أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا .
It was narrated that 'Ubaid bin Juraih said:
I said to Ibn 'Umar: 'I see you are wearing Sibtiyyah sandals, [1] and you performed Wudu' in them.' He said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wearing then and performing Wudu' in them.' [1] Made of hairless, tanned leather.
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الوضوء ۳۰ (۱۶۶) مطولاً، اللباس ۳۷ (۵۸۵۱) مطولاً، صحیح مسلم/الحج ۵ (۱۱۸۷)، سنن ابی داود/الحج ۲۱ (۱۷۷۲) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل ۱۰ (۷۴)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۳۴ (۳۶۲۶)، موطا امام مالک/الحج ۹ (۳۱)، مسند احمد ۲/۱۷، ۶۶، ۱۱۰، ۱۳۸ (تحفة الأشراف: ۷۳۱۶) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ۲۷۶۱، ۲۹۵۳، ۵۲۴۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔
117
Sahih