۔ (۹۳۷۳)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ رضی اللہ عنہ ، اَنَّہُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: مَتٰی عَھْدُکَ بِاُمِّ مِلْدَمٍ وَھُوَ حَرٌّ بَیْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ؟ قَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ لَوَجَعٌ مَااَصَابَنِیْ قَطُّ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَۃِ تَحْمَرُّ مَرَّۃً، وَتَصْفَرُّ اُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔
Takhreej
(۹۳۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الذی حدث عنہ اسماعیل بن امیۃ، ولابھام ام ولد ابی بن کعب (انظر: ۲۱۲۸۲)
Explanation
فوائد:… اَلْدَمَ یُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنے کا ہے۔ اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۹۰)
بخار،جسم کی زیادتی ٔ حرارت کی ایک صورت ہوتی ہے۔
جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مختلف کیفیتوں سے گزرتا رہتا ہے، کبھی صحت کا زمانہ، کبھی ایک بیماری میں مبتلا، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا۔
9373
Zaeef