TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان - عقلمند اور سمجھدار لوگوں کا امام کے قریب کھڑے ہونے کی مشروعیت کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 11 · 4 Hadith
۔ (۲۶۳۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ، وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، وَاِیَّاکُمْ وَھَوْشَاتِ الْأَسْوَاقِ۔)) (مسند احمد: ۴۳۷۳)
سیّدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں، اور( صفیں بنانے میں) ایک دوسرے سے اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے مخالف ہوجائیں گے، اوربازاروں کے اختلاط اور فتنوں سے بچا کرو۔
Takhreej
(۲۶۳۲) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۳۲ (انظر: ۴۳۷۳)
2632
Sahih
۔ (۲۶۳۳) عَنْ أَبِی مَعْمَرٍ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَخْبَرَۃَ الْأَزْدِیِّ عَنْ أَبِی مَسْعُوْدِ نِ الْأَنْصَارِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلَاۃِ وَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ، لِیَلِیَنِّیْ مِنْکُمْ أُولُوا الْأَحْلَامِ وَالنُّھٰی، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ، ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَہُمْ۔)) قَالَ أَبُوْ مَسْعُوْدٍ فَأَنْتُمْ الْیَوْمَ أَشَدُّ اخْتِلَافًا۔ (مسند احمد: ۱۷۲۳۱)
سیّدنا ابومسعودانصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز کے لیے (صف بناتے وقت) ہمارے کندھوں کوچھوتے اور فرماتے: برابر ہو جاؤ اور مختلف ہو کر کھڑے نہ ہو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے سے مختلف ہوجائیں گے، تم میں سے عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ ضرور ضرور میرے قریب کھڑے ہوں، پھر ان کے بعد وہ کھڑے ہوں جو (عقل و فہم میں) اُن کے قریب ہوں، پھر وہ کھڑے ہوں جو (دوسرے مرتبے کے) لوگوں کے قریب ہوں۔ سیّدنا ابومسعود انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: (لوگو!) آج تم اسی وجہ سے بہت زیادہ اختلاف کا شکار ہوگئے ہو۔
Takhreej
(۲۶۳۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۳۲ (انظر: ۱۷۱۰۲)
2633
Sahih
۔ (۲۶۳۴) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ أَنْ یَلِیَہُ الْمُہَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ فِی الصَّلَاۃِ لِیَأْخُذُوا عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۳۰۹۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ مہاجر اور انصار نماز میں آپ کے قریب کھڑے ہوں تاکہ وہ آپ سے (علم و عمل) حاصل کر سکیں۔
Takhreej
(۲۶۳۴) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن ماجہ: ۹۷۷، (انظر: ۱۱۹۶۳، ۱۳۰۶۴)
Explanation
فوائد: …مہاجرین و انصار بقیہ صحابہ کی بہ نسبت قدیم الاسلام اور قوی الایمان تھے اور ان صفات کی بنا پر وہ آپaکے مختلف احوال کو زیادہ یاد کرنے والے تھے۔
2634
Sahih
۔ (۲۶۳۵) عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: أَتَیْتُ الْمَدِیْنَۃَ لِلِقَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَکُنْ فِیْہِمْ رَجُلٌ أَلْقَاہُ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ أُبِیٍّ فَأُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَخَرَجَ عُمَرُ مَعَ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُمْتُ فِی الصَّفِّ الْأَوَّلِ فَجَائَ رَجُلٌ فَنَظَرَ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفَہُمْ غَیْرِی فَنَحَّانِی وَقَامَ فِی مَکَانِی، فَمَا عَقَلْتُ صَلَاتِی، فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ: یَا بُنَیَّ! لَا یَسُوْؤُکَ اللّٰہَ، فَاِنِّی لَمْ آتِکَ الَّذِی أَتَیْتُکَ بِجَہَالَۃٍ وَلٰکِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا: ((کُونُوا فِی الصَّفِّ الَّذِی یَلِیْنِیْ۔)) وَاِنِّی نَظَرْتُ فِی وُجُوْہِ الْقَوْمِ فَعَرَفْتُہُمْ غَیْرَکَ، ثُمَّ حَدَّثَ فَمَا رَأَیْتُ الرِّجَالَ مَتَحَتْ أَعْنَاقُہَا اِلٰی شَیْئٍ مُتُوْحَہَا اِلَیْہِ، قَالَ فَسَمِعْتُہُ یَقُوْلُ: ھَلَکَ أَھْلُ الْعُقْدَۃِ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ! أَلَا لَا عَلَیْھِمْ آسٰی وَلٰکِنْ آسٰی عَلٰی مَنْ یَھْلِکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَاِذَا ھُوَ أُبِیٌّ، وَالْحَدِیْثُ عَلٰی لَفْظِ سُلَیْمَانَ بْنِ دَاوُدَ۔ (مسند احمد: ۲۱۵۸۵)
قیس بن عباد کہتے ہیں: میں محمد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ کو ملنے کے لیے مدینہ آیا، میں جن آدمیوں کو ملنا چاہتا تھا، ان میں مجھے سب سے زیادہ محبوب سیّدنا اُبی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔ نماز کے لیے اقامت کہی گئی اور سیّدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دوسرے صحابہ کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا، ایک آدمی آیا، اس نے لوگوںکے چہروں پر نگاہ ڈالی اور میرے علاوہ سب کو پہچان لیا، اس نے مجھے پیچھے ہٹا دیا اور خود میری جگہ پر کھڑا ہوگیا، میں(غصے کی وجہ سے) اپنی نماز کو نہ سمجھ سکا۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو اس نے مجھے کہا: میرے پیارے بیٹے! اللہ تجھے برا نہ کرے۔ میں نے تیرے ساتھ جو کچھ کیا ہے، وہ جہالت کی وجہ سے نہیں کیا، بات یہ ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں فرمایا تھا: ا س صف میں کھڑے ہوا کرو جو میرے قریب ہے۔ میں نے لوگوں کے چہرے دیکھے، میں تیرے علاوہ ان سب کو پہچانتا تھا، ( اس لیے تجھے پیچھے کر دیا)۔ پھر وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنے لگے، میں نے لوگوں کو جس انداز میں ان کی بات کی طرف گردنیں لمبی کرتے ہوئے دیکھا، پہلے یہ انداز نہیں دیکھا تھا، انھوں نے اپنے وعظ میں یہ بھی کہا تھا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! بیعت لینے والے (امرائ) ہلاک ہو گئے ہیں،
Takhreej
(۲۶۳۵) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ النسائی: ۲/ ۸۸ (انظر: ۲۱۲۶۴)
Explanation
فوائد: …ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ سمجھدار اور عقلمند لوگ امام کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ ضرورت کے وقت دورانِ نماز اس کے نائب بنیں، امام کے بھول جانے کی صورت میں اسے لقمہ دیں، اچھے انداز میں امام کی اقتداء کریں اور اس کی نماز کی کیفیت کو ضبط کر کے لوگوں کو اس کی تعلیم دیں۔ عصر حاضر میں اس حکم نبوی کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا اور لوگ ایک روایتی روٹین کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔
2635
Sahih