سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
Chapter 23 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے
نبی محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابو جہل اور عمر بن خطاب میں جو آدمی تجھے زیادہ محبوب ہے، اس کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما۔ پس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب تھے۔
فوائد:… نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ دعا سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ہوئی اور پھر واقعی ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ ملا۔
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں قبولیت ِ اسلام سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درپے ہوتا تھا، ایک دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میںپایا کہ آپ مجھ سے پہلے مسجد میں پہنچ گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ حاقہ کیتلاوت شروع کی، مجھے قرآن مجید کی تالیف و ترتیب سے بڑا تعجب ہونے لگا، میںنے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو قریش کے کہنے کے مطابق شاعر لگتا ہے، میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کر دی: {اِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِیْلًا مَاتُؤْمِنُوْنَ} … بیشکیہ عزت والے قاصد کی بات ہے، یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے، مگر کم ہی تم ایمان لاتے ہو۔ میں نے کہا: یہ نبی تو نجومی ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان آیات کی تلاوت کی: {وَلَا بِقَوْلِ کَاھِنٍ قَلَیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ، تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِیْلِ لَأَخَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ، فَمَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْہُ حَاجِزِیْنِ} … اور نہ یہ قرآن کسی کاہن اور نجومی کا قول ہے، افسوس بہت کم نصیحت لے رہے ہو، یہ تو رب العالمین کا اتارا ہوا ہے، اور اگر یہ ہم پر کوئی بھی بات بنا لیتا تو البتہ ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، اور پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی بھی اس سے روکنے والے نہ ہوتے، یقینایہ قرآن پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے، ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ تم میں سے بعض اس کے جھٹلانے والے ہیں، بیشکیہ جھٹلانا کافروں پر حسرت ہے، اور بے شک و شبہ یہیقینی حق ہے، پس تو اپنے ربّ عظیم کی پاکی بیان کر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: (پس قرآن کا یہ حصہ سننا تھا کہ) اسلام میرے دل میں گھر کر گیا۔
Takhreej
(۱۰۵۴۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، شریح بن عبید لم یُدرک عمر (انظر: ۱۰۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے تین ہی دن بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے، یہ اسلام لانے سے پہلے جس قدر مسلمانوں کے خلاف سخت گیر تھے، اتنا ہی ان کی وجہ سے عزت ِ اسلام میں اضافہ ہوا، تقریبا۶یا۷ سنہ نبوت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو قبولیت ِ اسلام کا شرف حاصل ہوا۔