TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3824 - رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان - روزے دار کا وصال کرنا - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 15 in this chapter
رمضان کے دن میں مجامعت کرنے والے کے کفارہ کا بیان
۔ (۳۸۲۴) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ، حَدَّثَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا حَدَّثَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَا ہُوَ جَالِسٌ فِی ظِلِّ فَارِعِ اُجُمِ حَسَّانَ، جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ: اِحْتَرَقْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((مَا شَأْنُکَ؟)) قَالَ: وَقَعْتُ عَلَی امْرَأَتِی وَاَنَا صَائِمٌ، قَالَ: وَذَاکَ فِی رَمَضَانَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِجْلِسْ۔)) فَجَلَسَ فِی نَاحِیَۃِ الْقَوْمِ فَاَتٰی رَجُلٌ بِحِمَارٍ عَلَیْہِ غِرَارَۃٌ، فِیْہَا تَمْرٌ۔ قَالَ: ہٰذِہِ صَدَقَتِیْیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : (( اَیْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا؟)) فَقَالَ: ہَا ہُوَ ذَا اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((خُذْ ہٰذَا، فَتَصَدَّقْ بِہِ۔)) قَالَ: وَاَیْنَ الصَّدَقَۃُیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِلَّا عَلَیَّ وَلِی، فَوَالَّذِیْ بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا اَجِدُ اَنَا وَعِیَالِی شَیْئًا، قَالَ: ((فَخُذْہَا۔)) فَاَخَذَہَا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۹۱)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدنا حسان بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قلعہ کے سائے میں تشریف فرما تھے، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں تو جل گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: بات کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ماہ رمضان میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستری کا ارتکاب کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیٹھ جائو۔ وہ لوگوں کی ایک طرف بیٹھ گیا، اتنے میں ایک آدمی اپنے گدھا پر ایک بورا لاد کر لایا، اس میں کھجوریں تھیں اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ جلنے والا کہاں ہے، جو ابھی بات کر رہا تھا؟ وہ خود بولا: جی اے اللہ کے رسول! وہ یہ میں ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ لے جاؤ اور صدقہ کر دو۔ اس نے کہا: اللہ کے رسول! صدقہ کہاں ہو گا، مگر مجھ پر اور میرے لیے، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میرے اور میرے گھر والوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اس کو لے جاؤ۔ پس وہ لے کر چلا گیا۔
3824
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۸۲۴) تخر یـج: اخرجہ البخاری: ۶۸۲۲، ومسلم: ۱۱۱۲(انظر: ۲۶۳۵۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… یہ روایتیہاں مختصر ہے، صحیح بخاری میں غلام کو آزاد کرنے اور دو ماہ کے روزے رکھنے کا ذکر موجود ہے۔ ان احادیث سے ثابت ہونے والے احکام درج ذیل ہیں: (۱)جو آدمی روزے کی حالت مجامعت کرے گا، اس پر یہ کفارہ لازم آئے گا: ایک غلام آزاد کرنا، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے لگاتار روزے رکھنا اور اگر ان کی طاقت بھی نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔ حدیث نمبر (۳۸۲۱) سے معلوم ہوا کہ غلام کو آزاد کرنے کی طاقت نہ رکھنے والا اونٹ کا صدقہ کردے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو روزوں والا حکم اختیار کرے، حسن بصری نے اس کفارے میں اونٹ کے ثبوت کا فتوی دیا ہے۔ (۲)یہ کفارہ روزے کی حرمت کو پامال کرنے کا ہے، اس لیے اس کی ادائیگی کے باوجود روزے کی قضائی دینا پڑے گی۔ (۳) اگر کسی آدمی میں کفارہ کی کوئی شق پوری کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ کچھ کیے بغیر بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی اسی چیز کا ثبوت ملتا ہے اور {لَایُکَلِّفَ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا} میں بیان کیے گئے قانون کا بھییہی تقاضا ہے۔ (۴) ایک انتہائی مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں عورت پر کفارہ پڑے گا یا نہیں؟ اور اگر کفارہ پڑے گا تو اس حدیث میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا؟ بلا شک و شبہ جس جرم کی وجہ سے خاوند کو یہ کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے، وہی جرم عورت میں بھی پایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ زانی مرد و زن، وہ شادی شدہ ہوں یا کنوارے، سب کی سزا برابر برابر ہے (یعنی مرد اور عورت کی حیثیت میں زنا کی سزا ایک ہے، مختلف نہیں، ہاں یہ بات الگ ہے کہ کنوارے اور شادی شدہ کی سزا میں فرق ہے)، اس لیے روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والی خاتون الگ سے اپنا کفارہ ادا کرے گی، رہا یہ سوال اس موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیوی کے کفارے کا ذکر کیوں نہیں کیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادتِ مبارکہ یہ تھی کہ جو مجرم آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے دربار میں کھڑا ہوتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی توجہ کو اسی پر مرکوز کرتے تھے اور اس سے متعلقہ دوسرے مجرم کی تفتیش از خود نہیں کرتے تھے، کتاب الحدود میں زنا سے متعلقہ اس قسم کی مثالوں کا ذکر آئے گا، کتاب الحدود کا آغاز حدیث نمبر (۶۶۲۱) سے ہو گا، ہاں اگر دوسرے مجرم کا واضح الفاظ میں ذکر کر دیا جاتا تو پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کی بھی تفتیش کرتے تھے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌کویہ حکم دے کر ایک خاتون کی طرف بھیجا کہ اگر وہ اعترافِ جرم کر ے تو اسے رجم کر دینا۔ اس تحقیق کی وجہ یہ تھی کہ اس موقع پر دو دفعہ اس خاتون کا بطورِ مجرمہ تذکرہ کیا گیا، ایسے میں حاکم کو یہی زیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے مجرم کے معاملے کو بھی سنجیدگی سے لے۔ اب چونکہ روزے کی حالت میں مجامعت کرنے والے اس مرد نے اپنی بیوی کا بطورِ مجرمہ کوئی تذکرہ نہیں، بلکہ ایک روایت کے الفاظ تو یہ ہیں کہ اس بندے نے کہا: ’’میں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کر لی ہے، جبکہ میں روزے دار تھا۔‘‘ جبکہ اس چیز کا بھی احتمال ہے کہ بیوی نے کسی عذر کی بنا پر روزہ ہی نہ رکھا ہوا ہو، یا خاوند کے سامنے مجبور ہو گئی ہو، یا وقتی طور پر روزے کو بھول گئی ہو، امام خطابی نے بھییہ وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام ابو ثور اور امام ابن منذر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد اسی نظریے کے قائل ہیں کہ بیوی پر الگ سے کفارہ ہو گا۔ (۵)ان احادیث سے یہ بھی اندازہ لگا لیناچاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرعی حدود کی کتنی اہمیت ہے کہ جب خاوند روزے کا پاس و لحاظ رکھے بغیر اپنی بیوی سے ہم بستری کر بیٹھتا ہے تو اسے اتنا بڑا کفارہ دینے کا مکلف بنایا جاتا ہے۔

Related Chapters

167
1
Chapter: What Has Been Related About The Atonement For Breaking The Fast During Ramadan
باب: رمضان میں روزہ نہ رکھنے پر عائد کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: The five daily prayers, from one Jumu`ah to the next, and from one Ramadan to the next, are an expiation for whatever (sins) come in between, so long as one avoids major sins
انسان جب تک کبیرہ گناہوں سےاجتناب کرتا رہے تو پانچوں نمازیں ، ہر جمعہ دوسرے جمعے تک اور رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ (مٹانے والے) ہیں
Sahih Muslim
3
Chapter: The strict prohibition of intercourse during the day in Ramadan for one who is fasting; And the obligation of offering major expiation and the definition thereof; And that it is obligatory for both the one who can afford it and the one who cannot afford it, and it remains an obligation for the one who cannot afford it until he has the means
رمضان میں دن کے وقت روزہ دار کے لیے مجامعت کرنے کی سخت حرمت ‘اس پربڑا کفارا واجب ہو جاتا ہے
Sahih Muslim
4
CHAPTER: Expiation For A Man Who Has Sexual Intercourse With His Wife During Ramadan.
باب: رمضان میں بیوی سے جماع کے کفارہ کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
5
رمضان کا کوئی روزہ چھوڑنے کا کفارہ
Sunnan Ibn e Maja
6
(103)Chapter: What Has Been Related About The Atonement For That
باب: حائضہ سے جماع کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
8
Chapter: What Has Been Related About: Do Not Precede The Month With Fasting
باب: رمضان کے استقبال کی نیت سے ایک دو روز پہلے روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
9
Chapter: What Has Been Related About Counting The (Appearances OF) The Crescent Of Sha'ban For Ramadan
باب: رمضان کے لیے شعبان کے چاند کی گنتی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
10
Chapter: (What Has Been Related About The Atonement)
باب: میت کے چھوڑے ہوئے روزے کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
11
Chapter: What Has Been Related About Breaking The Fast On Purpose
باب: جان بوجھ کر رمضان کے روزے چھوڑ دینے کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About Connecting Fasts Of Sha'ban To Ramadan
باب: روزہ رکھ کر شعبان کو رمضان سے ملا دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Fast During The Second Half Of Sha'ban For The Sake of Ramdan
باب: رمضان کی تعظیم میں شعبان کے دوسرے نصف میں روزہ رکھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About Delay When Making Up For Ramadan
باب: صیام رمضان کی قضاء دیر سے کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About The One Who Ate And Then Went Out To Travel
باب: رمضان میں کھانا کھا کر پھر سفر پر نکلے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Standing (In The Night Prayer) During The Month Of Ramadan
باب: ماہ رمضان کی راتوں میں قیام (تہجد پڑھنے) کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: Encouragement To Perform The Night Prayer During Ramadan And The Virtues That Accompany It
باب: قیام رمضان (تراویح پڑھنے) کی ترغیب اور اس کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Umrah During Ramadan
باب: رمضان میں عمرہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
19
Chapter: What has been related about the one who has uttered Zihar and has intercourse (with his wife) before atoning
باب: ظہار کرنے والے کا بیان جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کر بیٹھے
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What Has Been Related About: The Legal Punishments Are Atonement For Those Who Recieve Them
باب: حدود کا نفاذ سزا یافتہ کے گناہوں کا کفارہ ہے
Jam e Tirmazi
21
Chapter: What Has Been Related About Atonement For A Vow When It Was Not Specified
باب: غیر متعین نذر کے کفارہ کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About The Atonement Before The Violation
باب: قسم توڑنے سے پہلے قسم کا کفارہ ادا کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
23
بَاب قيام شهر رَمَضَان
ماہ رمضان کے قیام کا بیان
Mishkat
24
جب جنبی آدمی کھانے کا یا دوبارہ مجامعت کرنے کا ارادہ کرے تو اس کے لیے وضو کے مستحب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
25
پانچ نمازوں کی فضیلت کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ یہ گناہوں کا کفارہ بنتی ہیں
Musnad Ahmad
26
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
27
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
28
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
Musnad Ahmad
29
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
Musnad Ahmad
30
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
31
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
Musnad Ahmad
32
ماہِ رمضان سے پہلے ایکیا دو دن روزے رکھنے اور شک والے دن کا روزہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
33
رات کو روزے کی نیت کر لینے کے وجوب اور اور اس شخص کے حکم کا بیان کہ جس پر رمضان کے مہینےیا اس کے کسی دن کے دوران روزے فرض ہو جاتے ہیں
Musnad Ahmad
34
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
Musnad Ahmad
35
یوم عاشوراء کی فضیلت اور فرضیت ِ رمضان سے قبل اس کے روزے کی تاکید کا بیان
Musnad Ahmad
36
ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت کے بعد یومِ عاشوراء کے روزے کے غیر مؤکّد ہو جانے کا بیان
Musnad Ahmad
37
ماہِ صبر یعنی (رمضان) اور باقی مہینوں میں ہر ماہ کے غیر متعین تین روزے رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
38
اعتکاف اور ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان اعتکاف کی فضیلت اور اس کے زمان و مکان کا بیان
Musnad Ahmad
39
ماہِ رمضان کے آخری عشرے میں بھرپور کوشش کے ساتھ عبادت کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
40
شب ِ قدراور اس کی فضیلت کا بیان، نیز اس امر کا بیان کہ وہ ماہِ رمضان کی کونسی رات ہوتی ہے شب ِ قدر کی فضیلت اور اس رات کی خصوصی دعاء کا بیان
Musnad Ahmad
41
رمضان کے آخری دس یا سات دنوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
42
شب ِ قدر کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہونے یا ماہِ رمضان کی آخری رات ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
43
ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں شب ِ قدر کے ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
44
رمضان کی اکیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
45
رمضان کی تئیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
46
رمضان کی چوبیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
47
رمضان کی ستائیسویں رات کے شب ِ قدر ہونے اور اس کی علامتوں کا بیان
Musnad Ahmad
48
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
Musnad Ahmad
50
مباح یا غیر مشروع یا ایسی نذر ماننے والے کا بیان، جس کی وہ طاقت نہ رکھتا ہو اور اس کا کفارہ
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

41
Musnad Ahmad
2071
۔ (۲۰۷۱) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا عُبَیْدَۃُ قَالَ حَدَّثَنِیْیَزِیْدُ بْنُ أَبِی زِیَادٍ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: سَأَلْتُہُ عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبَّاسٍ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! لَقَدْ ذَکَرْتَ رَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقَدْ بَلَغَنِیْ أَنَّ أُنَاسًا یُصَلُّوْنَہَا، وَلَمْ نَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَّھُمَا وَلَا أَمَرَ بِہِمَا؟ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ذَاکَ مَا یَقْضِیْ النَّاسَ بِہِ ابْنُ الزُّبَیْرِ، قَالَ فَجَائَ ابْنُ الزُّبَیْرَ، فَقَالَ: مَارَکْعَتَانِ تَـقْضِیْ بِہِمَا النَّاسَ؟ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: حَدَّثَتْنِیْ عَائِشَۃُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ، فَأَرْسَلَ إِلٰی عَائِشَۃَ رَجُلَیْنِ، اِنَّ أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَیَقْرَأُ عَلَیْکِ السَّلَامَ، وَیَقُولُ: مَارَکْعَتَانَ زَعَمَ ابْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّکِ أَمَرْتِیْہِ بِہِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ؟ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَۃُ: ذَاکَ مَا أَخْبَرَتْہُ أُمُّ سَلَمَۃَ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ، فَأَخْبَرْنَاھَا مَاقَالَتْ عَائِشَۃُ، فَقَالَتْ: یَرْحَمُہَا اللّٰہُ، أَوَلَمْ أُخْبِرْھَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَھٰی عَنْہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۷۱۲۱)
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن حارث سے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: میں اور سیدناعبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے، انھوں نے کہا: ابن عباس! تو نے عصر کے بعد والی دو رکعتوں کا ذکر کیا ہے اور مجھے یہ خبر ملی ہے کہ لوگ ان کو ادا کرتے ہیں، حالانکہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نہ دیکھا ہے کہ آپ نے یہ نماز پڑھی ہو اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس قسم کا کوئی حکم دیا ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ وہ چیز ہے کہ جس کے متعلق سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں سے بات کرتے ہیںیعنی وہ ان کو پڑھنے کا فتویٰ دیتے ہیں ، پس سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: ان دو رکعتوں کی کیا حقیقت ہے کہ جن کے بارے میں آپ لوگوں سے بات کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: مجھے تو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدہعائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی طرف دو آدمیوں کو یہ پیغام دے کر بھیجا: امیر المومنین آپ کو سلام کہتے ہیں اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ ان دو رکعتوں کی حقیقت کیا ہے جن کے بارے میں سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے جواب دیا: یہوہ چیز ہے، جس کی مجھے تو سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے خبر دی تھی، چنانچہ ہم سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس چلے گائے اور انہیں سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی بات بتلائی، آگے سے انہوں نے کہا: اللہ عائشہ پر رحم کرے، کیا میں نے انہیںیہ خبر نہیں دے دی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے منع فرمایا ہے۔
Musnad Ahmad
2075
۔ (۲۰۷۵) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: صَلّٰی مُعَاوِیَۃُ بِالنَّاسِ الْعَصْرَ فَالْتَفَتَ فَإِذَا أُنَاسٌ یُصَلُّوْنَ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَدَخَلَ وَدَخَلَ عَلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ وأَنَا مَعَہُ فَأَوْسَعَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ عَلَی السَّرِیْرِ، فَجَلَسَ مَعَہُ، قَالَ: مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ الَّتِی رَأَیْتُ النَّاسَ یُصَلُّونَہَا وَلَمْ أَرَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْہَا وَلَا أَمَرَ بِہَا؟ قَالَ: ذَاکَ مَا یُفْتِیْہِمُ ابْنُ الزُّبَیْرِ، فَدَخَلَ ابْنُ الزُّبَیْرِ فَسَلَّمَ فَجَلَسَ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: یَا ابْنَ الزُّبَیْرِ! مَا ھٰذَہِ الصَّلَاۃُ الَّتِی تَأْمُرُ النَّاسَ یُصَلُّونَہَا؟ لَمْ نَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلاَّھَا وَلَا أَمَرَ بِہَا، قَالَ: حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ أُمُّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّاھَا عِنْدَھَا فِی بَیْتِہَا، قَالَ: فَأَمَرَنِی مُعَاوِیَۃُ وَرَجُلًا آخَرَ أَنْ نَأْتِیَ عَائِشَۃَ فَنَسْأَلَھَا عَنْ ذٰلِکَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَیْہَا فَسَأَلْتُہَا عَنْ ذَالِکَ فَأَخْبَرْتُہَا بِمَا أَخْبَرَ ابْنُ الزُّبِیْرِ عَنْھَا، فَقَالَتْ: لَمْ یَحَفَظِ ابْنُ الزُّبَیْرِ، إِنَّمَا حَدَّثْتُہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی ھَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِیْ، فَسَأَلْتُہُ، قُلْتُ: إِنَّکَ صَلَّیْتَ رَکْعَتَیْنِ لَمْ تَکُنْ تُصَلِّیْہِمَا؟ قَالَ: ((إِنَّہُ کَانَ أَتَانِیْ شَیْئٌ فَشُغِلْتُ فِی قِسْمَتِہِ عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ، وَأَتَانِیْ بِلَالٌ فَنَادَانِیْ بِالصَّلَاۃِ فَکَرِھْتُ أَنْ أَحْبِسَ النَّاسَ فَصَلَیْتُہُمَا۔)) قَالَ فَرَجَعْتُ فَأَخْبَرْتُ مُعَاوِیَۃَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ الزُّبَیْرِ: أَلَیْسَ قَدْصَلَّاھُمَا؟ فَلَا أَدَعُہُمَا، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیْۃُ: لَاتَزَالُ مُخَالِفًا أَبَدًا (وَفِی رِوَایَۃٍ: إِنَّکَ لَمُخَالِفٌ، لَا تَزَالُ تُحِبُّ الْخِلَافَ مَا بَقِیْتَ)۔ (مسند احمد: ۲۶۰۲۱)
عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو عصر کی نماز پڑھائی، جب مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگ عصر کے بعد نماز پڑھ رہے تھے، وہ گھر چلے گئے اور سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی ان کے پاس چلے گئے اور میں بھی ان کے ساتھ تھا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے لئے چار پائی پر جگہ بنائی اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے، انھوں نے پوچھا: یہ کون سی نماز ہے، جومیں نے لوگوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، حالانکہ نہ تو میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی حکم دیا؟ انہوں نے کہا: لوگوں کو اس کا فتویدینے والے سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں، پھر ان کو بلایا گیا اور وہ آ گئے اور سلام کہہ کر بیٹھ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابن زبیر! اس نماز کی کیا حقیقت ہے، جس کے پڑھنے کا آپ لوگوں کو حکم دیتے ہیں؟ ہم نے تو نہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور نہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کا کوئی حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: مجھے تو ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے گھر میں ان کے پاس یہ نماز پڑھی ہے۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اور ایک اور آدمی کو حکم دیا کہ ہم سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس جاکر ان سے اس کے بارے میں دریافت کریں، پس میں سیدہ کے پاس پہنچا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان کے حوالے جو بات سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کر رہے تھے، وہ ان کو بتادی، ، وہ کہنے لگیں: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یاد نہیں رکھا، میں نے تو انہیںیہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عصر کے بعد میرے پاس دو رکعت نماز پڑھی، میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ آج آپ نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، پہلے تو نہیں پڑھتے تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے پاس کوئی مال لایا گیا تھا اور میں اسے تقسیم کرنے کی وجہ سے ظہر کے بعد والی دو رکعتوں سے مشغول ہو گیا،اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس آ گئے اور انہوں نے نماز عصر کے لئے مجھے بلالیا، اس وقت میں نے ناپسند سمجھا کہ ان دو رکعتوں کیوجہ سے لوگوں کو روک لوں، اس لیے اب میں نے وہ دو رکعتیں ادا کی ہیں۔ میں نے واپس آکر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ساری بات بتائی، لیکن سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دو رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان سے کہنے لگے: آپ ہمیشہمخالف ہی رہتے ہیں، جب تک آپ زندہ ہیں، آپ مخالفت کو ہی پسند کرتے رہیں گے۔
Musnad Ahmad
4173
۔ (۴۱۷۳)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَتْ: دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ضُبَاعَۃَ بِنْتِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَ لَہَا: أَرَدْتِّ الْحَجَّ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! مَا أَجِدُنِی إِلَّا وَجِعَۃً، فَقَالَ لَہَا: ((حُجِّی وَاشْتَرِطِی۔)) فَقَالَ: ((قُوْلِی اَللّٰہُمَّ مَحِلِّی حَیْثُ حَبَسْتَنِی۔)) وَکَانَتْ تَحْتَ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۲۶۱۷۸)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، سیدہ ضباعہ بنت زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اوران سے فرمایا: کیا تمہارا حج کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے آپ کو بیمار سمجھتی ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم حج کے لئے نکلواور یہ شرط لگا لو کہ اے اللہ! تو مجھے جہاں روک لے گا، میں اسی مقام پر حلال ہو جاؤں گی۔ یہ خاتون ان دنوں سیدنا مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھیں۔
Musnad Ahmad
4213
۔ (۴۲۱۳)عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِیْنَ، فَقَالَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیُتِمَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلْیَقُمْ عَلٰی إِحْرَامِہِ) وَمَنْ لَمْ یَکُنْ مَعَہُ ہَدْیٌ فَلْیَحْلِلْ۔)) قَالَتْ: فَلَمْ یَکُنْ مَعِی ہَدْیٌ فَحَلَلْتُ وَکَانَ مَعَ الزُّبَیْرِ زَوْجِہَا ہَدْیٌ فَلَمْ یَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِیَابِیْ وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلٰی الزُّبَیْرِ، فَقَالَ: قُوْمِی عَنِّی، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشٰی أَنْ أَثِبَ عَلَیْکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۵۰۵)
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے ،وہ احرام کی حالت میںرہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئییعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جائو۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟
Musnad Ahmad
4217
۔ (۴۲۱۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِی أَبِی حَدَّثَنَا یَحْیٰی عَن عُبَیْدِ اللّٰہِ أَخْبَرْنِی نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ کَلَّمَا عَبْدَ اللّٰہِ (یَعْنِی ابْنَ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ) حِیْنَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَیْرِ، فَقَالَا: لَا یَضُرُّکَ أَنْ لَا تَحُجَّ ھٰذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشٰی أَنْ یَکُوْنَ بَیْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ یُحَالَ بَیْنَکَ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، قَالَ: إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ حِیْنَ حَالَتْ کُفَّارُ قُرَیْشٍ بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْبَیْتِ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَۃً فَإِنْ خُلِّیَ سَبِیْلِیْ قَضَیْتُ عُمْرَتِی، وَإِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ فَعَلْتُ کَمَا فَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا مَعَہُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتّٰی أَتٰی ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَلَبّٰی بِعُمْرَۃٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} ثُمَّ سَارَ حَتّٰی إِذَا کَانَ بِظَہْرِ الْبَیْدَائِ، قَالَ: مَا أَمْرُہُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْعُمْرَۃِ حِیْلَ بَیْنِی وَبَیْنَ الْحَجِّ، اُشْہِدُکُمْ أَنِّی قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّۃً مَعَ عُمْرَتِیْ، فَانْطَلَقَ حَتّٰی ابْتَاعَ بِقُدَیْدٍ ہَدْیًا ثُمَّ طَافَ لَہُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَیْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ، ثُمَّ لَمْ یَزَلْکَذَالِکَ إِلٰییَوْمِ النَّحْرِ۔ (مسند احمد: ۵۱۶۵)
۔ نافع کرتے ہیں کہ جس سال حجاج ،سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں ، کیونکہیہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں بہتریننمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔
Musnad Ahmad
4437
۔ (۴۴۳۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَنْزِلُ بِعَرَفَۃَ وَادِی نَمِرَۃَ، فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَیْرِ، أَرْسَلَ إِِلَی ابْنِ عُمَرَ أَیَّۃُ سَاعَۃٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ یَرُوْحُ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ؟ قَالَ: إِذَا کَانَ ذَاکَ رُحْنَا، فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلًا یَنْظُرُ أَیَّ سَاعَۃٍیَرُوْحُ، فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ یَرُوْحَ قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغِ الشَّمْسُ، قَالَ: أَزَاغَتِ الشَّمْسُ؟ قَالُوْا: لَمْ تَزِغْ، فَلَمَّا قَالُوْا: قَدْ زَاغَتْ، اِرْتَحَلَ۔ (مسند احمد: ۴۷۸۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عرفہ میں وادیٔ نمرہ میں ٹھہراکرتے تھے، جب حجاج نے سیدنا عبدا للہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا تو اس نے سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس دن کس وقت یہاں سے روانہ ہوتے تھے؟ انھوں نے کہا :جب وہ وقت ہوگا تو ہم چل پڑیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا تاکہ وہ خیال رکھے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کس وقت روانہ ہوتے ہیں، پس جب انھوں نے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو پوچھا :آیا سورج ڈھل چکاہے؟لوگوں نے بتلایا: جی نہیں، ابھی تک نہیں ڈھلا، پھر کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھا: کیا سورج ڈھل چکا ہے، لوگوں نے کہا: جی نہیں ڈھلا، جب لوگوں نے یہ بتلایاکہ سورج ڈھل گیاہے تو وہ چل پڑے۔
Musnad Ahmad
4619
۔ (۴۶۱۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَحَرْنَا بِالْحُدَیْبِیَۃِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْبَدَنَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ، وَالْبَقَرَۃَ عَنْ سَبْعَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۷۳)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے حدیبیہ کے مقام پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں سات افراد کی طرف اونٹ نحر کیا اور سات افراد کی طرف سے ہی گائے ذبح کی۔
Musnad Ahmad
4779
۔ (۴۷۷۹)۔ عَنْ أَبِي الزُّبَیْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنْ عِشْتُ إِنْ شَائَ اللّٰہُ زَجَرْتُ أَنْ یُسَمّٰی بَرَکَۃُ وَ یَسَارٌ وَ نَافِعٌ۔)) قَالَ جَابِرٌ: لا أَدْرِيْ ذَکَرَ رَافِعًا أَمْ لا؟ إِنَّہُ یُقَال لَہُ: ھَاھُنَا بَرَکَۃُ، فَیُقَال: لا، وَ یُقَال: ھَاھُنَا یَسَارٌ، فَیُقَال: لا، قَال: فَقُبِضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَمْ یَزْجُرْ عَنْ ذٰلِکَ، فَأَرَادَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْ یَزْجُرَ عَنْہُ ثُمَّ تَرَکَہُ۔ (مسند أحمد: ۱۴۶۶۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں ان شاء اللہ زندہ رہا تو ان ناموں سے منع کر دوں گا، برکت، یسار اور نافع۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس چیز کا مجھے علم نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رافع نام کا ذکر کیا تھا یا نہیں، ان ناموں سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جب پوچھا جاتا ہے کہ برکت ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، اسی طرح جب پوچھا جاتا ہے کہ یسار ہے تو جواب دیا جاتا ہے کہ نہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان ناموں سے منع کیے بغیر فوت ہو گئے، پھر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے منع کرنے کا ارادہ کیا، لیکن بعد میں اس ارادے کو ترک کر دیا۔
Musnad Ahmad
4801
۔ (۴۸۰۱)۔ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ، قَالَ: قَالَ (عُثْمَانُ) بْنُ عَفَّانَ وَ ھُوَ یَخْطُبُ عَلٰی مِنْبَرِہِ: إِنِّيْ مُحَدِّثُکُمْ حَدِیْثًا سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا کَانَ یَمْنَعُنِيْ أَنْ أُحَدِّثَکُمْ إِلاَّ الضِّنُّ عَلَیْکُمْ، وَ إِنِيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((حَرَسُ لَیْلَۃٍ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ لَیْلَۃٍ یُقَامُ لَیْلُھَا، وَ یُصَامُ نَھَارُھَا۔)) (مسند أحمد: ۴۳۳)
۔ سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ منبر پر خطبہ دے رہے تھے کہ انھوں نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں، میں نے خود وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، پہلے مجھے وہ حدیث بیان کرنے سے روکنے والی چیز تم پر بخل تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک رات کا پہرہ ہزار راتوں کے قیام اور ان کے دنوں کے روزوں سے افضل ہے۔