TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان

Chapter 4 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 12 · 5 Hadith
۔ (۹۳۷۳)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَتٰی عَھْدُکَ بِاُمِّ مِلْدَمٍ وَھُوَ حَرٌّ بَیْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ؟ قَالَ: اِنَّ ذٰلِکَ لَوَجَعٌ مَااَصَابَنِیْ قَطُّ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَۃِ تَحْمَرُّ مَرَّۃً، وَتَصْفَرُّ اُخْرٰی۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۰۶)
۔ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے بخار ہوئے کتنا عرصہ ہو چکا ہے؟ یہ جلد اور گوشت کے درمیان حرارت کی زیادتی ہوتی ہے، اس نے کہا: یہ ایسی تکلیف ہے کہ میں کبھی بھی اس میں مبتلا نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مومن کی مثال اس نرم و نازک، تروتازہ کھیتی کی مانند ہے جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔
Takhreej
(۹۳۷۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الذی حدث عنہ اسماعیل بن امیۃ، ولابھام ام ولد ابی بن کعب (انظر: ۲۱۲۸۲)
Explanation
فوائد:… اَلْدَمَ یُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنے کا ہے۔ اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۹۳۹۰) بخار،جسم کی زیادتی ٔ حرارت کی ایک صورت ہوتی ہے۔ جو کبھی سرخ ہوتی ہے اور کبھی زرد۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان مختلف کیفیتوں سے گزرتا رہتا ہے، کبھی صحت کا زمانہ، کبھی ایک بیماری میں مبتلا، کبھی کسی پریشانی میں مبتلا۔
9373
Zaeef
۔ (۹۳۷۴)۔ عَنْ سَھْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ اَبِیْہِ، عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ، اَنَّہُ اَتَاہُ عَائِدًا، فَقَالَ اَبُوْالدَّرْدَائِ لِاَبِیْ بَعْدَ اَنْ سَلَّمَ عَلَیْہِ بِالصِّحَۃِ لا بِالْوَجْعِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَایَزَالُ الْمَرْئُ الْمُسْلِمُ بِہٖالْمَلِیْلَۃُ وَالصُّدَاعُ، وَاِنَّ عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا لَاَعْظَمَ مِنْ اُحُدٍ حَتّٰییَتْرُکَہُ وَمَا عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِّنْ خَرْدَلٍ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۹)
۔ معاذ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے آئے اور جب انھوں نے ان کو سلام کہا تو انھوں نے کہا: صحت کے ساتھ رہو، نہ کہ بیماری کے ساتھ، تین بار یہ دعا کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: مسلمان بخار اور سردردی جیسے بیماریوں میں مبتلا رہتا ہے، جبکہ اس پر احد پہاڑ سے بڑے بڑے گناہ ہوتے ہیں، لیکن ان بیماریوں کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں کہ اس پر رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتا۔
Takhreej
(۹۳۷۴) تخریج: اسنادہ مسلسل بالضعفائ، ابن لھیعۃ سییء الحفظ، وزبان بن فائد وسھل ضعیفان، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۳۱۴۲(انظر: ۲۱۷۳۶)
9374
Zaeef
۔ (۹۳۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْحُمّٰی مِنْ کَیْرِ جَھَنَّمَ، فَمَا اَصَابَ الْمُؤُمِنَ مِنْھَا کَانَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۵۱۸)
۔ سیدنا ابو امامہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار جہنم کی دھونکنی ہے،جو مؤمن بھی بیمار ہو گا، یہ اس کے حق میں جہنم والے حصے کے عوض میں ہو گا۔
Takhreej
(۹۳۷۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۷۴۶۸(انظر: ۲۲۱۶۵)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث سے مزید وضاحت ہو رہی ہے۔
9375
Sahih
۔ (۹۳۷۶)۔ عَنْ اَبِیْ صَالِحٍ الْاَشْعَرِیِّ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ عَادَ مَرِیْضًا وَمَعَہُ اَبُوْھُرَیْرَۃَ، مِنْ وَعْکٍ (اَیْ حُمّٰی) کَانَ بِہٖ،فَقَالَلَہُرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَبْشِرْ اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ: نَارِیْ اُسَلِّطُھَا عَلٰی عَبْدِیْ الْمُؤْمِنِ فِیْ الدُّنْیَا، لِتَکُوْنَ حَظَّہُ مِنَ النَّارِ فِی الْآخِرَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۷۴)
۔ سیدنا ابو ہر یرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک مریض، جسے بخار تھا، کی تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (یہ بخار)میری آگ ہے، جسے میں اپنے بندۂ مؤمن پر دنیا میں مسلط کر دیتا ہوں تاکہ اس کی آخرت والی آگ کے عذاب کا بدل بن جائے۔
Takhreej
(۹۳۷۶) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ الترمذی: ۲۰۸۸، وابن ماجہ: ۳۴۷۰ (انظر: ۹۶۷۶)
9376
Sahih
۔ (۹۳۷۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اسْتَاْذَنَتِ الْحُمّٰی عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذِہِ؟)) فَقَالَتْ: اُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ: فَاَمَرَ بِھَا اِلٰی اَھْلِ قُبَائَ فَلَقُوْا مِنْھَا مَایَعْلَمُ اللّٰہُ، فَاَتَوْہُ فَشَکَوْا ذٰلِکَ اِلِیْہِ، فَقَالَ: ((مَاشِئْتُمْ؟ اِنْ شِئْتُمْ اَنْ اَدْعُوَ اللّٰہَ لَکُمْ فَیَکْشِفَھَا عَنْکُمْ، وَاِنْ شِئْتُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَکُمْ طَھُوْرًا؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ تَفْعَلُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالُوْا: فَدَعْھَا۔(مسند احمد: ۱۴۴۴۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بخارنے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنے کی اجازت طلب کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: ام ملدم ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ وہ اہل قبا کی طرف منتقل ہو جائے، پس وہ اتنی کثرت سے اس میں مبتلا ہو ئے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس مقدار کو بہتر جانتا ہے، وہ لوگ تو اس کی شکایت لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کروں تاکہ وہ اس کو تم سے ہٹا دے تو ٹھیک ہے اور اگر تم چاہتے ہو کہیہ تمہارے حق میں پاک کرنے والا ٹھہرے (تو پھر اس کو اپنے پاس برقرار رہنے دو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ گناہوں سے پاک کرتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: تو پھر اس کو رہنے دو۔
Takhreej
(۹۳۷۷) تخریج: رجالہ رجالہ الصحیح، وفی متنہ غرابۃ، لکن لہ شاھد، أخرجہ ابویعلی: ۱۸۹۲، وابن حبان: ۲۹۳۵، والحاکم: ۱/ ۳۴۶، والبیھقی: ۶/ ۱۵۸(انظر: ۱۴۳۹۳)
Explanation
فوائد:… صحابہ کرام اخروی کامیابی کے اس قدر حریص تھے کہ دنیا کی تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتے تھے۔
9377
Zaeef

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.