فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۴۸)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ رَأٰی مِنْ أَمِیرِہِ شَیْئًایَکْرَہُہُ فَلْیَصْبِرْ، فَإِنَّہُ مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِیتَتُہُ
جَاہِلِیَّۃٌ۔)) وَفِیْ رِوَایَۃٍ: ((فَیَمُوْتُ اِلَّا مَاتَ مِیْتَۃَ جَاھِلِیَّۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۷)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنے امیر کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جواسے اچھی نہ لگے تو وہ صبر کرے، کیونکہ جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی اور اسی حال میں مر گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
12148
Sahih