TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12152 - فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 9 of 9 in this chapter
فصل دوم: اس امر کا بیان کی بیعت کرنا اور اس پر پابند رہنا ضروری ہے اور بیعت کے بغیر رہنا درست نہیں
۔ (۱۲۱۵۲)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ، قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ، فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ، فَذَکَرَ حَدِیْثًا طَوِیْلًا وَفِیْہِ: ((وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَیَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَائَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ: أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلٰی أُذُنَیْہِ، فَقَالَ: سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، قَالَ: فَقُلْتُ: ہٗذَاابْنُعَمِّکَمُعَاوِیَۃُیَعْنِییَأْمُرُنَا بِأَکْلِ أَمْوَالِنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا، وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} قَالَ: فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلٰی جَبْہَتِہِ ثُمَّ نَکَسَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ، وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔(مسند احمد: ۶۵۰۳)
عبدالرحمن بن عبد ِربّ ِکعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اس وقت کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو سنا، وہ کہہ رہے تھے: ہم ایک دفعہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سفر میں تھے، پھر انہو ں نے طویل حدیث بیان کی، اس کا ایک اقتباس یہ تھا: جس نے کسی حکمران کی بیعت کی اور اس سے معاہدہ کیا اور اس کو دل کا پھل دے دیا، تو وہ حسب ِ استطاعت اس کی اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس پہلے حاکم سے اختلا ف کرے تو بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبد الرحمن کہتے ہیں: یہ سن کر میں نے اپنا سر لوگوں کے درمیان میںداخل کیا اور کہا: میں تم کو اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے یہ حدیث اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خود سنی ہے؟ انہوں نے اپنے ہاتھوں کے ذریعے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس حدیث کو میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اس کو محفوظ کیا۔ عبدالرحمن نے کہا: یہ آپ کا چچازاد بھائی سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل اور ناجائز طریقوں سے کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوْا لَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ}… اے ایمان والو! تم اپنے اموال آپس میں باطل طریقوں سے مت کھاؤ۔ یہ سن کر انہو ںنے اپنے دونوں ہاتھ اکٹھے کیے اور انہیں اپنی پیشانی کے اوپر رکھا اور پھر کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھے رہے، پھر کچھ دیر بعد سر اٹھایا اور کہا: اللہ کی اطاعت کا کام ہوتو ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی ہوتو ان کی بات نہ مانو۔
12152
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۵۲) تخریج: اخرجہ مسلم: ۱۸۴۴ (انظر: ۶۵۰۳)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر خلیفۃ المسلمین موجود ہوتو ہر صورت میں اس کی بیعت کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔

Related Chapters

978
1
(3) CHAPTER. To give the Baiah (pledge) for Iqamat-as-Salat [the offering of As-Salat (the prayers)].
نماز درست طریقے سے پڑھنے پر بیعت کرنا
Sahih Bukhari
2
(1) CHAPTER. Al-Hawala, (the transference of a dedt from one person to another. It is an agreement whereby a bebtor is released from a debt by another becoming responsible for it). Can Hawala be rejected by the creditors after accepting it?
حوالہ یعنی قرض کو کسی دوسرے پر اتارنے کا بیان اور اس کا بیان کہ حوالہ میں رجوع کرنا درست ہے یا نہیں
Sahih Bukhari
3
Chapter: It is permissible for one who has broken his wudu’ to eat, and there is nothing disliked about doing so, and wudu’ need not be done immediately
بے وضو شخص کے لیے کھانا جائز ہے، اس میں کوئی کراہت نہیں اور وضو فوری طور پر کرنا ضروری نہیں
Sahih Muslim
4
CHAPTER: Regarding A Woman Who Performs Hajj Without A Mahram.
باب: عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
5
نماز کے بعد خطبہ کا انتظار کرنا ضروری ہے یا نہیں؟۔
Sunnan Ibn e Maja
6
Chapter: What Has Been Related About How Long The Prayer Is Shortened
باب: کتنے دنوں تک قصر کرنا درست ہے؟
Jam e Tirmazi
7
سوال نہ کرنے پر بیعت کرنا
Musnad Ahmad
8
اس نذر کو پورا کرنا نہیں ہے، جو معصیت میں ہو یا ایسی چیز میں ہو جو ابن آدم کی ملکیت میں نہ ہو
Musnad Ahmad
9
ان حیوانات کا بیان، جن کا قتل کرنا جائز نہیں ہے
Musnad Ahmad
10
سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا اپنے زمانۂ خلافت میں (ایک قراء ت کے مطابق) مصاحف لکھوانا، پھران کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرنا اور لوگوں کو اس پر پابند رہنے پر آمادہ کرنا اور اس کے مخالف قراء ت والے اور قدیم مصاحف کو جلا دینے کا بیان
Musnad Ahmad
11
بیعت ِ عقبہ اولی کے ایک سال بعد انصاریوں کے ستر مردوں اور دو عورتوں کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آنا اور بیعت ِ عقبہ ثانیہ کرنا
Musnad Ahmad
12
(27) CHAPTER. To fix the duties in rotation for learning (religious) knowledge.
اس بارے میں کہ ( طلباء کا حصول ) علم کے لیے ( استاد کی خدمت میں ) اپنی اپنی باری مقرر کرنا درست ہے ۔
Sahih Bukhari
13
(32) CHAPTER. The preaching (and teaching) of the (religious) knowledge to women by the Imam (Chief):
اس بارے میں کہ امام کا عورتوں کو بھی نصیحت کرنا اور تعلیم دینا ( ضروری ہے )
Sahih Bukhari
14
(5) CHAPTER. To perform a light ablution.
اس بارے میں کہ ہلکا وضو کرنا بھی درست اور جائز ہے
Sahih Bukhari
15
(11) CHAPTER. While urinating or defecating, never face the Qiblah except when you are screened by a building or a wall or something like that.
اس مسئلہ میں کہ پیشاب اور پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ نہیں کرنا چاہیے ۔ لیکن جب کسی عمارت یا دیوار وغیرہ کی آڑ ہو تو کچھ حرج نہیں
Sahih Bukhari
16
(25) CHAPTER. The cleaning of the nose by putting water in it and then blowing it out during ablution.
وضو میں ناک صاف کرنا ضروری ہے ۔
Sahih Bukhari
17
(31) CHAPTER. While performing ablution or taking a bath one should start from the right side of the body.
وضو اور غسل میں داہنی جانب سے ابتداء کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
18
(33) CHAPTER. What is said regarding the water with which human hair has been washed.
جس پانی سے آدمی کے بال دھوئے جائیں اس پانی کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
19
(38) CHAPTER. To pass wet hands over the whole head during ablution.
اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
20
(54) CHAPTER. To perform ablution even on having no Hadath.
بغیر حدث کے بھی نیا وضو کرنا جائز ہے
Sahih Bukhari
21
(2) CHAPTER. Taking a bath by a man along with his wife.
اس بارے میں کہ مرد کا اپنی بیوی کے ساتھ غسل کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
22
(13) CHAPTER. The washing away of emotional urethral discharge and performing ablution after it.
اس بارے میں کہ مذی کا دھونا اور اس کی وجہ سے وضو کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
23
(21) CHAPTER. To screen oneself from the people while taking a bath.
اس بیان میں کہ لوگوں میں نہاتے وقت پردہ کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
24
(70) CHAPTER. Mentioning about sales and purchases on the pulpit in the mosque.
مسجد کے منبر پر مسائل خریدوفروخت کا ذکر کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
25
(88) CHAPTER. To clasp one's hands by interlocking the fingers in the mosque or outside the mosque.
مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
26
(40) CHAPTER. Talking about the Islamic jurisprudence and good things after the Isha prayer.
اس بارے میں کہ مسئلے مسائل کی باتیں اور نیک باتیں عشاء کے بعد بھی کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
27
(4) CHAPTER. Whoever named some people or greeted somebody during As-Salat (prayer) because of ignorance.
نماز میں نام لے کر دعا یا بددعا کرنا یا کسی کو سلام کرنا بغیر اس کے مخاطب کئے اور نمازی کو معلوم نہ ہو کہ اس سے نماز میں خلل آتا ہے
Sahih Bukhari
28
(98) CHAPTER. Talking about the wicked among the dead.
برے مردوں کی برائی بیان کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
29
(2) CHAPTER. To give Baiah (pledge) for paying Zakat.
زکوٰۃ دینے پر بیعت کرنا
Sahih Bukhari
30
(30) CHAPTER. Every Muslim has to give in charity; and whoever does not find anytingto give, should do all that is good [i.e. enjoin Al-Maruf (Islamic Monotheism, and all that Islam has ordained)].
ہر مسلمان پر صدقہ کرنا ضروری ہے اگر ( کوئی چیز دینے کے لیے ) نہ ہو تو اس کے لیے اچھی بات پر عمل کرنا یا اچھی بات دوسرے کو بتلا دینا بھی خیرات ہے
Sahih Bukhari
31
(45) CHAPTER. No Zakat is imposed on the horse of a Muslim.
مسلمان پر اس کے گھوڑوں کی زکوٰۃ دینا ضروری نہیں ہے
Sahih Bukhari
32
(46) CHAPTER. No Zakat is imposed on the slave belonging to a Muslim.
مسلمان کو اپنے غلام ( لونڈی ) کی زکوٰۃ دینی ضروری نہیں ہے
Sahih Bukhari
33
(55) CHAPTER. Ushr is to be imposed on the yield of the land which is either irrigated by rain or the running water channel.
اس زمین کی پیداوار سے دسواں حصہ لینا ہو گا جس کی سیرابی بارش یا جاری ( نہر ‘ دریا وغیرہ ) پانی سے ہوئی ہو اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے شہد میں زکوٰۃ کو ضروری نہیں جانا
Sahih Bukhari
34
(115) CHAPTER. To slaughter cows (as sacrifices) on behalf of one's wives without being ordered by them.
کسی آدمی کا اپنی بیویوں کی طرف سے ان کی اجازت کے بغیر گائے کی قربانی کرنا
Sahih Bukhari
35
(4) CHAPTER. Whoever said that the Muhsar is not supposed to perform Umm or Hajj in lieu of the prevented one.
جس نے کہا کہ روکے گئے شخص پر قضاء ضروری نہیں
Sahih Bukhari
36
(9) CHAPTER. The statement of Allah: “… Then he should not have sexual relations (with his wife) … (V.2:197)
سورۃ بقررہ میں اللہ کا یہ فرمانا کہ حج میں شہوت کی باتیں نہیں کرنا چاہئے
Sahih Bukhari
37
(1) CHAPTER. The Itikaf in the last ten days of Ramadan. And Itikaf may be practised in any mosque.
رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف ہر ایک مسجد میں درست ہے
Sahih Bukhari
38
(2) CHAPTER. If somebody's debt are transferred to a rich debtor, the Hawala is irrevocable…
جب قرض کسی مالدار کے حوالہ کر دیا جائے تو اس کا رد کرنا جائز نہیں
Sahih Bukhari
39
(10) CHAPTER. If the oppressed one forgives the oppressor, is it necessary to describe his oppression?
اگر کسی شخص نے دوسرے پر کوئی ظلم کیا ہو اور اس سے معاف کرائے تو کیا اس ظلم کو بیان کرنا ضروری ہے
Sahih Bukhari
40
(4) CHAPTER. It is permissible to mortgage an animal used for riding or milking.
گروی جانور پر سواری کرنا اس کا دودھ پینا درست ہے
Sahih Bukhari
41
(2) CHAPTER. What conditions are permissible for a writing of emancipation and whoever stipulates conditions that are not (present) in Allah's Book (i.e., not in accordance with Allah's Laws).
مکاتب سے کون سی شرطیں کرنا درست ہیں اور جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو ( وہ شرط باطل ہے )
Sahih Bukhari
42
(10) CHAPTER. Whoever thinks that it is permissibe to give as a gift, something not present.
جن کے نزدیک غائب چیز کا ہبہ کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
43
(23) CHAPTER. The defendant has to take an oath wherever it becomes legally compulsory, and it is not imperative to take him from his place to another place (i.e., a sacred place like a mosque) for this purpose.
مدعیٰ علیہ پر جہاں قسم کھانے کا حکم دیا جائے وہیں قسم کھا لے یہ ضروری نہیں کہ کسی دوسری جگہ پر جا کر قسم کھائے
Sahih Bukhari
44
(6) CHAPTER. A legal heir has no right to inherit through a will.
وارث کے لئے وصیت کرنا جائز نہیں ہے
Sahih Bukhari
45
(22b) CHAPTER. How a guardian is to deal with an orphan's wealth and what he can eat thereof according to his labour.
وصی کے لئے یتیم کے مال میں تجارت اور محنت کرنا درست ہے اور پھر محنت کے مطابق اس میں سے کھالینا درست ہے
Sahih Bukhari
46
(92) CHAPTER. What is said about the knife.
چھری کا استعمال کرنا درست ہے
Sahih Bukhari
47
(110) CHAPTER. To give a Bai'a for not to flee during a battle.
لڑائی سے نہ بھاگنے پر اور بعضوں نے کہا مر جانے پر بیعت کرنا
Sahih Bukhari
48
(195) CHAPTER. (It is permissible for a man) to look in (or search) the hair of the Dhimmi women (i.e., non-Muslims living under the protection of Muslims) and that of the lady-believers if they disobey Allah, and to compel them to take off their clothes if there is necessity.
ذمی یا مسلمان عورتوں کے ضرورت کے وقت بال دیکھنا درست ہے اس طرح ان کا ننگا کرنا بھی جب وہ اللہ کی نافرمانی کریں
Sahih Bukhari
49
(8) CHAPTER. The story of the Bai'a (pledge) (after Umar) and the unanimous election of of Uthman bin Affan as a caliph.
حضرت عثمان رضیاللہعنہ سے بیعت کا قصہ اور آپ کیخلافت پر صحابہ کا اتفاق کرنا اور اس باب میں امیرالمؤمنین حضرت عمر بنخطاب رضیاللہعنہ کی شہادت کا بیان
Sahih Bukhari
50
(31) CHAPTER. The marriage of a Muhrim.
احرام والا شخص صرف نکاح ( عقد ) کرسکتاہے حالت احرام میں اپنی بیوی سے جماع کرنا جائز نہیں ہے ۔
Sahih Bukhari
No related chapter matched that.

Related Hadith

11
Musnad Ahmad
11090
۔ (۱۱۰۹۰)۔ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَۃِ قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: بَیْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا، فَمِنَّا مَنْ یَضْرِبُ خِبَائَہُ، وَمِنَّا مَنْ ہُوَ فِی جَشَرِہِ، وَمِنَّا مَنْ یَنْتَضِلُ، إِذْ نَادَی مُنَادِیہِ: الصَّلَاۃُ جَامِعَۃٌ! قَالَ: فَاجْتَمَعْنَا، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَطَبَنَا فَقَالَ: ((إِنَّہُ لَمْ یَکُنْ نَبِیٌّ قَبْلِی إِلَّا دَلَّ أُمَّتَہُ عَلٰی مَا یَعْلَمُہُ خَیْرًا لَہُمْ، وَیُحَذِّرُہُمْ مَا یَعْلَمُہُ شَرًّا لَہُمْ، وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ ہٰذِہِ جُعِلَتْ عَافِیَتُہَا فِی أَوَّلِہَا، وَإِنَّ آخِرَہَا سَیُصِیبُہُمْ بَلَائٌ شَدِیدٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَہَا، تَجِیئُ فِتَنٌ یُرَقِّقُ بَعْضُہَا لِبَعْضٍ، تَجِیئُ الْفِتْنَۃُ فَیَقُولُ الْمُؤْمِنُ: ہٰذِہِ مُہْلِکَتِی، ثُمَّ تَنْکَشِفُ، ثُمَّ تَجِیئُ الْفِتْنَۃُ فَیَقُولُ الْمُؤْمِنُ: ہٰذِہِ، ثُمَّ تَنْکَشِفُ، فَمَنْ سَرَّہُ مِنْکُمْ أَنْ یُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ وَأَنْ یُدْخَلَ الْجَنَّۃَ فَلْتُدْرِکْہُ مَوْتَتُہُ وَہُوَ یُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ، وَلْیَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِییُحِبُّ أَنْ یُؤْتٰی إِلَیْہِ، وَمَنْ بَایَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاہُ صَفْقَۃَیَدِہِ وَثَمَرَۃَ قَلْبِہِ، فَلْیُطِعْہُ مَا اسْتَطَاعَ، فَإِنْ جَائَ آخَرُ یُنَازِعُہُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ۔)) قَالَ: فَأَدْخَلْتُ رَأْسِی مِنْ بَیْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُکَ بِاللّٰہِ آنْتَ سَمِعْتَ ہٰذَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَأَشَارَ بِیَدِہِ إِلَی أُذُنَیْہِ فَقَالَ سَمِعَتْہُ أُذُنَایَ وَوَعَاہُ قَلْبِی، قَالَ: فَقُلْتُ: ہٰذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِیَۃُیَعْنِییَأْمُرُنَا بِأَکْلِ أَمْوَالِنَا بَیْنَنَا بِالْبَاطِلِ، وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللّٰہُ تَعَالَی: {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} قَالَ: فَجَمَعَ یَدَیْہِ فَوَضَعَہُمَا عَلٰی جَبْہَتِہِ، ثُمَّ نَکَسَ ہُنَیَّۃً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ، فَقَالَ: أَطِعْہُ فِی طَاعَۃِ اللّٰہِ وَاعْصِہِ فِی مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔ (مسند احمد: ۶۵۰۳)
عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، میں نے ان کو کہتے سنا کہ ایک دفعہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ سفر میں تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک مقام پر نزول فرما ہوئے، ہم میں سے کوئی اپنا خیمہ نصب کرنے لگا، کوئی اپنے جانوروں کو کھول کر چرانے لگا، کوئی تیر اندازی کی مشق کرنے لگا۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے، ہم سب جمع ہو گئے، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا: مجھ سے پہلے آنے والے ہر نبی نے اپنی امت کو ہر اس بات کی تعلیم دی جو وہ ان کے لیے بہتر سمجھتا تھا اور اس نے اپنی امت کو ہر اس بات سے ڈرایا جسے وہ ان کے لیے بری سمجھتا تھا تمہاری اس امت کے اولین حصے میں تو عافیت ہی عافیت رکھی گئی ہے۔ اور امت کے آخری حصے کو شدید مصائب اور تکالیف کا سامنا ہو گا ایسے ایسے فتنے اور مصیبتیں آئیں گی کہ بعد والے فتنے کی شدت پہلے فتنے کو ہلکا کر دے گی، کوئی فتنہ آئے گا تو مومن کہے گا کہ یہ فتنہ تو مجھے تباہ کر دے گا، پھر وہ ٹل جائے گا، پھر اور فتنہ آئے گا تو مومن پھر وہی بات کہے گا پھر وہ بھی ٹل جائے گا تم میں سے جو کوئی چاہتا ہو کہ اسے جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کر دیا جائے تو اسے موت اس حال میں آنی چاہیے کہ اللہ پر اور آخرت پر کما حقہ ایمان رکھتا ہو۔ اور وہ دوسروں کی طرف سے اپنے بارے میں جیسا رویہ پسند کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کے ساتھ ویسا ہی رویہ رکھے، اور جو کوئی کسی حاکم کی بیعت کر کے اس کے ساتھ وفا داری کا عہدوپیمان کر لے تو اسے چاہیے کہ حسبِ استطاعت اس کی مکمل اطاعت کرے، اگر کوئی دوسرا آدمی آکر اس حاکم کے ساتھ اختلاف کرے تو تم بعد والے کی گردن اڑادو۔ عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ کا بیان ہے کہ میں نے ان کییہ باتیں سن کر اپنا سر لوگوں کے اندر داخل کر کے عرض کیا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آیایہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آپ نے خود سنی ہیں؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میرے کانوں نے یہ باتیں سن کر اپنا سر لوگوں کے اندر داخل کر کے عرض کیا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ آیایہ باتیں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آپ نے خود سنی ہیں؟ تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ میرے کانوں نے یہ باتیں سنیں اور میرے دل نے ان کو یاد رکھا ہے تو میں نے عرض کیا کہ یہ آپ کا چچا زاد معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تو ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق کھالیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو قتل کریں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ}… ایمان والو تم آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق مت کھاؤ۔ ( سورۂ نسائ: ۲۹) تو سیدنا عبداللہ بن عمر و بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اکٹھا کر کے اپنی پیشانی پر رکھ سر کو کچھ دیر تک جھکائے رکھا پھر سر اُٹھا کر کہا وہ اللہ کی اطاعت کاحکم دے تو اس کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہیں مانو۔
Musnad Ahmad
60
۔ (۶۰)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ قَالَ: کُنَّا قَدْ نُہِیْنَا أَنْ نَسْأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ شَیْئٍ،فَکَانَ یُعْجِبُنَا أَنْ یَجِیْئَ الرَّجُلُ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ الْعَاقِلُ فَیَسْأَلَہُ وَنَحْنُ نَسْمَعُ، فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ فَقَالَ: یَامُحَمَّدُ! أَتَانَا رَسُوْلُکَ فَزَعَمَ لَنَا أَنَّکَ تَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ أَرْسَلَکَ، قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ السَّمَائَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ خَلَقَ الْأَرْضَ؟ قَالَ: ((اللّٰہُ۔))، قَالَ: فَمَنْ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ وَجَعَلَ فِیْہَا مَا جَعَلَ؟ قَالَ: ((اَللّٰہُ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی خَلَقَ السَّمَائَ وَ خَلَقَ الْأَرْضَ وَ نَصَبَ ہٰذِہِ الْجِبَالَ! آللّٰہُ أَرْسَلَکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی یَوْمِنَا وَ لَیْلَتِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: فَزَعَمَ رَسُوْلُکُ أَنَّ عَلَیْنَا زَکٰوۃً فِی أَمْوَالِنَا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))، قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَ زَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا صَوْمَ شَہْرِ رَمَضَانَ فِی سَنَتِنَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ، صَدَقَ۔)) قَالَ: فَبِالَّذِی أَرْسَلَکَ! آللّٰہُ أَمَرَکَ بِہٰذَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔))، قَالَ: وَزَعَمَ رَسُوْلُکَ أَنَّ عَلَیْنَا حَجَّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا؟ قَالَ: ((صَدَقَ۔))،قَالَ: ثُمَّ وَلّٰی فَقَالَ: وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ نَبِیًّا لَا أَزِیْدُ عَلَیْہِنَّ شَیْئًا وَلَا أَنْقُصُ مِنْہُنَّ شَیْئًا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَئِنْ صَدَقَ لَیَدْخُلَنَّ الْجَنَّۃَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۴۸۴)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
Musnad Ahmad
3398
۔ (۳۳۹۸) عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّہُ حَجَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌فَأَتَاہُ اَشْرَافُ أَہْلِ الشَّامِ فَقَالُوْا: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! إِنَّا أَصَبْنَا رَقِیْقًا وَدَوَابَّ فَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا صَدَقَۃً تُطَہِّرُنَا بِہَا وَتَکُوْنُ لَنَا زَکَاۃً، فَقَالَ: ہٰذَا شَیْئٌ لَمْ یَفْعَلُہُ اللَّذَانِ قَبْلِی وَلٰکِنِ انْتَظِرُوْا حَتّٰي أَسْأَلَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۸)
حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں حج کیا، اہل شام کے معزز لوگ آئے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم غلاموں اور جانوروں کے مالک بنے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہم سے ہمارے ان مالوں کی زکوۃ وصول کریں تاکہ ہمارے مال پاک ہو جائیں اور یہ چیز ہمارے لیے باعث ِ تزکیہ ہو۔ لیکن آپ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے والی دو شخصیات(رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) نے یہ عمل نہیں کیا، لیکن تم انتظار کرو تاکہ میں دوسرے مسلمانوں سے اس بارے میں مشورہ کر لوں۔
Musnad Ahmad
5944
۔ (۵۹۴۴)۔ عَنْ اَبِیْیَحْیٰی رَجُلٍ مِنْ أَھْلِ مَکَّۃَ عَنْ فَرُّوْخَ مَوْلٰی عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ خَرَجَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَرَأٰی طَعَامًا مَنْثُوْرًا، فَقَالَ: مَاھٰذَا الطَّعَامُ؟ فَقَالُوْا: طَعَامٌ جُلِبَ إِلَیْنَا، قَالَ: بَارَکَ اللّٰہُ فِیْہِ وَفِیْمَنْ جَلَبَہُ، قِیْلَ: یَا أَمِیْرَ الْمُوْمِنِیْنَ! فَاِنَّہُ قَدِ احْتُکِرَ، قَالَ: وَمَنِ احْتَکَرَہُ؟ قَالُوْا: فَرُّوْخُ مَوْلٰی عُثْمَانَ وَ فُلَانٌ مَوْلٰی عُمَرَ، فَأَرْسَلَ اِلَیْہِمَا فَدَعَاھُمَا فَقَالَ: مَاحَمَلَکُمَا عَلَی اِحْتِکَارِ طَعَامِ الْمُصَلِّیْنَ؟ قَالَ: یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! نَشْتَرِیْ بِأَمْوَالِنَا وَنَبِیْعُ، فَقَالَ: عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنِ احْتَکَرَ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ طَعَامَہُمْ ضَرَبَہُ اللّٰہُ بِالْإفْلَاسِ أَوْ بِجُذَامٍ۔)) فَقَالَ فَرُّوْخُ عِنْدَ ذٰلِکَ: یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! أُعَاھِدُ اللّٰہَ وَأُعَاھِدُکَ أَنْ لَا أَعُوْدَ فِیْ طَعَامٍ أَبَدًا، وَأَمَّا مَوْلٰی عُمَرَ فَقَالَ: إِنَّمَا نَشْتَرِیْ بِاَمْوَالِنَا وَنَبِیْعُ، قَالَ اَبُوْ یَحْیٰی: فَلَقَدْ رَأَیْتُ مَوْلٰی عُمَرَ مَجْذُوْمًا۔ (مسند احمد: ۱۳۵)
۔ مولائے عثمان فروخ نے بیان کیا کہ ایک دن سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اس وقت امیر المؤمنین تھے، مسجد کی طرف نکلے اور وہاں بکھراہوا اناج دیکھا اور پوچھا: یہ اناج کیسا ہے ؟ لوگوں نے کہا: یہ اناج ہمارے لئے باہر سے لایا گیا ہے، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: اللہ تعالیٰ اس میںاور اس کو لانے والے میں برکت ڈالے۔ اتنے میں کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ ذخیرہ کیا ہوا مال ہے، انھوں نے پوچھا: کس نے اسے ذخیرہ کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام فروخ اور خود سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ایک غلام نے ذخیرہ کیا ہے، انھوں نے ان دونوں کو بلایا، پس وہ آ گئے، انھوں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے مسلمانوں کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر آمادہ کیا ہے؟ ان دونوں نے کہا: اے امیرالمومنین! ہم اپنے مالوں سے اسی طرح کی خریدوفروخت کرتے ہیں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو شخص مسلمانوںکے اناج کی ذخیرہ اندوزی کرے گا، اللہ تعالی اس پر افلاس یا کوڑھ کو مسلط کردیں گے۔ فروخ نے تو اسی وقت کہا: اے امیرالمومنین! میں اللہ تعالیٰ سے اور پھرآپ سے عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ اناج میں ذخیرہ اندوزی نہیںکروں گا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے غلام نے کہا:ہم اپنے مالوں سے چیزیں خریدتے اور بیچتے ہیں۔ ابویحییٰ کہتے ہیں: میں نے بعد میں سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اس غلام کو کوڑھ زدہ دیکھا تھا۔
Musnad Ahmad
10791
۔ (۱۰۷۹۱)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَائَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُنَاسٌ مِنْ قُرَیْشٍ، فَقَالُوا: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّا جِیرَانُکَ وَحُلَفَاؤُکَ وَإِنَّ نَاسًا مِنْ عَبِیدِنَا، قَدْ أَتَوْکَ لَیْسَ بِہِمْ رَغْبَۃٌ فِی الدِّینِ وَلَا رَغْبَۃٌ فِی الْفِقْہِ، إِنَّمَا فَرُّوا مِنْ ضِیَاعِنَا وَأَمْوَالِنَا فَارْدُدْہُمْ إِلَیْنَا، فَقَالَ لِأَبِی بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((مَا تَقُولُ؟)) قَالَ: صَدَقُوا إِنَّہُمْ جِیرَانُکَ، قَالَ: فَتَغَیَّرَ وَجْہُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ لِعُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: ((مَا تَقُولُ؟)) قَالَ: صَدَقُوا إِنَّہُمْ لَجِیرَانُکَ وَحُلَفَاؤُکَ، فَتَغَیَّرَ وَجْہُ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۳۳۶)
سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ قریش کے کچھ آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے کہا: اے محمد! ہم آپ کے ہمسائے اور حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام جنہیں نہ تو دین کا کچھ شوق ہے اور فقہ کی کچھ رغبت، وہ آپ کے پاس آگئے ہیں،یہ لوگ محض ہمارے اہل اور اموال میں سے فرار ہو کر آئے ہیں، آپ انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ واقعی آپ کے ہمسائے ہیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے بھی کہا: ان کی بات تو درست ہے، یہ لوگ آپ کے ہمسائے اور حلیف بھی ہیں۔ یہ سن کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ انور متغیر ہو گیا۔
Musnad Ahmad
10919
۔ (۱۰۹۱۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: شَہِدْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ حُنَیْنٍ، وَجَائَتْہُ وُفُودُ ہَوَازِنَ، فَقَالُوا: یَا مُحَمَّدُ! إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِیرَۃٌ فَمُنَّ عَلَیْنَا مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکَ، فَإِنَّہُ قَدْ نَزَلَ بِنَا مِنْ الْبَلَائِ مَا لَا یَخْفٰی عَلَیْکَ، فَقَالَ: ((اخْتَارُوا بَیْنَ نِسَائِکُمْ وَأَمْوَالِکُمْ وَأَبْنَائِکُمْ۔)) قَالُوا: خَیَّرْتَنَا بَیْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا نَخْتَارُ أَبْنَائَ نَا، فَقَالَ: ((أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ، فَإِذَا صَلَّیْتُ الظُّہْرَ فَقُولُوا: إِنَّا نَسْتَشْفِعُ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَبِالْمُؤْمِنِینَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا۔)) قَالَ: فَفَعَلُوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکُمْ۔)) وَقَالَ الْمُہَاجِرُونَ: وَمَا کَانَ لَنَا فَہُوَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: مِثْلَ ذٰلِکَ، وَقَالَ عُیَیْنَۃُ بْنُ بَدْرٍ: أَمَّا مَا کَانَ لِی ولِبَنِی فَزَارَۃَ فَلَا،وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِیمٍ فَلَا، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَیْمٍ فَلَا، فَقَالَتِ الْحَیَّانِ: کَذَبْتَ بَلْ ہُوَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَیْہِمْ نِسَائَہُمْ وَأَبْنَائَہُمْ، فَمَنْ تَمَسَّکَ بِشَیْئٍ مِنَ الْفَیْئِ فَلَہُ عَلَیْنَا سِتَّۃُ فَرَائِضَ، مِنْ أَوَّلِ شَیْئٍیُفِیئُہُ اللّٰہُ عَلَیْنَا۔)) ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہُ وَتَعَلَّقَ بِہِ النَّاسُ یَقُولُونَ: اقْسِمْ عَلَیْنَا فَیْئَنَا بَیْنَنَا حَتّٰی أَلْجَئُوہُ إِلٰی سَمُرَۃٍ فَخَطَفَتْ رِدَائَہُ، فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ رُدُّوا عَلَیَّ رِدَائِی، فَوَاللّٰہِ! لَوْ کَانَ لَکُمْ بِعَدَدِ شَجَرِ تِہَامَۃَ نَعَمٌ لَقَسَمْتُہُ بَیْنَکُمْ ثُمَّ لَا تُلْفُونِی بَخِیلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا کَذُوبًا۔)) ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِیرِہِ فَأَخَذَ وَبَرَۃً مِنْ سَنَامِہِ فَجَعَلَہَا بَیْنَ أَصَابِعِہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی ثُمَّ رَفَعَہَا فَقَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ لَیْسَ لِی مِنْ ہٰذَا الْفَیْئِ وَلَا ہٰذِہِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَیْکُمْ، فَرُدُّوْا الْخِیَاطَ وَالْمِضْیَطَ، فَإِنَّ الْغُلُولَ یَکُونُ عَلٰی أَہْلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا۔)) فَقَامَ رَجُلٌ مَعَہُ کُبَّۃٌ مِنْ شَعْرٍ، فَقَالَ: إِنِّی أَخَذْتُ ہٰذِہِ أُصْلِحُ بِہَا بَرْدَعَۃَ بَعِیرٍ لِی دَبِرَ، قَالَ: ((أَمَّا مَا کَانَ لِی وَلِبَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَہُوَ لَکَ۔)) فَقَالَ الرَّجُلُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَمَّا إِذْ بَلَغَتْ مَا أَرٰی فَلَا أَرَبَ لِی بِہَا وَنَبَذَہَا۔ (مسند احمد: ۶۷۲۹)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوۂ حنین کے موقعہ پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا، کہ بنو ہوازن کے وفود آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آئے۔ انہوں نے عرض کیا: اے محمد! ہم آپ ہی کا خون اور قبیلہ ہیں، آپ ہم پر احسان کریں، اللہ آپ پر احسان کرے گا۔ بے شک ہم پر ایک ایسی آزمائش آن پڑی ہے، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مخفی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اپنی عورتوں، اموال اور بیٹوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو۔ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں اپنے حسب ونسب اور اموال کے بارے میں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں جوکچھ آتا ہے، وہ تمہیں واپس کرتا ہوں، جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں تو تم کہنا کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مومنین کے سامنے اور مومنین کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے سفارشی کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی عورتوں اور اولادوں کے بارے میں درخواست گزار ہیں۔ انھوں نے ایسے ہی کیا اور جب انھوں نے کہا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کچھ میرے اور بنو عبدالمطلب کے حصہ میں آتا ہے، میں وہ تمہیں واپس کرتا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر مہاجرین نے کہا: جو کچھ ہمارے حصہ میں آتا ہے، ہم وہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیتے ہیں۔ انصار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی ایسے ہی کہا، عیینہ بن بدر بولا کہ جو میرا اور بنو فزارہ کا حصہ ہے ہم تو وہ نہیں دیں گے۔ اقرع بن حابس نے بھی کہا کہ میں اور بنو تمیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کریں گے۔ عباس بن مرداس نے کہا کہ میں اور بنو سلیم بھی اپنے حصے واپس نہیں کرتے۔ اس پر دونوں قبائل نے کہا تم نے غلط کہا: بلکہ ہمارے حصے اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ہیں۔ تب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو!تم ان کی عورتیں اور بیٹے انہیں لوٹا دو، جو آدمی مالِ فے میں سے کچھ رکھنا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں سب سے پہلے جو مالِ فے دے گا، ہم اسے اس میں سے چھ چھ حصے دیں گے، اس کے بعد آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو گئے اور لوگ آپ کو چمٹ گئے، وہ کہہ رہے تھے کہ آپ مال فے ہمارے درمیان تقسیم کریں۔ انہوں نے آپ کو کیکریا ببول کی طرف جانے پر مجبور کر دیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی چادر اچک لی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! میری چادر تو واپس کرو۔ اللہ کی قسم! اگر تہامہ کے درختوں کے برابر بھی اونٹ ہوں تو میں ان کو تمہارے درمیان بانٹ دوں گا اور تم مجھے بخیل، بزدل اور جھوٹا نہیں پاؤ گے۔ پھر آپ نے اپنے اونٹ کے قریب ہو کر اس کے کوہان کے چند بال پکڑ کر اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان پکڑ کر انگلی کو اوپر کی طرف اُٹھا کر فرمایا: لوگو! اس مال فے میں سے اتنی سی چیز بھی میری نہیں، سوائے خمس کے، اور وہ بھی تم میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، تم دھاگہ اور سوئی تک یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی واپس کرو۔ بے شک مال غنیمتیا مالِ فے کی تقسیم سے پہلے کوئی چیز لینا اس آدمی کے لیے قیامت کے دن عار، نار اور عیب کا سبب ہو گا، ایک آدمی جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا، وہ اٹھا اور اس نے کہا: میں نے اپنے اونٹ کی پشت پر آئے ہوئے زخم کے اوپر رکھے جانے والے کپڑے کی مرمت کے لیےیہ گچھا لے لیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس گچھے میں جو میرا اور بنو عبدالمطلب کا حصہ ہے، میں تمہیں وہ معاف کرتا ہوں۔ وہ کہنے لگا: یارسول اللہ! جب بات اس حد تک جا پہنچی ہے، جو میں دیکھ رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہہ کر اس نے وہ گچھا پھینک دیا۔
Musnad Ahmad
10970
۔ (۱۰۹۷۰)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیَّیَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی خُطْبَتِہِ عَامَّ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ: ((إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَعْطٰی کُلَّ ذِی حَقٍّ حَقَّہُ فَلَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ وَحِسَابُہُمْ عَلَی اللّٰہِ، وَمَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیہِ أَوِ انْتَمَی إِلٰی غَیْرِ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ التَّابِعَۃُ إِلَییَوْمِ الْقِیَامَۃِ، لَا تُنْفِقُ الْمَرْأَۃُ شَیْئًا مِنْ بَیْتِہَا إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِہَا۔)) فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَلَا الطَّعَامَ؟ قَالَ: ((ذٰلِکَ أَفْضَلُ أَمْوَالِنَا۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((الْعَارِیَۃُ مُؤَدَّاۃٌ وَالْمِنْحَۃُ مَرْدُودَۃٌ وَالدَّیْنَ مَقْضِیٌّ وَالزَّعِیمُ غَارِمٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۵۰)
سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ میںیوں ارشاد فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کو اس کا حق دے دیا ہے، پس اب کسی وارث کے حق میں وصیت نہیں کی جا سکتی، بچہ اسی کی طرف منسوب ہو گا، جس کے بستر پر یعنی جس کے گھر میں پیدا ہو ا اور زانی کے لیے سنگ ساری کی سزا ہے اور ان کا اصل حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ جو شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی دوسرے کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کرے گا یا اپنے اصل مالکوں کے علاوہ اپنے آپ کو کسی دوسرے کی طرف نسبت کرے تو اس پر قیامت تک اللہ کی لعنت برابر برستی رہے گی۔کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر اپنے گھر میں سے کوئی چیز خرچ نہ کرے۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا کھانا بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو ہمارے اموال میں سب سے قیمتی چیز ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ادھار لی ہوئی چیز کا واپس کرنا ضروری ہے، کسی نے دودھ کا جانور بطور عطیہ دیا ہو کہ تم اس کا دودھ پیتے رہو، ایسے جانور کی واپسی بھی ضروری ہے، قرض کی ادائیگی بھی ضروری ہے، اور جو کوئی کسی کی ضمانت دے تو اصل کی بجائے یہ آدمی مقروض ہے۔ یعنی اگر وہ شخص ادا نہ کرے تو ضامن اس کی ادائیگیکا پابند ہے۔
Musnad Ahmad
10990
۔ (۱۰۹۹۰)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ، وَہُوَ عَاصِبٌ رَأْسَہُ، قَالَ: فَاتَّبَعْتُہُ حَتّٰی صَعِدَ عَلَی الْمِنْبَرِ، قَالَ: فَقَالَ: ((إِنِّی السَّاعَۃَ لَقَائِمٌ عَلَی الْحَوْضِ۔)) قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ عَبْدًا عُرِضَتْ عَلَیْہِ الدُّنْیَا وَزِینَتُہَا فَاخْتَارَ الْآخِرَۃَ، فَلَمْ یَفْطَنْ لَہَا أَحَدٌ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا أَبُو بَکْرٍ۔)) فَقَالَ: بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی بَلْ نَفْدِیکَ بِأَمْوَالِنَا وَأَنْفُسِنَا وَأَوْلَادِنَا، قَالَ: ثُمَّ ہَبَطَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْمِنْبَرِ فَمَا رُئِیَ عَلَیْہِ حَتَّی السَّاعَۃِ، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّ أَمَنَّ النَّاسِ عَلَیَّ فِی صُحْبَتِہِ وَمَالِہِ أَبُو بَکْرٍ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا مِنَ النَّاسِ خَلِیلًا غَیْرَ رَبِّی لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَکْرٍ، وَلٰکِنْ أُخُوَّۃُ الْإِسْلَامِ أَوْ مَوَدَّتُہُ لَا یَبْقٰی بَابٌ فِی الْمَسْجِدِ إِلَّا سُدَّ إِلَّا بَابَ أَبِی بَکْرٍ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۸۵)
سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرض الموت کے دنوں میں ہمارے ہاں باہر تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پیچھے چلا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف لائے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: (گویا) میں اس وقت حوض( کوثر) پر کھڑا ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا: ایک بندے پر دنیا اور اس کی زینت پیش کی گئی ہے، لیکن اس نے آخرت کا انتخاب کر لیا ہے۔ لوگوں میں سے ابوبکر کے سوا کوئی بھی اس بات کو نہ سمجھ سکا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، بلکہ ہم سب کے اموال، جانیں اور اولادیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نثار ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے نیچے اترے، اس کے بعد آخری دم تک آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کومسجد میں نہیں دیکھا گیا۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں اپنی صحبت اور مال کے لحاظ سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان ابوبکر کے ہیں، اگر میں نے اپنے رب کے سوا لوگوں میں سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا، البتہ سب کے ساتھ اسلامی اخوت اور مودت ضرور ہے، مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دئیے جائیں، ما سوائے ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دروازے کے۔
Musnad Ahmad
10991
۔ (۱۰۹۹۱)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی الْمُعَلَّی عَنْ أَبِیہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطَبَ یَوْمًا، فَقَالَ: ((إِنَّ رَجُلًا خَیَّرَہُ رَبُّہُ عَزَّ وَجَلَّ بَیْنَ أَنْ یَعِیشَ فِی الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَعِیشَ فِیہَا،یَأْکُلُ مِنَ الدُّنْیَا مَا شَائَ أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا، وَبَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ۔)) قَالَ فَبَکٰی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، قَالَ: فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ ہٰذَا الشَّیْخِ، أَنْ ذَکَرَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا صَالِحًا خَیَّرَہُ رَبُّہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بَیْنَ الدُّنْیَا وَبَیْنَ لِقَائِ رَبِّہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، فَاخْتَارَ لِقَائَ رَبِّہِ عَزَّ وَجَلَّ، وَکَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَعْلَمَہُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: بَلْ نَفْدِیکَ بِأَمْوَالِنَا وَأَبْنَائِنَا أَوْ بِآبَائِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنُّ عَلَیْنَا فِی صُحْبَتِہِ وَذَاتِ یَدِہِ مِنْ ابْنِ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلَوْ کُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِیلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِی قُحَافَۃَ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ، وَلٰکِنْ وُدٌّ وَإِخَائُ إِیمَانٍ مَرَّتَیْنِ، وَإِنَّ صَاحِبَکُمْ خَلِیلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۱۸)
ابن ابی المعلی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطاب کیا اور فرمایا: ایک بندے کو اس کے رب نے اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو جب تک دنیا میں چاہے رہے اور یہاں سے جو چاہے کھائے یا اپنے رب سے ملاقات کرے، اس نے اپنے رب کی ملاقات کو اختیار کیا ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رونے لگے، صحابۂ کرام نے کہا کہ اس بزرگ کو دیکھو کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تو کسی نیک بندے کا ذکر کیا ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے دنیایا رب کی ملاقات میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا اور اس نے اپنے رب کی ملاقات کا انتخاب کر لیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات کو ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اچھی طرح جان گئے تھے۔ انہوں نے کہا:ہم سب اپنے اموال، اور اولادوں یا (کہا، راوی کو شک ہے) باپوں سمیت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر فدا ہیں،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نے اپنی صحبت اور اپنے مال کے ذریعے ابوبکر ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر مجھ پر احسان نہیں کیا، اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابو قحافہ کے بیٹے کو خلیل بناتا، لیکن سب سے مودت، اخوت اور ایمان کا تعلق ہے اور بے شک میں اللہ تعالیٰ کا خلیل ہوں۔