوتے ہیں، اور پھر وہ لوگ جو اُن سے کم ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۹۳۵۱) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۴/۶۲۶ (انظر: ۲۷۰۷۹)
9351
Sahih
۔ (۹۳۵۲)۔ عَنْ صُھَیْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ اَمْرِ الْمُؤُمِنِ، اِنَّ اَمْرَ الْمُؤْمِنِ کُلَّہُ لَہُ خَیْرٌ، وَلَیْسَ ذٰلِکَ لِاَحَدٍ اِلَّا لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّائُ فَشَکَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا، وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّائُ فَصَبَرَ کَانَ ذٰلِکَ لَہُ خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۹۱۴۲)
۔ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے مؤمن کے معاملے پر تعجب ہے، بیشک اس کا سارے کا سارا معاملہ خیر پر مشتمل ہے اور یہ چیز صرف اور صرف مؤمن کو حاصل ہے، اس کی تفصیلیہ ہے کہ جب اس کو خوشی ملتی ہے اور وہ شکر ادا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی بہتری ہے اور اگر اس کو کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے اور وہ صبر کرتا ہے تو اس میں بھی اس کے لیے بہتری ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۹۹۹(انظر: ۱۸۹۳۴)
Explanation
فوائد:… وہ مومن اس حدیث کا مصداق ہے جو اللہ تعال کے احسانات پر اس کا شکر ادا کرتاہے اور اس کی آزمائشوں پر صبر کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ مومن کے لیے کسی نعمت کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے اور اس کے حق میں عرش والے کی طرف سے کوئی صبرآزمافیصلہ کیا جاتا ہے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ، اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھے اور دونوں حالتوںمیں اللہ تعالیٰ کے فیصلے سے غفلت نہ برتے۔
9352
Sahih
۔ (۹۳۵۳)۔ عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعْدٍ بْنِ اَبِیْ وَقَاصٍ، عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَجِبْتُ مِنْ قَضَائِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِ، اِنْ اَصَابَہُ خَیْرٌ حَمِدَ رَبَّہُ وَشَکَرَ، وَاِنْ اَصَابَتْہٗمُصِیْبَۃٌ حَمِدَ رَبَّہٗ،وَصَبَرَ، الْمُؤْمِنُ یُؤْجَرُ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ حَتّٰی الْلُقْمَۃِیَرْفَعُھَا اِلٰی فِیْ اِمْرَاَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۷)
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مؤمن کے لیے ایک فیصلہ کیا ہے، مجھے اس پر بڑا تعجب ہے، اگر اس کو کوئی خیر پہنچتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور شکر ادا کرتا ہے اور اگر وہ کسی مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ربّ کی تعریف کرتا ہے اور صبر کرتا ہے، مؤمن کو ہر چیز میں اجر ملتا ہے، یہاں تک کہ اس لقمے میں بھی، جو وہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الطیالسی: ۲۱۱، والبزار: ۳۱۱۶ (انظر: ۱۴۸۷)
9353
Sahih
۔ (۹۳۵۴)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ شَیْبَۃَ، اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَرَقَہُ وَجَعٌ، فَجَعَلَ یَشْتَکِیْیَتَقَلَّبُ عَلٰی فِرَاشِہِ، فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: لَوْصَنَعَ ھٰذَا بَعْضُنَا لَوَجَدَتَّ عَلَیْہِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الصَّالِحِیْنَیُشَدَّدُ عَلَیْھِمْ، وَاِنَّہُ لا یُصِیْبُ مُؤْمِنًا نَکْبَۃٌ مِنْ شَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَ ذٰلِکَ اِلاَّ حُطَّتْ عَنْہُ خَطِیْئَۃٌ وَرُفِعَ بِھَا دَرَجَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۷۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رات کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تکلیف ہونے لگی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر الٹ پلٹ ہونے لگ گئے، میں (عائشہ) نے کہا: اگر ہم میں سے کوئی فرد اس طرح کرتا تو آپ نے اس کی بات تو محسوس کرنی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نیکوکاروں پر تکلیف سخت ہوتی ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ مؤمن کو جو تکلیف بھی لاحق ہوتی ہے، وہ کانٹا ہو یا اس سے کوئی بڑی چیز، اس کی وجہ سے اس کا ایک گناہ معاف کر دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کر دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۳۹۱، والحاکم: ۱/ ۳۴۵(انظر: ۲۵۲۶۴)
9354
Sahih
۔ (۹۳۵۵)۔ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِیْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ اِذَا اَحَبَّ قَوْمًا اِبْتَلَاھُمْ، فَمَنْ صَبَرَ فَلَہُ الصَّبْرُ، وَمَنْ جَزِعَ فَلَہُ الْجَزْعُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۴۱)
۔ سیدنا محمود بن ربیع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو آزماتا ہے، پس جو صبر کرنا چاہے گا تو اس کے لیے صبر ہو گا اور جو بے صبرا بنے گا، اس کے لیے بے صبری ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۵) تخریج: اسنادہ جیّد (انظر: ۲۳۶۴۱)
9355
Sahih
۔ (۹۳۵۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ، اَنَّ رَجُلا لَقِیَ امْرَاَۃً کَانَتْ بَغِیًّا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، فَجَعَلَ یُلاعِبُھَا، حَتّٰی بَسَطَ یَدَہُ اِلَیْھَا، فَقَالَتِ الْمَرْاَۃُ: مَہْ، اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ قَدْ ذَھَبَ بِالشِّرْکِ، (وَقَالَ: عَفَّانُ مَرَّۃً) ذَھَبَ بِالْجَاھِلِیَّۃِ وَجَائَ نَا بِالْاِسْلَامِ، فَوَلَّی الرَّجُلُ، فَاَصَابَ وَجْھَہُ الْحَائِطُ فَشَجَّہُ، ثُمَّ اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَخْبَرَہُ، فَقَالَ: ((اَنْتَ عَبْدٌ اَرَادَ اللّٰہُ لَکَ خَیْرًا، اِذَا اَرَادََ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِعَبْدٍ خَیْرًا عَجِلَ لَہُ عُقُوْبَۃَ ذَنْبِہٖ،وَاِذَااَرَادَبِعَبِدٍشَرًّااَمْسَکَعَلَیْہِ بِذَنْبِہٖحَتّٰییُوَفَّی بِہٖیَوْمَ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّہُ عَیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۶۹۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، ایک ایسی خاتون کو ملا، جو جاہلیت میں زانیہ رہ چکی تھی، وہ اس سے اٹھ کھیلیاں کرنے لگا، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ اس کو لگا دیا، اس پر اس عورت نے کہا: رک جا، بیشک اللہ تعالیٰ شرک اور جاہلیت کو لے گیا ہے اور ہمارے پاس اسلام کو لے آیا ہے، پس وہ آدمی چلا گیا اور واپسی پر اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور زخمی ہو گیا، پھر وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سارا واقعہ بتلا دیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تیرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو اس کے گناہ کی سزا دینے میںجلدی کرتا ہے اور جب کسی بندے کے ساتھ شرّ کا ارادہ کرتا ہے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا روک لیتا ہے، یہاں تک کہ روزِ قیامت اس کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، گویا کہ وہ عِیر پہاڑ ہو گا۔
Takhreej
(۹۳۵۶) تخریج: صحیح لغیرہ، أخرجہ ابن حبان: ۲۹۱۱، والحاکم: ۱/ ۳۴۹ (انظر: ۱۶۸۰۶)
Explanation
فوائد:… عِیْر سے دو چیزیں مراد لی جا سکتی ہیں: (۱) مدینہ منورہ کا عیر پہاڑ، یا (۲) وحشی گدھا، مفہوم یہ ہے کہ ایسے فرد کے گناہوں کو جمع کیا جاتا ہے، تاکہ اس کی ہلاکت کا سبب بن سکیں۔
9356
Sahih
۔ (۹۳۵۷)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا کَثَرَتْ ذُنُوْبُ الْعَبْدِ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہُ مَا یُکَفِّرُھَا مِنَ الْعَمَلِ ابْتَلَاہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ بِالْحُزْنِ لِیُکَفِّرَھَا عَنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۷۵۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں، جبکہ اس کے پاس اس قدر اعمال نہیں ہوتے کہ جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن سکیں، تو اللہ تعالیٰ اس کو غموں کے ذریعے آزمانا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ ان کے ذریعے اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم، أخرجہ البزار: ۳۲۶۰ (انظر: ۲۵۲۳۶)
Explanation
فوائد:… صبر کی تین اقسام ہیں: ۱۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر صبر کرنا۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ کرنے پر صبر کرنا۔ ۳۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے مصائب اور آزمائشوں پر صبر کرنا۔ اس معنی میں ہر نیکی کرنے اور ہر برائی سے بچنے کا سرچشمہ صبر ہے۔ اگر کوئی حقیقی صابر بن جائے تو اس پر تمام شرعی احکام کے تقاضے پورے کرناآسان ہو جاتے ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَیْراً لَّہُ وَلَا أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ۔)) … بندے کو کوئی ایسی چیز عطا نہیں کی گئی جو اس کے لیے صبر کی بہ نسبت زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔ (حاکم: ۲/ ۴۱۴، صحیحہ: ۴۴۸) ان تمام احادیث ِ مبارکہ سے یہ سبق بھی ملا کہ آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی دلیل نہیں ہوتیں، بلکہ یہ امتحانات تو بلندیٔ درجات کا سبب بنتے ہیں۔
9357
Zaeef

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.