TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

کفن اور اس سے متعلقہ مسائل - کفن اور اس سے متعلقہ مسائل - Book 59 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 59 of Musnad Ahmad, with 5 chapters and 23 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

23 Hadith · 5 Chapters
میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان
۔ (۳۱۳۰)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَقُوْلُ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَّ رَجُلٌ عَنْ بَعِیْرِہِ فَوُقِصَ فَمَاتَ (الْحَدِیْثَ کَمَا تَقَدَّمَ وَ فِیْہِ) فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَبْعَثُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُہِلاًّ وَقَالَ مَرَّۃً یُہِلُّ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۴)
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اونٹ سے گر گیا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: …کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے روز اس حال میں اٹھائے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۳۰)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
3130
Sahih
میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان
۔ (۳۱۳۲)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ فَأَمَرَ بِہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُغَسَّلَ بِمَائٍ وَ سِدْرٍ، وَأَنْ یُکَفَّنَ فِی ثَوْبَیْنِ، وَقَالَ: ((لَا تُمِسُّوْہُ بِطِیْبٍ خَارِجَ رَأْسِہٖ۔)) قَالَ شُعْبَۃُ، ثُمَّ إِنَّہُ حَدَّثَنِی بِہِ بَعْدَ ذَالِکَ،فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِہٖ أَوْ وَجْہِہٖ فَإِنَّہُ یُبْعَثُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مُلَبِّدًا۔)) (مسند احمد: ۲۶۰۰)
(تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دے دو، نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی ننگا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد امام شعبہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: اس کا سر یا چہرہ ننگاہونا چاہیے، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا سر چپکایا ہوا ہو گا۔
Takhreej
(۳۱۳۲)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد: …آپa کے زمانے میں احرام باندھنے والے بعض لوگ سر پر کوئی چیز لگا کر بالوں کو چپکا لیا کرتے تھے، تاکہ وہ جڑیں رہیں اور خاک آلود نہ ہوں، ممکن ہے کہ اس آدمی نے بھی اپنے بالوں کو چپکایا ہوا ہو، جس کی وجہ سے آپaنے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہو۔ احرام کی حالت میں فوت ہونے والے کی یہ خصوصیات ہیں کہ اسے دو کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے اور سر کو نہ ڈھانپا جائے اور خوشبو بھی نہ لگائی جائے، امام احمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابو حنیفہkکا خیال یہ ہے اس کے ساتھ عام میت والا سلوک کیا جائے، اس حدیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اول الذکر مسلک راجح ہے۔
3132
Sahih