TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان

Chapter 8 of مِنَ الْاَجْرِ الْعَظِیْمِ وَالْفَضْلِ الْجَسِیْمِ اجرِ عظیم اور فضل کثیر کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 12 · 2 Hadith
۔ (۹۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: مَرَّ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَعْرَابِیٌّ اَعْجَبَہُ صِحَّتُہُ وَجَلَدُہُ، قَالَ: فَدَعَاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَتیٰ اَحْسَسْتَ اُمَّ مِلْدَمٍ؟)) قَالَ: وَاُیُّ شَیْئٍ اُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: ((اَلْحُمَّی۔)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الْحُمّٰی؟ قَالَ: ((سَخَنَۃٌ تَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلْدِ وَالْعِظَامِ۔)) قَالَ: مَا بِذٰلِکَ لِیْ عَھْدٌ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: ((فَمَتٰی اَحْسَسْتَ بِالصُّدَاعٍ؟)) قَالَ: وَاَیُّ شَیْئٍ الصُّدَاعُ؟ قَالَ: ((ضَرَبَانٌ یَکُوْنُ فِی الصُّدْغَیْنِ وَالرَّاْسِ۔)) قَالَ: مَالِیْ بِذٰلِکَ عَھْدٌ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ: مَا وَجَدَتُّ ھٰذَا قَطُّ) قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا اَوْ وَلّٰی الْاَعْرَاِبیُّ، قَالَ: ((مَنْ سَرَّہُ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلَیْہِ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: ((مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدّو ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، اس کی صحت اور قوت نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تعجب میں ڈال دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے اُمِّ مِلْدَم کو کب محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: اُم مِلْدَم کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بخار۔ اس نے کہا: جی بخار کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چمڑے اور ہڈیوں کے درمیان پیدا ہونے والی حرارت کو بخار کہتے ہیں۔ اس نے کہا: مجھے تو کبھی بھییہ محسوس نہیں ہوا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پھر پوچھا: اچھا تو نے کبھی صُدَاع محسوس کیا ہے؟ اس نے کہا: صُدَاع کیا ہوتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کن پٹیوں اور سر کے درمیان درد ہوتی ہے۔ اس نے کہا: مجھے تو یہ بھی کبھی محسوس نہیں ہوا، جب وہ بدّو چلا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کو یہ بات خوش کرے کہ وہ کسیجہنمی شخص کو دیکھے تو وہ اس کو دیکھ لے۔ ایک روایت میں ہے: جو آدمی آگ والوں میں سے کسی شخص کو دیکھنا پسند کرتا ہو، وہ اس کو دیکھ لے۔
Takhreej
(۹۳۹۰) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابویعلی: ۶۵۵۶، والبزار: ۷۷۸، وابن حبان: ۲۹۱۶، والحاکم: ۱/ ۳۴۷ (انظر: ۸۷۹۴)
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیشہ صحت و عافیت کی دعا کرنے اور آزمائشوں اور بیماریوں کے ٹل جانے کا سوال کرنے کی تعلیم دی ہے، جبکہ صحت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے، ہاں اگر آدمی کسی جسمانی تکلیف میں مبتلا ہو جائے تو اس کو صبر کرنا چاہیے اور یہ حسن ظن رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس بیماری کو اس کی خطاؤں کا کفارہ بنائے گا۔ اور جہاں بیمار ہونابندے کا فعل ہی نہیں ہے، وہاں بیماری کی دعا کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے، اس لیے مذکورہ بالا حدیث کییہ تاویل کی جائے گی کہ ممکن ہے کہ وہ بندہ گنہگار ہو اور اس نے نہ توبہ تائب ہو کر ان کی بخشش کروائی ہو اور نہ وہ بیمار ہوا ہو کہ بیماری اس کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہو، یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود بیماری کی فضیلت بیان کرنا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اَلْدَمَیُلْدِمُ: کا معنی کسی کو ہمیشہ بخار رہنا ہے اور اُمِّ مِلْدَم بخار کی کنیت ہے۔
9390
Sahih
۔ (۹۳۹۱)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اِمْرَاَۃً اَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلُ اللّٰہِِ! ابْنَۃٌ لِیْ کَذَا َوکَذَا، وَذَکَرَتْ مِنْ حُسْنِھَا وَجَمَالِھا، فَآثَرْتُکَ بِھَا، فَقَالَ: ((قَدْ قَبِلْتُھَا۔)) فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُھَا حَتّٰی ذَکَرَتْ اَنَّھَا لَمْ تَصْدَعْ، وَلَمْ تَشْتَکِ شَیْئًا قَطُّ، قَالَ: ((لا حَاجَۃَ لِیْ فِی ابْنَتِکِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۰۸)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری اس طرح کی بیٹی ہے، اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا، میں آپ کو اس کے لیے ترجیح دیتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو بطورِ بیوی قبول کر لیا ہے۔ پھر وہ اس کی مدح سرائی کرتی رہی،یہاں تک کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس کو کبھی سر درد نہیں ہوا، بلکہ وہ کبھی کسی بیماری میں مبتلا نہیں ہوئی،یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر مجھے تیری بیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
Takhreej
(۹۳۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، سنان بن ربیعۃ ضعفہ ابن معین، أخرجہ ابویعلی: ۴۲۳۴ (انظر: ۱۲۵۸۰)
9391
Zaeef

Chapters

12
01
اس چیز کا بیان کہ انبیاء سب سے زیادہ آزمائش والے ہوتے اور پھر دوسرے نیکوکار
14 Hadith
02
ناپسندیدہ امور پر مطلق طور پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
03
مطلق طور پر ہر بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب، اگرچہ وہ انسان کے کسی عضو میں ہو اور اس کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
04
بخار اور درد سر پر صبر کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
05
مرگی کی بیماری پر صبر کرنے کی ترغیب کرنے اور اس کے ثواب کا بیان
2 Hadith
06
آنکھوں سے محروم ہو جانے پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
6 Hadith
07
اس چیز کا بیان کہ جس آدمی کو بیماری نیک عمل کرنے سے روک دے، اس کے لیے اس عمل کا ثواب لکھا جاتا ہے
4 Hadith
08
جس کو دنیا میں آزمایا نہیں گیا، اس کے غیر مقبول ہونے کا بیان
2 Hadith
09
بچوں کی وفات پر صبر کرنے کی ترغیب اور اس کے ثواب کا بیان
26 Hadith
10
سیدہ ام سلیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا اپنے خاوند سیدنا ابو طلحہ انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ اس وقت کے قصے کا بیان، جب ان کا بیٹا فوت ہوا تھا
2 Hadith
11
رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان بیشک صدمہ کی ابتداء میں صبر ہوتا ہے کا بیان
1 Hadith
12
مصیبت میں مبتلاہونے والے کی دعا کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.