TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان - نماز سے فارغ ہونے کے بعد بآواز بلند ذکر کرنے کا بیان - نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نماز کے بعد کیے جانے والے اذکار کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 4 · 2 Hadith
۔ (۱۸۸۲) عَنْ عَمْرِوبْنِ دِیْنَارٍ أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَخْبَرَہُ أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّکْرِ حِیْنَیَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ کَانَ عَلٰی عَہْدِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَّہُ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: کُنْتُ أَعْلَمُ إِذَا انْصَرَفُوْا بِذٰلِکَ إِذَا سَمِعْتُہُ۔ (مسند احمد: ۳۴۷۸)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے غلام ابو معبد کو بتلایا کہ عہد ِ نبوی میں جب لوگ فرضی نماز سے فارغ ہوتے تو ذکر کے ساتھ آواز کو بلند کرتے تھے۔ مزید انھوں نے کہا: بلکہ جب میں (اس ذکر کی) آواز سنتا تھا تو پہچان جاتا تھا کہ لوگ نماز سے فارغ ہو گئے ہیں۔
Takhreej
(۱۸۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۴۱، ومسلم: ۵۸۳ (انظر: ۳۴۷۸)
1882
Sahih
۔ (۱۸۸۳) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیْ مَعْبَدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَاکُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَائَ صَلاَۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلاَّ بِالتَّکْبِیْرِ، قَالَ عَمرٌو قُلْتُ لَہُ حَدَّثْتَنِی؟ قَالَ لاَ، مَا حَدَّ ثْتُکَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۱۹۳۳)
سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی نماز کا ختم ہونا تکبیر کے ساتھ ہی پہچانتا تھا۔ عمرو کہتے ہیں: میںنے (ابو معبد) سے کہا: تو نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میں نے تجھے یہ بیان نہیں کی۔
Takhreej
(۱۸۸۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۸۴۱، ومسلم: ۵۸۳ (انظر: ۱۹۳۳)
Explanation
فوائد:… یہ دونوں احادیث، ایک حدیث ہی ہیں،یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی حدیث کے عموم کو دوسری حدیث کے خصوص کی روشنی میں سمجھا جائے، یعنی مسئلہ یہ ثابت ہوا کہ صرف اللہ اکبر کے ساتھ آواز بلند ہونی چاہیے۔ بعض جن احادیث سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کچھ دوسری دعاؤں کو جہری آواز کے ساتھ پڑھنا بھی ثابت ہے، ان سے مراد لوگوں کو تعلیم دینا ہے۔ عمرو کی اپنے استاد ابومعبد سے بات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابو معبد نے عمرو سے حدیث تو بیان کی ہے لیکن وہ حدیث بیان کر کے بھول گئے۔ اس لیے انہوں نے اپنے شاگرد عمرو کے پوچھنے پر اس کا انکار کیا۔ استاد حدیث بیان کر کے اگر بھول جائے تو صحیح ترین رائے کے مطابق اگر شاگرد ثقہ ہو تو اس کی روایت قابل حجت ہو گی۔ اس کی تفصیلات کے لیے اصول حدیث میں مَنْ حَدَّثَ وَ نَسِیَ والی بحث دیکھیں۔ (مزید: مسند امام احمد محقق: ۳/۴۰۷) (عبداللہ رفیق)
1883
Sahih