TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا

Chapter 37 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 37 of 51 · 3 Hadith
۔ (۱۰۵۹۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمَّا کَانَ لَیْلَۃُ أُسْرِیَ بِیْ، وَأَصْبَحْتُ بِمَکَّۃَ فَظِعْتُ بِأَمْرِی وَعَرَفْتُ أَنَّ النَّاسَ مُکَذِّبِیَّ۔)) فَقَعَدَ مُعْتَزِلاً حَزِیْناً قَالَ: فَمَرَّ عَدَوُّ اللّٰہِ أَبُوْ جَھْلٍ، فَجَائَ حَتّٰی جَلَسَ إِلَیْہِ، فَقَالَ لَہُ۔ کَالْمُسْتَھْزِیِٔ۔ ھَلْ کَانَ مِنْ شَیْئٍ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ: ((نَعَمْ))قَالَ: مَاھُوَ؟ قَالَ: ((إِنَّہٗاُسْرِیَ بِیَ اللَّیْلَۃَ۔)) قَالَ: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَ: ((إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قَالَ: ثُمَّ اَصْبَحْتَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَلَمْ یَرَ أَنَّہُ یُکَذِّبُہُ مَخَافَۃَ أَن یَّجْحَدَہُ الْحَدِیْثَ إِذَا دَعَا قَوْمَہُ إِلَیْہِ، قَالَ: أَرَأَیْتَ إِنْ دَعَوْتُ قَوْمَکَ تُحَدِّثُھُمْ مَاحَدَّثْتَنِی؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ)) فَقَالَ: ھَیَّا مَعْشَرَبَنِی کَعْبِ بْنِ لُؤَیٍّ! فَانَتَفَضَتْ إِلَیْہِ الْمَجَالِسُ، وَجَائُ وْا حَتّٰی جَلَسُوْا إِلَیْھَا، قَالَ: حَدِّثْ قَوْمَکَ بِمَا حَدَّثْتَنِی، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّیْ أُسْرِیَ بِیَ اللَّیْلَۃَ۔)) قَالُوْا: إِلٰی أَیْنَ؟ قَالَ: ((إِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) قَالُوْا: ثُمَّ أَصْبَحْتَ بَیْنَ ظَھْرَانَیْنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ)) قَالَ: فَمِنْ بَیْنَ مُصْفِقٍ، وَمِنْ بَیْنِ وَاضِعٍ یَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ مُتَعَجِّباً لِلْکِذْبِ۔ زَعَمَ! قَالُوْا: وَھَلْ تَسْتَطِیْعُ أَنْ تَنْعَتَ لَنَا الْمَسْجِدَ، وَفِی الْقَوْمِ مَنْ قَدْ سَافَرَ إِلٰی ذٰلِکَ الْبَلَدِ وَرَأَی الْمَسْجِدَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَذَھَبْتُ أَنْعَتُ، فَمَازِلْتُ أَنْعَتُ حَتّٰی الْتَبَسَ عَلَیَّ بَعْضُ النَّعْتِ۔ قَالَ: فَجِیَٔ بِالْمَسْجِدِ وَأَنَا أَنْظُرُ حَتّٰی وُضِعَِ دُوْنَ دَارِ عِقَالٍ۔ أَوْ عَقِیْلٍ۔ فَنَعَتُّہُ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَیْہ۔)) قَالَ: وَکاَنَ مَعَ ھٰذَا نَعَتٌ لَمْ أَحْفَظْہُ۔ قاَلَ: فَقَالَ الْقَوْمُ: أَمَّا النَّعْتُ، فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ أَصَابَ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۹)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب مجھے اسرا کرایا گیا اور میں صبح کو مکہ میں پہنچ گیا، میں گھبرا گیا اور مجھے علم ہو گیا کہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے، سو آپ خلوت میں غمزدہ ہو کر بیٹھ گئے۔ اللہ کا دشمن ابوجہل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے گزرا، وہ آیا اور آپ کے پاس بیٹھ گیا اور مذاق کرتے ہوئے کہا: کیا کچھ ہوا ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: کیا ہوا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اسرا کرایا گیا ہے۔ اس نے کہا: کہاں تک؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ اس نے کہا: پھر صبح کو آپ ہمارے پاس بھی پہنچ گئے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں۔ ابوجہل نے سوچا کہ ابھی اس کو نہیں جھٹلاتا، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنی قوم کو بلاؤں اور یہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اپنی بات بیان کرنے سے انکا ردے۔ اس لئے ابوجہل نے کہا: اگر میں تیری قوم کو بلاؤں تو تو ان کے سامنے یہی گفتگو بیان کرے گا؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: بنو کعب بن لؤی کی جماعت ادھر آؤ۔ ساری کی ساری مجلسیں اس کی طرف ٹوٹ پڑیں، وہ سب کے سب آ گئے اور ان دونوں کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے کہا: (اے محمد!) جو بات مجھے بیان کی تھی، ان کوبھی بیان کرو۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج رات مجھے اِسراء کرایا گیا۔ انھوںنے کہا: کہاں تک؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیت المقدس تک۔ انھوں نے کہا: پھر صبح کو یہاں بھی پہنچ گئے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (یہ سن کر) کوئی تالی بجانے لگ گیا اور کوئی (بزعمِ خود) اس جھوٹ پرمتعجب ہو کر اپنے سر کو پکڑ کر بیٹھ گیا۔ پھر انھوں نے کہا: کیا مسجد اقصی کی علامات بیان کرسکتے ہو؟ ان میں سے بعض لوگوں نے اس علاقے کا سفر بھی کیا ہوا تھا اور مسجد اقصی دیکھی ہوئی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اس کی علامتیں بیان کرنا شروع کر دیں، لیکن بعض نشانیوں کے بارے میں اشتباہ و التباس سا ہونے لگا۔ آپ نے فرمایا: مسجد اقصی کی (تمثیل کو) کو لایا گیا اور عقال یا عقیل کے گھر سے بھی قریب رکھ دیا گیا، میں نے اسے دیکھ کر نشانیاں بیان کر دیں، اس کے باوجود مجھے کچھ نشانیاںیاد نہ رہیں۔ لوگوں نے کہا: رہا مسئلہ علامات کا، تو وہ تو اللہ کی قسم! آپ نے درست بیان کر دیں ہیں۔
Takhreej
(۱۰۵۹۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ البزار: ۵۶، والنسائی فی الکبری : ۱۱۲۸۵، وابن ابی شیبۃ: ۱۱/ ۴۶۱ (انظر: ۲۸۱۹)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ نے اسراء و معراج کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک معجزہ عطا کر دیا کہ بیت المقدس کی تمثیل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کر دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یوں علامتیں بیان کیں کہ تعجب کرنے والوں اور استہزاء کرنے والوں کی بولتی بند ہو گئی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر ، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرح ہی ہیں،
10593
Sahih
۔ (۱۰۵۹۴)۔ عَنْہ اَیْضًا قَالَ: أُسْرِیَ بِالنَّبِیِّ اِلٰی بَیْتِ الْمَقْدَسِ ثُمَّّ جَائَ مِنْ لَیْلَتِہِ فَحَدَّثَھُمْ بِمَسِیْرِہِ وَبِعَلَامَۃِ بَیْتِ الْمَقْدِسِ وَبِعِیْرِھِمْ، فَقَالَ نَاسٌ: نَحْنُ نُصَدِّقُ مُحَمَّدًا بِمَا یَقُوْلُ فَارْتَدُّوْا کُفَّارًا، فَضَرَبَ اللّٰہُ أَعْنَاقَھُمْ مَعَ أبِیْ جَھْلٍ وَقَالَ اَبْوُ جَھْلٍ: یُخَوِّفُنَا مُحَمَّدٌ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ ھَاتُوْا تَمْرًا وَزُبْدًا فَتَزَقَّمُوْا، وَرَأَی الدَّجَّالَ فِیْ صُوْرَتِہِ رُؤْیَا عَیْنٍ لَیْسَ رُؤْیَا مَنَامٍ، وَعِیْسٰی وَمُوسٰی وَاِبْرَاھِیْمَ صَلَوَاتُ اللّٰہِ عَلَیْھِمْ، فَسُئِلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الدَّجَّالِ فقَالَ: اَقْمَرُ ھِجَانًا، قَالَ حَسَنٌ: قَالَ: رَأَیْتُہُ فَیْلَمَانِیًا اَقْمَرُ ھِجَانًا اِحْدَی عَیْنَیْہِ قَائِمَۃٌ کَأَنَّھَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ، کَأَنَّ شَعْرَ رَأْسِہِ أَغْصَانُ شَجَرَۃٍ، وَرَأَیْتُ عِیْسٰی شَابًّا أَبْیَضَ، جَعْدَ الرَّأْسِ، حَدِیْدَ الْبَصَرِ، مُبَطَّنَ الْخَلْقِ، وَرَأَیْتُ مُوسٰی أَسْحَمَ آدَمَ کَثِیْرَ الشَّعْرِ، (قَالَ حَسَنٌ: اَلشَّعَرَۃِ) شَدِیْدَ الْخَلْقِ، وَنَظَرْتُ اِلٰی اِبْرَاھِیْمَ فَـلَا أَنْظُرُ اِلَی اِرْبٍ مِنْ آرَابِہٖاِلَّانَظَرْتُاِلَیْہِ مِنِّیْ کَأَنَّہُ صَاحِبُکُمْ، فَقَالَ جِبْرِیْلُ: سَلِّمْ عَلٰی مَالِکٍ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۳۵۴۶)
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت المقدس کی طرف اسراء کرایا گیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسی رات کو ہی واپس آ گئے اور لوگوں کو اپنے سفر ، بیت المقدس کی علامت اور ان کے قافلے کے بارے میں بتایا، لوگوں نے کہا: کیا ہم محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی باتوںکی تصدیق کریں؟ پھر وہ کفر پر ڈٹ گئے، پس اللہ تعالیٰ (غزوۂ بدر کے موقع پر) ان کی گردنوں کو ابو جہل کے ساتھ ٹکرا دیا، ابو جہل نے (استہزاء کرتے ہوئے) کہا: محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہمیں زقوم کے درخت سے ڈراتا ہے، لے آؤ اور کھجور اور مکھن اور کھاؤ (افریقی زبان میں کھجور اور مکھن کو زقوم کہتے تھے)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں نہیں، بلکہ اپنی آنکھوں سے دجال کو اس کی اصلی شکل میں دیکھا،نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیسی، موسی اور ابراہیمR کو دیکھا، پھر جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دجال کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ بڑے جسم والا اور انتہائی سفید رنگ کا تھا، اس کیایک آنکھ اس طرح ابھری ہوئی تھی کہ گویا کہ وہ روشن ستارہ تھی، اس کے سر کے بال (اس قدر زیادہ تھے کہ) وہ درخت کی شاخوں کی طرح لگ رہا تھا، میں نے عیسی علیہ السلام کودیکھا، وہ سفیدرنگ کے نوجوان تھے، سر کے بال گھنگریالے تھے، وہ تیز نگاہ والے اور پتلے دبلے پیٹ والے تھے، میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سیاہی مائل گندمی رنگ کے اور گھنے بالوں والے تھے۔ حسن راوی نے کہا: ان کے بال سخت تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، پس میں نے ان کا جو عضو دیکھا، ایسے لگا کہ میں اپنا عضو دیکھ رہا ہوں، گویا کہ وہ تمہارے ساتھی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی طرح ہی ہیں،پھر جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: (جہنم کے داروغے) مالک کو سلام کہو، پس میں نے اس کو سلام کہا۔
Takhreej
(۱۰۵۹۴) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۲۷۲۰ (انظر: ۳۵۴۶)
10594
Sahih
۔ (۱۰۵۹۵)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ یُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَمَّا کَذَّبَتْنِیْ قُرَیْشٌ حِیْنَ أُسْرِیَ بِیْ اِلَی بَیْتِ الْمَقْدِسِ قُمْتُ فِیْ الْحِجْرِ فَجَلَا اللّٰہُ لِیْ بَیْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُھُمْ عَنْ آیَاتِہِ وَأَنَا أَنْظُرُ اِلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۹۹)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قریش نے بیت المقدس کی طرف اسراء کے سلسلے میں مجھے جھٹلا دیا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے میرے لیے بیت المقدس کو واضح کر دیا، پس میں نے اس کو دیکھ کر قریشیوں کو اس کی نشانیوں کے بارے میں بتلانا شروع کر دیا۔
Takhreej
(۱۰۵۹۵) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۸۸۶، ومسلم: ۱۷۰ (انظر: ۱۵۰۳۴)
10595
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.