TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان - صفوں کو درست کرنے اور ملانے پر رغبت دلانے کا بیان اور ان میں سے سب سے اچھی اور سب سے بری صفوں کا بیان - امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 6 of امام اور مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ کے ابواب اور صفیں بنانے کے احکام in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 6 of 11 · 21 Hadith
۔ (۲۶۳۶) عَنْ أَبِی سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا یُکَفِّرُ اللّٰہُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَزِیْدُ بِہِ فِی الْحَسَنَاتِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((اِسْبَاغُ الْوُضُوْئِ عَلَی الْمَکَارِہِ وَکَثْرَۃُ الْخُطَا اِلٰی ھٰذِہِ الْمَسَاجِدِ وَانْتِظَارُ الصَّلَاۃِ بَعْدَ الصَّلَاۃِ، مَا مِنْکُمْ مِنْ رَجُلٍ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ مُتَطَہِّرًا فَیُصَلِّیْ مَعَ الْمُسْلِمِیْنَ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فِی الْمَجْلِسِ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ الْأُخْرٰی اِلَّا الْمَلَائِکَۃُ تَقُوْلُ: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُ، اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ، فَاِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاعْدِلُوْا صُفُوْفَکُمْ وَأَقِیْمُوْھَا وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی، فَاِذَا قَالَ اِمَامُکُمُ اَللّٰہُ أَکْبَرُ، فَقُوْلُوْا اَللّٰہُ أَکْبَرُ، وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا، وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ، وَاِنَّ خَیْرَ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ، وَشَرَّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَیْرَ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُؤَخَّرُ، وَشَرَّھَا الْمُقَدَّمُ، یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۰۷)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے امور کی طرف نہ کروں کہ اللہ جن کے ذریعے خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ناپسندیدگیوں کے باوجود مکمل وضو کرنا، اِن مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چل کر آنا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا، تم میں سے جو آدمی اپنے گھر سے وضو کرکے نکلتا ہے اورمسلمانوں کے ساتھ ایک نماز ادا کر کے اُسی جائے نماز میںدوسری نماز کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہے، تو فرشتے اس کے لیے یہ دعا کرتے ہیں: اے اللہ!اس کو معاف کر دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما۔جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنی صفوں کو برابر اور سیدھا کیا کرو اور شگافوں کو پر کر دیا کرو، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں، جب تمہارا امام اللہ اکبر کہے تو تم اللہ اکبر کہو،جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اورجب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو تم ربنا لک الحمد کہو۔بے شک مرودں کی بہترین صف اگلی صف ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بہترین صف پچھلی ہے اور ان کی بری صف اگلی صف ہے، اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظریں نیچی رکھا کرو ، تاکہ ان کے ازار چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Takhreej
(۲۶۳۶) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا سند حسن فی المتابعات أخرجہ مطولا ومختصرا ابن ماجہ: ۴۲۷، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۷، ۲/ ۳۸۵، والبیھقی: ۲/ ۱۶، وابن خزیمۃ: ۱۷۷، ۳۵۷، ۱۵۶۲ (انظر: ۱۰۹۹۴)
Explanation
فوائد: …’’بری صف‘‘ سے مراد اجرو ثواب سے کمی والی بات ہے۔
2636
Sahih
۔ (۲۶۳۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرُّھَا الْمُؤَخَّرُ، وَشَرُّ صُفُوْفِ النِّسَائِ الْمُقَدَّمُ وَخَیْرُھَا الْمُؤَخَّرُ۔)) (مسند احمد: ۸۴۰۹)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں کی بہترین صف اگلی ہے اور ان کی بری ترین صف پچھلی ہے اور عورتوں کی بری ترین صف اگلی ہے اور ان کی بہترین صف پچھلی ہے۔
Takhreej
(۲۶۳۷) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۴۰ (انظر: ۸۴۲۸)
2637
Sahih
۔ (۲۶۳۸) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بِنَحْوِہِ وَزَادَ: ثُمَّ قَالَ: ((یَامَعْشَرَ النِّسَائِ اِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاغْضُضْنَ أَبْصَارَکُنَّ لَا تَرَیْنَ عَوْ َراتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِیْقِ الْأُزُرِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۶۹)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث مروی ہے، اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! جب مرد سجدہ میں جائیں تو تم اپنی نظروں کو نیچا رکھا کرو، تاکہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے ان کی شرمگاہوں کو نہ دیکھ سکو۔
Takhreej
(۲۶۳۸) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ فی ’’مسندہ‘‘ (انظر: ۱۴۱۲۳)
2638
Sahih
۔ (۲۶۳۹) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا الصَّفَّ فِی الصَّلَاۃِ فَاِنَّ اِقَامَۃَ الصَّفِّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۸۱۴۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز میں صف کو سیدھا اور برابر کرو، پس بے شک صف کا سیدھا اور برابر کرنا نماز کی خوبصورتی ہے۔
Takhreej
(۲۶۳۹) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۲۲، ومسلم: ۴۳۵ (انظر: ۸۱۵۷)
Explanation
فوائد: …سیّدنا انس bکہتے ہیں کہ رسول اللہaنے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ فَاِنِّیْ أَرَاکُمْ مِنْ وَّرَائِ ظَھْرِیْ۔)) وَکَانَ أَحَدُنَا یُلْزِقُ مَنْکِبَہٗ بِمَنْکِبِ صَاحِبِہٖ وَقَدَمَہٗ بِقَدَمِہٖ)) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا رکھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھ لیتا ہوں۔‘‘ ہم (صف میں اپنے ساتھ کھڑے) ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور پاؤں کے ساتھ پاؤںملاتے تھے۔ (بخاری: ۷۲۵)
2639
Sahih
۔ (۲۶۴۰) عَنْ بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ جَائَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فَقُلْنَا لَہُ: مَا أَنْکَرْتَ مِنْ عَھْدِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: مَا أَنْکَرْتُ مِنْکُمْ شَیْئًا غَیْرَ أَنَّکُمْ لَا تُقِیْمُوْنَ صُفُوْفَکُمْ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۴۸)
بشیر بن یسار کہتے ہیں: سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (بصرہ سے) مدینہ منورہ تشریف لائے، ہم نے ان سے کہا: آپ کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانے کی بہ نسبت کون سی چیز عجیب اور نئی لگ رہی ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہارے اندر کسی چیز کو عجیب محسوس نہیں کر رہا، البتہ یہ چیز ہے کہ تم اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر نہیں کرتے۔
Takhreej
(۲۶۴۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۲۴ (انظر: ۱۲۱۰۹، ۱۲۱۲۴)
2640
Sahih
۔ (۲۶۴۱) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقْبِلُ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ قَبْلَ أَنْ یُکَبِّرَ فَیَقُوْلُ: ((تَرَاصُّوْا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَاصُّوا) وَاعْتَدِلُوْا فَاِنِّی أَرَاکُمْ مِنْ وَرَائِ ظَہْرِی)) (مسند احمد: ۱۳۴۲۹)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے ہماری طرف متوجہ ہوتے اورفرماتے: آپس میں مضبوطی سے مل جاؤ، (اور ایک روایت میں ہے: اپنی صفوں کو سیدھا کرلو، اور آپس میں مل جاؤ) اور برابر ہو جاؤ ، بے شک میں تم کو اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
Takhreej
(۲۶۴۱) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۸، ۷۲۵، ومسلم: ۴۳۴ (انظر: ۱۲۰۱۱، ۱۳۳۹۶)
Explanation
فوائد: …سیّدنا عبدا للہ بن عمر bروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ aنے فرمایا: ((أَقِیْمُوْا الصُّفُوْفَ وَ حَاذُوْا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَ سُدُّوْا الْخَلَلَ وَلِیْنُوْا بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ وَ مَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (ابوداود) یعنی: ’’صفوں کو سیدھا کرو، کندھوں کو برابر کرو، خلا کو پر کرو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم ہو جاؤ، شیطان کے لیے (صف میں) خالی جگہیں مت چھوڑو، جس نے صف کو ملایا اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا اور جس نے صف کو کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا‘‘۔
2641
Sahih
۔ (۲۶۴۲) عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُسَوِّیْنَا فِی الصُّفُوْفِ کَمَا تُقَوَّمُ الْقِدَاحُ حَتّٰی اِذَا ظَنَّ أَنَّا أَخَذْنَا ذٰلِکَ عَنْہُ وَفَہِمْنَاہُ أَقْبَلَ ذَاتَ یَوْمٍ بِوَجْہِہِ فَاِذَا رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ بِصَدْرِہِ، فَقَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَکُمْ أَوْ لَیُخَالِفَنَّ اللّٰہُ بَیْنَ وُجُوْھِکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۱۸)
سیّدنا نعمان بن بشیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں صفوں میں ایسے سیدھا کرتے، جیسے تیروں کی لکڑیوں کو سیدھا کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ گمان کر لیا کہ ہم نے آپ سے یہ تعلیم حاصل کر لی ہے اور ہم اس طریقے کو سمجھ گئے ہیں، ایک دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ آگے کو نکلا ہوا تھا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے، یا پھراللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان ایک دوسرے کے لیے مخالفت ڈال دے گا۔
Takhreej
(۲۶۴۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۱۷، ومسلم: ۴۳۶ (انظر: ۱۸۳۸۹، ۱۸۴۰۰، ۱۸۴۲۷)
Explanation
فوائد: …اس زمانے میں لوگوں بلکہ قریبی رشتہ داروں میں بہت زیادہ منافرت اور دشمنی پائی جا رہی ہے، اس کی ایک وجہ دورانِ جماعت صفوں کو درست نہ کرنا ہے۔ امام البانی رقمطراز ہیں: سیّدنا نعمان بن بشیر bیہ حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ہر آدمی اپنے ساتھی کے کندھے کے ساتھ کندھا، گھٹنے کے ساتھ گھٹنا اور ٹخنے کے ساتھ ٹخنہ ملاتا تھا۔یہ دو احادیث ِ مبارکہ درج ذیل اہم فوائد پر مشتمل ہیں:
2642
Sahih
۔ (۲۶۴۳) عَنْ أَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: رَاَی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَصْحَابِہِ تَأَخُّرًا، فَقَالَ: تَقَدَّمُوْا فَأْتَمُّوا بِیْ، وَلْیَأْتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ، لَا یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۳۱۲)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے صحابہ میں (خواہ مخوہ کی) تاخیر دیکھی اورفرمایا: آگے بڑھو اور میری اقتداء کرو اور تمہارے پیچھے والے تمہاری اقتداء کریں۔ (متنبہ رہو کہ) لوگ پیچھے ہٹتے رہتے ہیں، حتی کہ اللہ تعالیٰ ان کو قیامت والے دن پیچھے کر دے گا۔
Takhreej
(۲۶۴۳) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۳۸ (انظر: ۱۱۱۴۲)
Explanation
فوائد: …اِس ’’تاخیر‘‘ سے مراد کیا ہے؟ درج ذیل روایت کا جائزہ لیں: سیدہ عائشہcبیان کرتی ہیں کہ رسول اللہaنے فرمایا: ((لَایَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ عَنِ الصَّفِّ الْأَوَّلِ، حَتّٰی یُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ فِیْ النَّارِ۔)) یعنی: ’’لوگ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے، یہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو آگ میں پیچھے چھوڑ دے گا۔‘‘ (ابوداود: ۶۷۹)
2643
Sahih
۔ (۲۶۴۴) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْتِیْنَا اِذَا قُمْنَا اِلَی الصَّلَاۃِ فَیَمْسَحُ عَوَاتِقَنَا أَوْ صُدُورَنَا وَکَانَ یَقُوْلُ: ((لَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ۔)) وَکَانَ یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْأَوَّلِ أَوِ الصُّفُوْفِ الْأُوَلِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۴)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب ہم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس آتے اور ہمارے کندھوں یا سینوں کو چھوتے اور فرماتے: (اس معاملے میں) اختلاف نہ کرو، وگرنہ تمہارے دل ایک دوسرے کے لیے مخالف ہو جائیں گے۔ اور یہ فرماتے تھے: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔
Takhreej
(۲۶۴۴) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن خزیمۃ: ۱۵۵۲، وابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۷۸ (انظر: ۱۸۶۲۱، ۱۸۶۴۳)
Explanation
فوائد: …فرشتوں کا رحمت بھیجنا، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں۔
2644
Sahih
۔ (۲۶۴۵) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ رَافِعِی أَیْدِیْکُمْ کَأَنَّہَا أَذْنَابُ خَیْلٍ شُمْسٍ، اُسْکُنُوا فِی الصَّلَاۃِ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَرَآنَا حِلَقًا فَقَالَ: ((مَا لِی أَرَاکُمْ عِزِیْنَ۔)) ثُمَّ خَرَجَ عَلَیْنَا فَقَالَ: ((أَلا تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّہَا؟)) قَالَ: قَالُوا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا؟ قَالَ: ((یُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْأُوْلٰی وَیَتَرَاصُّوْنَ فِی الصَّفِّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۳۷)
سیّدنا جابر بن سمرۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے ہاتھوں کو اس طرح اٹھاتے ہو، جیسے یہ سرکش گھوڑوں کی دمیں ہیں، نماز میں سکون اختیار کرو۔ پھر ایک دفعہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں گروہوں کی شکل میں بیٹھے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مختلف گروہوں کی صورت میں ہو؟ پھر ایک دفعہ آپ ہمارے پاس آئے اور فرمایا: کیا تم اس طرح صفیں نہیں بناتے، جیسے فرشتے اپنے رب کے پاس بناتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صفیں بناتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ پہلے اگلی صفوں کو مکمل کرتے ہیں اور صف میں آپس میں مضبوطی کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۲۶۴۵) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۴۳۰ (انظر: ۲۱۰۲۴)
Explanation
فوائد: …آج کل جن مساجد میں دو دو مقتدیوں کے درمیان سات آٹھ آٹھ انچ کا فاصلہ ہونے کے باوجود جو ائمہ و خطباء خاموش رہتے ہیں، بلکہ لوگوں کو ایسی ہی صف بنانے کی باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کو عربی لغت کی روشنی میں اس حدیث ِ مبارکہ کے آخری الفاظ پر غور کرنا چاہیے کہ ’’وَیَتَرَاصُّوْنَ‘‘ کا کیا معنی ہے۔ اس لفظ کا مادہ ’’ر َصّ‘‘ ہے، جس کا معنی ہے: ایک دوسرے سے ملنا، جڑنا، دانتوں کا ترتیب کے ساتھ ملا ہوا ہونا، چمٹنا ، پیوست ہونا، اس باب سے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کو ’’بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ اور مضبوط اور پختہ چیز کو ’’رَصِیْص‘‘ کہتے ہیں۔
2645
Sahih
۔ (۲۵۴۶) عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((لَتُسَوُّنَّ الصُّفُوْفَ أَوْ لَتُطْمَسَنَّ وُجُوْھُکُمْ وَلَتُغْمِضُنَّ أَبْصَارَکُمْ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُکُمْ)) (مسند احمد: ۲۲۵۷۸)
سیّدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ضرور ضرور اپنی صفوں کو سیدھا کرو گے یا پھر تمہارے چہروں کی صورتیں تبدیل کر دی جائیں گی اور تم ضرور اپنی آنکھوں کو بند کر و یا تمہاری آنکھوں کو ضرور اچک لیا جائے گا۔
Takhreej
(۲۵۴۶) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدّا، عبید اللہ بن زحر الافریقی وعلی بن یزید الالھانی ضعیفان أخرجہ أبو یعلی فی ’’مسندہ‘‘، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۷۸۴۹ (انظر: ۲۲۲۲۵)
2646
Zaeef
۔ (۲۶۴۷) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: أَقِیْمُوا الصُّفُوْفَ فَاِنَّمَا تَصُفُّوْنَ بِصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ وَحَاذُوا بَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسُدُّوا الْخَلَلَ وَلِینُوا فِی أَیْدِی اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْا فُرُجَاتٍ لِلشَّیْطَانِ وَمَنْ وَصَلَ صَفًّا وَصَلَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی وَمَنْ قَطَعَ صَفًّا قَطَعَہُ اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۵۷۲۴)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، (خیال تو کرو کہ) تم نے فرشتوں کی صفوں کی طرح صفیں بنانی ہیں، اپنے کندھوں کو برابر رکھو، خالی جگہوں کو پر کردو، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو او رشیطان کے لیے کوئی خالی جگہ نہ چھوڑو۔ (یاد رکھو کہ) جس نے صف کو ملایا اللہ اس کو (اپنے فضل اور رحمت سے) ملائے گا، اور جس نے صف کو کاٹا اللہ اس کو (اپنی رحمت سے)کاٹ دے گا۔
Takhreej
(۲۶۴۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۶۶ (انظر: ۵۷۲۴)
Explanation
فوائد: …’’اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ صف کے شگاف کو پر کرنے والے
2647
Sahih
۔ (۲۶۴۸) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((رُصُّوا صُفُوْفَکُمْ وَقَارِبُوْا بَیْنَہَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ! اِنِّی لَأَرَی الشَّیَاطِیْنَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصُّفُوْفِ کَأَنَّہَا الْحَذَفُ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۷۱)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو ملاؤ ، ان کو قریب قریب کرو اور گرد نوں کو (ایک سیدھ میں) برابر رکھو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدکی جان ہے! بے شک میں شیطانوں کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے درمیان خالی جگہوں میں یوں گھستے ہیں، جیسے وہ بغیر بالوں کے کالی بھیڑیں ہیں۔
Takhreej
(۲۶۴۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابوداود: ۶۶۷ (انظر: ۱۳۷۳۵)
Explanation
فوائد: …’’ان کو قریب قریب کرو‘‘ کا معنی یہ ہے کہ دو صفوں کے درمیان کا فاصلہ ضرورت کے مطابق ہونا چاہیے، ایک صف دوسری صف سے زیادہ دور نہ ہو۔ ’’حَذَف‘‘ :کالی چھوٹی بھیڑیں جن کے نہ بال ہوں، نہ دم اور نہ کان۔جب بعض مساجد میں اس قسم کی احادیث بیان کی جاتی ہے کہ صف کے خلا میں شیطان گھس جاتے ہیں، تو بعض لوگ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ مسجد میں شیطان کہاں سے آ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں سے گزارش ہے کہ جب صحابہ کرام مسجد نبوی میں آپaکی اقتداء میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہاں تو رہ جانے والے شگاف میں شیطان پہنچ جاتا تھا، جس کو آپaنے دیکھ کر یہ نسخہ بتایا کہ دو مقتدیوں کے درمیان کوئی خلا اور شگاف نہیں ہونا چاہیے۔
2648
Sahih
۔ (۲۶۴۹) عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ لَا یَتَخَلَّلُکُمْ کَأَوْلَادِ الْحَذَفِ۔)) قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا أَوْلَادُ الْحَذَفِ؟ قَالَ: ((سُودٌ جُرْدٌ تَکُوْنُ بِأَرْضِ الْیَمَنِ)) (مسند احمد: ۱۸۸۲۱)
سیّدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کیا کرو، شیطان حَذَف کی اولاد کی طرح تمہارے اندر نہ گھسنے پائے ۔کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! حَذَف کی اولاد سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ سیاہ رنگ کی بھیڑیں ہوتی ہیں، ان کے بال نہیں ہوتے اوریہ یمن کے علاقے میں پائی جاتی ہیں۔
Takhreej
(۲۶۴۹) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱/ ۳۵۱، والطبرانی فی ’’الصغیر‘‘: ۳۳۰، والبیھقی: ۳/ ۱۰۱ (انظر: ۱۸۶۱۸)
2649
Sahih
۔ (۲۶۵۰) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: اِنِّی أَنْظُرُ أَوْ اِنِّی لَأَنْظُرُ مَا وَرَائِی کَمَا أَنْظُرُ اِلٰی مَا بَیْنَ یَدَیَّ، فَسَوُّوا صُفُوْفَکُمْ وَأَحْسِنُوا رُکُوْعَکُمْ وَسُجُوْدَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۰۵۷۲)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک میں اپنے پیچھے بھی ایسے ہی دیکھتا ہوں، جیسے اپنے آگے دیکھتا ہوں، اس لیے اپنی صفوں کو سیدھا رکھا کرو اوررکوع و سجود کو اچھے انداز میں ادا کیا کرو۔
Takhreej
(۲۶۵۰) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابونعیم فی’’دلائل النبوۃ‘‘: ۳۵۴، والحمیدی: ۹۶۱ (انظر: ۸۹۲۷، ۸۷۷۱، ۱۰۵۶۱)
Explanation
فوائد: …یہ نبی کریمaکا معجزہ تھا کہ نماز میں مقتدیوں کے حالات بھی آپaکو نظر آتے تھے۔
2650
Sahih
۔ (۲۶۵۱) وَعَنْہُ أَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَحْسِنُوا اِقَامَۃَ الصُّفُوْفِ فِی الصَّلَاۃِ، خَیْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ فِی الصَّلَاۃِ أَوَّلُھَا، وَشَرُّھَا آخِرُھَا، وَخَیْرُ صُفُوْفِ النِّسَائِ فِی الصَّلَاۃِ آخِرُھَا، وَشَرُّھَا أَوَّلُھَا)) (مسند احمد: ۱۰۲۹۵)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا: نماز میں صفوں کو اچھی طرح سیدھا رکھا کرو، نماز میں مردوں کی بہترین صف پہلی ہے او ران کی بدترین صف آخری ہے اور عورتوں کی نماز میں بہترین صف آخری ہے اور ان کی بد ترین صف پہلی ہے۔
Takhreej
(۲۶۵۱) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابن ماجہ: ۱۰۰۰ (انظر: ۱۰۲۹۰)
Explanation
فوائد: …پہلے یہ تاویل گزر چکی ہے کہ بدترین صف سے مراد وہ صف ہے، جس میں اجر و ثواب کم ہو جاتا ہے۔
2651
Sahih
۔ (۲۶۵۲) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَوُّوا (وَفِی رِوَایَۃٍ: أَتِمُّوا) صُفُوفَکُمْ فَاِنَّ تَسْوِیَۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۴۲)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو برابر کرواور ((ایک روایت کے مطابق)) مکمل کرو،پس بے شک صفوں کو برابر کرنا نماز کی تکمیل میں سے ہے۔
Takhreej
(۲۶۵۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۷۲۳، ومسلم: ۴۳۳ (انظر: ۱۲۸۱۳)
Explanation
فوائد: …اس حدیث کا واضح طور پر یہ مفہوم ہے کہ صف میں نقص سے نماز میں کمی لازم آئے گی۔
2652
Sahih
۔ (۲۶۵۳) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَقِیْمُوا صُفُوْفَکُمْ فَاِنَّ مِنْ حُسْنِ الصَّلَاۃِ اِقَامَۃَ الصَّفِّ)) (مسند احمد: ۱۳۹۳۹)
سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی صفوں کو سیدھا کرو، بے شک صف کو سیدھا رکھنا نماز کی خوبصورتی میں سے ہے۔
Takhreej
(۲۶۵۳) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۴۷۰
2653
Sahih
۔ (۲۶۵۴) عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: طَلَبْنَا عِلْمَ الْعُوْدِ الَّذِی فِی مَقَامِ الْاِمَامِ، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلٰی أَحَدٍ یَذْکُرُ لَنَا فِیْہِ شَیْئًا، قَالَ مُصْعَبٌ: فَأَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَبَّابٍ صَاحِبُ الْمَقْصُوْرَۃِ، فَقَالَ: جَلَسَ اِلَیَّ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَوْمًا فَقَالَ: ھَلْ تَدْرِی لِمَ صُنِعَ ھٰذَا؟ وَلَمْ أَسْأَلْہُ عَنْہُ، فَقُلْتُ: لَا وَاللّٰہِ لَا أَدْرِی لِمَ صُنِعَ۔ فَقَالَ أَنَسٌ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَضَعُ عَلَیْہِ یَمِیْنَہُ ثُمَّ یَلْتَفِتُ اِلَیْنَا فَیَقُوْلُ: ((اِسْتَوُوْا وَاعْدِلُوا صُفُوفَکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۳۷۰۴)
مصعب بن ثابت کہتے ہیں: امام کے مقام کے پاس ایک لکڑی تھی، ہم نے اس کی حقیقت کے بارے میں معلوم کرنا چاہا، لیکن ہمیں کوئی ایسا آدمی نہ ملا جو اس کے بارے میں کچھ بتلا سکے۔ پھر مقصورہ والے محمد بن مسلم نے مجھے بتلاتے ہوئے کہا: ایک دن سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس بیٹھے اور کہا: کیا تو جانتا ہے کہ یہ لکڑی کیوں بنائی گئی؟ حالانکہ میں اس کے بارے ان سے کوئی سوال نہیں کیا تھا۔ میں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اس کو کیوں بنایا گیا۔ پھر سیّدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِس پر اپنا ہاتھ رکھتے اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی صفوں کو سیدھا اور برابر کر لو۔
Takhreej
(۲۶۵۴) تخریـج: …انظر الحدیث السابق: ۱۴۷۰(۲۶۵۴) تخریـج: …اسنادہ ضعیف لضعف مصعب بن ثابت وجھالۃ محمد بن مسلم بن السائب أخرجہ ابوداود: ۶۶۹، ۶۷۰ (انظر: ۱۳۶۶۹)
Explanation
فوائد: …ابوداود کے ایک طریق کے الفاظ یہ ہیں: کَانَ اِذَا قَامَ اِلَی الصَّلَاۃِ اَخَذَہٗ بِیَمِیْنِہٖ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) ثُمَّ اَخَذَہٗ بِیَسَارِہٖ فَقَالَ: ((اِعْتَدِلُوْا، سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔)) یعنی: جب آپaنماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اسے اپنی دائیں ہاتھ سے پکڑتے اور (مقتدیوں کی طرف) متوجہ ہو کر فرماتے: ’’برابر ہو جاؤ، اپنی صفوں کو سیدھا کر لو۔‘‘ پھر اس کو بائیں ہاتھ میں پکڑتے اور فرماتے:
2654
Sahih
۔ (۲۶۵۵) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَتِمُّوا الصَّفَّ الْأَوَّلَ ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ، فَاِنْ کَانَ نَقْصٌ فَلْیَکُنْ فِی الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ)) (مسند احمد: ۱۳۴۷۳)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پہلی صف کو پہلے مکمل کرو، پھر اس کے بعد والی کو، اگر کوئی کمی ہو تو وہ آخری صف میں ہونی چاہیے۔
Takhreej
(۲۶۵۵) تخریـج: …حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۶۷۱، والنسائی: ۲/ ۹۳ (انظر: ۱۲۳۵۲)
Explanation
فوائد: …مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ بالترتیب پہلی صفوں کو مکمل کرتے جائیں۔
2655
Sahih