TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟

Chapter 36 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 36 of 51 · 7 Hadith
۔ (۱۰۵۸۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((رَأَیْتُ رَبِّیْ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی)) (قَالَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) وَقَدْ سَمِعْتُ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مِنْ أبِیْ، اَمْلٰیْ عَلَیَّ فِیْ مَوْضِعٍ آخَرَ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے ربّ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔ عبد اللہ بن امام احمد کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے یہ حدیث سنی تھی، انھوں نے کسی اور مقام پر یہ حدیث مجھے لکھوائی تھی۔
Takhreej
(۱۰۵۸۶) تخریج: ضعیف، حماد بن سلمۃ، الاحتیاط ان لا یحتج بہ فیمایخالف الثقات، أخرجہ البیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۴۴۴، وعبد اللہ بن احمد فی السنۃ : ۵۶۳ (انظر: ۲۵۸۰)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: عکرمہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ، قُلْتُ: أَلَیْسَ اللّٰہُ یَقُولُ: { لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ}؟ قَالَ: وَیْحَکَ ذَاکَ إِذَا تَجَلّٰی بِنُورِہِ الَّذِی ہُوَ نُورُہُ، وَقَالَ أُرِیَہُ مَرَّتَیْنِ۔… محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے، میں عکرمہ نے کہا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس طرح نہیں فرمایا: آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں، جبکہ وہ آنکھوں کا ادرک کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، اس آیت کا تعلق اس صورت سے ہے جب وہ اپنے نور سمیت تجلی فرمائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اللہ تعالیٰ کا دو بار دیدار ہوا ہے۔ (ترمذی: ۳۲۹، شیخ البانی نے اس موقوف روایت کو ضعیف قرار دیا ہے) سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے اللہ تعالیٰ کے فرمان {مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأٰی} کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا: رَأیٰ مُحَمَّدٌ رَبَّہٗعَزَّوَجَلَّبِقَلْبِہٖمَرَّتَیْنِ۔ … محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دل سے ربّ تعالیٰ کو دو بار دیکھا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۶، واللفظ لاحمد۱۹۵۶) لیکن حدیث نمبر (۱۰۵۹۰) سے معلوم ہوا کہ سورۂ نجم کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت کا ذکر نہیں ہے، بلکہ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا ذکر ہے۔ البتہ حدیث نمبر (۸۹۷۸، ۸۹۷۹) سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا ہے۔
10586
Zaeef
۔ (۱۰۵۸۷)۔ حَدَّثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَأَلْتُہُ، قَالَ: وَمَا کُنْتَ تَسْأَلُہُ؟ قَالَ: کُنْتُ اَسْأَلُہُ ھَلْ رَأٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: فَاِنَّیْ قَدْ سَأَلْتُہُ، فَقَالَ: ((قَدْ رَأَیْتُہُ نَوْرًا، أَنَّیْ أَرَاہٗ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۶۳۸)
۔ سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرتا، انھوں نے کہا: تو کون سا سوال کرتا؟ میں نے کہا: میں نے یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا تھا ، جس کے جواب میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کو نور پایا ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔
Takhreej
(۱۰۵۸۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۸ (انظر: ۲۱۳۱۳)
10587
Sahih
۔ (۱۰۵۸۸)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ وَبَھْزٌ قَالَا: ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ قَتَادَۃَ، قَالَ بَھْزٌ: ثَنَا قَتَادَۃُ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ شَقِیْقٍ) قَالَ: قُلْتُ لِأَبِیْ ذَرٍّ: لَوْ اَدْرَکْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَسَأَلْتُہُ، قَالَ: عَنْ أَیِّ شَیْئٍ؟ قُلْتُ: ھَلْ رَأَیْتَ رَبَّکَ؟ قَالَ: قَدْ سَأَلْتُہُ فَقَالَ: ((نُوْرٌ، أَنّٰی اَرَاہٗ۔))یَعْنِیْ: عَلٰی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۲۰)
۔ (دوسری سند) عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پایا ہوتا تو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک سوال کرنا تھا، انھوں نے کہا: کس چیز کے بارے میں؟ میں نے کہا: یہ سوال کرنا تھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے جواب میں فرمایا: وہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔یعنی مثبت جواب دیا۔
Takhreej
(۱۰۵۸۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… حدیث کے آخر میں موجود الفاظ عَلَی طَرِیْقِ الْأِیْجَابِ امام احمد کے ہیںیا ان کے بیٹے کے۔ ان الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ اس حدیث کے الفاظ نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کو اس طرح پڑھا جائے: نُوْر انِّیْ اَرَاہ (میں اس اللہ کو نورانی دیکھتا ہوں)۔ قاضی عیاض نے کہا: لیکنیہ الفاظ نہ ہم تک پہنچے ہیں اور نہ میں نے ان کو اصول میں دیکھا ہے، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے کہا: یہ تصحیف ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ یہ حدیث دو جملوں پر مشتمل ہے، ایک نُوْرٌ اور دوسرا أَنّٰی اَرَاہ ، امام نووی نے (شرح صحیح مسلم: ۳/ ۱۲) میں کہا: تمام رواۃ نے تمام اصول اور روایات میں اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا ہے اور اس کا معنییہ بنتا ہے کہ اس کا پردہ نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھوں۔ یہ معنی درج ذیل حدیث کی روشنی میں کیا گیا ہے: سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((حِجَابُہُ النُّورُ لَوْ کَشَفَہُ لَأَحْرَقَ سُبُحَاتُ وَجْہِہِ مَا انْتَہٰی إِلَیْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہِ۔)) … اس اللہ کا پردہ نور ہے، اگر وہ اس پردے کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ساری مخلوقات کو جلا دیں، جہاں تک اس کی نگاہ پہنچتی ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۷۹) مازری نے کہا: اَرَاہُ میں ہ ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کا معنییہ ہے کہ نور نے مجھے اللہ کی رؤیت سے روک دیا، جیسا کہ عام عادت بھییہی ہے کہ نور آنکھوں کو ڈھانپ لیتا ہے اور دیکھنے والے اور دوسری چیز کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ ابن قیم نے ابن تیمیہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: نُوْرٌ أَنّٰی اَرَاہ کا معنییہ ہے کہ وہاں نور تھا، جو رؤیت کے سامنے حائل ہو گیا، پس میں اس کو کیسے دیکھ سکتا، اس معنی پر دلالت کرنے والے بعض روایات کے الفاظ بھی موجود ہیں، مثلا ایک روایت میں ہے: ایک صحابی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا: ھَلْ رَاَیْتَ رَبَّکَ؟ (کیا آپ نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟) تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جوابا فرمایا: ((رَاَیْتُ نُوْرًا)) … میں نے تو نور دیکھا ہے۔ اس حدیث کے الفاظ نے بہت سارے لوگوں کو پریشان کر دیا، اس لیے انھوں نے ان الفاظ کی تصحیف کرتے ہوئے ان کو نُوْرانِّیْ اَرَاہ پڑھ دیا اور اس حدیث کی عبارت کو ایک جملہ بنا دیا، جبکہ یہ لفظی طور پر بھی غلطی ہے اور معنوی طور پر بھی۔ مزید آپ زاد المعاد: ۳/ ۳۷ اور مجموع الفتاوی : ۳/ ۳۸۶۔ ۳۸۹ کا مطالعہ کریں۔
10588
Sahih
۔ (۱۰۵۸۹)۔ حَدَّثَنَا یَحْیَی عَنْ اِسْمَاعِیْلَ ثَنَّا عَامِرٌ قَالَ: اَتٰی مَسْرُوْقٌ عَائِشَۃَ فَقَالَ: یَا اُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ! ھَلْ رَأٰی مُحَمَّدٌ رَبَّہُ؟ قَالَتْ: سُبْحَانَ اللّٰہِ! لَقَدْ قَفَّ شَعْرِیْ لِمَا قُلْتَ، أَیْنَ أَنْتَ مِنْ ثَلَاثٍ مَنْ حَدَّثَکَھُنَّ فَقَدْ کَذَبَ، مَنْ حَدَّثَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَبَّہُ فَقَدْ کَذَبَ، ثُمَّّ قَرَأَتْ {لَاتُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ} {وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ یُّکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ} وَمَنْ أَخْبَرَکَ بِمَا فِیْ غَدٍ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْأَرْحَامِ} وَمَنْ اَخْبَرَکَ أَنَّ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَتَمَ فَقَدْ کَذَبَ ثُمَّّ قَرَأَتْ {یَا اَیُّھَا الرُّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ} وَلٰکِنَّہُ رَأٰی جِبْرِیْلُ فِیْ صُوْرَتِہِ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۱)
۔ عامر بیان کرتے ہیں کہ مسروق، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آیا اور کہا: اے ام المؤمنین! کیا محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا ہے؟ انھوں نے کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، تیری بات سے میرے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں، تجھے کوئی پتہ نہیں ان تین چیزوں کا کہ جو آدمی ان کو بیانکرے گا، وہ جھوٹا ہو گا، (۱)جو آدمی تجھے یہ بیان کرے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ کو دیکھا، پس اس نے جھوٹ بولا، پھر سیدہ نے یہ آیات پڑھیں: اس کو تو کسی کی نگاہ محیط نہیں ہو سکتی، اور وہ سب نگاہوں کو محیط ہو جاتا ہے۔ (سورہ انعام: ۱۰۳) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ناممکن ہے کہ کسی بندہ سے اللہ تعالیٰ کلام کرے، مگر وحی کے ذریعہیا پردے کے پیچھے سے یا کسی فرشتہ کو بھیجے اور وہ اللہ کے حکم سے جو وہ چاہے وحی کرے، بیشک وہ برتر ہے، حکمت والا ہے۔ (سورۂ زخرف: ۵۱) (۲) جو آدمی تجھے کل کی بات بتلائے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر سیدہ نے یہ آیت پڑھی: بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس قیامت کا علم ہے، وہ بارش نازل کرتا ہے اور اس چیز کو جانتا ہے، جو رحموں کے اندر ہوتی ہے۔ اور (۳) جو آدمی تجھے یہ بات بتلائے کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شریعت کا کوئی حصہ چھپا لیا ہے، وہ بھی جھوٹا ہے، پھر انھوں نے یہ آیت پڑھی: اے رسول! جو کچھ تیرے ربّ کی طرف سے تجھ پر نازل کیا گیا ہے، اس کو آگے پہنچا دے۔ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل کو اس کی اصل صورت میں دوبار دیکھا تھا۔
Takhreej
(۱۰۵۸۹) تخریج: أخرجہ بتمامہ ومختصرا البخاری: ۴۶۱۲، ۴۸۵۵، ۷۳۸۰، ۷۵۳۱، ومسلم: ۱۷۷، ۲۸۹ (انظر: ۲۴۲۲۷)
Explanation
فوائد:… صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: مسروق نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے پوچھا: تو پھر اس آیت کا کیا مطلب ہوا: {ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی۔ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْاَدْنٰی۔ فَاَوْحٰٓی اِلٰی عَبْدِہِ مَآ اَوْحٰی۔} … پھر وہ نزدیک ہوا، پس اتر آیا۔ پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔ پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔ (سورۂ نجم: ۸، ۹، ۱۰)؟ سیدہ نے کہا: اس میں تو جبریل علیہ السلام کا ذکر ہے، وہ مردوں کی صورت میں آتے رہتے تھے، اس بار وہ اپنی اصل شکل میں آئے اور آسمان کے افق کو بھر دیا۔
10589
Sahih
۔ (۱۰۵۹۰)۔ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ عَنْ مَسْرُوْقٍ اَیْضًا قَالَ: کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَۃَ، فَقَالَتْ: یَا أَبَا عَائِشَۃَ! أَنَا اَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ھٰذِہِ، قَالَ: ((ذٰلِکَ جِبْرِیْلُ لَمْ اَرَہُ فِیْ صُوْرَتِہِ الَّتِیْ خُلِقَ فِیْھَا اِلَّا مَرَّتَیْنِ، رَأَیْتُہُ مُنْھَبِطًا مِنَ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِہِ مَابَیْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ)) (مسند احمد: ۲۶۵۲۱)
۔ (دوسری سند) مسروق کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھا تھا، سیدہ نے کہا: اے ابو عائشہ! میں وہ پہلا فرد ہوں، جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں سوال کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ جبریل تھے، میں نے صرف دو بار اس کو اس کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، جب میں نے اس کو آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو اس کے بڑے وجود نے آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر رکھا تھا۔
Takhreej
(۱۰۵۹۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… یہ روایت اس اعتبار سے واضح ہے کہ سورۂ نجم کی آیات کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رؤیت سے نہیں ہے، ان آیات کے مصداق جبریل علیہ السلام ہیں۔
10590
Sahih
۔ (۱۰۵۹۱)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَأَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِبْرِیْلَ أَنْ یَرَاہُ فِیْ صُوْرَتِہِ، فقَالَ: أُدْعُ رَبَّکَ، قَالَ: فَدَعَا رَبَّہُ فَطَلَعَ عَلَیْہِ سَوَادٌ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، قَالَ: فَجَعَلَ یَرْتَفِعُ وَیَنْتَشِرُ، قَالَ: فَلَمَّا رَآہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَعِقَ، فَأَتَاہُ فَنَعَشَہُ وَمَسَحَ الْبُزَاقَ عَنْ شِدْقَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبریل علیہ السلام سے سوال کیا کہ آپ ان کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں، انھوں نے کہا: اپنے ربّ سے دعا کرو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے دعا کی، پس مشرق کی طرف سے سیاہ رنگ کا ایک وجود اٹھا، پھر وہ بلند ہونے اور پھیلنے لگا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیہوش ہو گئے، جبریل علیہ السلام آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھڑا کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گوشۂ دہن سے لعاب کو صاف کیا۔
Takhreej
(۱۰۵۹۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، ادریس بن منبہ، وھو ادریس بن سنان الیمانی، قال ابن عدی: ھو من الضعفاء الذینیکتب حدیثھم، وقال الدار قطنی: متروک، أخرجہ الطبرانی: ۱۱۰۳۳(انظر: ۲۹۶۵)
10591
Zaeef
۔ (۱۰۵۹۲)۔ عَنْ أبِیْ عُبَیْدَۃَ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی (یَعْنِیْ الْأَشْعَرِیَّ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَا یَنَامُ وَلَا یَنْبَغِیْ لَہُ أَنْ یَنَامَ،یَخْفِضُ الْقِسْطَ وَیَرْفَعُہُ، حِجَابُہُ النَّارُ لَوْ کَشَفَھَا لَأَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْھِہِ کُلَّ شَیْئٍ أَدْرَکَہُ بَصَرُہُ، ثُمَّّ قَرَأَ أَبُوْ عُبَیْدَۃَ {نُوْدِیَ أَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِیْ النَّارِ وَمَنْ حَوْلَھَا وَسُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ} (مسند احمد: ۱۹۸۱۶)
۔ سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک نہ اللہ تعالیٰ سوتا ہے اور نہ سونا اس کے شایانِ شان ہے، وہ کسی کے حق میں ترازوں کو جھکاتا ہے اور کسی کے حق میں اٹھا دیتا ہے، اس کا پردہ آگ کا ہے، اگر وہ اس پردے کو چاک کر دے تو اس کے چہرے کے انوار و تجلیات ہر اس چیز کو جلا دیں گے، جہاں تک اس کی نگاہ کا ادراک ہے۔ پھر ابو عبیدہ راوی نے اس آیت کی تلاوت کی: جب موسی وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور برکت دیا گیا ہے، وہ جو اس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ، جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ (سورۂ نمل: ۸)
Takhreej
(۱۰۵۹۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۹ (انظر: ۱۹۵۸۷)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث اس حقیقت پر دلالت کرتی ہے کہ دنیا میں مخلوق کے لیے اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اور سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی احادیث بھی عدم رؤیت پر دلالت کرتی ہیں۔ ابو عبیدہ راوی نے جو آیت تلاوت کی، وہ پورا مضمون یوں ہے: {اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِاَہْلِہٖٓاِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا سَاٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِخَــبَرٍ اَوْ اٰتِیْکُمْ بِشِہَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ۔ فَلَمَّا جَاء َہَا نُوْدِیَ اَنْ بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمَنْ حَوْلَہَا وَسُبْحٰنَ اللّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یٰمُوْسٰٓی اِنَّہٓ اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔} … جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنے گھر والوں سے کہا بلاشبہ میں نے ایک آگ دیکھی ہے، میں عنقریب تمھارے پاس اس سے کوئی خبر لاؤں گا، یا تمھارے پاس اس سے سلگایا ہوا انگارا لے کر آؤں گا، تاکہ تم تاپ لو۔ تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ برکت دی گئی ہے اسے جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اے موسیٰ! بے شک حقیقتیہ ہے کہ میں ہی اللہ ہوں، جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔(سورۂ نمل: ۷، ۸، ۹) یہ اس وقت کا واقعہ ہے، جب موسی علیہ السلام مدین سے اپنی اہلیہ کو ساتھ لے کر واپس آ رہے تھے، رات کو اندھیرے میں راستے کا علم نہیں تھا اور سردی سے بچاؤ کے لیے آگ کی بھی ضرورت تھی، جس چیز کو موسی علیہ السلام نے آگ محسوس کیا،یہ کوہ طور کا مقام تھا، جب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ سر سبز درخت سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے تھے، یہ حقیقت میں آگ نہیں تھی، اللہ تعالیٰ کا نور تھا، جس کی تجلی آگ کی طرح محسوس ہوتی تھی۔ جو آگ میں ہے، اس کو برکت دی گئی اس سے مراد اللہ تعالیٰ تھا، آگ سے مراد اس کانور تھا اور اس کے ارد گرد سے مراد موسی علیہ السلام خود اور فرشتے تھے۔ ابو عبیدہ راوی نے یہ آیت پڑھ کر حدیث ِ مبارکہ کے مضمون کو واضح کیا، کیونکہ آیت مقدسہ کے مطابق بھی اللہ تعالیٰ اور موسی علیہ السلام کے درمیان نور حائل تھا۔
10592
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.