TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان

Chapter 2 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 12 · 8 Hadith
۔ (۹۳۵۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، وَاَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا یُصِیْبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلا نَصَبٍ، وَلا ھَمٍّ وَلا حُزْنٍ، وَلا اَذَیً ولا غَمٍّ، حَتّٰی الشَوْکَۃِیُشَاکُھَا، اِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ مِنْ خَطَایَاہُ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کو جس درد و تکلیف، تعب و تکان، رنج و غم اور ملال و نقصان میں مبتلا ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا ، جو اس کو چبھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ اس کی خطائیں معاف کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۵۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم، أخرجہ البزار: ۳۲۶۰ (انظر: ۲۵۲۳۶)
9358
Sahih
۔ (۹۳۵۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُؤْمِنٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فِیْ الدُّنْیَایَحْتَسِبُھَا اِلاَّ قُصِّرَ بِھَا مِنْ خَطَایَاہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مؤمن کو دنیا میں کوئی کانٹا چبھتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے تو اس وجہ سے قیامت کے دن اس کی خطائیں کم کی جائیں گی۔
Takhreej
(۹۳۵۹) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ البخاری فی الادب المفرد : ۵۰۷ (انظر: ۹۲۱۹)
9359
Sahih
۔ (۹۳۶۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعَیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ الْمُؤْمِنَ لا یُصِیْبُہُ وَصَبٌ، وَلا نَصَبٌ، وَلا حُزْنٌ، وَلا سَقَمٌ، ولا اَذًی، حَتَّی الْھَمُّ یُھِمُّہُ، اِلاَّ یُکَفِّرُ اللّٰہُ عَنْہُ مِنْ سَیِّاٰتِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۲۰)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مؤمن کو تکان، تھکاوٹ، غم، بیماری، تکلیفیا پریشان کر دینے والا کوئی غم لاحق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان آزمائشوں کو اس کی برائیوں کا کفارہ بناتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۷۳(انظر: ۱۱۰۰۷)
Explanation
فوائد:… بیماری ایک غیر اختیاری چیز ہے، بندہ بغیر کسی ذاتی دخل کے اس میں مبتلا ہو جاتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بنتی ہے۔ بیماریوں اور آزمائشوں کی وجہ سے تکلیف ضرور ہوتی ہے، لیکنیہ چیز تسلی بخش ہے کہ اللہ تعالیٰ ان تکالیف کی وجہ سے خطائیں معاف کر دیتا ہے، لہٰذا شکوہ شکایت کئے بغیر اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے پر راضی ہو نا چاہئے۔
9360
Sahih
۔ (۹۳۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا اَحَدَ اَصْبَرُ عَلٰی اَذًییَسْمَعُہُ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، اِنَّہُ یُشْرِکُ بِہٖوَیَجْعَلُ لَہُ الْوَلَدَ، وَھُوَ یُعَافِیْھِمْ وَیَدْفَعُ عَنْھُمْ وَیَرْزُقُھُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۹۸۶۶)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی بھی نہیں ہے، جو سنی ہوئی تکلیف پر اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت زیادہ صبر کرنے والا ہو، بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے اور اس کے لیے اولاد کر دعویٰ کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پھر بھی ان کو عافیت دیتا ہے، ان کا دفاع کرتا ہے اور ان کو رزق عطا کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۸۰۴ (انظر: ۱۹۶۳۳)
9361
Sahih
۔ (۹۳۶۲)۔ عَنْ خَبَّابٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِیْ ظِلِّ الْکَعْبَۃِ مُتَوَسِّدًا بُرْدَۃً لَّہُ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، اُدْعُ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی لَنَا وَاسْتَنْصِرْہُ، قَالَ: فَاحْمَّرَ لَوْنُہُ، اَوْ تَغَیَّرَ فَقَالَ: ((لَقَدْ کَانَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُحْفَرُ لَہُ حُفْرَۃٌ وَیُجَائَ بِالْمِنْشَارِ فَیُوْضَعُ عَلٰی رَاْسِہِ فَیُشَقُّ مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَیُمْشَطُ بِاَمْشَاطِ الْحَدِیْدِ مَادُوْنَ عَظْمٍ مِنْ لَّحْمٍ، اَوْ عَصْبٍ، مَا یَصْرِفُہُ عَنْ دِیْنِہِ، وَلَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ تَبَارَکَ اللّٰہُ وَتَعَالٰی ھٰذَا الْاَمْرَ حَتّٰییَسِیْرَ الرَّاکِبُ مَا بَیْنَ صَنْعَائَ اِلٰی حَضْرَمَوْتَ لا یَخْشٰی اِلاَّ اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ، وَلٰکِنَّکُمْ تَعْجَلُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۷۱)
۔ سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو تکیہ بنا کر تشریف فرما تھے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ سے ہمارے لیے دعا کریں اور اس سے مدد طلب کریں،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا رنگ سرخ ہو گیایا تبدیل ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: البتہ تحقیق تم سے پہلے ایسے لوگ بھی تھے کہ ان کے لیے گڑھا کھودا گیا، پھر آری لائی گئی اور ان کے سروں پر رکھ کر ان کو چیر دیا گیا، لیکنیہ تکلیف بھی ان کو دین سے باز نہ رکھ سکی اور لوہے کی کنگھیوں سے لوگوں کی ہڈیوں اور پٹھوں سے گوشت نوچ لیا گیا، لیکنیہ چیز بھی ان کو دین سے نہ پھیر سکی، اور ضرور ضرور اللہ تعالیٰ اس دین کو اس طرح مکمل کرے گا کہ ایک سوار صنعاء سے یمن تک سفر کرے گا، لیکن اس کو صرف اللہ تعالیٰ کا ڈر ہو گا، یا اپنی بکریوں پر بھیڑئیے کا ڈر ہو گا، لیکن تم جلد بازی کر رہے ہو۔
Takhreej
(۹۳۶۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۵۲، ومسلم: (انظر: ۲۱۰۵۷)
Explanation
فوائد:… اللہ اکبر! اللہ ہمارے حالات پر رحم کرے اور ہمیں اپنی رحمت کا مستحق قرار دے، سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کتنی اذیتوں کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دعا کی اپیل کی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جلد بازی کر رہے ہو۔
9362
Sahih
۔ (۹۳۶۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، کَانَتْ تَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا مِنْ مُصِیْبَۃٍیُّصَابُ بِھَا الْمُسْلِمُ اِلَّا کُفِّرَ بِھَا عَنْہُ، حَتَّی الشَّوْکَۃِیُشَاکُھَا۔))(مسند احمد: ۲۵۳۳۹)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو مصیبت بھی لاحق ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اس کے گناہوں کا کفارہ بناتا ہے، یہاں تک کہ وہ کانٹا جو اس کو چبھتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۶۴۰، ومسلم: ۲۵۷۲ (انظر: ۲۴۸۲۸)
9363
Sahih
۔ (۹۳۶۴)۔ (وَعَنْھَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُشَاکُ بِشَوْکَۃٍ فَمَا فَوْقَھُا، اِلَّا حَطَّتْ مِنْ خَطِیْئَتِہِ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۱۵)
۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں ہے کوئی مسلمان جس کو کانٹا چبھے یا اس سے بڑی تکلیف پہنچے، مگر اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۹۳۶۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9364
Sahih
۔ (۹۳۶۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ)۔ مِثْلُہُ وَفِیْہِ ((اِلَّا کُتِبَ لَہُ بِھَا دَرَجَۃٌ، وَکُفِّرَ عَنْہُ بِھَا خَطِیْئَۃٌ۔))(مسند احمد: ۲۴۶۵۸)
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: مگر اس کے لیے ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۹۳۶۵) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
9365
Sahih

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.