TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا

Chapter 41 of اول النبیین اور خاتم المرسلین ہمارے نبی محمد بن عبد اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیرت کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 41 of 51 · 5 Hadith
۔ (۱۰۶۰۴)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: مَکَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشَرَ سِنِیْنَیَتْبَعُ النَّاسَ فِیْ مَنَازِلِھِمْ بِعُکَاظٍ وَمَجَنَّۃَ، وَ فِیْ الْمَوَاسِمِ بِمِنًییَقُوْلُ: ((مَنْ یُؤْوِیْنِیْ؟ مَنْ یَنْصُرُنِیْ؟ حَتّٰی أُبَلِّغَ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَلَہُ الْجَنَّۃُ۔)) حَتّٰی اِنَّ الرَجُلَ لَیَخْرُجُ مِنَ الْیَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ فَیَأْتِیْہِ قَوْمُہُ فَیَقُوْلُوْنَ: احْذِرْ مِنْ غُلَامِ قُرَیْشٍ لَا یَفْتِنُکَ، وَیَمْشِیْ بَیْنَ رِحَالِھِمْ وَھُمْ یُشِیْرُوْنَ اِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ حَتّٰی بَعَثَنَا اللّٰہُ اِلَیْہِ مِنْ یَثْرِبَ فَآوَیْنَاہُ وَصَدَّقْنَاہُ، فَیَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَیُؤْمِنُ بِہٖیُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ، فَیَنْقَلِبُ اِلٰی أَھْلِہِ فَیُسْلِمُوْنَ بِاِسْلَامِہِ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ دَارٌ مِنْ دُوْرِ الْأَنْصَارِ اِلَّا وَفِیْھَا رَھْطٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَیُظْھِرُوْنَ الْاِسْلَامَ، ثُمَّّ ائْتَمَرُوْا جَمِیْعًا، فَقُلْنَا حَتّٰی مَتٰی نَتْرُکُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُطْرَدُ فِیْ جِبَالِ مَکَّۃَ وَیَخَافُ؟ فَرَحَلَ اِلَیْہِ مِنَّا سَبْعُوْنَ رَجُلًا حَتّٰی قَدِمُوْا عَلَیْہِ فِی الْمَوْسَمِ فَوَاعَدْنَاہُ شِعْبَ الْعَقَبَۃَ فَاجْتَمَعْنَا عَلَیْہِ مِنْ رَجُلٍ ورَجُلَیْنِ حَتّٰی تَوَافَیْنَا، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نُبَایِعُکَ؟ قَالَ: ((تُبَایِعُوْنِیْ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِیْ النَّشَاطِ وَالْکَسْلِ وَالنَّفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّھْیِ عَنِ الْمُنْکَرِ، وأَنْ تَقُوْلُوْا فِیْ اللّٰہِ لَاتَخَافُوْنَ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ، وَعَلٰی أَنْ تَنْصُرُوْنِیْ فَتَمْنَعُوْنِیْ اِذَا قَدِمْتُ عَلَیْکُمْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ وَأَزْوَاجَکُمْ وَأَبْنَائَ کُمْ وَلَکُمُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ وَأَخَذَ بِیَدِہِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَۃَ وَھُوَ مِنْ أَصْغَرِھِمْ، فَقَالَ: رُوَیْدًایَاأھَلَیَثْرِبِ! فَاِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَکْبَادَ الْاِبِلِ اِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاِنَّ اِخْرَاجَہُ الْیَوْمَ مُفَارِقَۃُ الْعَرْبِ کَافَّۃً وَقَتْلُ خِیَارِکُمْ، وَاَنْ تَعَضَّکُمُ السُّیُوْفُ، فَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُوْنَ عَلٰی ذٰلِکَ وَأَجْرُکُمْ عَلَیاللّٰہِ، وَاِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُوْنَ مِنْ أَنْفُسِکُمْ جَبِنَۃً فَبَیِّنُوْا ذٰلِکَ فَھُوَ عُذْرٌ لَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ، قَالُوْا: أَمِطْ عَنَّا یَااَسْعَدُ، فَوَاللّٰہِ! لَا نَدَعُ ھٰذِہِ الْبَیْعَۃَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُھَا أَبَدًا، قَالَ: فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَبَایَعْنَاہُ فَأَخَذَ عَلَیْنَا وَشَرَطَ یُعْطِیْنَا عَلَی ذٰلِکَ الْجَنَّۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ أَجْمَعِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۵۱۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس برس تک مکہ میں رہے، عکاظ اور مجنہ میں لوگوں کے ڈیروں پر جاتے اور مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں جاتے اور فرماتے: کون مجھے جگہ فراہم کرے گا؟ کون میری مدد کرے گا؟ تاکہ میں اپنے ربّ کا پیغام پہنچاؤں اور اس شخص کو جنت ملے گی۔ حتی کہ ایک آدمییمن سے یا مضر سے مکہ کے لیے نکلتا اور اس کی قوم اس کے پاس آتی اور کہتی: قریشی آدمی سے بچ کر رہنا، کہیں وہ تجھے فتنے میں نہ ڈال دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے گھروں کے درمیان چلتے اور وہ انگلیوں سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اشارہ کرتے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیںیثرت سے بھیجا، پس ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جگہ دی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی، پس ہم میں سے آدمی نکلتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹتا اور وہ بھی اس کے اسلام کی وجہ سے مسلمان ہو جاتے، یہاں تک کہ انصاری محلوں میں سے کوئی محلہ نہ بچا، مگر اس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے وجود پکڑ لیا، جو اسلام کا اظہار کرتے تھے، پھر اِن سب لوگوں نے اکٹھا ہو کر مشورہ کیا اور ہم نے کہا: ہم کب تک رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو چھوڑے رکھیں گے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں جگہ نہ دی جائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں ڈرتے رہیں، پس ہم میں سے ستر افراد روانہ ہوئے، یہاں تک کہ حج کے موسم کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچے، پہلے ہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عقبہ گھاٹی میں ملاقات کرنے کا طے کر لیا تھا، پس ہم ایک دو دو افراد کر کے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچتے گئے، یہاں تک کہ ہم سارے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جمع ہو گئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میری بات کرو، اس بات پر کہ سنو گے اور اطاعت کرو گے، مستعدی میں اور سستیمیں (یعنی ہر حال میں)، بدحالی اور خوشحالی میں خرچ کرو گے، نیکی کا حکم کرو گے اور برائی سے منع کرو گے، اللہ تعالیٰ کے حق میں بات کرو گے اور اس کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرو گے اور اس چیز پر بیعت کرو کہ تم میری مدد کرو گے اور جب میں تمہارے پاس آ جاؤں تو مجھے بھی ان (مکروہات سے) بچاؤ گے، جن سے تم اپنے آپ کو، اپنی بیویوں کو اور اپنے بیٹوں کو بچاتے ہو، ان امور کے عوض تم کو جنت ملے گی۔ پس ہم کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی اور سیدنا اسعد بن زرارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جوکہ سب سے کم سن تھے، نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: اے یثرب والو! ذرا ٹھیرو، ہم اسی لیے دور دراز کا سفر کرکے آئے ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، لیکنیاد رکھو کہ آج آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہاں سے لے جانا سارے عربوں کی دشمنی مول لینے کے، اپنے پسندیدہ افراد کو قتل کروانے اور تلواروں سے کٹنے کے مترادف ہے، اب یا تو تم ان آزمائشوں پر صبر کرو اور تمہارا اجر اللہ تعالیٰ پر ہو گا اور اگر تمہیں بزدلی کا ڈر ہو تو ابھی وضاحت کر دو، یہ تمہارا اللہ تعالیٰ کے ہاں عذر ہو گا۔ باقی انصاریوں نے سیدنا اسعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے اسعد! ہٹ جاہمارے سامنے سے،اللہ کی قسم ہے، ہم کبھی بھی اس بیعت کو نہیں چھوڑیں گے اور نہ اس کو واپس لیں گے، پھر ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم سے بیعت لی اور ہم پر شرطیں لگائیں اور اس عمل کے عوض اللہ تعالیٰ ہم کو جنت دے گا، اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو جائے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۴) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ البزار: ۱۷۵۶، وابن حبان: ۶۲۷۴، والبیھقی: ۸/ ۱۴۶ (انظر: ۱۴۴۵۶)
10604
Sahih
۔ (۱۰۶۰۵)۔ حَدَّثَنَا أَبُوْ سَعِیْدٍ وَعَفَّانُ قَالَا: ثَنَا رَبِیْعَۃُ بْنُ کَلْثُوْمٍ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَادِیَۃَیَقُوْلُ: بَایَعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ: فَقُلْتُ: بِیَمِیْنِکَ؟، قَالَ: نَعَمْ) قَالَا جَمِیْعًا فِی الْحَدِیْثِ: وَخَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْعَقَبَۃِ فقَالَ: ((یَاأَیُّھَا النَّاسُ! اِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ عَلَیْکُمْ حَرَامٌ اِلٰییَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ عَزَّ وَجَلَّ کَحُرْمَۃِیَوْمِکُمْ ھٰذَا فِیْ شَھْرِکُمْ ھٰذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ھٰذَا، أَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ۔)) ثُمَّّ قَالَ: ((أَلَا لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) (مسند احمد: ۲۰۹۴۲)
۔ سیدنا ابو غادیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، ابو سعید نے کہا: دائیں ہاتھ سے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عقبہ والے دن ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: اے لوگو! بیشک اللہ تعالیٰ سے ملاقات والے دن تک تمہارے خون اور اموال تم پر اس طرح حرام ہیں، جس طرح تمہارے اس شہر میں اور تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس دن کی حرمت ہے، کیا میں نے اپنے ربّ کا پیغام پہنچا دیا ہے؟ سب سے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ گواہ رہنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد کافر نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا شروع کر دو۔
Takhreej
(۱۰۶۰۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی مطولا: ۲۲/ ۹۱۲ (انظر: ۲۰۶۶۶)
10605
Sahih
۔ (۱۰۶۰۶)۔ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ قَالَ: ثَنَا أبِیْ عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ مَعْبَدُ بْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکِ بْنِ أَبِیْ کَعْبِ بْنِ الْقَیْنِ أَخُوْ بَنِیْ سَلِمَۃَ اَنَّ أَخَاہُ عُبَیْدَاللّٰہِ بْنَ کَعْبٍ وَکَانَ مِنْ أَعْلَمِ الْأَنْصَارِ حَدَّثَہُ أَنَّ أَبَاہُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَ کَعْبٌ مِمَّنْ شَھِدَ الْعَقَبَۃَ وَبَایَعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِھَا ، قَالَ: خَرَجْنَا فِیْ حُجَّاجِ قَوْمِنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَقَدْ صَلَّیْنَا وَفَقِھْنَا وَمَعَنَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ کَبِیْرُنَا وَسَیِّدُنَا، فَلَمَّا تَوَاجَھْنَا لِسَفَرِنَا وَخَرَجْنَا مِنَ الْمَدَیِنْۃِ قَالَ الْبَرَائُ لَنَا: یَاھٰؤُلَائِ اِنِّیْ قَدْ رَأَیْتُ وَاللّٰہِ! رَأْیًا وَاِنِّیْ وَاللّٰہِ! مَا أَدْرِیْ تُوَافِقُوْنِیْ عَلَیْہِ اَمْ لَا؟ قَالَ: قُلْنَالَہُ: وَمَاذَاکَ؟ قَالَ: قَدْ رَأَیْتُ اَنْ لَا أَدَعَ ھٰذِہِ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ، یَعْنِی الْکَعْبَۃَ وَاَنْ أُصَلِّیَ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا: وَاللّٰہِ! مَا بَلَغَنَا أَنَّ نَبِیَّنَایُصَلِّیْ اِلَّا اِلَی الشَّامِ وَمَا نُرِیْدُ أَنْ نُخَالِفَہَ، فَقَالَ: اِنِّیْ أُصَلِّیْ اِلَیْھَا، قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: لٰکِنَّا لَانَفْعَلُ، فَکُنَّا اِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ صَلَّیْنَا اِلَی الشَّامِ وَصَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِ حَتّٰی قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ أَخِیْ: وَقَدْ کُنَّا عِبْنَا عَلَیْہِ مَا صَنَعَ وَأبِیْ اِلَّا الْاِقَامَۃَ عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّۃَ قَالَ: یَا ابْنَ أَخِیْ! اِنْطَلِقْ اِلٰی رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْأَلْہُ عَمَّا صَنَعْتُ فِیْ سَفَرِیْ ھٰذَا فَاِنَّہُ وَاللّٰہِ! قَدْ وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْہُ شَیْئٌ لَمَّا رَأَیْتُ مِنْ خِلَافِکُمْ اِیَّایَ فِیْہِ، قَالَ: فَخَرَجْنَا نَسْأَلُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکُنَّا لَا نَعْرِفُہُ لَمْ نَرَہُ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَلَقِیَنَا رَجُلٌ مِنْ أھَلِ مَکَّۃَ فَسَأَلْنَاہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: ھَلْ تَعْرِفَانِہِ؟ قَالَ: قُلْنَا: لَا، قَالَ: فَھَلْ تَعْرِفَانِ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عَمَّہُ؟ قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: وَکُنَّا نَعْرِفُ الْعَبَّاسَ، کَانَ لَا یَزَالُیَقْدِمُ عَلَیْنَا تَاجِرًا، قَالَ: فَاِذَا دَخَلْتُمَا الْمَسْجِدَ فَھُوَ الرَجُلُ الْجَالِسُ مَعَ الْعَبَّاسِ، قَالَ: فَدَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَاِذَا الْعَبَّاسُ جَالِسٌ وَرَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَعَہُ جَالِسٌ فَسَلَّمْنَا ثُمَّّ جَلَسْنَا اِلَیْہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبَّاسِ: ((ھَلْ تَعْرِفُ ھٰذَیْنِ الرَّجُلَیْنِیَا أَبَا الْفَضْلِ!)) قَالَ: نَعَمْ، ھٰذَا الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ سَیِّدُ قَوْمِہِ وَھٰذَا کَعْبُ بْنُ مَالِکٍ، قَالَ: واللّٰہِ! مَا اَنْسٰی قَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشَّاعِرُ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ: یَانَبِیَّاللّٰہِ! اِنِّیْ خَرَجْتُ مِنْ سَفَرِیْ ھٰذَا وَھَدَانِیَ اللّٰہُ لِلْاِسْلَامِ فَرَأَیْتُ أَنْ لَا أَجْعَلَ الْبَنِیَّۃَ مِنِّیْ بِظَھْرٍ فَصَلَّیْتُ اِلَیْھَا وَقَدْ خَالَفَنِیْ أَصْحَابِیْ فِیْ ذٰلِکَ حَتّٰی وَقَعَ فِیْ نَفْسِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ فَمَاذَا تَرٰییَارَسُوْلَ اللہ؟ قَالَ: ((لَقَدْ کَنْتَ عَلٰی قِبْلَۃٍ لَوْ صَبَرْتَ عَلَیْھَا)) فَقَالَ: فَرَجَعَ الْبَرَائُ اِلٰی قِبْلَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی مَعَنَا اِلَی الشَّامِ، قَالَ: وَأَھْلُہُ یَزْعُمُوْنَ أَنّہُ صَلّٰی اِلَی الْکَعْبَۃِحَتّٰی مَاتَ وَلَیْسَ ذٰلِکَ کَمَا قَالُوْا، نَحْنُ أَعْلَمُ بِہٖمِنْھُمْ،قَالَ: وَخَرَجْنَااِلَی الْحَجِّ فَوَاعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعَقَبَۃَ مِنْ أَوْسَطِ أَیَّامِ التَّشْرِیْقِ فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْ الْحَجِّ وَکَانَتِ اللَّیْلَۃُ الَّتِیْ وَعَدْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَنَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ أَبُوْ جَابِرٍ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَکُنَّا نَکْتُمُ مَنْ مَعَنَا مِنْ قَوْمِنَا مِنْ الْمُشْرِکِیْنَ أَمْرَنَا فَکَلَّمْنَاہُ وَقُلْنَا لَہُ: یَا اَبَاجَابِرٍ! اِنَّکَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا وَشَرِیْفٌ مِنْ أَشْرَافِنَا، وَاِنَّا نَرْغَبُ بِکَ عَمَّا أَنْتَ فِیْہِ اَنْ تَکُوْنَ حَطَبًا لِلنَّارِ غَدًا، ثُمَّّ دَعَوْتُہُ اِلَی الْاِسْلَامِ وَأَخْبَرْتُہُ بِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَسْلَمَ وَشَھِدَ مَعَنَا الْعَقَبَۃَ وَکَانَ نَقِیْبًا، قَالَ: فَنِمْنَا تِلْکَ اللَّیْلَۃَ مَعَ قَوْمِنَا فِیْ رِحَالِنَا حَتّٰی اِذَا مَضٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ خَرَجْنَا مِنْ رِحَالِنَا لِمِیْعَادِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَتَسَلَّلُ مُسْتَخْفِیْنَ تَسَلُّلَ الْقَطَا حَتَّی اجْتَمَعْنَا فِی الشِّعْبِ عِنْدَ الْعَقَبَۃِ وَنَحْنُ سَبْعُوْنَ رَجُلًا وَمَعَنَا امْرَأَتَانِ مِنْ نِسَائِھِمْ، نَسِیْبَۃُ بِنْتُ کَعْبٍ اُمُّ عُمَارَۃَ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ مَازِنِ بْنِ النَّجَّارِ، وَ اَسْمَائُ بِنْتُ عَمْرِو بْنِ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ اِحْدٰی نِسَائِ بَنِیْ سَلِمَۃَ وَھِیَ اُمُّ مَنِیْعٍ، قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا بِالشعب نَنْتَظِرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَائَ نَا وَمَعَہُ یَوْمَئِذٍ عَمُّہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْمُطَّلِبِ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ عَلَی دِیْنِ قَوْمِہِ اِلَّا أَنَّہُ اَحَبَّ اَنْ یَحْضُرَ اَمْرَ ابْنِ أَخِیْہِ وَیَتَوَثَّقَ لَہُ، فَلَمَّا جَلَسْنَا کَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَوَّلَ مُتَکَلِّمٍ، فَقَالَ: یَامَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! قَالَ: وَکَانَتِ الْعَرَبُ مِمَّا یُسَمُّوْنَ ھٰذَا الْحَیَّ مِنَ الْاَنْصَارِ الْخَزْرَجَ أَوْسَھَا وَخَزْرَجَھَا، اِنَّ مُحَمَّدًا مِنَّا حَیْثُ قَدْ عَلِمْتُمْ وَقَدْ مَنَعْنَاہُ مِنْ قَوْمِنَا مِمَّنْ ھُوَ عَلَی مِثْلِ رَأْیِنَا فِیْہِ وَھُوَ فِیْ عِزٍّ مِنْ قَوْمِہِ وَمَنَعَۃٍ فِیْ بَلَدِہِ، قَالَ: فَقُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا مَا قُلْتَ فَتَکَلَّمْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَخُذْ لِنَفْسِکَ وَلِرَبِّکَ مَا أَحْبَبْتَ، قَالَ: فَتَکَلَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَتَلَا وَدَعَا اِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَغَّبَ فِی الْاِسْلَامِ، قَالَ: ((أُبَایِعُکُمْ عَلٰی أَنْ تَمْنَعُوْنِیْ مِمَّا تَمْنَعُوْنَ مِنْہُ نِسَائَکُمْ وَأَبْنَائَکُمْ)) قَالَ: فَأَخَذَ الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ بِیَدِہِ ثُمَّّ قَالَ: نَعَمْ وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ! لَنَمْنَعُکَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْہُ أُزُرَنَا فَبَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَنَحْنُ أَھْلُ الْحُرُوْبِ وَأَھْلُ الْحَلْقَۃِ وَرِثْنَاھَا کَابِرًا عَنْ کَابِرٍ، قَالَ: فَاعْتَرَضَ الْقَوْلَ وَالْبَرَائُ یُکَلِّمُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَبُو الْھَیْثَمِ بْنُ التَّیِّھَانِ حَلِیْفُ بَنِیْ عَبْدِ الْأَشْھَلِ فقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اِنَّ بَیْنَنَا وَبَیْنَ الرِّجَالِ حِبَالًا وَاِنَّا قَاطِعُوْھَا یَعْنِی الْعُھُوْدَ، فَھَلْ عَسَیْتَ اِنْ نَحْنُ فَعَلْنَا ذٰلِکَ ثُمَّّ أَظْھَرَکَ اللّٰہُ اَنْ تَرْجِعَ اِلٰی قَوْمِکَ وَتَدَعَنَا؟ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمّّ قَالَ: ((بَلِ الدَّمَ الدَّمَ وَالْھَدَمَ الْھَدَمَ اَنَا مِنْکُمْ وَأَنْتُمْ مِنِّیْ، أُحَارِبُ مَنْ حَارَبْتُمْ وَأُسَالِمُ مَنْ سَالَمْتُمْ۔)) وَقَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَخْرِجُوْا اِلَیَّ مِنْکُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًایَکُوْنُوْنَ عَلٰی قَوْمِھِمْ۔)) فَأَخْرَجُوْا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا، مِنْھُمْ تِسْعَۃٌ مِنَ الْخَزْرَجِ وَثَلَاثَۃٌمِنَ الْأَوْسِ، وَأَمَّا مَعْبَدُ بْنُ کَعْبٍ فَحَدَّثَنِیْ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنْ أَخَیْہِ عَنْ أَبِیْہِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَ عَلٰییَدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَرَائُ بْنُ مَعْرُوْرٍ ثُمّّ تَتَابَعَ الْقَوْمُ، فَلَمَّا بَایَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَرَخَ الشَّیْطَانُ مِنْ رَأْسِ الْعَقَبَۃِ بِأَبْعَدِ صَوْتٍ سَمِعْتُہُ قَطُّ، یَا أَھْلَ الْجُبَاجِبِ! وَالْجُبَاجِبُ الْمَنَازِلُ، ھَلْ لَکُمْ فِیْ مُذَمَّمٍ وَالصُّبَاۃُ مَعَہُ قَدْ أَجْمَعُوْا عَلٰی حَرْبِکُمْ، قَالَ عَلِیٌّیَعْنِیْ ابْنَ اِسْحَاقَ مَا یَقُوْلُ عَدُوُّ اللّٰہِ مُحَمَّدٌ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھٰذَا أَزَبُّ الْعَقَبَۃِ ھٰذَا ابْنُ اَزْیَبَ اسْمَعْ اَیْ عَدُوَّ اللّٰہِ أَمَا وَاللّٰہِ! لَاَ فْرُغَنَّ لَکَ۔)) ثُمّّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ارْجَعُوْا اِلٰی رِحَالِکُمْ)) قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَادَۃَ بْنِ نَضْلَۃَ: وَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ لَئِنْ شِئْتَ لَنَمِیْلَنَّ عَلٰی أَھْلِ مِنًی غَدًا بِأَسْیَافِنَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُوْل اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَمْ أُوْمَرْ بِذٰلِکَ)) قَالَ: فَرَجَعْنَا فَنِمْنَا حَتّٰی اَصْبَحْنَا فَلَمَّا أَصْبَحْنَا غَدَتْ عَلَیْنَا جُلَّۃُ قُرَیْشٍ حَتّٰی جَائُ وْنَا فِیْ مَنَازِلِنَا فَقَالُوْا: یَا مَعْشَرَ الْخَزْرَجِ! اِنَّہُ قَدْ بَلَغَنَا اَنَّکُمْ قَدْ جِئْتُمْ اِلٰی صَاحِبِنَا ھٰذَا تَسْتَخْرِجُوْنَہُ مِنْ بَیْنِ أَظْھُرِنَا وَتُبَایِعُوْنَہُ عَلٰی حَرْبِنَا، وَاللّٰہِ! اِنَّہُ مَا مِن الْعَرَبِ أَحَدٌ أَبْغَضَ اِلَیْنَا اَنْ تَنْشَبَ الْحَرَبُ بَیْنَنَا وَبَیْنَہُ مِنْکُمْ، قَالَ فَانْبَعَثَ مِنْ ھُنَالِکَ مِنْ مُشْرِکِیْ قَوْمِنَا یَحْلِفُوْنَ لَھُمْ بِاللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ ھٰذَا شَیْئٌ وَمَا عَلِمْنَاہُ، وَقَدْ صَدَقُوْا لَمْ یَعْلَمُوْا مَا کَانَ مِنَّا، قَالَ: فَبَعْضُنَا یَنْظُرُ اِلٰی بَعْضٍ، قَالَ: وَقَامَ الْقَوْمُ فِیْھِمُ الْحَارِثُ بْنُ ھِشَامِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ الْمَخْزُوْمِیُّ وَعَلَیْہِ نَعْلَانِ جَدِیْدَانِ قَالَ: فَقُلْتُ: کَلِمَۃً کَأَنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أُشْرِکَ الْقَوْمَ بِھَا فِیْمَا قَالُوْا، مَاتَسْتَطِیْعُیَا أَبَا جَابِرٍ وَأَنْتَ سَیِّدٌ مِنْ سَادَاتِنَا أَنْ تَتَّخِذَ نَعْلَیْنِ مِثْلَ نَعْلَیْ ھٰذَا، ھٰذَا الْفَتٰی مِنْ قُرَیْشٍ؟ فَسَمِعَھَا الْحَارِثُ فَخَلَعَھُمَا ثُمّّ رَمٰی بِھِمَا اِلَیَّ فَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَتَنْتَعِلَنَّھُمَا، قَالَ: یَقُوْلُ أَبُوْ جَابِرٍ: أَحْفَظْتَ وَاللّٰہِ! الْفَتٰی فَارْدُدْ عَلَیْہِ نَعْلَیْہِ، قَالَ: فقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَا أَرُدَّھُمَا، قَالَ وَاللّٰہِ! صَالِحٌ لَئِنْ صَدَقَ الْفَأْلُ لَاَسْلُبَنَّہُ، فَھٰذَا حَدِیْثُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ مِنَ الْعَقَبَۃِ وَمَا حَضَرَ مِنْھَا۔ (مسند احمد: ۱۵۸۹۱)
۔ عبید اللہ بن کعب، جو کہ انصاریوں میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، بیان کرتے ہیں کہ ان کے باپ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو عقبہ میں حاضر ہوئے تھے اور وہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی تھی، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم اپنی قوم کے مشرک لوگوںکے ساتھ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہم نماز بھی پڑھتے تھے اور ہمیں دین کی سمجھ بھی تھی، ہمارے ساتھ ہمارے بڑے اور ہمارے سردار سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، جب ہم نے رخت ِ سفر باندھا اور مدینہ منورہ سے نکل پڑے تو سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: لوگو! اللہ کی قسم! میں نے ایک خواب دیکھا ہے، لیکنیہ میں نہیں جانتا کہ تم میری موافقت کرو گے یا نہیں؟ ہم نے کہا: وہ ہے کون سا؟ انھوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ میں کعبہ کی عمارت کی طرف پیٹھ نہیں کروں گا اور میں اسی طرف رخ کر کے نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: اللہ کی قسم! ہمیں تو یہی بات پہنچی ہے کہ ہمارے نبی شام کی طرف نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت تو نہیں کر سکتے، لیکن انھوں نے کہا: میں تو کعبہ کی طرف منہ کر کے ہی نماز پڑھوں گا، ہم نے کہا: لیکن ہم اس طرح نہیں کریں گے، اب صورتحال یہ تھی کہ جب نماز کا وقت ہو جاتا تو ہم شام کی طرف رخ کر کے اور سیدنا براء کعبہ کیطرف منہ کر کے نماز ادا کرتے، یہاں تک کہ ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے، میرے بھائی نے کہا: ہم نے اس کے کیے کو معیوب تو سمجھا ہے، میرے باپ کی قسم! البتہ اس سے مخالفت نہیں کی، جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! چلو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کر کے لاؤ، جو میں نے اس سفر میں کی ہے، جب سے میں نے دیکھا کہ تم لوگ میری مخالفت کر رہے ہو تو میرے نفس میں اس کے بارے میں شبہ پڑ گیا ہے، وہ کہتے ہیں: پس ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرنے کے لیے نکلے، لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو پہنچانتے نہیں تھے، کیونکہ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا نہیں تھا، جب مکہ مکرمہ کے ایک باشندے سے ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے اس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بارے میں دریافت کیا، اس نے کہا: کیا تم اس کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، اس نے کہا: کیا تم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا عباس بن عبد المطلب کو پہچانتے ہو؟ ہم نے کہا: جی ہاں، چونکہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بطورِ تاجر ہمارے پاس آتے رہتے تھے، اس لیے ہم ان کو پہچانتے تھے، بہرحال اس نے کہا: جب تم مسجد میں داخل ہو تو جو آدمی عباس کے ساتھ بیٹھا ہو گا، وہی (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہوں گے، پس ہم مسجد میں داخل ہوئے، وہاں سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ ہی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے، ہم نے ان کو سلام کہا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اے ابو الفضل! کیا آپ ان دو افراد کو جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ اپنی قوم کا سردار براء بن معرور ہے اور یہ کعب بن مالک، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات نہیں بھولا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: جو شاعر ہے، وہ؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اب سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اس سفر میں نکلا اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے لیے ہدایت دی ہوئی ہے، میں نے ایک خواب دیکھا کہ میں کعبہ کی عمارت کو پشت پر نہیں رکھوں گا، بلکہ میں اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھوں گا، لیکن میرے ساتھیوں نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا،یہاں تک کہ میرے نفس میں تردّد پیدا ہو گیا۔ اے اللہ کے رسول! اب آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تو صبر کرتا تو تو قبلے پر ہی تھا۔ پس سیدنا براء نے فوراً رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قبلہ اختیار کر لیا اور ہمارے ساتھ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ سیدنا براء کے گھر والے تو یہ گمان کرتے تھے کہ وہ مرتے دم تک کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے، یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئے، لیکنیہ دعوی درست نہیں ہے، ہم اس کے اہل کی بہ نسبت اس کو زیادہ جانتے ہیں، پھر ہم حج کے لیے نکلے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایام تشریق کے وسط میں عقبہ کے مقام پر ملنے کا وعدہ کیا، پس جب ہم حج سے فارغ ہوئے اور وہ رات آ گئی، جس کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ وعدہ کیا تھا، اُدھر ہمارے ساتھ ابو جابر عبد اللہ بن عمرو بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، ہم اپنی قوم کے مشرک افراد سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اس بات کو چھپانا چاہتے تھے، ہم نے کہا: اے ابو جابر! تم سرداروں اور اشراف میں سے ایک سردار اور شریف ہو، لیکن جس دین پر تم ہو، ہم اس سے بے رغبت ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کل آگ کا ایندھن بن جاؤ، پھر میںنے ان کو اسلام کی دعوت دی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کی خبر دی، پس وہ بھی مسلمان ہو گئے اور ہمارے ساتھ عقبہ میں شریک ہوئے، بلکہ ان کا نقیب بھی بنایا گیا، پس ہم اس رات کو اپنی قوم کے ساتھ اپنی رہائش گاہوں میں سو گئے، جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا تو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیے گئے وعدے کے مطابق اپنی رہائش گاہوں سے نکل پڑے اور چھپتے ہوئے قطا پرندے کی طرح سرکنے لگے، یہاں تک کہ ہم عقبہ کے پاس گھاٹی میں جمع ہو گئے، ہم کل ستر مرد تھے اور ہمارے ساتھ دو عورتیں تھیں، ایک خاتون ام عمارہ نسیبہ بنت کعب تھیں، ان کا تعلق بنو مازن بن نجار سے تھا اور دوسری خاتون ام منیع اسماء بنت عمرو بن عدی تھیں، ان کا تعلق بنو سلمہ سے تھا، ہم لوگ گھاٹی میں جمع ہو کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا انتظار کرنے لگ گئے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لے آئے، آپ کے چچا سیدنا عباس بن عبد المطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، وہ اس وقت اپنی قوم کے دین پر تھے، البتہ وہ چاہتے تھے کہ اپنے بھتیجے (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کا معاملہ دیکھیں اور اعتماد حاصل کر لیں، جب وہاں بیٹھ گئے تو سب سے پہلے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بات کی اور کہا: اے خزرج کی جماعت! بیشک تم جانتے ہو کہ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہم میں سے ہیں، ہم نے اپنی قوم سے ان کی حفاظت کی ہوئی ہے، یہاں محمد ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) اپنے قوم میں عزت کے ساتھ اور اپنے شہر میں قوت کے ساتھ ہیں۔ عرب لوگ انصاریوں کے اس قبیلے کو خزرج کہتے تھے، ہم نے کہا: ہم نے تمہاری بات سن لی ہے، اے اللہ کے رسول! اب آپ بات کریں اور اپنی پسند کے مطابق اپنی ذات کے لیے اور اپنے ربّ کے لیے جو معاہدے لینے ہیں، وہ لے لیں، پس رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے گفتگو کی، قرآن مجید کا کچھ حصہ تلاوت کیا، لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی، ان کو اسلام کی رغبت دلائی اور فرمایا: میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم ہر اس چیز سے مجھے تحفظ فراہم کرو گے، جس سے اپنی عورتوں اور بیٹوں کی حفاظت کرتے ہو۔ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑا اور کہا: جی ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! ہم آپ کو اس چیز سے بچائیں گے، جس سے اپنی خواتین کو بچاتے ہیں، پس ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کی، ہم لڑائیوں والے اور اسلحہ والے تھے، یہ چیز ہم کو نسل در نسل ورثے میںملی تھی، ابھی تک سیدنا براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ہم کلام تھے کہ بیچ میں بنو عبد الاشہل کے حلیف سیدنا ابو الہیثم بن تیہان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بول پڑے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہمارے اور یہودیوں کے مابین معاہدے ہیں اور آپ کی وجہ سے ہم ان کو توڑ دینے والے ہیں، لیکن کیایہ ممکن ہے کہ جب ہم یہ سب کچھ کر دیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ عطا کر دے تو آپ اپنی قوم کی طرف واپس آ جائیں اور ہمیں چھوڑ دیں؟یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرائے اور فرمایا: نہیں، بلکہ اب تو جہاں تمہارا خون طلب کیا جائے گا، وہاں میرا خون بھی طلب کیا جائے گا اور جہاں تمہارے خون کو رائیگاں قرار دیا جائے گا، وہاں میرے خون کو بھی رائیگاں قرار دیا جائے گا، اب میں تم میں سے ہوں اور تم مجھ سے ہو، جن سے تم لڑو گے، میں بھی ان سے لڑوں گا اور جن سے تم صلح کرو گے، میں بھی ان سے صلح کروں گا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزید فرمایا: اپنے بارہ نقیب میری طرف نکالو، جو اپنی اپنی قوم کے ذمہ دار ہوں گے۔ پس انھوں نے بارہ نقیب منتخب کیے، نو خزرج سے تھے اور تین اوس سے، معبد بن کعب کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: پہلا شخص جس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر ہاتھ مارا وہ سیدنا براء بن معرور ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پھر باقی لوگ پے در پے بیعت کرنے لگے، جب ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیعت کر لی تو گھاٹی کی چوٹی سے شیطان بہت بلند آواز میں بولا، میں نے ایسی اونچی آواز کبھی نہیں سنی تھی، اور اس نے کہا: اے ان رہائش گاہوں والو! کیا تمہیں مذمَّم کی فکر ہے، بے دین لوگ تمہارے ساتھ لڑنے کے لیے اس کے ساتھ جمع ہو رہے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن شیطان نے محمد نہیں کہا، بلکہ مذمّم کہا، یہ آواز سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس گھاٹی کا اَزَبّ شیطان ہے، یہ ابن اَزْیَب ہے، سن اے اللہ کے دشمن! خبردار! اللہ کی قسم ہے، میں تیرے لیے ضرور ضرور فارغ ہونے والا ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اب تم اپنی رہائش گاہوں کی طرف لوٹ جاؤ۔ سیدنا عباس بن عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ چاہتے ہیں تو ہم کل اپنی تلواریں لے کر اہلِ مِنٰی پر حملہ کر دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابھی تک مجھے اس چیز کا حکم نہیں دیا گیا۔ پس ہم لوٹ آئے اور اپنے اپنے مقام پر سو گئے، جب صبح ہوئی تو سردارانِ قریش ہمارے پاس ہماری رہائش گاہوں میں پہنچ گئے اور انھوں نے کہا: اے خزرج کی جماعت! ہمیںیہ بات پہنچی ہے کہ تم ہمارے اس صاحب کے پاس گئے ہو اور اب اس کو ہمارے درمیان سے نکالنا چاہتے ہو اور ہمارے ساتھ لڑائی کرنے پر اس کی بیعت کر رہے ہو، اللہ کی قسم! ہر عرب کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ ہمارے اور تمہارے ما بینلڑائی بھڑک اٹھے، اب بتاؤ کہ کیا معاملہ ایسے ہی ہے؟ ہماری قوم کے مشرک لوگ کھڑے ہوئے اور انھوں نے ان کے لیے اللہ کی قسمیں اٹھائیں کہ اس قسم کی کوئی چیز واقع نہیں ہوئی، بلکہ ہمیں تو ایسے معاملے کا علم ہی نہیں ہے، وہ لوگ سچ بول رہے تھے، کیونکہ ان کو پتہ ہی نہیں کہ ہم (ستر افراد) رات کو کیا کر کے آئے ہیں، البتہ ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ پھر وہ لوگ اٹھ پڑے، ان میں حارث بن ہشام بن مغیرہ مخزومی بھی تھے، (یہ فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے) انھوں نے دو نئے جوتے پہنے ہوئے تھے، سیدنا ابو جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے بھی ایک بات کہی ہے، گویا کہ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں بھی لوگوں کے منفی جواب میں شریک ہو جاؤں، ہم نے کہا: اے ابو جابر! کیا آپ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ آپ کے بھیاس قریشی نوجوان کے جوتوں کی طرح جوتے ہوں، جبکہ آپ ہمارے سردار ہیں؟ جب حارث نے یہ بات سنی تو اس نے وہ جوتے اتار دیئے اور ان کو میری طرف پھینک دیا اور کہا: اللہ کی قسم! تو ضرور ضرور ان کو پہنے گا، اس نے کہا: تو نے نوجوان کو ناراض کر دیا ہے، اب یہ جوتے اس کو واپس کر دے، میں نے کہا: اللہ کی قسم! میںیہ واپس نہیں کروں گا، اس نے کہا: اللہ کی قسم! یہٹھیک ہیں، اگر یہ فال سچی ہے تو میں اس سے بطورِ سلب لوں گا۔ یہ سیدنا کعب بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عقبہ کے بارے میں اور جو کچھ انھوں نے وہاں دیکھا تھا، اس کے بارے میں حدیث ہے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۶) تخریج: حدیث قوی، أخرجہ ابن حبان: ۷۰۱۱، والحاکم: ۳/ ۴۴۱(انظر: ۱۵۷۹۸)
Explanation
فوائد:… نقیب سے مراد قبیلے کا ذمہ دار سردار ہے
10606
Sahih
۔ (۱۰۶۰۷)۔ عَنْ عَامِرٍ قَالَ: انْطَلَقَ النَّبِیُّّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَمَعَہُ الْعَبَّاسُ عَمُّہُ اِلَی السَّبْعِیْنَ مِنَ الْأَنْصَارِ عِنْدَ الْعَقَبَۃِ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ، فَقَالَ: ((لِیَتَّکَلِّمْ مُتَکَلِّمُکُمْ وَلَا یُطِیْلُ الْخُطْبَۃَ فَاِنَّ عَلَیْکُمْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ عَیْنًا، وَاِنْ یَعْلَمُوْا بِکُمْ یَفْضَحُوْکُمْ۔)) فَقَالَ قَائِلُھُمْ وَھُوَ أَبُوْ اُمَامَۃَ: سَلْ یَا مُحَمَّدُ! لِرَبِّکَ مَاشِئْتَ، ثُمَّّ سَلْ لِنَفْسِکَ وَلِأَصْحَابِکَ مَا شِئْتَ، ثُمَّّ أَخْبِرْنَا مَالَنَا مِنَ الثَّوَابِ عَلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَعَلَیْکُمْ اِذَا فَعَلْنَا ذٰلِکَ، قَالَ: فَقَالَ: ((أَسْأَلُکُمْ لِرَبِّیْ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ تَعْبُدُوْہُ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا، وَأَسْأَلُکُمْ لِنَفْسِیْ وَلِأَصْحَابِیْ أَنْ تُؤْوُوْنَا وَتَنْصُرُوْنَا وَتَمْنَعُوْنَا مِمَّا مَنَعْتُمْ مِنْہُ أَنْفُسَکُمْ)) قَالُوْا: فَمَا لَنَا اِذَا فَعَلْنَا ذٰلِکَ؟ قَالَ: ((لَکُمُ الْجَنَّۃُ)) قَالُوْا: فَلَکَ ذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۰۶)
۔ سیدنا عامر سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنے چچا سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ عقبہ کے پاس درخت کے نیچے ستر انصاریوں کے پاس تشریف لے گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں جس بندے نے بات کرنی ہے، وہ بات کرے اور خطاب کو لمبا نہ کرے، کیونکہ مشرکوں کا جاسوس تمہاری تاڑ میں ہے اور اگر ان کو تمہاری اس کاروائی کا پتہ چل گیا تو وہ تمہیں رسوا کر دیں گے۔ پس ان کے بات کرنے والے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے محمد! اپنے ربّ کے لیے جو مطالبہ کرنا ہے کرو، اور پھر اپنے نفس اور اپنے صحابہ کے لیے جو چاہتے ہو، ہم سے سوال کرو، پھر ہمیں بتاؤ کہ اگر ہمیہ ذمہ داریاں نبھا دیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارا اجر و ثواب کیا ہوگا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تم سے اپنے ربّ کے لیےیہ مطالبہ کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ اور اپنے اور اپنے صحابہ کے لیے تم سے یہ سوال کرتا ہوںکہ تم لوگ ہمیں جگہ فراہم کرو، ہماری مدد کرو اور ان امور سے ہماری بھی حفاظت کرو، جن سے تم اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انھوں نے کہا: اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہمیں کیا ملے گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کو جنت ملے گی۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو آپ نے مطالبہ کیا ہے، وہ پورا کیا جائے گا۔
Takhreej
(۱۰۶۰۷) تخریج: مرسل صحیح، عامر الشعبی لم یدرک النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قال العجلی: مرسل الشعبی صحیح، لایکادیرسل الا صحیحا، أخرجہ البیھقی فی الدلائل : ۲/ ۴۵۰ (انظر: ۱۷۰۷۸)
10607
Sahih
۔ (۱۰۶۰۸)۔ عَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ ثَانٍٍ عَنْ أبِیْ مَسْعُوْدٍ الْأَنْصَارِیِّ نَحْوُ ھٰذَا قَالَ: وَکَانَ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ أَصْغَرَھُمْ سِنًّا۔ (مسند احمد: ۱۷۲۰۷)
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے اور وہ ابو مسعود عمر میں سب سے چھوٹے تھے۔
Takhreej
(۱۰۶۰۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… یثرب میں دین کی تعلیم اور تبلیغ کا سلسلہ جاری رہا اور کئی لوگ مسلمان ہو گئے، ۱۳؁نبوتکےموسمحجمیںیثرب سے بہت سے مسلمان اور مشرکین حج کے لیے آئے، مسلمانوں نے طے کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مکہ کے پہاڑوں میں چکر کاٹتے، ٹھوکریں کھاتے اور خوف و ہراس کے عالم میں نہیں چھوڑیں گے، چنانچہ انھوں نے درپردہ رابطہ کیا اور ایام تشریق کے درمیانے روز، رات کے وقت جمرۂ عقبہ کے پاس گھاٹی میں اجتماع منعقد کرنے پر اتفاق کیا، مقررہ دن یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ اپنے ڈیروں میں سو گئے اور جب رات کا پہلا تہائی گزر چکا تو چپکے چپکے ایک دو دو آدمی نکل کر عقبہ کے پاس پہنچ گئے، یہ کل تہتر آدمی تھے، باسٹھ خزرج کے اور گیارہ اوس کے، ان کے ساتھ یہ دو عورتیں بھی تھیں: سیدہ نسیبہ بنت کعب اور سیدہ اسماء بنت عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ۔ پھر اس مجلس میں جو امور طے پائے، ان کا بیان اسی باب میں کیا جا چکا ہے۔ عقبہ کی اس دوسری بیعت کے بعد عام مسلمانوں نے مدینے کے لیے ہجرت شروع کر دی، جبکہ بعض صحابہ اس سے پہلے ہی ہجرت کر چکے تھے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بھی مسلمانوں کا دار الہجرت دکھلایا جا چکا تھا، جس کی علامتوں کا مصداق یثرب بن رہا تھا۔
10608
Sahih

Chapters

51
01
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نسب ِ شریف اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عظیم اصل کے پاکیزہ ہونے کا ذکر
3 Hadith
02
نبی کریم کے بعض فضائل اور اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
5 Hadith
03
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعض اسمائے شریفہ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے انبیاء کے اول، آخر اور افضل ہونے کا بیان
3 Hadith
04
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ولادت باسعادت کا بیان
3 Hadith
05
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رضاعت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دودھ پلانے والیوں اور دائیوںکا ذکر
1 Hadith
06
نبی کریم کا حلیمہ سعدیہ کا دودھ پینے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نبوت کی نشانیاں ظاہر ہونے کا بیان
2 Hadith
07
نبی کریم کا بچپنے میںبکریاں چرانا، اللہ تعالیٰ کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حفاظت کرنا اور آپ کو جاہلیت کی گندگیوں سے بچانا
2 Hadith
08
دس برس اور چند ماہ کی عمر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک کا دوبارہ چاک کیا جانا
1 Hadith
09
پاک دامن سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ساتھ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شادی کا بیان
6 Hadith
10
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نبوت پر دلالت کرنے والی علامتیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کی بشارت اور تورات میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیان کردہ صفات (محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سابقہ کتب میں)
7 Hadith
11
کاہنوں کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بعثت کے ظہور کے بارے میں خبر دینا
1 Hadith
12
وحی کی ابتدائ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف نزولِ وحی کی کیفیت اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا
16 Hadith
13
دعوت کے ظہور سے پہلے پہل نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پرایمان لانے والوں کا ذکر
7 Hadith
14
اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو دعوت کا اظہار و اعلان کرنے کا حکم دینا اور کفارِ قریش کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ مسلمان ہونے والے کمزوروں کو ایذا دینا
3 Hadith
15
اس چیز کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بڑی ایذا پہنچانے والا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چچا ابو لہب تھا
4 Hadith
16
اور ان میں ایک ابو جہل تھا
3 Hadith
17
اور ان میں ایک عقبہ بن ابی معیط تھا
5 Hadith
18
مشرکوں کا کمزورمسلمانوںکوتکلیف دینا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومارنا اور برا بھلا کہنا
6 Hadith
19
نشانیاں طلب کرنے پر قریشیوں کا حد سے زیادہ مطالبہ کرنا، ہٹ دھرمی پر اصرار کرنا اور لوگوں کے سردار کو قتل کرنے کے لیے ان کا مشورہ کرنا
4 Hadith
20
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا بنو عبد المطلب کو خاص طور پر دعوت دینا، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو اپنی نبوت پر دلالت کرنے والی کوئی نشانی دکھا سکیں،یہ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ان کے ساتھ رحمت تھی، کیونکہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار تھے، لیکن انھوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات قبول نہیں کی
1 Hadith
21
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لے کر کعبہ کے اوپر موجود قریشیوں کے بت توڑنا تاکہ حق کی تائید و نصرف ہو جائے اور باطل نیست و نابود ہو جائے
2 Hadith
22
بعض صحابہ کا اپنے دین کو فتنے سے بچانے کے لیے حبشہ کی طرف ہجرت کر جانا اور اس سفر کا اسلام کی پہلی ہجرت ہونا
2 Hadith
23
سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اسلام اور اس کے سبب کا بیان
2 Hadith
24
بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب کی مخالفت میں بنوکنانہ اور قریش کا ان امور پر باہمی معاہدہ کہ وہ ان سے نکاح کا معاملہ کریں گے نہ خرید و فروخت کا، نیز اُن کا اِن کو شعب ِ ابی طالب میں محصور کر دینا
1 Hadith
25
ابو طالب کی بیماری، وفات، دفن اور اس سے متعلقہ روایات کا بیان
7 Hadith
26
سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی تاریخِ وفات اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدہ عائشہ اور سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے شادی کرنا
2 Hadith
27
ام المؤمنین سیدہ خدیجہ بنت خویلد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سب سے پہلے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر ایمان لائیں اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تصدیق کی
9 Hadith
28
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا ابو طالب کی وفات کے بعد قریش کا آپ کو سخت ایذا پہنچانا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مدد طلب کرنے کے لیے طائف کی طرف جانا، لیکن ان کا بہت بری طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ردّ کر دیا
2 Hadith
29
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک اور سیدنا مالک بن صعصعۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی روایات کا بیان
3 Hadith
30
سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کردہ حدیث کا بیان
1 Hadith
31
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اپنی مُسنَد کا بیان
1 Hadith
32
سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اس چیز کاانکار کرنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء والی رات کو بیت المقدس میں نماز پڑھی ہے
2 Hadith
33
اسراء و معراج والی رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا تمام انبیائے کرام hکو نمازبیت المقدس میں نماز پڑھانا، یہ روایت کرنے والوں کا بیان
1 Hadith
34
ان فرشتوں، نبیوں، کافروں، گنہگاروں اور بعض کی صفات کا بیان، جن کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسراء و معراج والی رات کو دیکھا
9 Hadith
35
اسراء و معراج سے متعلقہ متفرق امور کا بیان
5 Hadith
36
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جبریل علیہ السلام کو اس کی اصلی صورت میں دیکھنا اور کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے معراج والی رات کو اپنے ربّ کو دیکھا ہے یا نہیں؟
7 Hadith
37
اسراء و معراج کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مکہ مکرمہ کی طرف واپس لوٹنا، قریش کو اس چیز کی خبرد ینا اور ان کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو جھٹلا دینا
3 Hadith
38
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مواسمِ حج کے موقع پر مِنٰی میں اپنے آپ کو عرب کے قبائل پر پیش کرنا
3 Hadith
39
فوائد:… ابو لہب اور ابو جہل، اسلام اور اہل اسلام کے سخت دشمن تھے، انھوں نے اپنی بد نصیبی میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مخالفت برقرار رکھی، بالآخر یہ دونوں سردار بری طرح ناکام ہوئے، ایک غزوۂ بدر میں مارا گیا اور دوسرا اس سے چند دن بعد طبعی لیکن بری موت مرا، جبکہ دن بدن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی شان و عظمت میں اضافہ ہوتا گیا۔
3 Hadith
40
مدینہ منورہ سے بارہ انصاریوں کے آنے اور بیعت ِ عقبہ اولی کا بیان
2 Hadith
41
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
5 Hadith
42
نبی کریم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کی مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اپنے صحابہ کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دینا
1 Hadith
43
قریشیوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو قتل کرنے کا مشورہ کرنا اور اللہ تعالیٰ کا آپ کو ہجرت کا حکم دے دینا
3 Hadith
44
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہجرت کرنا،سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بطورِ رفیقِ ہجرت منتخب کرنا، پھر دونوں کی ہجرت کے لیے تیاری کرنا اور مکہ مکرمہ سے نکل پڑنا، یہاں تک کہ غارِ ثور میں داخل ہو جانا
3 Hadith
45
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سراقہ بن مالک کے ساتھ قصہ اور راستے میں پیش آنے والے واقعات
3 Hadith
46
ہجرت کے راستے میں سعد رہنما کی بات کا بیان، بنو اسلم کے دو چوروں کا مسلمان ہونا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا قباء میں بنو عمرو بن عوف کے پاس اترنا
2 Hadith
47
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مدینہ منورہ آمد، اہل مدینہ کا باہر نکلنا اور خواتین و حضرات کا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کرنا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں اترنا
6 Hadith
48
ہجرت کی فضیلت اور اس چیز کا بیان کہ کون سی ہجرت افضل ہے
3 Hadith
49
ہجرت کا اس وقت تک منقطع نہ ہونا، جب تلک دشمن سے لڑائی جاری رہے گی
6 Hadith
50
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں ہے کا بیان
9 Hadith
51
فتح مکہ سے قبل مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے والے کے اجر و ثواب کے باقی رہنے کا بیان، اگرچہ بعد میں وہ کسی اور علاقے میں اقامت اختیار کر لے
6 Hadith
No chapter matched that.