TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 6175 - الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان - کتاب - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 7 in this chapter
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
۔ (۶۱۷۵)۔ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ قَالَ: أَقْطَعَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ الزُّبَیْرُ اِلٰی آلِ عُمَرَ فَاشْتَرٰی نَصِیْبَہُ فَأَتٰی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْطَعَہُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ کَذَا وَکَذَا وَاِنِّی اِشْتَرَیْتُ نَصِیْبَ آلِ عُمَرَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: عَبْدُالرَّحْمٰنِ جَائِزُ الشَّھَادَۃِ، لَہُ وَعَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۱۶۷۰)
۔ سیدنا عروہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔
6175
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۶۱۷۵) تخریج: رجالہ ثقات الا ان فی سماع عروۃ من عبد الرحمن بن عوف وقفۃ۔ أخرجہ البیھقی: ۱۰/ ۱۲۴ (انظر: ۱۶۷۰)

Related Hadith

9
Musnad Ahmad
2692
۔ (۲۶۹۲) عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ عَنْ أَبِیْہِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْہُ أَنَّہُ قَالَ: تَخَلَّفْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ رَجَعَ اِلَیَّ وَمَعِی الْاِدَاوَۃُ قَالَ: فَصَبَبْتُ عَلٰی یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ اسْتَنْثَرَ قَالَ یَعْقُوْبُ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یَغْسِلَ یَدَیْہِ قَبْلَ أَنْ یُخْرِجَہُمَا مِنْ کُمَّیْ جُبَّتِہِ، فَضَاقَ عَنْہُ کُمَّاھَا فَأَخْرَجَ یَدَہُ مِنَ الْجُبَّۃِ فَغَسَلَ یَدَہُ الْیُمْنٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَیَدَہُ الْیُسْرٰی ثَـلَاثَ مَرَّاتٍ، وَمَسَحَ بِخُفَّیْہِ وَلَمْ یَنْزَعْہُمَا، ثُمَّ عَمَدَ اِلَی النَّاسِ فَوَجَدَھُمْ قَدْ قَدَّمُوا عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ عَوْفٍ یُصَلِّی بِہِمْ، فَأَدْرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَیْنِ فَصَلّٰی مَعَ النَّاسِ الرَّکْعَۃَ الْآخِرَۃَ بِصَلَاۃِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ، فَلَمَّا سَلَّمَ عَبْدُالرَّحْمٰنِ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُتِمُّ صَلَاتَہُ فَأَفْزَعَ الْمُسْلِمِیْنَ فَأَکْثَرُوا الْتَّسْبِیْحَ، فَلَمَّا قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَقْبَلَ عَلَیْہِمْ فَقَالَ: ((أَحْسَنْتُمْ وَأَصَبْتُمْ۔)) یَغْبِطُہُمْ أَنْ صَلَّوُا الصَّلَاۃَ لِوَقْتِھَا۔ (مسند احمد: ۱۸۳۵۹)
سیّدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ پیچھے رہ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قضائے حاجت کے لیے گئے، پھر میری طرف لوٹے، میرے پاس ایک چھوٹا سا برتن تھا، پس میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھوں پر پانی بہایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پانی ڈال کر ناک صاف کیا، یعقوب راوی نے کہا: پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کلی کی، اس کے بعد چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جبّہ کی آستینوں سے ہاتھ نکالے بغیر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بازوؤں کو دھونا چاہا، لیکن آستینیں تنگ تھیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہاتھوں کو جبہ (کے اندر) سے نکال کر پہلے تین دفعہ دایاں اور پھر تین دفعہ بایاں ہاتھ دھویا، پھر موزوں کا مسح کیا اور ان کو نہ اتارا، پھر وہ دونوں لوگوں کی طرف آئے، لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ لوگوں نے سیّدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو آگے کر دیا تھا، وہ ان کو نماز پڑھا رہے تھے، چونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے ساتھ ایک رکعت پا لی تھی، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا عبد الرحمن کے ساتھ دوسری رکعت ادا کی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر مسلمان گھبرا گئے اور کثرت سے تسبیح بیان کی، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پوری کی تو ان پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم نے بہت اچھا کیا ہے اور درست کیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کرام سے رشک کر رہے تھے کہ انہوں نے نماز کو اول وقت میں ادا کیا ہے۔
Musnad Ahmad
3980
۔ (۳۹۸۰) عَنْ عَطَائِ نِ الْخُرَاسَانِیِّ اَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ اَبِیْ بَکْرٍ دَخَلَ عَلٰی عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا یَوْمَ عَرَفَۃَ وَہِیَ صَائِمَۃٌ وَالْمَائُ یُرَشُّ عَلَیْہَا، فَقَالَ لَہُ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: اَفْطِرِیْ، فَقَالَتْ: اُفْطِرُ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((إِنَّ صَوْمَ یَوْمِ عَرَفَۃَیُکَفِّرُ الْعَامَ الَّذِیْ قَبْلَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۸۳)
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر،سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس عرفہ کے دن گئے جبکہ انھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور (گرمی کی شدت کی وجہ سے) ان پر پانی ڈالا جا رہا تھا، سیدنا عبدالرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: آپ روزہ توڑ دیں، لیکن انھوں نے کہا: میں روزہ کیسے توڑ دوں، جبکہ میں نے تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: عرفہ کا روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔
Musnad Ahmad
4761
۔ (۴۷۶۱)۔ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰن عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: کَانَ اسْمُ أَبِي فِی الْجَاھِلِیَّۃِ عَزِیْزًا، فَسَمَّاہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَبْدَالرَّحْمٰنِ۔ (مسند أحمد: ۱۷۷۴۸)
۔ خیثمہ بن عبد الرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: دورِ جاہلیت میں میرے باپ کا نام عزیز تھا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا تھا۔
Musnad Ahmad
5342
۔ (۵۳۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :((یَاعَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ سَمُرَۃَ اِذَا آلَیْتَ عَلٰی یَمِیْنٍ فَرَأَیْتَ غَیْرَھَا خَیْرًا مِنْھَا فَائْتِ الَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌ وَکَفِّرْ عَنْ یَمِیْنِکَ)) (مسند أحمد: ۲۰۸۹۲)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے فرمایا: اے عبد الرحمن بن سمرہ! جب تو کسی چیز پر قسم اٹھا لے اور پھر کسی دوسری چیز کو بہتر خیال کرے تو تو بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔
Musnad Ahmad
10346
۔ (۱۰۳۴۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ عَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ اَخْبَرَہُ اَنَّ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَمْ تَرَیْ اِلٰی قَوْمِکِ حِیْنَ بَنَوُا الْکَعْبَۃَ اقْتَصَرُوْا عَنْ قَوْاعِدَ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ؟)) قَالَتْ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَـلَا تَرُدُّھَا عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ؟، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ۔)) قَالَ: عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ: فَوَاللّٰہ!ِ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَۃُ سَمِعْتْ ذَالِکَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا اُرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَرَکَ اِسْتَلَامَ الرُّکْنَیْنِ اللَّذَیْنِیَلِیَانِ الْحِجْرَ اِلَّا اَنَّ الْبَیْتَ لَمْ یُتَمَّمْ عَلٰی قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ اِرَادَۃَ اَنْیَسْتَوْعِبَ النَّاسُ الطَّوَافَ بِالْبَیْتِ کُلِّہِ مِنْ وَرَائِ قَوَاعِدِ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۳۸)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: کیا تم اپنی قوم کی طرف نہیں دیکھتی، جب انھوں نے کعبہ کی تعمیر کی تو اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا؟ سیدہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو کیا آپ اس کو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر نہیں کر دیتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تیری قوم نے کفر کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا (تو میں اس طرح کر دیتا)۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اگر سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حطیم کی طرف والے کعبہ کے دو کونوں کا استلام اس بنا پر نہیں کیا کہ اس طرف سے کعبہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ لوگ بیت اللہ کا پوری طرح طواف کریں اور ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے پیچھے سے چکر کاٹیں۔
Musnad Ahmad
10569
۔ (۱۰۵۶۹)۔ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَیْشٍ قَالَ: أَتَیْتُ عَلٰی حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ وَھُوَ یُحَدِّثُ عَنْ لَیْلَۃٍ أُسْرِیَ بِمُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ: ((فَانْطَلَقْتُ أَوِ انْطَلَقْنَا فَلَقِیْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا عَلَی بَیْتِ الْمَقْدَسِ۔)) فَلَمْ یَدْخُلَاہُ، قَالَ: قُلْتُ: بَلْ دَخَلَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَتَئِذٍ وَصَلّٰی فِیْہِ، قَالَ: مَا اسْمُکَ؟یا اَصْلَعُ! فَاِنَّیْ أَعْرِفُ وَجْھَکَ وَلَا أَدْرِیْ مَااسْمُکَ، قَالَ: قُلْتُ: أَنَا زِرُّ بْنُ حُبَیْشٍ، قَالَ: فَمَا عِلْمُکَ بِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِ لَیْلَتَئِذٍ؟ قَالَ: قُلْتُ: اَلْقُرْآنُیُخْبِرُنِیْ بِذٰلِکَ، قَالَ: مَنْ تَکَلَّمَ بِالْقُرْآنِ فَلَجَ اقْرَأْ! قَالَ: فَقَرَأْتُ {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ} قَالَ: فَلَمْ أَجِدْہُ صَلّٰی فِیْہِ، قَالَ: یَا اَصْلَعُ! ھَلْ تَجِدُ صَلّٰی فِیْہِ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: وَاللّٰہِ! مَا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَیْلَتَئِذٍ، لَوْ صَلَّی فِیْہِ لَکُتِبَ عَلَیْکُمْ صَلَاۃٌ فِیْہِ کَمَا کُتِبَ عَلَیْکُمْ صَلَاۃٌ فِیْ الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ، وَاللّٰہِ! مَا زَایَلَا الْبُرَاقَ حَتّٰی فُتِحَتْ لَھُمَا أَبْوَابُ السَّمَائِ فَرَأَیَا الْجَنَّۃَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَۃِ اَجْمَعَ، ثُمّّ عَادَا عَوْدَھُمَا عَلٰی بَدْئِھِمَا، قَالَ: ثُمَّ ضَحِکَ حَتّٰی رَأَیْتُ نَوَاجِذَہُ، قَالَ: وَیُحَدِّثُوْنَ أَنَّہُ رَبَطَہُ لِئَلَّا یَفِرَّ مِنْہُ، وَاِنَّمَا سَخَّرَہُ لَہُ عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، قَالَ: قُلْتُ: اَبَا عَبْدِ اللّٰہِ ! أَیُّ دَابَّۃٍ البُرَاقُ؟ قَالَ: دَابَّۃٌ اَبْیَضُ طَوِیْلٌ ھٰکَذَا خَطْوُہُ مَدُّ الْبَصَرِ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۷۴)
۔ سیدنا زِرّ بن حبیش سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، جبکہ وہ اسراء والی رات کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس میں چلا یا ہم چلے، اور اسی طرح چلنے پر بر قرار رہے، یہاں تک کہ ہم بیت المقدس کے پاس پہنچ گئے۔ پھر نبیکریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور جبریل علیہ السلام اس میں داخل نہیں ہوئے، میں (زِرّ) نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس رات بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے اور اس میں نماز بھی پڑھی تھی، انھوں نے کہا:او گنجے! تیرا نام کیا ہے؟ میں تجھے چہرے سے تو پہچانتا ہوں، لیکن تیرے نام کو نہیں جانتا۔ میں نے کہا: میں زِرّ بن حبیش ہوں، انھوں نے کہا: تجھے کیسے علم ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس رات کو وہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا: قرآن مجید نے مجھے یہ خبر دی ہے، انھوں نے کہا: جس نے قرآن کے ساتھ بات کرے وہ تو غالب آ جاتا ہے، اچھا دلیل کی تلاوت کرو، میں نے یہ آیت تلاوت کی: {سُبْحَانَ الَّذِیْ اَسْرٰی بِعَبْدِہِ لَیْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ…} انھوں نے کہا: اس آیت میں تو اس قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہے، او گنجے! کیا اس آیت میں تجھے ایسی کوئی چیز نظر آتی ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہاں نماز پڑھی ہو؟ میں نے کہا: نہیں، انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! وہ دونوں ہستیاں براق سے ہٹی ہی نہیں کہ ان کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے گئے اور ان دونوں نے جنت، جہنم اور آخرت کے تمام وعدے دیکھے، اور پھر وہ وہاں لوٹ آئے، جہاں سے انھوں نے سفر شروع کیا تھا، پھر سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اتنے ہنسے کہ میں نے ان کی داڑھیں دیکھ لیں۔ پھر انھوں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے براق کو اس لیے باندھا تھا کہ وہ بھاگ نہ جائے، حالانکہ مخفی اور ظاہری چیزوں کو جاننے والی ذات نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس براق کو مسخر کیا تھا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد اللہ! کون سا جانور براق ہوتا ہے؟ انھوں نے کہا: یہ اس طرح کا سفید رنگ کا لمبا سا جانور ہوتا ہے اور اس کاقدم منتہائے نگاہ تک جاتا ہے۔
Silsila Sahih
218
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا أَتَاكُمْ كَرِيمُ قَوْمٍ فَأَكْرِمُوهُ. روی من حدیث عبداللہ بن عمر و جریر عبداللہ و جابر بن عبداللہ و ابی ھریرۃ و عبداللہ بن عباس و معاذ بن جبل وعدی بن حاتم وابی راشد عبدالرحمن بن عبد و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز شخص آئے تو اس کی عزت کرو۔
Silsila Sahih
2288
) قَالَ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا سَمِعْتُمْ بِالطَّاعُونِ فِي أَرْضٍ فَلَا تَدْخُلُوهَا وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا (فَرارًا مِنْهُ). وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ أَوِ السَّقَمَ رِجْزٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ، (أَوْ طاَئِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيل) ثُمَّ بَقِيَ بَعْدُ بِالْأَرْضِ فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا يَقْدَمَنَّ عَلَيْهِ وَمَنْ وَقَعَ بِأَرْضٍ وَهُوَ بِهَا فَلَا يُخْرِجَنَّهُ الْفِرَارُ مِنْهُ. جآء من حدیث اساقہ بن زید و سعد بن ابی وقاص و عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم كسی علاقے میں طاعون كے بارے میں سنو تو اس میں نہ جاؤ، اور جب كسی علاقے میں طاعون پھیل جائے اور تم اس علاقے میں ہو تو (اس سے فرار ہوتے ہوئے)وہاں سے نہ نكلو، اور ایك روایت میں ہے، یہ تكلیف یا بیماری عذاب ہے جو تم سے پہلے كسی امت كو دیا گیا(یا بنی اسرائیل كے كسی گروہ كو دیا گیا) پھر اس كے بعد یہ بیماری زمین میں باقی رہی۔ كبھی چلی جاتی ہے، كبھی آجاتی ہے، جو شخص كسی علاقے میں اس كے پھیلنے كی خبر سنے وہ وہاں نہ جائے اور جو شخص كسی علاقے میں ہو اور یہ بیماری وہاں پھیل جائے تو وہاں سے فرار نہ ہو۔ یہ حدیث سیدنا اسامہ بن زید، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Silsila Sahih
3099
عن عبدالرحمن بن حسنۃ قال: کنت مع رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌في سفر فأصبنا ضبانا، فکانت القدور تغلي، فقال رسول اﷲ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إن أمۃ من بني إسرائیل مسخت وأنا أخشی أن تکون ھذہ یعني الضباب۔ قال: فأکفاناھا وإنا لجیاع۔
عبدالرحمن بن حسنہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے ساتھ تھے۔ ہمیں کئی سانڈے (گوہ) ملے، ہانڈیاں جوش مار رہی تھیں، رسول اﷲ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت کے چہرے تبدیل کردیے گئے تھے مجھے ڈر ہے کہ کہیں یہ ہی نہ ہو۔ یعنی سانڈہ۔ عبدالرحمن رضی اﷲ عنہ نے کہا: ہم نے بھوکے ہونے کے باوجود وہ ہانڈیاں الٹ دیں۔