TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1303 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 7 in this chapter
دعا کی ایک اور قسم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏عَنْأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلِ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا،‏‏‏‏ وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ،‏‏‏‏ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ .
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr, from Abu Bakr As-Siddiq, may Allah (SWT) be pleased with them both, that he said to the Messenger of Allah (ﷺ): Teach me a supplication that I may recite in my prayer. He said: Say: 'Alahumma inni zalamtu afsi zulman kathiran wa la yaghfirudhunub illa anta faghfirli maghfiratan min 'indika warhamni innaka antalGhafurur-Rahim (O Allah, verily I have wronged myself much and there is None who forgives sins except You. Grant me forgiveness from You and have mercy on me for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful.)'
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جس کے ذریعہ میں اپنی نماز میں دعا مانگا کروں، تو آپ نے فرمایا: کہو: «اللہم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم»  اے اللہ! بیشک میں نے اپنے اوپر بہت ظلم کیا ہے، اور سوائے تیرے گناہوں کو کوئی بخش نہیں سکتا، لہٰذا تو اپنی خاص مغفرت سے مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم کر، یقیناً تو غفور و رحیم یعنی بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
1303
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 1302 In-book reference : Book 13, Hadith 124 English translation : Vol. 2, Book 13, Hadith 1303
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1303
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأذان ۱۴۹ (۸۳۴)، الدعوات ۱۷ (۶۳۲۶)، التوحید ۹ (۷۳۸۸)، صحیح مسلم/الدعاء ۱۳ (۲۷۰۵)، سنن الترمذی/الدعوات ۹۷ (۳۵۳۱)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ۲ (۳۸۳۵)، مسند احمد ۱/۳، ۷، (تحفة الأشراف: ۶۶۰۶) (صحیح)

Related Chapters

1,258
1
Chapter: Something Else
باب: اذان کے بعد آدمی کیا دعا پڑھے اس سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About The Oath Along With A Witness
باب: ایک گواہ کے ساتھ مدعی قسم کھانا دعویٰ کو ثابت کرنا ہے
Jam e Tirmazi
3
Chapter: From It: Whoever Does Not Ask Allah, He Gets Angry With Him
باب: فضائل دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
4
Chapter: Something Else: ‘Remembrance Is The Best Of Your Deeds, And The Purest Of Them With Your Master’
باب: دعا سے متعلق ایک اور باب​
Jam e Tirmazi
5
Chapter: Something Else, The Supplication “O Allah, Knower Of The Unseen And The Seen, Originator Of The Heavens And The Earth”
باب: صبح و شام پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
6
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Seek Forgiveness From Allah The One Whom There Is None Worthy Of Worship Except For Him, And He Is The Living, The Sustainer”
باب: سوتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
7
Chapter: Something Else: The Supplication: “Allah Hears The One Who Praises Him”
باب: رات میں جاگنے پر پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
8
Chapter: Something Else: The Supplication: “All Praise Is Due To Allah Who Revived My Soul”
باب: سوتے اور جاگتے وقت پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
9
Chapter: Something Else: The Supplication: “O Allah, I Ask You Of Your Mercy”
باب: تہجد کے لیے اٹھے تو اس میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
10
Chapter: Something Else: The Supplication: “I Have Directed My Face Towards The One Who Created The Heavens And The Earth”
باب: تہجد میں پڑھی جانے والی دعاؤں سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
11
Chapter: Something Else: The Supplication: “May Allah Grant You Taqwa As Your Provision”
باب: مسافر کو الوداع کہتے وقت پڑھی جانے والی دعا سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
12
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
Musnad Ahmad
13
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
Musnad Ahmad
14
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
Musnad Ahmad
15
ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
16
عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
17
فوائد:… یہ سارا کچھ مال کو اکٹھا کرنے کی لالچ میں ہو گا۔ اس موقع پر قتل ہونے والوں کی مختلف تعداد بیان کی گئی ہے، حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ نے کہا: دس میں سے نو افراد کا قتل ہونا، یہ روایت شاذ ہے، محفوظ روایت سو میں ننانوے کا قتل ہونا ہے، جس کو مسلم نے روایت کیا، اس کا ایک شاہد بھی ہے، جس کو سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روایت کیا، اور جمع تطبیق کی صورت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں احادیث کو لوگوں کی دو قسموں پر محمول کیا جائے (ایک قسم میں سو میں ننانوے قتل ہوں گے اور ایک قسم میں دس میں سے نو)۔ (فتح الباری: ۱۳/۸۱)
Musnad Ahmad
18
ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
Musnad Ahmad
19
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
20
(9) CHAPTER. Whoever thought it sufficient to invoke Allah for rain in the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer).
پانی کی دعا کرنے میں جمعہ کی نماز کو کافی سمجھنا ( یعنی علیحدہ استسقاء کی نماز نہ پڑھنا اور اس کی نیت کرنا یہ بھی استسقاء کی ایک شکل ہے )
Sahih Bukhari
21
(17) CHAPTER. To wash the perfume thrice off the clothes (of Ihram).
اگر کپڑوں پر خلوق ( ایک قسم کی خوشبو ) لگی ہو تو اس کو تین بار دھونا
Sahih Bukhari
22
(24) CHAPTER. If (some people have to take an oath) and each of them wants to take it first.
جب چند آدمی ہوں اور ہر ایک قسم کھانے میں جلدی کرے تو پہلے کس سے قسم لی جائے
Sahih Bukhari
23
(47) CHAPTER. The taking of two kinds of fruit or two kinds of food at a time.
ایک وقت میں دو طرح کے ( پھل ) یا دو قسم کے کھانے جمع کر کے کھانا ۔
Sahih Bukhari
24
(57) CHAPTER. To repeat the invocation.
دعا میں ایک ہی فقرہ باربار عرض کرنا
Sahih Bukhari
25
(20) CHAPTER. Whoever took an oath that he would not enter upon his wife for one month and that month was of twenty-nine days.
جس نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ تک نہیں جائے گا
Sahih Bukhari
26
(5) CHAPTER. The Sa (measuring unit) of Al-Madina.
سورۃ المائدہ میں اللہ تعالیٰ کا رشاد ” یعنی قسم کے کفارہ میں ایک غلام کی آزادی “ اور کس طرح کے غلام کی آزادی افضل ہے
Sahih Bukhari
27
Chapter: In the night there is an hour when supplications are answered
رات میں ایک گھڑی ہے جس میں دعا قبول کی جاتی ہے
Sahih Muslim
28
Chapter: Oath should be sworn by the defendant
مدعاٰعلیہ پر قسم ہے
Sahih Muslim
29
CHAPTER: Judgement on the basis of oath and one witness.
باب: ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کرنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
30
CHAPTER: Regarding combining two types of food.
باب: ایک وقت میں دو قسم کے کھانے جمع کرنا ۔
Sunnan Abu Dawood
31
CHAPTER: Regarding combining two types of food.
باب: دو قسم کے کھانے ایک ساتھ کھانے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
32
Chapter: Passing Judgement On The Basis Of A Witness And An Oath
ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
33
تیمم کی ایک اور قسم۔
Sunnan Nisai
34
تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
35
باب: نماز شروع کرنے اور قرأت کرنے کے بیچ کی ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
36
تکبیر تحریمہ کے بعد کی ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
37
رکوع کی ایک اور دعا (ذکر) کا بیان۔
Sunnan Nisai
38
رکوع کی ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
39
سجدہ کی ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
40
مذکورہ دعا کی) ایک اور سند کا بیان۔
Sunnan Nisai
41
سجدے کی ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
42
مذکورہ دعا کی ایک اور سند کا بیان۔
Sunnan Nisai
43
سجدے کی ایک اور دعا۔
Sunnan Nisai
44
سجدہ کی ایک اور دعا۔
Sunnan Nisai
45
تشہد کی ایک اور قسم کا بیان۔
Sunnan Nisai
46
صلاۃ (درود) کی ایک اور قسم کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
صلاۃ (درود و رحمت) کی ایک اور قسم کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
سلام پھیرنے کے بعد ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
سلام پھیرنے کے بعد کی ایک اور دعا و ذکر کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
نماز سے سلام پھیر کر پلٹنے پر ایک اور دعا کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

562
Jam e Tirmazi
3531
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولَ اللَّهِ:‏‏‏‏ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ حَدِيثُ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْخَيْرِ اسْمُهُ مَرْثَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ.
`Abdullah bin `Amr narrated from Abu Bakr As-Siddiq that he said: “O Messenger of Allah, teach me a supplication that I may supplicate with in my Salat.” He (ﷺ) said: “Say: ‘O Allah, I have wronged myself much, and none forgives sins except You. So forgive me with forgiveness from You, and have mercy upon me, indeed, You are the Forgiving, the Merciful (Allāhumma innī ẓalamtu nafsī ẓulman kathīran wa lā yaghfirudh-dhunūba illā anta faghfirlī maghfiratan min `indika warḥamnī innaka antal-Ghafūrur-Raḥīm).’”
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں مانگا کروں ۱؎، آپ نے فرمایا: ”کہو: «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے، جب کہ گناہوں کو تیرے سوا کوئی اور بخش نہیں سکتا، اس لیے تو مجھے اپنی عنایت خاص سے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہ لیث بن سعد کی روایت ہے۔
Sunnan Ibn e Maja
3835
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا،‏‏‏‏ وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ،‏‏‏‏ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ،‏‏‏‏ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ .
It was narrated from Abu Bakr Siddiq that : he said to the Messenger of Allah (saas): Teach me a supplication which I can say during my prayer. He said: Say: Allahumma inni zalamtu nafsi zulman kathiran wa la yaghfirudh-dhunub illa Anta, faghfirli maghfiratan min 'indika warhamni, innaka Antal-Ghafurur-Rahim (O Allah, I have wronged myself greatly and no one forgives sins but You, so grant me forgiveness from You and have mercy on me, for You are the Oft-Forgiving, Most Merciful).
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: مجھے کوئی ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں نماز میں پڑھا کروں، آپ نے فرمایا: تم یہ دعا پڑھا کرو «اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفر لي مغفرة من عندك وارحمني إنك أنت الغفور الرحيم» اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کا بخشنے والا صرف تو ہی ہے، تو اپنی عنایت سے میرے گناہ بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، تو غفور و رحیم ( بخشنے والا مہربان ) ہے ۔
Sahih Muslim
6869
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاَتِي قَالَ ‏ ‏ قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَبِيرًا - وَقَالَ قُتَيْبَةُ كَثِيرًا - وَلاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ‏ ‏ ‏.‏
Abu Bakr reported that he said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Teach me a supplication which I should recite in my prayer. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Recite: O Allah, I have done great wrong to myself. According to Qutaiba (the words were: ) much (wrong) -there is none to forgive the sins but Thou only, say: Grant me pardon from Thyself, have mercy upon me for Thou art much Forgiving and Compassionate.
ابو بکر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے رسول اﷲ ﷺ سے عرض کیا یارسول اﷲ ﷺ مجھے ایک دعا سکھلائیے جس کو میں پڑھا کروں اپنی نماز میں آپ نے فرمایا یہ کہا کر یااﷲ میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کیا ہے یا بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کو کوئی نہیں بخشتا سوا تیرے تو بخش دے مجھے اپنے پاس کی بخشش سے اور رحم کر مجھ پر تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
Jam e Tirmazi
1171
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْحَمْوُ الْمَوْتُ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا مَعْنَى كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ عَلَى نَحْوِ مَا رُوِيَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا كَانَ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ الْحَمْوُ يُقَالُ:‏‏‏‏ هُوَ أَخُو الزَّوْجِ كَأَنَّهُ كَرِهَ لَهُ أَنْ يَخْلُوَ بِهَا.
Uqbah bin Amir narrated that The Messenger of Allah said: “Beware of entering upon women.” So a man from the Ansar said: ‘”O Messenger of Allah! What do you think about Hamu? So he said: “The Hamu is death.”
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے سے بچو“، اس پر انصار کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! دیور ( شوہر کے بھائی ) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: ”دیور موت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، جابر اور عمرو بن العاص رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- عورتوں کے پاس خلوت ( تنہائی ) میں آنے کی حرمت کا مطلب وہی ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: ”کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ خلوت ( تنہائی ) میں ہوتا ہے تو اس کا تیسرا شیطان ہوتا ہے“، ۴- «حمو» شوہر کے بھائی یعنی دیور کو کہتے ہیں، گویا آپ نے دیور کے بھاوج کے ساتھ تنہائی میں ہونے کو حرام قرار دیا ہے۔
Jam e Tirmazi
1500
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،‏‏‏‏ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،‏‏‏‏ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ضَحَايَا،‏‏‏‏ فَبَقِيَ عَتُودٌ،‏‏‏‏ أَوْ جَدْيٌ،‏‏‏‏ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَحِّ بِهِ أَنْتَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ قَالَ وَكِيعٌ،‏‏‏‏ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ:‏‏‏‏ يَكُونُ ابْنَ سَنَةٍ أَوْ سَبْعَةِ أَشْهُرٍ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَايَا،‏‏‏‏ فَبَقِيَ جَذَعَةٌ،‏‏‏‏ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ ضَحِّ بِهَا أَنْتَ ،‏‏‏‏
Narrated 'Uqbah bin 'Amir: That the Messenger of Allah (ﷺ) gave him sheep to distribute among his Companions as a sacrifice. There remained a young male kid or a young billy goat, so I mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and he said: 'Sacrifice it for yourself.' Waki' said: The Jadha' among sheep is seven or six months.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بکریاں دیں تاکہ وہ قربانی کے لیے صحابہ کرام کے درمیان تقسیم کر دیں، ایک «عتود» ( بکری کا ایک سال کا فربہ بچہ ) یا «جدي» ۱؎ باقی بچ گیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- وکیع کہتے ہیں: بھیڑ کا جذع، چھ یا سات ماہ کا بچہ ہوتا ہے۔ ۳- عقبہ بن عامر سے دوسری سند سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور تقسیم کیے، ایک جذعہ باقی بچ گیا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”تم اس کی قربانی خود کر لو“۔
Jam e Tirmazi
3302
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ:‏‏‏‏ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ سورة الحشر آية 5 . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Ibn Umar [may Allah be pleased with him] said: “The Messenger of Allah ordered burning and cutting down the date palms of Banu An-Nadir, and that (place was called Al-Buwairah. So Allah revealed: What you cut down of the Linah, or you left of them standing on their trunks, it was by the leave of Allah, and in order that He might disgrace the rebellious.”
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور کاٹ ڈالے، اس جگہ کا نام بویرہ تھا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» ”جو ان کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم ( و سالم ) چھوڑ دیا یہ سب کچھ اذن الٰہی سے تھا، اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ ایسے فاسقوں کو رسوا کرے“ ( الحشر: ۵ ) ، نازل فرمائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3687
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ،‏‏‏‏ فَشَرِبْتُ مِنْهُ،‏‏‏‏ فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْعِلْمَ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Ibn 'Umar: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'I saw that I was brought a cup of milk, so I drank from it, and I gave my leftover to 'Umar bin Al-Khattab.' They said: 'So what did you interpret it as O Messenger of Allah?' He said: '(It is) Knowledge.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا“، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: ”اس کی تعبیر علم ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Jam e Tirmazi
3846
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ،‏‏‏‏ فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ،‏‏‏‏ فَأَقُولُ:‏‏‏‏ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ ،‏‏‏‏ فَأَقُولُ:‏‏‏‏ فُلَانٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا ؟ ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.
Narrated Abu Hurairah: We camped with the Messenger of Allah (ﷺ) at a place, and the people began passing by. The Messenger of Allah (ﷺ) would say: 'Who is this, O Abu Hurairah?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What an excellent slave of Allah this is.' And he would say: 'Who is this?' So I would say: 'So-and-so.' So he would say: 'What a bad slave of Allah this is.' Until Khalid bin Al-Walid passed, so he said: 'Who is this?' So I said: 'This is Khalid bin Al-Walid.' He said: 'What an excellent slave of Allah is Khalid bin Al-Walid, a sword from among the swords of Allah.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ”ابوہریرہ! یہ کون ہے؟“ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: ”کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا“، پھر آپ فرماتے: ”یہ کون ہے؟“ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: ”کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ۱؎“، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ رضی الله عنہ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Mishkat
942
وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلَاتِي قَالَ: «قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عنْدك وارحمني إِنَّك أَنْت الغفور الرَّحِيم»
ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی دعا سکھائیں جو میں اپنی نماز میں کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کہو ، اے اللہ ! بے شک میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے ، تیرے سوا گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا ، سو اپنی جناب سے مجھے بخش دے ، اور مجھ پر رحم فرما ، بے شک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔