TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب - Book 170 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 170 of Musnad Ahmad, with 51 chapters and 197 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

197 Hadith · 51 Chapters
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرَ خَدِیْجَۃَ وَکَانَ أَبُوْھَا یَرْغَبُ عَنْ أَنْ یُّزَوِّجَہُ فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا فَدَعَتْ أَبَاھَا وَزُمَرًا مِنْ قُرَیْشٍ فَطَعِمُوْا وَشَرِبُوْا حَتّٰی ثَمَلُوْا، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ لِأَبِیْھَا: اِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ یَخْطُبُنِیْ فَزَوِّجْنِیْ إِیَّاہُ، فَزَوَّجَھَا إِیَّاہُ، فَخَلَّقَتْہُ وَأَلْبَسَتْہُ حُلَّۃً وَکَذٰلِکَ کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ بِالْآبَائِ، فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ سُکْرُہُ نَظَرَ فَإِذَا ھُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَیْہِ حُلَّۃٌ، فَقَالَ: مَا شَأْنِیْ! مَا ھٰذَا؟ قَالَتْ: زَوَّجْتَنِیْ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: أُزَوِّجُ یَتِیْمَ أَبِیْ طَالِبٍ! لَا، لَعَمْرِیْ! فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَمَا تَسْتَحِْیْ؟ تُرِیْدُ أْنْ تُسَفِّہَ نَفْسَکَ عِنْدَ قُرَیْشٍ! تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّکَ کُنْتَ سَکْرَانَ؟ فَلَمْ تَزَلْ بِہٖحَتّٰی رَضِیَ۔ (مسند احمد: ۲۸۵۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ذکر کیا، ان کا باپ ان کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شادی کرنے کی رغبت نہیں کرتا تھا، پس سیدہ نے کھانا پینا تیار کیا اور اپنے باپ اور قریشیوںکے ایک گروہ کو دعوت دی، پس انھوں نے کھانا کھایا اور مشروب پیا،یہاںتک کہ ان کو نشہ آ گیا، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اپنے باپ سے کہا: بیشک محمد بن عبداللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے منگنی کا پیغام بھیجا ہے، لہٰذا آپ ان سے میری شادی کر دیں، پس اس نے نشے کی حالت میں شادی کر دی، سیدہ نے اپنے باپ کو خلوق خوشبو لگائی اور اس کو ایک پوشاک بھی پہنا دی، وہ لوگ جاہلیت میں دلہن کے باپ کے ساتھ ایسا ہی کرتے تھے، جب اس کانشہ ختم ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس نے خلوق خوشبو لگائی ہوئی ہے اور ایک پوشاک زیب ِ تن کی ہوئی ہے، اس نے کہا: میری کیا صورتحال ہے، یہ کیا ہے؟ سیدہ نے کہا: آپ نے محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے میری شادی کر دی ہے، اس نے کہا: میں ابو طالب کے یتیم سے شادی کروں، نہیں، میری عمر کی قسم! نہیں، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ اب قریشیوں کے ہاں اپنے آپ کو بیوقوف ثابت کرنا چاہتے ہو، تم لوگوں کو یہ بتلانا چاہتے ہو کہ تم نشے کی حالت میں تھے؟ پس وہ اس کے ساتھ چمٹی رہیں،یہاں تک کہ وہ راضی ہوگیا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف، فقد شکّ حماد بن سلمۃ فی وصلہ، ثم ان حماد بن سلمۃ قد دلسہ، أخرجہ الطبرانی: ۱۲۸۳۸ (انظر: ۲۸۵۰)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سب سے پہلی بیوی سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہیں،یہ نسب کے لحاظ سے قُصَی میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مل جاتی ہیں، ذیل میں مذکورہ دونوں ناموں پر غور کریں اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے نسبی رشتے کا اندازہ لگائیں۔ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب خدیجۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصی بن کلاب اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر (۲۵) برس اور سیدہ کی عمر (۴۰) برس تھی، شادی کی پیش کش سیدہ کی طرف سے کی گئی تھی،یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے شرف ِ زوجیت سے نوازا اور ایسی سعادت عطا فرمائی کہ پہلوں اور پچھلوں سب کے لیے باعث رشک ٹھہریں۔ بَابٌ فِیْ ذِکْرِ تَجْدِیْدِ قُرَیْشٍ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ قَبْلَ الْبَعْثِ بِخَمْسِ سِنِیْنَ وَاِخْتَلَافِھِمْ فِیْ رَفْعِ الْحَجَرِ وَتَحْکِیْمِہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ رَفْعِہِ وَتَسْمِیَتِہِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ بِالْأَمِیْنِ قریشیوں کا نبوت سے پانچ سال قبل کعبہ کی عمارت کی تجدید کرنا، حجرِ اسود کو اٹھانے میں ان کا اختلاف کرنا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس معاملے کاحاکم بنانا اور دورِ جاہلیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو امین کا لقب ملنا
10474
Zaeef
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۵)۔ عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ وَذَکَرَ بِنَائَ الْکَعْبَۃِ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ قَالَ: فَھَدَمَتْھَا قُرَیْشٌ وَجَعَلُوْا یَبْنُوْنَھَا بِحِجَارَۃِ الْوَادِی تَحْمِلُھَا قُرَیْشٌ عَلٰی رِقَابِھَا فَرَفَعُوْھَا فِی السَّمَائِ عِشْرِیْنَ ذِرَاعًا، فَبَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَحْمِلُ حِجَارَۃً مِنْ أَجْیَادٍ وَعَلَیْہِ نَمِرَۃٌ فََضَاقَتْ عَلَیْہِ النَّمِرَۃُ فَذَھَبَ یَضَعُ النَّمِرَۃَ عَلٰی عَاتِقِہِ فَیُرٰی عَوْرَتُہُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَۃِ ، فَنُوْدِیَیَا مُحَمَّدُ! خَمِّرْ عَوْرَتَکَ، (وَفِیْ رِاوَیَۃٍ: فَنُوْدِیَ لَاتَکْشِفْ عَوْرَتَکَ فَأَلْقَی الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَہُ) فَلَمْ یُرَ عُرْیَانًا بَعْدَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۴۲۱۰)
۔ سیدنا ابو طفیل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ جاہلیت میں کعبہ کی تعمیر کا ذکر کر رہے تھے، انھوں نے کہا: قریش نے کعبہ کو گرایا اور پھر اس کو وادی کے پتھروں سے بنانا شروع کیا، وہ اپنی گردنوں پر پتھر اٹھا کر لاتے، انھوں نے عمارت کو بیس ہاتھ بلند کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی اجیاد سے پتھر اٹھا اٹھا کر لاتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک دھاری دار چادر باندھی ہوئی تھی، وہ چادر تنگ تھی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اپنے کندھے پر رکھنا چاہا تو اس کے چھوٹا ہونے کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پردے کے مقامات نظر آنے لگے، کسی نے آواز دی: اے محمد! اپنی شرمگاہ پر پردہ کرو، ایک روایت میں ہے: پس آپ کو آواز دی گئی: اپنی شرمگاہ کو ننگا نہ کرو، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پتھر پھینک دیا اور چادر باندھ لی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگی حالت میں نہیں دیکھا گیا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۵) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ عبد الرزاق: ۹۱۰۶ (انظر: ۲۱۸۰۰)
10475
Sahih
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۶)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا یُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْقِلُ مَعَھُمْ حِجَارَۃً الْکَعْبَۃِ وَعَلَیْہِ إِزَارٌ، فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ: یَا ابْنَ أَخِیْ لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَکَ فَجَعَلْتَہُ عَلٰی مَنْکِبَیْکَ دُوْنَ الحِجَارَۃِ، قَالَ: فَحَلَّہُ فَجَعَلَہُ عَلَی مَنْکِبَیْہِ فَسَقَطَ مَغْشِیًّا عَلَیْہِ فَمَا رُؤِیَ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ عُرْیَانًا۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۴)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے ساتھ کعبہ کے پتھر اٹھا کر لا رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تہبند باندھا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بھتیجے! اگر تم اپنا ازار کھول کر اس کو اپنے کندھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو تو اچھا ہو گا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جونہی ازار کھول کراپنے کندھے پر رکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بے ہوش ہو کر گر پڑے، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ننگا نہیں دیکھا گیا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۶۴، ومسلم: ۳۴۰ (انظر: ۱۴۳۳۲)
Explanation
فوائد:… یہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مزاج میں نبوت سے پہلے پائی جانے والی شرّ کے خلاف فطرت تھی۔
10476
Sahih
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۷)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ مُوْلَاہُ یَعْنِی السَّائِبَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ حَدَّثُہُ أَنَّہُ کَانَ فِیْمَنْیَبْنِی الْکَعْبَۃَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ، قَالَ: وَ لِی حَجَرٌ أَنَا نَحَتُّہُ بِیَدَیَّ أَعْبُدُہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ، فَاَجِیْئُ بِاللَّبَنِ الْخَائِرِ الَّذِیْ اَنْفِسُہُ عَلَی نَفْسِیْ فَأَصُبُّہُ عَلَیْہِ فَیَجِیْئُ الْکَلْبُ فَیَلْحَسُہُ ثُمَّّ یَشْغَرُ فَیَبُوْلُ، فَبَنَیْنَا حَتّٰی بَلَغْنَا مَوْضِعَ الْحَجَرِ وَمَا یَرَی الْحَجَرَ أَحَدٌ، فَاِذَا ھُوَ وَسْطَ حِجَارَتِنَا مِثْلَ رَأْسِ الرَّجُلِ یَکَادُیَتَرَائٰی مِنْہُ وَجْہُ الرَّجُلِ فَقَالَ بَطْنٌ مِنْ قُرَیْشٍ: نَحْنُ نَضَعُہُ، وَقَالَ آخَرُوْنَ: نَحْنُ نَضَعُہُ، فَقَالُوْا: اجْعَلُوْا بَیْنَکُمْ حَکَمًا، فَقَالُوْا: اَوَّلُ رَجُلٍ یَطْلُعُ مِنَ الْفَجِّ، فَجَائَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوْا: أَتَاکُمُ الْأَمِیْنُ، فَقَالُوْا لَہُ: فَوَضَعَہُ فِیْ ثَوْبٍ ثُمَّّ دَعَا بُطُوْنَھُمْ فَأَخَذُوْا بِنَوْاحِیْہِ مَعَہُ فَوَضَعَہُ ھُوَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔ (مسند احمد: ۱۵۵۸۹)
۔ سیدنا سائب بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی دورِ جاہلیت میں کعبہ کو تعمیر کرنے والوں میں تھے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک پتھر تھا، میں اپنے ہاتھوں سے اس کو تراشتا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتا تھا، میں اپنے نفس پر جس جمے ہوئے دودھ کا بخل کرتا تھا، وہ لا کر اس بت پر بہا دیتا تھا، پھر کتا آ کر اس کو چاٹتا اور پھر ایک ٹانگ اٹھا کر اس پر پیشاب کر دیتا۔ پس جب ہم بیت اللہ کی تعمیر کے دوران حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے اور کوئی آدمی حجرِ اسود کو نہیں دیکھ رہا تھا، جبکہ وہ پتھروں کے درمیان میںآدمی کے سر کی طرح پڑا ہوا تھا اور (اتنا چمکدار تھا کہ) اس میں آدمی کا چہرہ نظر آ جاتا تھا، قریش کے ایک بطن (چھوٹے قبیلے) نے کہا: ہم اس پتھر کو اپنی جگہ پر نصب کریں گے، دوسرے لوگوں نے کہا: ہم رکھیں گے، پھر انھوں نے کہا: تم آپس میں ایک آدمی کو بطورِ فیصل منتخب کر لو، پھر انھوں نے کہا: جو پہلا اس کھلے راستے کی طرف سے آئے گا، وہ فیصلہ کرے گا، اتنے میں وہاں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمودار ہوئے، سب نے کہا: امین آ گیا، لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تفصیل بتائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس پتھر کو ایک کپڑے میں رکھا اور پھر ان کے قبیلوں کو بلایا، انھوں نے اس کپڑے کے کونے پکڑ کر اس کو اٹھایا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۷) تخریج: اسنادہ صحیح (انظر: ۱۵۵۰۴)
Explanation
فوائد:… بعض روایات کے مطابق آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہر قبیلہ کے سردار کو طلب کیا اور پھر ہر سردار کو کپڑا تھمایا۔ ایک روایت میں ہے: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر قبیلہ کپڑے کو ایک طرف سے پکڑ لے اور پھر سب مل کر اٹھا لو۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، پھرجب انھوں نے پتھر کو اس کی جگہ کے قریب پہنچا دیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نصب کر دیا۔ یہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امانت و دیانت اور حکمت و دانائی تھی۔
10477
Sahih
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۸)۔ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ مِیْنَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یَقُوْلُ: حَدَّثَتْنِیْ خَالَتِیْ عَائِشَۃُ (أُمُّ الْمُؤُمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیْثُ عَھْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاھِلِیَّۃٍ لَھَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُھَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَھَا بَابَیْنِ، بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیْھَا مِنَ الْحَجَرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرَیْشًا اِقْتَصَرَتْھَا حِیْنَ بَنَتِ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا شرک یا جاہلیت کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا دیتا، دروازے کو زمین سے ملا دیتا اور دو دروازے بناتا، ایک مشرقی اور ایک مغربی اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ اس میں اضافہ کر دیتا، کیونکہ قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۳۳۳ (انظر: ۲۵۴۶۳)
Explanation
فوائد:… قریشیوں نے صرف مشرقی دروازہ نصب کیا تھا اور وہ بھی زمین کی سطح سے اونچا تھا، اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ ہر کوئی بیت اللہ میں داخل نہ ہو سکے، بلکہ وہ خود جس کو چاہتے داخل کرتے اور جس کو چاہتے روک لیتے۔ جب سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مکہ مکرمہ پر کنٹرول حاصل کر لیا تو انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے حطیم کو عمارت میں شامل کر کے ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کی اور دو دروازے نصب کیے، ایک مشرقی اور دوسرا مغربی، ایک دروازے سے لوگ داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔ پھر جب حجاج بن یوسف نے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تو اس نے بنو امیہ کے موجودہ خلیفہ عبد الملک بن مروان کی طرف لکھا کہ ابن زبیر نے یہ تبدیلی اپنی رائے کی روشنی میں کی تھی، اس لیے عبد الملک نے حکم دیا کہ خانہ کعبہ کی عمارت کو سابق شکل میں تبدیل کر دیا جائے اور ایسے ہی ہوا۔ پھر خلیفہ مہدییا اس کے باپ خلیفہ منصور نے اپنی عہد ِ خلافت میں امام مالک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌سے مشورہ کیا کہ ہم کعبہ کی عمارت کو سیدناابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعمیرِ نو کی شکل دینا چاہتے ہیں، لیکن امام مالک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے حکیمانہ جواب دیتے ہوئے کہا: میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوںکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بادشاہ اس عمارت کو کھلونا بنا لیں، پس انھوں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اور آج تک خانہ کعبہ کا وہی ڈیزائن موجود ہے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر (۱۰۳۴۶)
10478
Sahih
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
۔ (۱۰۴۷۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حَدَاثَۃُ عَھْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ ثُمَّّ جَعَلْتُھَا عَلٰی اُسِّ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَإِنَّ قُرَیْشًایَوْمَ بَنَتْھَا اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَھَا خَلْفًا، وَقَالَ اَبُوْ اُسَامَۃَ: خِلْفًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ قریب قریب نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر تعمیر کرتا، قریش نے جب اس کی تعمیر کی تھی تو انھوں نے اس کو کم کر دیا تھا اور میں اس کا پیچھے سے بھی ایک دروازہ رکھ دیتا۔
Takhreej
(۱۰۴۷۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۸۵، ومسلم: ۱۳۳۳ (انظر: ۲۴۲۹۷)
10479
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّی لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَکَّۃَ کَانَ یُسَلِّمُ عَلَیَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: لَیَالِیَ بُعِثْتُ) اِنِّی لَأَعِرُفُہُ الْآنَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۱۱۳)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔
Takhreej
(۱۰۴۸۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۷۷ (انظر: ۲۰۸۲۸)
Explanation
فوائد:… اس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان ہے، نیز معلوم ہوا کہ جمادات میں بھی تمیز اور شناخت کا شعور موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} … اور بے شک ان سے کچھ پتھر یقینا وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (سورۂ بقرہ: ۷۴)
10480
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۱)۔ عَنْ اَبِیْ صَخْرٍ الْعُقَیْلِیِّ حَدَّثَنِیْ رَجُلٌ مِنَ الَأَعْرَابِ قَالَ: جَلَبْتُ جَلُوْبَۃً اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ بَیْعَتِیْ قُلْتُ: لَأَلْقَیَنَّ ھٰذَا الرَّجُلَ فَلَأَسْمَعَنَّ مِنْہُ، قَالَ: فَتَلَقَّانِیْ بَیْنَ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ یَمْشُوْنَ فَتَبِعْتُھُمْ فِیْ أَفْقَائِھِمْ حَتّٰی أَتَوْا عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْیَھُوْدِ نَاشِرًا التَّوْارَۃِیَقْرَؤُھَا،یُعَزِّیْ بِھَا نَفْسَہُ عَلَی ابْنٍ لَہُ فِی الْمَوْتِ کَأَحْسَنِ الْفِتْیَانِ وَأَجْمَلِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُنْشِدُکَ بِالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ ھَلْ تَجِدُ فِیْ کِتَابِکَ ذَا صِفَتِیْ وَمَخْرَجِیْ؟)) فَقَالَ بِرَأْسِہِ ھٰکَذَا أَیْ لَا، فَقَالَ ابْنُہُ: اِنِّیْ وَالَّذِیْ أَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ أَنَا لَنَجِدُ فِیْ کِتَابِنَا صِفَتَکَ وَمَخْرَجَکَ وَأَشْھَدُ أَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَقِیْمُوا الْیَھُوْدَ عَنْ أَخِیْکُمْ۔)) ثُمَّّ وَلِیَ کَفْنَہُ وَحَنَّطَہُ وَصَلّٰی عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۸۸)
۔ ایک بدّو سے مروی ہے ، وہ کہتا ہے: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حیات ِ مبارکہ میں کچھ سامانِ تجارت مدینہ منورہ میں لے کر آیا، جب میں اپنی تجارت سے فارغ ہوا تو میں نے کہا: میں اس آدمی کو ضرور ملوں گا اور اس کی باتیں سنوں گا، پس جب وہ (نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) مجھے ملے تو وہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے درمیان چل رہے تھے، میں بھی ان کے پیچھے پیچھے چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایکیہودی آدمی کے پاس پہنچ گئے، وہ تورات کھول کر پڑھ رہا تھا اور اپنے نفس کو تسلی دے رہا تھا، کیونکہ اس کا انتہائی خوبصورت نوجوان بیٹا قریب المرگ تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس یہودی سے فرمایا: میں تجھ کو تورات کو نازل کرنے والی ذات کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ کیا تو اپنی کتاب میں میری صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتا ہے؟ اس نے سر سے نہیں کا اشارہ کیا، لیکن اس کے نوجوان بیٹے نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے تورات کو نازل کیا، ہم اپنی کتاب میں آپ کی صفات اور جائے خروج کا ذکر پاتے ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب ان یہودیوں کواپنے بھائی کے پاس سے کھڑا کر دو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے کفن کاانتظام و انصرام کیا اور اس کو خوشبو لگائی اور اس نماز جنازہ ادا کی۔
Takhreej
(۱۰۴۸۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابی صخر العقیلی (انظر: ۲۳۴۹۲)
Explanation
فوائد:… سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کَانَ غُلَامٌ یَہُودِیٌّیَخْدُمُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَرِضَ فَأَتَاہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَعُودُہُ فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِہِ فَقَالَ لَہُ: ((أَسْلِمْ۔)) فَنَظَرَ إِلَی أَبِیہِ وَہُوَ عِنْدَہُ، فَقَالَ لَہُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُولُ: ((اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَنْقَذَہُ مِنْ النَّارِ۔)) … ایکیہودی لڑکا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت کرتاہے، وہ بیمار ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سر کے پاس بیٹھ گئے اور اس سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، جو کہ اس کے پاس موجود تھا، اُس نے کہا: تو ابو القاسم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت کر،پس وہ مسلمان ہو گیا، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کے پاس سے نکلے اورفرمایا: ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے اس کو آگ سے نجات دلائی ہے۔ (صحیح بخاری: ۱۲۶۸)
10481
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۲)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: لَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِیْ عَنْ صِفَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی التَّوْرَاۃِ، فَقَالَ: أَجَلْ، وَاللّٰہِ! اِنِّہُ لَمَوْصُوْفٌ فِی التَّوْرَاۃِ بِصِفَتِہِ فِی الْقُرْآنِیَا اَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاھِدًا وَمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّیِّیْنَ وَأَنْتَ عَبْدِیْ وَرَسُوْلِیْ سَمَیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِیْظٍ وَلَاسَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ، قَالَ یُوْنس: وَلَا صَخَّابٍ فِی الْأَسْوَاقِ، وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَۃَ بِالسَّیِّئَۃِ، وَلٰکِنْ یَعْفُوْ وَیَغْفِرُ، وَلَنْ یَّقْبِضَہُ حَتّٰییُقِیْمَ بِہٖالْمِلَّۃَ الَعَوْجَائَ بِأَنْ یَّقُوْلُوْا: لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، فَیَفْتَحُ بِھَا أَعْیُنًا عُمْیًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوْبًا غُلْفًا، قَالَ یُوْنُسُ: غُلْفٰی۔ (مسند احمد: ۶۶۲۲)
۔ عطاء بن یسار کہتے ہیں:میں سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا اور ان سے کہا: تم مجھے تورات میں بیان شدہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات بتلاؤ، انھوں نے کہا:جی ٹھیک ہے، اللہ کی قسم! جیسے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی صفات قرآن مجید میں بیان کی گئی ہیں، ایسے ہیتورات میں بیان کی گئیں ہیں، جیسا کہ تورات میں ہے: اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا اور اُمی لوگوں کے لیے ذریعۂ حفاظت بنا کر بھیجا، تو میرا بندہ اور رسول ہے، میں نے تیرا نام متوکل رکھا ہے، نہ تو بد خلق ہے، نہ سخت مزاج ہے، نہ بازاروں میں آواز بلند کرنے والا ہے اور نہ برائی کا بدلہ برائی کی صورت میں دیتا ہے، بلکہ معاف کر دیتا ہے اور بخش دیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس نبی کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا، جب تلک اس کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہیں کر دے گا اور وہ اس طرح کہ لوگ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہہ دیں، پس وہ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور بند دلوں کو کھول دے گا۔
Takhreej
(۱۰۴۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۱۲۵ (انظر: ۶۶۲۲)
Explanation
فوائد:… رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان تمام صفات سے بدرجۂ اتم و اکمل متصف تھے۔
10482
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۳)۔ عَنْ مُجَاھِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شَیْخٌ أَدْرَکَ الْجَاھِلِیَّۃَ وَنَحْنُ فِیْ غَزْوَۃِ رُوْدِسَ یُقَالُ لَہُ:اِبْنُ عَبْسٍ، قَالَ: کُنْتُ أَسُوْقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَۃً، قَالَ: فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِھَا یَا آلَ ذَرِیْحٍٍ، قَوْلٌ فَصِیْحٌ، رَجُلٌیَصِیْحُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا مَکَّۃَ فَوَجَدْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ خَرَجَ بِمَکَّۃَ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۵)
۔ مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹیہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔
Takhreej
(۱۰۴۸۳) تخریج: ھذا الاثر اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عبیداللہ بن ابی زیاد وھو ممن لا یحتمل تفردہ (انظر: ۱۶۶۹۵)
10483
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۴)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قاَلَ: عَدَا الذِّئْبُ عَلٰی شَاۃٍ فَأَخَذَھَا فَطَلَبَہُ الرَّاعِیْ فَانْتَزَعَھَا مِنْہُ فَأَقْعَی الذِّئْبُ عَلٰی ذَنَبِہٖقَالَ: أَلَاتَتْقِی اللّٰہَ! تَنْزِعُ عَنِّیْ رِزْقًا سَاقَہُ اللّٰہُ اِلَیَّ؟ فَقَالَ: یَا عَجَبِیْ! ذِئْبٌ مُقْعٍ عَلٰی ذَنَبِہٖیُکَلِّمُنِیْ کَلَامَ الْإِنْسِ، فَقَالَ الذِّئْبُ: أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَعْجَبَ مِنْ ذٰلِکَ؟ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِیَثْرِبَیُخْبِرُ النَّاسَ بِاَنْبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ، قَالَ: فَأَقْبَلَ الرَّاعِیْیَسُوْقُ غَنَمَہُ حَتّٰی دَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ فَزَوَاھَا اِلٰی زَاوِیَۃٍ مِنْ زَوَایَاھَا، ثُمَّّ أَتَی رَسُوْلَ اللّٰہَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ، فَأَمَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنُوْدِیَ اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ، ثُمَّّ خَرَجَ فَقَالَ لِلرَّاعِیْ: ((أَخْبِرْھُمْ)) فَأَخْبَرَھُمْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((صَدَقَ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ لَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰییُکَلِّمَ السِّبَاعُ الْاِنْسَ، وَیُکَلِّمَ الرَجُلَ عَذَبَۃُ سَوْطِہِ وَشِرَاکُ نَعْلِہِ وَیُخْبِرُُہُ فَخِذُہُ بِمَا أَحْدَثَ أَھْلُہُ بَعْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۱۴)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پر حملہ کیا اور اس کو پکڑ لیا، لیکن چرواہے نے اس کا پیچھا کیا اور اس سے بکری چھین لی، وہ بھیڑیاں اپنی دم پر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: کیا تو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، تو مجھ سے وہ رزق چھینتا ہے، جو اللہ تعالیٰ مجھے عطا کیا ہے؟ اس نے کہا: بڑا تعجب ہے، اپنی دم پر بیٹھا ہوا یہ بھیڑیا انسان کی طرح مجھ سے کلام کرتا ہے، اتنے میں بھیڑیئے نے پھر کہا: کیا میں تجھے اس سے زیادہ تعجب والی بات بتاؤں؟ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یثرب میں ظاہر ہو چکے ہیں اور لوگوں کو ماضی کیخبریں بتلاتے ہیں، چرواہے نے اپنی بکریوں کو ہانکنا شروع کیا،یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوا اور مدینہ کے ایک کونے میں ان کو جمع کیا اور پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور سارے ماجرے کی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خبر دی، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا اور اَلصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌکی آواز لگائی گئی، جب لوگ جمع ہو گئے توآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور چرواہے سے فرمایا: اِن لوگوں کو وہ بات بتلاؤ۔ پس اس نے ان کو یہ بات بتلائی، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سچ کہہ رہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک ایسا نہیں ہو گا کہ درندے لوگوں سے باتیں کریں گے، آدمی کے کوڑے کا کنارہ اور جوتے کا تسمہ اس سے کلام کرے گا اور بندے کی ران اس کو وہ کچھ بتلائے گی، جو اس کے اہل نے اس کے بعد کیا ہو گا۔
Takhreej
(۱۰۴۸۴) تخریج: رجالہ ثقات رجال الصحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۱۸۱ (انظر: ۱۱۷۹۲)
10484
Sahih
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۵)۔ عَنْہ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بَیْنَا اَعْرَابِیٌّ فِیْ بَعْضِ نَوَاحِی الْمَدِیْنَۃِ فِیْ غَنَمٍ لَہُ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَأَخَذَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْطَرِیْقِ الْأُوْلٰی وَفِیْہِ: أَنَّ الذِّئْبَ قَالَ لِلْأَعْرَابِیِّ) رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْنَخْلَتَیْنِ بَیْنَ الْحَرَّتَیْنِیُحَدِّثُ النَّاسَ عَنْ نَبَائِ مَا قَدْ سَبَقَ وَمَا یَکُوْنُ بَعْدَ ذٰلِکَ قَالَ: فَنَعَقَ الْأَعْرَابِیُّ بِغَنَمِہِ حَتّٰی اَلْجَأَھَا اِلٰی بَعْضِ الْمَدِیْنَۃِ ثُمَّّ مَشٰی اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی ضَرَبَ عَلَیْہِ بَابَہُ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَیْنَ الْأَعْرَابِیُّ صَاحِبُ الْغَنَمِ؟)) فَقَامَ الْأَعْرَابِیُّ فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((حَدِّثِ النَّاسَ بِمَا سَمِعْتَ وَمَا رَأَیْتَ …۔ الْحَدِیْثَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۳)
۔ (دوسری سند) ایک بدّو مدینہ منورہ کے کسی کونے میں اپنی بکریاں چرارہا تھا کہ ایک بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ایک بکری پکڑ کر لے گیا، ……، اس بھیڑیئے نے اس بدّو سے کہا: کھجوروں کے مابین اور دو حرّوں کے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، وہ لوگوں کو گزر جانے والیاور اگلے زمانے کی باتیں بتلاتا ہے، پس بدّو نے اپنی بکریوں کو آواز دی اور مدینہ میں کسی مقام پر ان کو چھوڑا اور خود نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف چلا گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دروازے پر دستک دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: وہ بکریوں والا بدّو کہاں ہے؟ وہ بدّو کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: جو کچھ تو نے سنا ہے اور دیکھا ہے، وہ لوگوں کو بیان کر، ……۔
Takhreej
(۱۰۴۸۵) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب (انظر: ۱۱۸۴۱)
10485
Zaeef
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
۔ (۱۰۴۸۶)۔ (عَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: بَیْنَا رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ فِیْ غُنَیمَۃٍ لَہُ یَھُشُّ عَلَیْھَا فِیْ بَیْدَائِ ذِی الْحُلَیْفَۃِ اِذْ عَدَا عَلَیْہِ الذِّئْبُ فَانْتَزَعَ شَاۃً مِنْ غَنَمِہِ فَجَھْجَأَہُ الرَجُلُ فَرَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی اسْتَنْقَذَ مِنْہُ شَاتَہُ، ثُمَّّ اِنَّ الذِّئْبَ أَقْبَلَ حَتّٰی أَقْعٰی مُسَتَذْفِرًا بِذَنَبِہٖمُقَابِلَالرَّجُلِ،فَذَکَرَنَحْوَحَدِیْثِ شُعَیْبِ بْنِ أَبِیْ حَمْزَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۶۶)
۔ (تیسری سند) بنو اسلم قبیلے کا ایک آدمی ذو الحلیفہ میں بیداء مقام پر اپنی بکریوں کو ہانک رہا تھا، اچانک ایک بھیرئیے نے حملہ کیا اور ایک بکری لے گیا، لیکن اس بندے نے اس کو ڈانٹا، چلّایا اور اس کو پتھر مارا اور اس سے اپنی بکری بچا لی، پھر وہ بھیڑیا اپنی دم کو ٹانگوں کے درمیان کر کے اس آدمی کے سامنے بیٹھ گیا، ……۔ آگے وہی روایت ذکر کی۔
Takhreej
(۱۰۴۸۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الثانی
Explanation
فوائد:… نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد سے پہلے سابقہ مذہبی ادب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا واضح تذکرہ ملتاہے۔ اس ضمن میں سیدنا سلمان فارسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی روایت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بڑا خوبصورت تذکرہ موجود ہے، ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۱۷۴۳)، نیز درج ذیل مضمون کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں: محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں: سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! انبیا کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (مسند احمد: ۵/ ۲۶۵) ان (۳۱۵) رسولوں میں درج ذیل پانچ اولوا العزم پیغمبر تھے: نوح، ابراہیم، موسی، عیسی اور محمدh۔ پھر محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سید الاولین والآخرین قرار دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے پہلے اور آخری رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے پیغام رساؤں اور قاصدوں کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع کیا، وہ نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ختم ہو گیا۔ یہودیوں کی تورات، عیسائیوں کی انجیل اور ہندؤوں کی ویدوں میں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حق میں پیشین گوئیاں کی گئی ہیں، ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ پیشین گوئیاں واضح، دو ٹوک اور اظہر من الشمس ہیں۔ بہرحال دنیا نے ضد اور ہٹ دھرمی کا کوئی علاج دریافت نہیں کیا۔ قرآن مجید کی شہادت: اس سلسلے میں یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ مذہبی معاملات میں ہمارا سارا عتماد قرآن و حدیث پر ہے، ہماری شریعت میں جن اسرائیلی روایات کے صدق یا کذب پر مشتمل ہونے کا پتہ نہ چل رہا ہو، سرے سے ان کی تصدیقیا تکذیب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرما دیا ہے کہ تورات و انجیل میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کی پیشینگوئیاں اور آپ اور آپ کے صحابہ کی صفات کا تذکرہ موجود ہے، اس لیےیہ تسلیم کرنا ضروری ہو گا کہ ان دو کتب میں یہ تذکرے موجود تھے، لیکن تورات یا انجیل کے کسینسخے کو دیکھ کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ وہی جملے یا الفاظ ہیں جو موسی علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئے تھے۔ اس بحث سے ہمارے دو مقاصد ہیں: ۱۔ اہل کتاب پر ان کی الہامی کتب کے ذریعے ان پر حق واضح کیا جائے۔ ۲۔ اگرچہ اہل اسلام کے لیے قرآن و حدیث ہی کافی ہیں، لیکن طبعی طور پر اس امر سے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ اغیار کا مذہبی ادب بھی ہمارے نبی اور دین کو برحق تسلیم کر رہا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { اَلَّذِیْنَیَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْأُمِّیَّ الَّذِیْیَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِیْ التَّوْرٰۃِ وَالأنْجِیْلِ }(سورۂ اعراف: ۱۵۶) یعنی: جو لوگ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس تو رات و انجیل میں لکھا ہو اپاتے ہیں ۔ قرآن مجید کی اس شہادت سے معلوم ہوا کہ تورات و انجیل میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تذکرہ موجود تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: { وَاِذْ قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَیٰبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَیَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰۃِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِیْ اسْمُہٗاَحْمَدُفَلَمَّاجَآئَھُمْبِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا ھٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ .} (سورۂ صف: ۵) یعنی: اور جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا اے (میری قوم ) ، نبی اسرائیل! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں مجھ سے پہلے کی کتاب تورات کی میں تصدیق کرنے والا ہوں او ر اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی میں تمہیں خوشخبری سنانے والا ہوں جنکا نام احمد ہے۔ پھر جب وہ انکے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے، یہ تو کھلا جادو ہے۔ اس آیت ِ مبارکہ میں عیسی علیہ السلام نے اپنے بعد آنے والے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خوشخبری سنائی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْھِمْ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ َیتْلُوْ عَلَیْھِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ} (سورۂ بقرہ: ۱۲۸) یعنی: اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے یقینا تو غلبے والا اور حکمت والا ہے ۔ ابراہیم اور اسماعیلm نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت یہ دعا کی تھی، جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شکل میں چھبیس صدیوں کے بعد پوری کی۔ سیدنا عرباض بن ساریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کا وہ بندہ ہوں، جس کو ام الکتاب میں اس وقت خاتم النبین لکھ دیا گیا تھا، جب آدم علیہ السلام ابھی تک اپنی مٹی میں پڑے ہوئے تھے، اور میں عنقریب تم کو اس کی تأویل کے بارے میں بتلاؤں گا، میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسی علیہ السلام کی بشارت ۔ ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۱۰۴۵۷)۔ سابقہ مذہبی کتب میں تذکرۂ محمدی سابقہ کتب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نام اور ان کے معانی: نراشنس: محمد مامح: محمد مترپیا: رحم والا، ہمدردی والا، استوت اریتا:م ددگار، تمام قوموں کو یکجا کرنے والا فارقلیط: احمد یا محمد۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عیسائی،یہودی اور ہندو نبی آخرا لزمان، اسلام اور اہل اسلام کے دشمن ہیں، انھوں نے جان بوجھ کر اپنی اپنی کتابوں میں تحریفیں کیں، لیکن اس کے باوجود ان کی کتب میں ایسی عبارات موجود ہیں، جن کا واضح طور پر مصداق محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ٹھہرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیزندگی میں ورقہ بن نوفل، نجاشی اور ہرقل جیسے عظیم لوگوںنے ان حقائق کا اعتراف کر لیا تھا۔ صحف آدم میں : آدم علیہ السلام کو صحیفے عطا کیے گئے، ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو مخاطب ہو کر کہا: اے آدم! جو شخص میرے اس گو (خانہ کعبہ) کی زیارت سے مشرف ہو گا، اسے میری زیارت ہو گی …… حتی کہ سلسلہ تیرے فرزند ارجمند تک پہنچے گا، جو تیری اولاد میں افضل ہو گا، اس کا نام نامی محمد ہو گا، حسن و جمال میں بدر کامل ہو گا۔ (نقوش : رسول نمبر، محمد طفیل، ج 9،ش130، ص: 33، ایڈیشن : 1984ئ، ادارہ فروغ اردو لاہور) تورات میں تورات تاریخیہودیت کے پہلے تین ادوار میں ہی ضیاع اور آتش زنی کا شکار ہو چکی تھی، ……بہرحال یہ ایک الہامی کتاب ہے، ہم اپنے موضوع سے متعلقہ چند ایک اقتباسات نقل کریں گے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان میں اضافہ ہو جائے۔ تورات سِفر التثنیہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے کہا: آپ بنی اسرائیل سے کہہ دیجئے کہ میں ان کے لیے آخری زمانہ میں آپ کی ہی طرح کا ایک نبی بھیجوں گا، جو ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے ہو گا اور میں اپنے کلام کو اس کی زبان پر جاری کروں گا۔ ڈاکٹر محمد لقمان سلفی نے کہا: اور یہ بات معلوم ہے کہ موسی علیہ السلام کے بعد ہر نبی بنی اسرائیل میں سے ہوا اور ان میں آخری نبی عیسی علیہ السلام ہوئے اور ان کے بھائیوں کی اولاد میں سے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نبی ہوئے، اس لیے کہ وہ اسماعیل کی اولاد میں سے تھے اور اسماعیل، اسحاق کے بھائی تھے۔ اگریہ بشارت بنی اسرائیل کے نبیوں میں سے کسی نبی کے بارے میں ہوتی تو ان کے بھائیوں کا ذکر بے معنی ہوتا۔ ( الصادق الامین: صـ ۹۲) سِفر التثنیہ میں ہے: اور رب سینا سے آیا، اور ان کے لیے ساعیر سے چمکا اور جبل فاران سے آتا ہوا جلوہ افروز ہوا اور اس کے ساتھ دس ہزار پاکباز لوگ آئے اور اس کے دائیں ہاتھ سے ان کے لیے شریعت کی آگ ظاہر ہوئی۔ (سفر التثنیہ: باب ۳۲، عربی ترجمہ، مطبوعہ: ۱۸۴۴) ہندو کتابوں میں ہندو دھرم، جس کی بنیاد۱۵۰۰ ق م رکھی گئی، ہمارے برصغیر ہندو ستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کا مشہور اور قدیم مذہب ہے ۔ ہندوستان میں اسی دھرم کو ماننے والوں کی اکثریت ہے۔ ہندو دھرم کی سب سے مشہور اور اولین کتاب وید ہے، وید چار ہیں، جو بالترتیبیہ ہیں: رگ وید،یجر وید، سام وید، اتہر وید۔ نراشنس کا ذکر چاروں ویدوں میں ہے، لیکن سب سے تفصیلی ذکر اتہر وید میں ہے، لہٰذا سب سے پہلے اسی کا اقتباس پیش کرتے ہیں۔ اس کتاب میں اس موضوع پر کل چودہ منتر ہیں، جو اتہر وید، کانڈ (۲۰)، سوکت (۱۲۷)، منتر (۱) تا (۱۴) پر مشتمل ہیں۔ (ہم بعض منتروں کا ذکر کریں گے) منتر (۱): لوگو! احترام سے سنو، نراشنس کی تعریف کی جائے گی، ہم اس مہاجر یا امن کے علمبردار کو ساٹھ ہزار نوے دشمنوں کے درمیان محفوظ رکھیں گے۔ ابن اکبر اعظمی نے کہا: نراشنس سنسکرت زبان کا لفظ ہے، یہ دو الفاظ سے مرکب ہے، ایک لفظ نر ہے، جس کے معانی انسان کے ہیں اور دوسرا لفظ اشنس ہے، جس کے معانی ہیں: وہ شخص جس کی کثرت سے تعریف کی جائے۔ اس طرح نراشنس کا بعینہ وہی معنی ہوا جو عربی میں لفظ محمد کا ہے۔ ساٹھ ہزار نوے دشمن، اس تعداد کا تعین نہایت باریکی کے ساتھ کیا گیا،یہ نہایت عظیم اور حیرتناک پیشین گوئی ہے، شارحین اس کا مصدا ق ڈھونڈنے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر اس کو چسپاں کرنے کے سلسلے میں حیران و پریشان ہیں۔ … …ان دشمنوں سے مراد مردان جنگی ہیں، جو تلوار لے کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقابل آئے، یا جنہوں نے خفیہ طور پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ تفصیلیہ ہے: قریشی اور ان کے حلفا بنو غطفان اور ان کے شرکاء کی کل تعداد دس ہزار تھی، جو جنگ خندق میں اکٹھے تھے اور دوسری جنگوں میں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں کی شکل میں،یہود کے مختلف قبائل کے مردان جنگی کی تعداد دس ہزار تھی، جو خیبر میں تقریباًیکجائی طور سے لڑے اور باقی جنگو ں میں متفرق طور پر۔ رومی جنہوں نے مدینہ پر دھاوا بول کراس کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہی اور جن سے مقابلہ کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تبوک تشریف لے گئے، ان کی کل تعداد چالیس ہزار تھی۔ منافقین، جنہوں نے تبوک میں ساتھ دینے سے معذرت کر لی، (۸۰) تھے، اور تبوک میں جانے والے (۱۲) یا (۱۳) تھے، انھوں نے واپسی پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا اقدام کیا، لیکن ناکام رہے اور ان میں سے دو تین متذبذب تھے اور انھوں نے توبہ کر لی تھی۔ اس طرح سے یہ کل ساٹھ ہزار نوے دشمن تھے۔ منتر (۲) اس کی سواری اونٹ ہو گا اور اس کی بارہ بیویاں ہوں گی، اس کا درجہ اتنا بلند اور اس کی سواری اتنی تیز ہو گی کہ وہ آسمان کو چھوئے گی اور پھر اتر آئے گی۔ منتر (۴) تبلیغ کر اے احمد، تبلیغ کر جیسے چڑیاں پکے ہوئے پھل والے درخت پر چہچہاتی ہیں۔ تیری زبان اور تیرے دونوں ہونٹ قینچی کے دونوں پھلوں کی طرح چلتے ہیں۔ اس منتر میں ریبھ نام کا انسان مخاطب ہے، یہ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا بعینہ وہی معنی ہے جو عربی میں احمد ہے، یعنی کثرت سے یا سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے والا۔ منتر (۵) حمد کرنے والے اپنی حمدوں کے ساتھ یا نمازی اپنی نمازوں کے ساتھ طاقتور سانڈ کی طرح جنگ میں جاتے ہیں اور ان کی اولاد اپنے گھروں میںیوںمامون رہتی ہے، جیسے گائے اپنے ٹھکانوں میں۔ منتر (۶) اے احمد! اس کلام کو مضبوطی سے پکڑ کہ یہ گایوں اور مالوں کی اساس ہے اور اسے متقیوں تک پہنچا، جیسے بہادر نشانے پر تیر مارتا ہے۔ (ملاحظ ہو: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہندو کتابوں میں، اعداد و ترتیب: امیر حمزہ) انجیل میں : سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں انجیل میں یہ لکھا ہوا تھا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ مَکْتُوْبٌ فِی اْلإِنْجِیْلِ: لا فَظٌّ وَلاَ غَلِیْظٌ وَلاَ سَخَّابٌ بِالْاَسْوَاقِ وَلا یَجْزِیْ بِالسَّیِّئَۃِ مِثْلَھَا، بَلْ یَعْفُوْ وَیَصْفَحُ۔ یعنی: آپ بدخلق تھے نہ سخت دل‘آپ بازاروں میں شور کرنے والے تھے نہ برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے‘ بلکہ آپ معاف کرتے اور درگزرفرماتے تھے۔ انجیل میں درج ذیل مقامات میں محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آمد کے متعلق صاف اشارات موجود ہیں۔ متی :باب ۲۱،آیت۳۳تا ۴۶۔ یوحنا : باب ،۱، آیت۱۹تا ۲۱۔ یوحنا : باب ۱۴،آیت۱۵تا ۱۷ ،و آیت۲۵تا ۳۰۔ یوحنا : باب ۱۵، آیت۲۵، ۲۶۔ یوحنا : باب ۱۶،آیت۷تا ۱۵۔ اب تفصیل ملاحظہ فرمائیں: وہ پیشن گوئیا ں درج ذیل ہیں جو انجیلیوحنا میں مسلسل باب ۱۴سے ۱۶ تک منقول ہوئی ہیں: اور میں باپ سے درخواست کروں گا تو وہ تمہیں دوسرا مدد گار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے ، یعنی روح حق جسے دنیا حاصل نہیں کو سکتی کیونکہ نہ اسے دیکھتی ہے نہ جانتی ہے تم اسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہار ے ساتھ رہتاہے اور تمہارے اندر ہے۔ (۱۴:۱۶،۱۷) میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں لیکن مدد گار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا، وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ تم سب تمہیںیاد دلائے گا۔ (۱۴: ۲۵، ۲۶) اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ حصہ نہیں۔ (۱۴: ۳۰) لیکن جب وہ مدد گار آئے جس کو میں تمہارے پاس باپ کی طرف سے بھیجوں گا، یعنی سچائی کا روح جو باپ سے صادر ہوتا ہے، تو وہ میری گواہی دے گا۔ (۱۵: ۲۶) لیکن میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میرا جانا تمہارے لیے فائدہ مند ہے، کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو وہ مدد گار تمہارے پاس نہ آئے گا، لیکن اگر جاؤں گا تو اسے تمہارے پاس بھیجوں گا۔ (۱۷: ۷) ابو الاعلی مودودی انجیل کے تغیرات اور تحریفات کی چند وجوہات بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں: انجیلیوحنا کی مذکورہ بالا عبارات میں عیسی علیہ السلام اپنے بعد ایک آنے والے کی خبر دے رہے ہیں، جس کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ وہ دنیا کا سردار (سرورِ عالم) ہو گا۔ ابد تک رہے گا ، سچائی کی تمام راہیں دکھائے گا اور خود ان کییعنی عیسی علیہ السلام کی گواہی دے گا ۔ یوحنا کی ان عبارتوں میں روح القدس اور سچائی کی روح وغیرہ کے الفاظ شامل کر کے مدّعا کو خبط کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، مگر اس کے باوجود ان سب عبارتوں کو اگر غور سے پڑھا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس آنے والے کی خبر دی گئی ہے، وہ کوئی روح نہیں، بلکہ کوئی انسان اور خاص شخص ہے، جس کی تعلیم عالمگیر، ہمہ گیر اور قیامت تک باقی رہنے والی ہو گی۔ اس شخص خاص کے لیے اردو ترجمے میں مدد گار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن: ۵/ ۴۶۲ تا ۴۶۴) سیدہ آمنہ بی بی کو (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا احمد) نام رکھنے کی بشارت فرشتے کی معرفت ایسے ہی ملی تھی، جیسے کہ فرشتے کی بشارت سے ہاجرہ بی بی نے اسماعیل کانام (پیدائش: ۱۱/ ۱۶) اور مریم نے یسوع کا نام (لوقا: 1باب، ۳۰ درس) رکھا تھا۔
10486
Zaeef
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
۔ (۱۰۴۸۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: اِنَّ أَوَّلَ خَبْرٍ قَدِمَ عَلَیْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ امْرَأَۃً کَانَ لَھَا تَابِعٌ قَالَ: فَأَتَاھَا فِیْ صُوْرَۃِ طَیْرٍ فَوَقَعَ عَلَی جِذْعٍ لَّھُمْ، قَالَ: فَقَالَتْ: أَلَا تَنْزِلُ فَنُخْبِرُکَ وَتُخْبِرُنَا؟ قَالَ: اِنَّہُ قَدْ خَرَجَ رَجُلٌ بِمَکَّۃَ حَرَّمَ عَلَیْنَا الزِّنَا وَمَنَعَ مِنِ الْفِرَارِ۔ (مسند احمد: ۱۴۸۹۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بیشک پہلی خبر جو ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں موصول ہوئی، وہ یہ تھی کہ ایک عورت کا پیروکار جن تھا، ایک دن وہ پرندے کی صورت میں آیا اور ان کے تنے پر بیٹھ گیا، اس خاتون نے کہا: کیا تونیچے نہیں آتا، تاکہ ہم تجھے باتیں بتلائیں اور تو ہمیں بتلائے؟ لیکن اس نے کہا: مکہ مکرمہ میں ایک آدمی ظاہر ہو چکا ہے، اس نے ہم پر زنا کو حرام قرار دیا ہے اور جہادمیں لڑائی کے وقت بھاگ جانے سے بھی روک دیا ہے۔
Takhreej
(۱۰۴۸۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، تفرد بہ عبد اللہ بن محمد بن عقیل عن جابر، وھو یعتبر بہ فی المتابعات والشواھد، أخرجہ الطبرانی فی الاوسط : ۷۶۹ (انظر: ۱۴۸۳۵)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جن، بندوں کے تابع ہو جاتے ہیں اور پھر ان کو مختلف واقعات سے باخبر رکھتے ہیں۔ نجومیوں اور کاہنوں کا بھی اس قسم کاسلسلہ ہوتا ہے۔
10487
Zaeef
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۸۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِخَدِیْجَۃَ: إِنِّیْ أَرٰی ضَوْئً ا وَأَسْمَعُ صَوْتًا وَإِنِّیْ أَخْشٰی أَنْ یَّکُوْنَ بِیْ جُتُنٌ، قَالَتْ: لَمْ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَفْعَلَ ذٰلِکَ بِکَ یَاابْنَ عَبْدِ اللّٰہِ! ثُمَّّ أَتَتْ وَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلٍ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ فَقَالَ: إِنْ یَکُ صَادِقًا فَإِنَّ ھٰذَا نَامُوْسٌ مِثْلُ نَامُوْسِ مُوْسٰی، فَإِنْ بُعِثَ وَأَنَا حَیٌّ فَسَأُعَزِّزُہُ وَأَنْصُرُہُ وَأُومِنُ بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۲۸۴۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے فرمایا: بیشک میں روشنی دیکھتا ہوں، آواز سنتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں کہ مجھے کوئی جنون لاحق ہو گیا ہے۔ آگے سے سیدہ نے کہا: اے عبد اللہ کے بیٹے! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ اس طرح نہیں کرے گا، پھر وہ ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں اور اس کو ساری بات بتلائی، اس نے کہا: اگر آپ سچے ہیں تو یہ موسی علیہ السلام کے ناموس کی طرح کا ناموس ہے، اگر آپ کو میری زندگی میں مبعوث کیا گیا تو میں آپ کو تقویت پہنچاؤں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تائید کروں گا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاؤں گا۔
Takhreej
(۱۰۴۸۸) تخریج: اسنادہ علی شرط مسلم الا انہ اختلف فی وصلہ وارسالہ (انظر: ۲۸۴۶)
10488
Sahih
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: أَوَّلُ مَا بُدِیئَ بِہٖرَسُوْلُاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْوَحْیِ الرُّؤْیَا الصَّادِقَۃُ فِی النَوْمِ، وَکَانَ لَا َیرٰی رُؤْیًا إِلَّا جَائَ تْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّّ حُبِّبَ اِلَیْہِ الْخَلَائُ فَکَانَ یَأْتِیْ غَارَ حِرَائَ فَیَتَحَنَّثُ فِیْہِ وَھُوَ التَّعَبُّدُ اللَّیَالِیَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَیَتَزَوَّدُ لِذٰلِکَ ثُمَّّ یَرْجِعُ لِخَدِیْجَۃَ فَتُزَوِّدُہُ لِمِثْلِھَا حَتّٰی فَجِأَہُ الْحَقُّ وَھُوَ فِیْ غَارِ حِرَائَ فَجَائَہُ الْمَلَکُ فِیْہِ فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اقْرَأْ فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّانِیَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْدُ، ثُمَّّ أَرْسَلَنِیْ فَقَالَ: اِقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِیئٍ، فَأَخَذَنِیْ فَغَطَّنِی الثَّالِثَۃَ حَتّٰی بَلَغَ مِنِّی الْجَھْد، ثُمَّّ أَرْسَلَنِی فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ} حَتّٰی بَلَغَ {مَا لَمْ یَعْلَمْ} قَالَ: فَرَجَعَ بِھَا تَرْجُفُ بَوَادِرُہُ، حَتّٰی دَخَلَ عَلٰی خَدِیْجَۃَ فَقَالَ: زَمِّلُوْنِیْ، فَزَمَّلُوْہُ حَتّٰی ذَھَبَ عَنْہُ الرَّوْعُ ، فَقَالَ: یَا خَدِیْجَۃُ! مَا لِیْ؟ فَأَخْبَرَھَا الْخَبْرَ، قَالَ: وَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ، فَقَالَتْ لَہُ: کَلَّا اَبْشِرْ، فَوَاللّٰہِ! لَا یُخْزِیْکَ اللّٰہُ أَبْدًا اِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِیْثَ وَتَحْمِلُ الْکَلَّ وَتَقْرِی الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ، ثُمَّّ انْطَلَقَتْ بِہٖخَدِیْجَۃُ حَتّٰی أَتَتْ بِہٖوَرَقَۃَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِالْعُزَّی بْنِ قُصَیٍّ، وَھُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِیْجَۃَ أَخِیْ أَبِیْھَا وَکَانَ اِمْرَئً تَنَصَّرَ فِی الْجَاھِلِیَّۃِ وَکَانَ یَکْتُبُ الْکِتَابَ الْعَرَبِیِّ، فَکَتَبَ بِالْعَرَبِیَّۃِ مِنَ الْإِنْجِیْلِ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَکْتُبَ، وَکَانَ شَیْخًا کَبِیْرًا قَدْ عَمِیَ، فَقَالَتْ خَدِیْجَۃُ: أَیِ ابْنَ عَمِّ! اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِیْکَ، فَقَالَ وَرَقَۃُ: ابْنَ أَخِیْ مَا تَرٰی؟ فَأَخْبَرَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَا رَأٰی، فَقَالَ رَوَقَۃُ: ھٰذَا النَّامُوْسُ الَّذِیْ أُنْزِلَ عَلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلاَمُ، یَالَیْتَنِیْ فِیْھَا جَذَعًا أَکُوْنَ حَیًّا حِیْنَیُخْرِجُکَ قَوْمُکَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَوَ مُخْرِجِیَّ ھُمْ؟ )) فَقَالَ وَرَقَۃُ: نَعَمْ، لَمْ یَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِہٖإِلاَّعُوْدِیَ، وَإِنْ یُدْرِکْنِییَوْمُکَ اَنْصُرْکَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ثُمَّّ لَمْ یَنْشَبْ وَرَقَۃُ أَنْ تُوُفِّیَ، وَفَتَرَ الْوَحْیُ فَتْرَۃً حَتّٰی حَزِنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فِیْمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْہُ مِرَارًا کَیْیَتَرَدّٰی مِنْ رُؤُوْسِ شَوَاھِقِ الْجِبَالِ، فَکُلَّمَا اَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ لِکَیْیُلْقِیَ نَفْسَہُ مِنْہُ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اِنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقًّا فَیُسْکِنُ ذٰلِکَ جَأْشَہُ وَتَقَرُّ نَفْسُہُ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ فَیَرْجِعُ، فَإِذَا طَالَتْ عَلَیِْہِ وَفَتَرَ الْوَحْیُ غَدَا لِمِثْلِ ذٰلِکَ، فَإِذَا أَوْفٰی بِذِرْوَۃِ جَبَلٍ تَبَدّٰی لَہُ جِبْرِیْلُ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۸۶)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف وحی کی ابتداء نیند میں سچے خوابوں کی صورت میں ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو خواب بھی دیکھتے، وہ صبح کے پھٹنے کی طرح پورا ہو جاتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خلوت کو پسند کرنے لگے اور غارِ حرا میں جا کر چند راتیں عبادت کرتے اور ان دنوں کا توشہ لے جاتے، پھر سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف لوٹتے اور اتنے دنوں کے لیے پھر زاد لے جاتے، یہاں تک کہ ایک دن اچانک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حق آ گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غارِ حرا میں ہی تھے، فرشتہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: پڑھئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، چنانچہ اس نے مجھے پکڑ کر اس قدر دبایا کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور کہا: پڑھو، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہے، اس نے پھر مجھے پکڑ لیا اور دبایا، حتی کہ مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے مجھے چھوڑا اور پھر کہا: پڑھیں، میں نے کہا: میں پڑھنے والا نہیں ہوں، اس نے مجھے پکڑ کر تیسری دفعہ دبایا اور مجھے مشقت محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ … …مَا لَمْ یَعْلَمْ} پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر کو لوٹے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کا گوشت کانپ رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس پہنچے اور فرمایا: مجھے کپڑا اوڑھاؤ۔ پس انھوں نے کپڑا اوڑھا دیا،یہاں تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی گھبراہٹ ختم ہو گئی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ کو سارا واقعہ سنا دیا اور فرمایا: میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ لیکن سیدہ نے کہا: ہر گز نہیں، آپ خوش رہیں، پس اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی بھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، لوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں اور امورِ حق میں مدد کرتے ہیں، پھر سیدہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو لے کر ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئی، وہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے چچے کا بیٹا تھا، جاہلیت میں عیسائیت کو اختیار کر چکا تھا، چونکہ یہ عربی زبان لکھ سکتا تھا، اس لیے انجیل کو عربی زبان میں لکھتا تھا، یہ بزرگ آدمی تھا اور اب نابینا ہو چکا تھا، سیدہ نے اس سے کہا: اے میرے چچے کے بیٹے! اپنے بھتیجے کی بات سنو، ورقہ نے کہا: بھتیجے! تو کیا دیکھ رہا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری تفصیل بیان کی، ورقہ نے کہا: یہ تو وہی ناموس ہے، جو موسی علیہ السلام پر نازل کیا گیا، کاش میں اس وقت مضبوط ہوتا، جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا: جی ہاں، جو چیز آپ لائے ہیں، جو آدمی بھی ایسی لے کر آیا ہے، اس سے دشمنی کی گئی ہے اور اگر آپ کے اُس وقت نے مجھے پا لیا تو میں آپ کی خوب مدد کروں گا، لیکن جلد ہی ورقہ وفات پاگیا اور وحی رک گئی، اب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غمگین تھے، بلکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا غم اس قدر بڑھ گیا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کئی بار چاہا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے گر پڑیں، جب کبھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پہاڑ کی چوٹی پر چڑتے تاکہ اپنے آپ کو وہاں سے گرا دیں تو جبریل علیہ السلام سامنے آتے اور کہتے: اے محمد! بیشک آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دل کا اضطراب کم ہو جاتا اور نفس مطمئن ہو جاتا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوٹ آتے، جب پھر مدت طول پکڑتی اور وحی رکی رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پھر اسی طرح کرتے اور جب پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاتے تو جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ظاہر ہوتا اور پہلے والی بات دوہراتا۔
Takhreej
(۱۰۴۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۹۵۶، ۶۹۸۲، ومسلم: ۱۶۰،وقولہ: حتی حزن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فیما بلغنا حزنا، … الخ۔ انما ھو من بلاغات الزھری (انظر: ۲۵۹۵۹)
Explanation
فوائد:… صبح کے پھٹنے سے مراد یہ ہے وہ خواب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیداری میں واضح طور پر پورا ہوتا ہوا نظر آتا، خوابوں کا سلسلہ فرشتے اور وحی کے لیے تمہید ہوتا ہے، اس سلسلے کی وجہ سے بشری قوتیں وحی کا بار برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں۔ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مکارم اور خصائل کا ذکر کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دینا، اس سے معلوم ہوا کہ مکارمِ اخلاق اور خصائل خیریہ برے انجام سے سلامتی کا سبب ہوتے ہیں۔ وحی کا نزول نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو انسانیت میں سب سے بڑا منصب عطا کرنے کے لیے تھا، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے کندھوں کے گوشت کا کانپنا، سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مطالبے پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کپڑا اوڑھا دینا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا فرمانا کہ خدیجہ! مجھے کیا ہو گیا؟ میں اپنے بارے میں ڈر رہا ہوں۔ پھر جب کچھ عرصہ تک وحی رکی رہی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حدیث کے آخری حصے میں بیان کی گئی کیفیت میں مبتلا ہو جانا۔ ان امور میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے، جس کی وجہ سے احادیث ِ مبارکہ یا ان کے ثقہ راویوں پر اعتراض کیا جا سکے، اسی قسم کی کیفیتوں کو ہلکا کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غارِ حراء میں جانے کی توفیق بخشی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے خوابوں کاسلسلہ شروع کیا گیا۔ دراصل ابتداء میں بارِ نبوت کو برداشت کرنا بشری قوتوں کے لیے خاصا مشکل مرحلہ ہوتا ہے، بعد میں تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جبریل علیہ السلام کی تاخیر کی وجہ سے پریشان ہو جاتے تھے، جبکہ یہ ہمارا اندازہ ہے، حقیقت میں انبیاء و رسل ہی بہتر جانتے ہیں کہ وصولِ نبوت کا بوجھ کیسا ہوتا ہے، سخت سردی میں نزول وحیکے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ ٹپکنے لگتا تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود فرمایا کہ جب وحی گھنٹی کی آواز کی طرح آتی ہے تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی سختی اور شدت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ صحابۂ کرام نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس شدت کی کیفیت کا سوال نہیں کیا، دیکھیں جب موسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی تجلی کی وجہ سے پہاڑ کو ریزہ ریزہ ہوتے ہوئے دیکھا تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے، جبکہ چند لمحے پہلے وہی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا اصرار کر رہے تھے۔ آخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جو اضطراب بیان کیا گیا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ جب کچھ عرصہ وحی کا سلسلہ رکا رہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ کہیں ایسے تو نہیں ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی ایسا فعل یا سبب سرزد ہوگیا ہو، جس کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سزا مل رہی ہو، یایہ کیفیت اس غم کی وجہ سے تھی، جو وحی کی تاخیر کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر طاری ہو گیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ اطلاع تو نہیں دی گئی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کو بندوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ غور کریں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مقابلے میں ورقہ بن نوفل کی حیثیت کیا تھی، لیکن وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تسلی دلا رہا ہے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ انبیاء کے ساتھ ایسے ہی ہوتا ہے۔ بہتریہ ہے کہ اس حدیث ِ مبارکہ میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے جو احساسات بیان کیے گئے ہیں، ان کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا طبعی تقاضا سمجھا جائے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بارِ نبوت اٹھا لیا اور اپنے منصب تک پوری رسائی حاصل کر لی تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قابل ہو گئے کہ وحی کی مختلف مجلسوں میں پورا قرآن مجیدوصول کر سکیں، قرآن مجید کے علاوہ وحی کی دوسری اقسام کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پیغامات موصول کر سکیں، جنت و جہنم کے مناظر دیکھ سکیں، اسراء و معراج کی صورت میں آسمانوں کی سیر کر سکیں، جہنم میں پتھر گرنے اور آسمان کے دروازے کھلنے کی آواز سن سکیں، قبروں میںعذاب میں مبتلا لوگوں کے عذاب کی کیفیت دیکھ سکیں، کثرت ِ عبادت میں اپنی جسمانی غذاکو محسوس کر سکیں، علی ہذا القیاس۔واللہ اعلم بالصواب۔
10489
Sahih
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۹۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُنْزِلَ عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ ابْنُ أَرْبَعِیْنَ، وَکَانَ بِمَکَّۃَ ثَلَاثَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرًا، فَمَاتَ وَھُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۲۴۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول شروع ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تی، پھر مکہ مکرمہ میں تیرہ برس اور مدینہ منورہ میں دس برس ٹھہرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
Takhreej
(۱۰۴۹۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری، أخرجہ الترمذی: ۳۶۲۲(انظر: ۲۲۴۲)
10490
Sahih
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۹۱)۔ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: أَقَامَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَکَّۃَ خَمْسَ عَشَرَۃَ سَنَۃً، سَبْعَ سِنِیْنَیَرَی الضَّوْئَ وَیَسْمَعُ الصَّوْتَ، وَثَمَانِیَ سِنِیْنَیُوْحٰی اِلِیْہِ، وَأَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ عَشَرَ سِنِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۳)
۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں پندرہ برس ٹھہرے، ان میں سات سال تک تو روشنی دیکھتے اور آواز سنتے تھے اور آٹھ سالوں میں وحی نازل ہوتی رہی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ منورہ میں دس سال تک مقیم رہے۔
Takhreej
(۱۰۴۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۵۳(انظر: ۲۵۲۳)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیرہ برس گزارے، لیکن اس روایت میں پندرہ سالوں کا ذکر ہے، دراصل اس میں نبوت کے مقدّمات کو بھی شامل کیا گیا ہے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا روشنی کو دیکھنااور آواز کو سننے کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔
10491
Sahih
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۹۲)۔ عَنْ عَمَّارٍ مَوْلٰی بَنِیْ ھَاشِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ کَمْ اَتٰی لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ مَاتَ؟ قَالَ: مَا کُنْتُ أُرٰی مِثْلَکَ فِیْ قَوْمِہِ یَخْفٰی عَلَیْکَ ذٰلِکَ، قَالَ: قُلْتُ: اِنِّی سَأَلْتُ فَاخْتُلِفَ عَلَیَّ، فَاَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ قَوْلَکَ فِیْہِ، قَالَ: اَ تَحْسِبُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمْسِکْ أَرْبَعِیْنَ بُعِثَ لَھَا، وَخَمْسَ عَشْرَۃَ، أَقَامَ بِمَکَّۃَیَأْمَنُ وَیَخَافُ، وَعَشْرًا مُھَاجِرًا بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۶۴۰)
۔ مولائے بنی ہاشم عمار سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے سوال کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ انھوں نے کہا: میرا خیال نہیں تھا کہ تیرے جیسا آدمی، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قوم میں رہا اور تجھ پر یہ چیز مخفی ہے، میں نے کہا: میں نے پوچھا تو ہے، لیکن مجھ پر اختلاف کیا گیا ہے، اس لیے میں نے چاہا کہ اس بارے میں تیرے قول کا علم ہو جائے، انھوں نے کہا: کیا تو شمار کر سکتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: جمع کر، چالیس برس کی عمر میںآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا، پھر آپ مکہ مکرمہ میں پندرہ سال رہے، اس دور میں امن بھی تھا اور خوف بھی، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گئے تو وہاں دس سال قیام کیا۔
Takhreej
(۱۰۴۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۳۵۳ (انظر: ۲۶۴۰)
10492
Sahih
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
۔ (۱۰۴۹۳)۔ عَنِ الْعَلَائِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدَوِیِّ أَنَّہُ قَالَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ سِنَّ أَیِّ الرِّجَالِ کَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذْ بُعِثَ؟ قَالَ: ابْنُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، قَالَ: ثُمَّّ کَانَ مَاذَا؟ قَالَ: کَانَ بِمَکَّۃَعَشْرَ سِنِیْنَ، وَبِالْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ، فَتَمَّتْ لَہُ سِتُّوْنَ سَنَۃً ثُمَّّ قَبَضَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ اِلَیْہِ، قَالَ: سِنُّ أَیِّ الرِّجَالِ ھُوَ یَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: کَأَشَبِّ الرِّجَالِ وَأَحْسَنِہِ وَأَجْمَلِہِ وَأَلْحَمِہِ، قَالَ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! ھَلْ غَزَوْتَ مَعَ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، غَزَوْتُ مَعَہُ یَوْمَ حُنَیْنٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۵۵۷)
۔ علاء بن زیاد عدوی سے مروی ہے کہ اس نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر کتنی تھی؟ انھوں نے کہا: چالیس برس، اس نے کہا: پھر کیا ہوا؟ انھوں نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ میں بھی دس برس ٹھہرے اور مدینہ میں بھی دس سال، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ساٹھ برس عمر پوری ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وفات دے دی، اس نے کہا: ان دنوںمیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کیسی عمر کے آدمی لگتے تھے؟ انھوں نے کہا: جیسے سب سے بھرپور نوجوان ہوں، سب سے زیادہ حسین و جمیل اور پرگوشت۔ اس نے کہا: اے ابو حمزہ! کیا تم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں غزوۂ حنین کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا۔
Takhreej
(۱۰۴۹۳) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۱۹۴ (انظر: ۱۲۵۲۹)
Explanation
فوائد:… مکہ مکرمہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قیام کی مدت میں اختلاف ہے، اس مدت کی وجہ سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر میں بھی اختلاف پڑ جاتا ہے۔ امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: امام مسلم نے اس باب میں کل تین روایات ذکر کی ہیں: ۱۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساٹھ برس کی عمر میں فوت ہوئے (اور مکہ میں دس برس قیام کیا)۔ ۲۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر پینسٹھ برس تھی (اور مکہ میں پندرہ سال قیام کیا)۔ ۳۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی (اور مکہ میں تیرہ سال قیام کیا)۔ آخری روایت زیادہ صحیح اور مشہور ہے، امام مسلم نے اس روایت کو سیدہ عائشہ، سیدنا انس اور سیدنا عبد اللہ بن عباس سے بیان کیا۔ علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ صحیح ترین روایت تریسٹھ برس عمر والی ہے، انھوں نے باقی روایات کی توجیہ کی ہے، ساٹھ برس والی روایت کے بارے میں کہا کہ اس میں دہائیوں کا اعتبار کیا اور اکائیوں کو چھوڑ دیا (اور عرب ایسا کرتے رہتے ہیں)، اسی طرح پینسٹھ برس والی روایت کی بھی توجیہ کی جائے گی۔ یہ بات بھی اتفاقی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مدینہ منورہ میں دس سال قیام کیا اور نبوت سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر چالیس برس تھی، اختلاف صرف مکہ میں قیام کی مدت میں ہے، راجح اور صحیحیہی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ برس قیام کیا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عمر مبارک (۶۳) برس بنتی ہے۔
10493
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.