TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان

Chapter 31 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 31 of 51 · 1 Hadith
۔ (۱۰۵۶۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أُتیْتُ بِالْبُرَاقِ، وَھُوَ دَابَّۃٌ أَبْیَضُ طَوِیْلٌ فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُوْنَ الْبَغْلِ، یَضَعُ حَافِرَہُ عِنْدَ مُنْتَھٰی طَرْفِہِ، قَالَ: فَرَکِبْتُہُ حَتّٰی أَتَیْتُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: فَرَبَطْتُّہُ بِالْحَلْقَۃِ الَّتِییَرْبِطُ بِھَا الْأَنْبِیَائُ، قَالَ: ثُمَّ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَصَلَّیْتُ فِیْہِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجَائَ نِی جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ بِأِنَائٍ مِنْ خَمْرٍ وَإِنَائٍ مِنْ لَبَنٍ، فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقَالَ جِبْرِیْلُعَلَیْہِ السَّلَامُ: اِخْتَرْتَ الْفِطْرَۃَ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِآدَمَ، فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ، ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الثَّانِیَۃِ۔ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ اِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِاِبْنَیِ الْخَالَۃِ: عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَیَحْیَی بْنِ زَکَرِیَّا صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمَا، فَرَحَّبَا وَدَعَوَا لِی بِخَیْرٍ۔ ثُمَّ عُرِجَ بِیْ إِلَی السَّمَائِ الثَّالِثَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ فَقِیْلَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ:مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِیُوْسُفَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، إِذَا ھُوَ قَدْ أُعْطِیَ شَطْرَ الْحُسْنِ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الرَّابِعَۃِ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قَالَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِدْرِیْسَ، فَرَحَّبَ بِیْ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ، وَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: {وَرَفَعْنَاہُ مَکَانًا عَلِیًّا}ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ الْخَامِسَۃِ۔ فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ فَقَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ۔ فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِھَارُوْنَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَرَحَّبَ وَدَعَالِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّادِسَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ قِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قاَلَ: مُحَمَّدٌ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا فَإِذَا أَنَا بِمُوْسٰی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَحَّبَ وَدَعَا لِی بِخَیْرٍ ثُمَّ عُرِجَ بِنَا إِلَی السَّمَائِ السَّابِعَۃِ، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِیْلُ۔ فَقِیْلَ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالَ: جِبْرِیْلُ۔ قِیْلَ: وَمَنْ مَعَکَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ قِیْلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ؟ قَالَ: قَدْ بُعِثَ إِلَیْہِ، فَفُتِحَ لَنَا، فَإِذَا أَنَا بِإِبْرَاھِیْمَ مُسْنِداً ظَھْرَہُ إِلَی الْبَیْتِ الْمَعْمُوْرِ، وَإِذَا ھُوَیَدْخُلُہُ کُلَّ یَوْمٍ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ لَایَعُوْدُوْنَ إِلَیْہِ۔ ثُمَّ ذَھَبَ بِی إِلَی السِّدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی، وَإِذَا وَرَقُھَا کَآذَانِ الْفِیَلَۃِ، وَإِذَا ثَمَرُھَا کَالْقِلَالِ، قَالَ:فَلَمَّا غَشِیَھَا مِنْ أَمْرِ اللّٰہِ مَاغَشِیَ، تَغَیَّرَتْ، فَمَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ یَسْتَطِیْعُ أَن یَّنْعَتَھَا مِنْ حُسْنِھَا، فَأَوْحٰی اللّٰہُ إِلَیَّ مَا أَوْحٰی، فَفَرَضَ عَلَیَّ خَمْسِیْنَ صَلَاۃً فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَنَزَلْتُ إِلٰی مُوْسٰی فَقَالَ:مَافَرَضَ رَبُّک عَلٰی اُمَّتِکَ؟ قُلْتُ: خَمْسِیْنَ صَلَاۃً۔ قَالَ: اِرْجِعْ اِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ فَاِنَّ اُمَّتَکَ لَایُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ، فَإِنِّی قَدْ بَلَوْتُ بَنِی إِسْرَائِیْلَ وَخَبَرْتُھُمْ۔ قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلٰی رَبِّیْ۔ فَقُلْتُ: یَارَبِّ! خَفِّفْ عَلٰی أُمَّتِی، فَحَطَّ عَنِّی خَمْساً فَرَجَعْتُ إِلٰی مُوْسٰی، فَقُلْتُ: حَطَّ عَنِّی خَمْساً۔ قَالَ: إِنَّ أُمَّتَکَ لَایُطِیْقُوْنَ ذٰلِکَ فَارْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ۔ قاَلَ: فَلَمْ أَزَلْ أَرْجِعُ بَیْنَ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَبَیْنَ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلَامُ حَتّٰی قَالَ: یَامُحَمَّدُ! إِنَّھُنَّ خَمْسُ صَلَوَاتٍ کُلَّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، لِکُلِّ صَلَاۃٍ عَشْرٌ، فَذٰلِکَ خَمْسُوْنَ صَلَاۃً، وَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا،کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَإِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہُ عَشْراً، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، لَمْ یُکْتَبْ شَیْئاً، فَإِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ سَیَّئَۃً وَاحِدَۃً۔ قَالَ: فَنَزَلْتُ حَتّٰی انْتَھَیْتُ إِلٰی مُوْسٰی فَأَخْبَرْتُہُ، فَقَالَ: اِرْجِعْ إِلٰی رَبِّکَ فَاسْأَلْہُ التَّخْفِیْفَ۔ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : فَقُلْتُ: قَدْ رَجَعْتُ إِلٰی رَبِّی حَتّٰی اسْتَحْیَیْتُ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۲۵۳۳)
۔ انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس براق لایاگیا، وہ گدھے سے بڑا اور خچرسے چھوٹاسفید رنگ کا لمبا جانور تھا، وہ اپنا قدم وہاں رکھتا تھا جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی۔ میں اُس پر سوار ہوا،(اور چل پڑا) حتیٰ کہ بیت المقدس میں پہنچ گیا، میں نے اُس کو اُس کڑے کے ساتھ باندھ دیا جس کے ساتھ دوسرے انبیاء بھی باندھتے تھے،پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ جب میں وہاں سے نکلا تو حضرت جبریل علیہ السلام شراب کا اور دودھ کا ایک ایک برتن لائے، میں نے دودھ کا انتخاب کیا۔ جبریل نے کہا: آپ نے فطرت کو پسند کیاہے۔ پھر ہمیں آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ (جب ہم وہاں پہنچے تو) جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، کہا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: (جی ہاں) انہیں بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔میں نے حضرت آدم علیہ السلام کو دیکھا ، انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعا کی۔پھر ہمیں دوسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا۔ جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا، پوچھا گیا: کون ہے؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ فرشتوں نے کہا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا: (جی ہاں!ان کو بلایا گیا ہے۔ پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیاگیا۔ میں نے خالہ زاد بھائیوں عیسیٰ بن مریم اوریحییٰ بن زکریا کو دیکھا، اُن دونوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔پھرہمیں تیسرے آسمان کی طرف اٹھایاگیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا ۔فرشتوں نے پوچھا: کون؟اس نے کہا: جبریل۔ فرشتوں نے پوچھا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ کہاگیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟جبریل نے کہا :جی ہاں! انہیںبلایا گیا ہے۔سو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا، وہاں میں نے یوسف علیہ السلام کو دیکھا،(ان کی خوبصورتی سے معلوم ہوتا تھا کہ) نصف حسن ان کو عطا کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔پھرہمیں چوتھے آسمان کی طرف اٹھایا گیا، جبریل نے دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا: جبریل ہوں۔ پھر پوچھا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہاگیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ اُس نے کہا: جی ہاں! اُن کو بلایا گیا ہے، پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ادریس علیہ السلام کو دیکھا، انہوںنے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے خیر و بھلائی کی دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اور ہم نے ادریس کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔پھر ہمیں پانچویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا، اور دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون ؟ اس نے کہا: میں جبریل ہوں۔ کہاگیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ پوچھاگیا: کیا انہیںبلایا گیا ہے؟ جبریل نے جواب دیا: جی ہاں! انہیں بلایا گیا ہے،پھر ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں حضرت ہارون ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے خیر کی دعا کی۔پھر ہمیں چھٹے آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور چھٹے آسمان پر دروازہ کھولنے کا مطالبہ کیا۔ کہا گیا: کون؟اس نے کہا: جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ پھر پوچھا گیا: کیا ان کو بلایا گیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں! پس ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے وہاں موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ۔اُنہوں نے مجھے مرحبا کہا اور میرے لیے دعائے خیر کی۔ پھرہمیں ساتویں آسمان کی طرف اٹھایا گیا اور دروازہ کھولنے کے لیے کہا گیا۔ پوچھا گیا: کون؟ اس نے کہا:جبریل ہوں۔ کہا گیا: تیرے ساتھ کون ہے؟ اس نے کہا: محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہیں۔ کہا گیا:کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جبریل نے کہا : ہاں! ان کو بلایا گیا ہے۔ سو دروازہ کھول دیا گیا۔ میں نے ابراہیم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا ۔وہ بیتِ معمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ (بیتِ معمور کی کیفیتیہ ہے کہ) ہر روز اس میں ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیںاور پھردوبارہ ان کی باری نہیں آتی۔ پھر جبریل مجھے سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی کے پاس لے گئے، اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کی طرح تھے اور اُس کا پھل مٹکوں کی مانند ۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی چیز سے اسے ڈھانکا گیا تو (اس کی کیفیتیوں) بدل گئی کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی اس کا حسن بیان نہیں کر سکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی اور ہر دن رات میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ میں اُتر کر موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا،انہوں نے پوچھا: تیرے رب نے تیری امت پر کیا کچھ فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس نمازیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اپنے ربّ کے پاس جاؤ اور تخفیف کا سوال کرو، تیری امت (کے افراد) میں اتنی استطاعت نہیں ہے، میں نے بنی اسرائیل کو آزما لیاہے اور اُن کا تجربہ کر چکا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا:پس میں اپنے پروردگار کی طرف واپس چلا گیا اور کہا: اے میرے ربّ! میری امت کے لیے (نمازوں والے حکم میں) تخفیف کیجیے۔ پس اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کم کردی۔ پھر میں موسیٰ کی طرف لوٹا اور ان کو بتلایا کہ مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئی ہیں، انہوں نے کہا: تیری امت کو اتنی طاقت بھی نہیں ہو گی، اس لیے اپنے رب کے پاس جاؤ اور اس سے (مزید) کمی کا سوال کرو۔ آپ نے فرمایا: میں اسی طرح اپنے پروردگار اور موسیٰ کے درمیان آتا جاتا رہا،حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محمد ! ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، ہر نماز (کے عوض) دس نمازوں کا ثواب ہے،(اس طریقے سے یہ) پچاس نمازیں ہوں گئیں اور (مزید سنو کہ) جس نے نیکی کا قصد کیا اور (عملًا) نہیں کی تو اُس کے لیے ایک نیکی لکھ دی جائے گی اور اگر اُس نے وہ نیکی عملًا کرلی تو اُس کے لیے دس گنا ثواب لکھ دیاجائے گا اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور عملًا اُس کا ارتکاب نہیں کیا،تو اُس (کے حق میں کوئی گناہ) نہیں لکھا جائے گا، اور اگر اُس نے عملًا برائی کا ارتکاب کر لیا تو (پھر) اُس کے لیے ایک برائی لکھ دی جائے گی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نیچے اترا اور موسیٰ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا اور اُن کو (ساری صورتحال کی) خبر دی۔انہوں نے پھر کہا: اپنے پرودگار کی طرف لوٹ جائو اور اُس سے مزید تخفیف کا سوال کرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کہا: میں اپنے پروردگار کی طرف (بار بار) لوٹ چکا ہوں۔ اب تو میں اپنے ربّ سے شرماتا ہوں۔
Takhreej
(۱۰۵۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۲ (انظر: ۱۲۵۰۵)
10568
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.