TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 11120 - آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا - سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 11 in this chapter
آپ کے جسد اطہر، اعضاء کے تناسب و درستی اور آپ کے دیگر کمالات کا تذکرہ جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا
۔ (۱۱۱۲۰)۔ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِیٍّ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَیْسٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ قَیْسٍ، عَنْ یُوسُفَ بْنِ مَازِنٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ! انْعَتْ لَنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صِفْہُ لَنَا؟ فَقَالَ: کَانَ لَیْسَ بِالذَّاہِبِ طُولًا وَفَوْقَ الرَّبْعَۃِ، إِذَا جَائَ مَعَ الْقَوْمِ غَمَرَہُمْ أَبْیَضَ شَدِیدَ الْوَضَحِ، ضَخْمَ الْہَامَۃِ، أَغَرَّ أَبْلَجَ ہَدِبَ الْأَشْفَارِ، شَثْنَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ، إِذَا مَشَییَتَقَلَّعُ کَأَنَّمَا یَنْحَدِرُ فِی صَبَبٍ، کَأَنَّ الْعَرَقَ فِی وَجْہِہِ اللُّؤْلُؤُ، لَمْ أَرَ قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ مِثْلَہُ، بِأَبِی وَأُمِّی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۰)
یوسف بن مازن سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ ہمیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کریں، انہوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بہت زیادہ طویل قامت نہ تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم متوسط قد سے قدرے دراز تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دوسروں کے ساتھ کھڑے ہوتے توان سے نمایاں لگتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت چمکیلی سفید تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک بڑا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ انور خوب روشن تھا، ابرو آپس میں ملے ہوئے نہ تھے، پلکیں گھنی اور طویل تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک بھرے بھرے تھے،جب چلتے تو قوت سے یوں چلتے جیسے بلندی سے پستی کی طرف جا رہے ہوں، آپ کے چہرے پرپسینہ موتیوں کی طرح چمکتا تھا، میرے ماں باپ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہوں۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
11120
Zaeef
Bookmark
Status: Zaeef
:حکم حدیث ضعیف
Conclusion
تخریج
(۱۱۱۲۰) تخریج:اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، یوسف بن مازن لم یدرک علیا،بینھما رجل لم یسمّ، وخالد بن خالد مجھول لایعرف (انظر: ۱۳۰۰)

Related Chapters

27
1
دیت کے ابواب نفس، اعضاء اور اعضاء کی منفعتوں کی دیت کا جامع تذکرہ اور اس میں قتل خطا، قتل عمد اور قتل شبہ عمد کا بیان
Musnad Ahmad
2
(36)Chapter: [What Has Been Related] About One Who performs Some Of Wudu, Two Times Each, And Some Of It Three
باب: وضو میں بعض اعضاء دو بار دھونے اور بعض تین بار دھونے کا بیان​
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About Prostrating On Seven Bones
باب: سجدہ سات اعضاء پر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Health And Free Time Are Two Favors Squandered By Many Of The People
باب: تندرستی اور فرصت کی نعمتوں میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں
Jam e Tirmazi
5
اعضاء کو ایک ایک دفعہ، دو دو دفعہ اور تین تین دفعہ دھو کر وضو کرنے اور تین سے زیادہ کرنے کی کراہت کا بیان
Musnad Ahmad
6
سجدے کے اعضاء اور بال اور کپڑا لپیٹنے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
7
قاضی کے فیصلے میں درستی اور خطا دونوں کے امکان، مجتہد قاضی کے اجر اور اس کے فیصلہ کرنے کی کیفیت کا بیان
Musnad Ahmad
8
قیامت کے دن زمین اور انسان کے اعضاء کی انسان کے خلاف شہادت
Musnad Ahmad
9
(16) CHAPTER. Whoever performed the ablution of Janaba and then washed his body but did not wash once again the parts which were washed in ablution.
اس بارے میں کہ جس نے جنابت میں وضو کیا پھر اپنے تمام بدن کو دھویا ، لیکن وضو کے اعضاء کو دوبارہ نہیں دھویا
Sahih Bukhari
10
(11) CHAPTER. (To start with) the parts of the dead body which are washed in ablution.
اس بارے میں کہ پہلے میت کے اعضاء وضو کو دھویا جائے
Sahih Bukhari
11
(11) CHAPTER. What kind of As-Sadaqa (charity) is superior? The superiority of charity practised by a niggardly healthy person.
تندرستی اور مال کی خواہش کے زمانہ میں صدقہ دینے کی فضیلت
Sahih Bukhari
12
(12) CHAPTER. (What is said regarding) the adultery of the body parts other than the private parts.
شرمگاہ کے علاوہ دوسرے اعضاء کے زنا کابیان
Sahih Bukhari
13
(15) CHAPTER. The milk (see in a dream).
جب دودھ کسی کے اعضاء و ناخون سے پھوٹ نکلے تو کیا تعبیر ہے ؟
Sahih Bukhari
14
دانتوں اور معنوی اعتبار سے ان جیسے اعضاء میں قصا ص کا ثبوت
Sahih Muslim
15
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Thrice..
باب: وضو میں اعضاء کو تین تین بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
16
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Twice.
باب: اعضاء وضو کو دو دو بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
17
CHAPTER: Performing [The Actions Of] Wudu’ Once.
باب: اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
CHAPTER: Separating The Actions Of Wudu’.
باب: وضو میں اعضاء کو الگ الگ دھونا ( تاکہ کوئی عضو خشک نہ رہ جائے ) ۔
Sunnan Abu Dawood
19
CHAPTER: The Virtue Of Manumitting Slaves When The Master Is Healthy.
باب: صحت و تندرستی کی حالت میں غلام آزاد کرنے کی فضیلت ۔
Sunnan Abu Dawood
20
CHAPTER: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him?
باب: جو شخص اپنے غلام کو قتل کر دے یا اس کے اعضاء کاٹ لے تو کیا اس سے قصاص لیا جائے گا ؟
Sunnan Abu Dawood
21
CHAPTER: Diyah For Lost Limbs.
باب: اعضاء کی دیت کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
22
تین تین بار اعضاء وضو دھونے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
24
اعضاء وضو کو تین تین بار دھونے کا بیان
Sunnan Nisai
25
غسل میں اعضاء کو ایک ایک بار دھونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
کتنے اعضاء پر سجدہ کرے ؟
Sunnan Nisai
27
سجدہ میں اعضاء کا وہ حصہ جو زمین پر لگتا ہے۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

2
Musnad Ahmad
11121
۔ (۱۱۱۲۱)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَخْمَ الرَّأْسِ، عَظِیمَ الْعَیْنَیْنِ، ہَدِبَ الْأَشْفَارِ، مُشْرَبَ الْعَیْنِ بِحُمْرَۃٍ، کَثَّ اللِّحْیَۃِ، أَزْہَرَ اللَّوْنِ، إِذَا مَشٰی تَکَفَّأَ، کَأَنَّمَا یَمْشِی فِی صُعُدٍ، وَإِذَا الْتَفَتَ الْتَفَتَ جَمِیعًا، شَثْنَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ۔ (مسند احمد: ۶۸۴)
محمد بن علی اپنے باپ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سر مبارک بڑا، آنکھیں خوب موٹی، پلکیں طویل اور آنکھوں میں سرخ ڈورے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھی گھنی تھی، رنگ خوب روشن تھا، آپ چلتے تو ذرا سامنے کو جھک کر چلتے، گویا آپ بلندی سے اتر رہے ہیں، کسی طرف متوجہ ہوتے تو پوری طرح ادھر مڑتے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم بھرے بھرے تھے۔
Musnad Ahmad
11123
۔ (۱۱۱۲۳)۔ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَی التَّوْأَمَۃِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَیَنْعَتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: کَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَیْنِ، أَہْدَبَ أَشْفَارِ الْعَیْنَیْنِ، بَعِیدَ مَا بَیْنَ الْمَنْکِبَیْنِ،یُقْبِلُ إِذَا أَقْبَلَ جَمِیعًا، وَیُدْبِرُ إِذَا أَدْبَرَ جَمِیعًا، قَالَ رَوْحٌ فِی حَدِیثِہِ: بِأَبِی وَأُمِّی لَمْ یَکُنْ فَاحِشًا، وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ،زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ضَخْمَ الْکَفَّیْنِ وَالْقَدَمَیْنِ، لَمْ أَرَ بَعْدَہٗمِثْلَہٗ۔ (مسند احمد: ۹۷۸۶)
ابو صالح مولی التوأمہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا حلیہ مبارک بیان کر رہے تھے، انھوں نے کہا:آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ طویل (یا عریض) تھے، آنکھوں کی پلکیں بھی طویل تھیں، کندھوں کے درمیان تھوڑا سا نمایاں فاصلہ تھا (یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سینہ چوڑا تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جس طرف بھی مڑتے، پوری طرح مڑتے اور متوجہ ہوتے۔روح راوی نے اپنی حدیث میں کہا: میرے ماں باپ آپ پر نثار ہوں، آپ عادۃًیا تکلفاً فحش گو نہ تھے، نہ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بازاروں (اور گلیوں) میں بلند آواز سے بولتے تھے، آپ کی ہتھیلیاں اور قدم مبارک گوشت سے بھرے ہوئے تھے، میں نے آپ کے بعد آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔