TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ… - آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ… - دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 11 of دعاء اور اس سے متعلقہ امور کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 11 of 16 · 18 Hadith
۔ (۵۶۶۰۔) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ عَامَّۃُ دُعَاء ِ نَبِیِّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَہِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۱۶۷)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عام دعا یہ ہوتی تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا جَہِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ۔(اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر کیے، جو جان بوجھ کر کیے، جو مخفی طور پر کیے، جو علانیہ طور پر کیے، جو جہالت کی وجہ سے کیے اور جو جاننے بوجھنے کے باوجود کیے)۔
Takhreej
(۵۶۶۰) اسنادہ صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/۲۴۲، والبزار: ۲۵۲۵ (انظر: ۱۹۹۲۵)
5660
Sahih
۔ (۵۶۶۱۔) عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْصٰی سَلْمَانَ الْخَیْرَ قَالَ: ((إِنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ عَلَیْہِ السَّلَام یُرِیدُ أَنْ یَمْنَحَکَ کَلِمَاتٍ تَسْأَلُہُنَّ الرَّحْمٰنَ تَرْغَبُ إِلَیْہِ فِیہِنَّ وَتَدْعُوَ بِہِنَّ بِاللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، قُلْ: اَللّٰھُمَّإِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ، وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔)) (مسند أحمد: ۸۲۵۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا سلمان خیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ نصیحت فرمائی: بیشک اللہ کا نبی تجھے چند کلمات عطا کرنا چاہتا ہے، تو ان کے ذریعے رحمن سے سوال کرے گا، ان کے ذریعے اس کی طرف رغبت کا اظہار کرے گا اور رات اور دن کو ان کا ورد کرے گا، کہہ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ صِحَّۃَ إِیمَانٍ وَإِیمَانًا فِی خُلُقٍ حَسَنٍ،وَنَجَاحًا یَتْبَعُہُ فَلَاحٌ یَعْنِی وَرَحْمَۃً مِنْکَ وَعَافِیَۃً وَمَغْفِرَۃً مِنْکَ وَرِضْوَانًا۔ (اے اللہ! میں تجھ سے کمالِ ایمان کا، حسن اخلاق والے ایمان کا اور کامیابی والا مقصد پورا ہونے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے رحمت، عافیت، بخشش اور رضامندی کا سوال کرتا ہوں)۔
Takhreej
(۵۶۶۱) تخریج: اسنادہ ضعیف، عبد اللہ بن الولید فیہ ضعف، أخرجہ النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۲۱، ۵۶۹، والحاکم: ۱/ ۵۲۳(انظر: ۸۲۷۲)
5661
Zaeef
۔ (۵۶۶۲۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ أَبِیہِ الْعَبَّاسِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنَا عَمُّکَ کَبِرَتْ سِنِّی، وَاقْتَرَبَ أَجَلِی، فَعَلِّمْنِی شَیْئًا یَنْفَعُنِی اللّٰہُ بِہِ، قَالَ: ((یَا عَبَّاسُ! أَنْتَ عَمِّی وَلَا أُغْنِی عَنْکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا، وَلٰکِنْ سَلْ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) قَالَہَا ثَلَاثًا ثُمَّ أَتَاہُ عِنْدَ قَرْنِ الْحَوْلِ فَقَالَ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۶۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اپنے باپ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کا چچا ہوں، اب میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں اور میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے، لہذا آپ مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں کہ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عباس! تم میرے چچے تو ہو، لیکن میں تم کو اللہ تعالیٰ سے کفایت نہیں کر سکتا، البتہ تم اپنے ربّ سے دنیا اور آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کیا کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تین بار یہ بات دوہرائی، پھر جب وہ سال کے آخر میں آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر یہی بات کی۔
Takhreej
(۵۶۶۲) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۱۷۶۶)
Explanation
فوائد:… سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا تھے، لیکن آخرت کے معاملے میں اتنا مقدس رشتہ بھی کسی کام نہیں آئے گا، وہاں معاملہ ذاتی نیکیوں اور برائیوں کا ہو گا۔ معافی سے مراد گناہوں کا معاف ہو جانا ہے اور عافیت سے مراد بیماریوں، آزمائشوں اور ضعف ِ ایمان سے سلامتی ہے۔
5662
Sahih
۔ (۵۶۶۳۔) عَنْ رِفَاعَۃَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَکْرٍ الصِّدِّیقَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ یَقُولُ عَلٰی مِنْبَرِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: فَبَکٰی أَبُو بَکْرٍ حِینَ ذَکَرَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ فِی ہٰذَا الْقَیْظِ عَامَ الْأَوَّلِ: ((سَلُوا اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ وَالْیَقِینَ فِی الْآخِرَۃِ وَالْأُولٰی۔)) (مسند أحمد: ۶)
۔ سیدنا رفاعہ بن رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو بکر صدیق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منبرِ رسول پر یہ کہتے ہوئے سنا، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، جب انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ذکر کیا تو رونا شروع کر دیا، پھر یہ کیفیت دور ہونے کے بعد انھوں نے کہا: میں نے پچھلے سال گرمیوں کے اس شدید موسم میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ سے معافی کا، عافیت کا اور ایمانِ کامل کا سوال کیا کرو۔
Takhreej
(۵۶۶۳) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۵۸(انظر: ۶)
5663
Sahih
۔ (۵۶۶۴۔) عَنِ الْحَسَنِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ لَمْ یُعْطَوْا فِی الدُّنْیَا خَیْرًا مِنَ الْیَقِینِ وَالْمُعَافَاۃِ، فَسَلُوہُمَا اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند أحمد: ۳۸)
۔ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے خطاب کیا اور کہا: رسول للہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! لوگوں کو دنیا میں ایمانِ کامل اور عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیںکی گئی، لہذا تم اللہ تعالیٰ سے ان دونوں چیزوں کا سوال کیا کرو۔
Takhreej
(۵۶۶۴) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۳۸)
Explanation
فوائد:… اس وقت دنیا والے جن جن چیزوں کو بہتر اور خیر والا سمجھ چکے ہیں اور ان کے لیے کوشاں بھی ہیں، وہ سب کچھ فنا ہونے والا اور ہاتھ سے نکل جانے والا ہے، اگر بقا ہے تو وہ ایمانِ کامل اور عملِ صالح کو ہے۔ بلاشک و شبہ دنیا کے لیے محنت کرنی چاہیے، لیکن دین کے تقاضوں سے غفلت برتنا، یہ دکھ بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کی ہر متوقع اور غیر متوقع نعمت کے بغیر گزارا کیا جا سکتاہے، لیکن اگر گزارا نہیں تو وہ کامل ایمان اور نیک عمل کے بغیر نہیں ہے، کیونکہ آخرت کا انحصار اِن دو چیزوں پر ہے، اگر کوئی آخرت میںپھنس گیا تو دنیا کی نعمتیں کس کام آئیں گی۔
5664
Sahih
۔ (۵۶۶۵۔) عن أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلَُ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔)) ثُمَّ أَتَاہُ الْیَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَیُّ الدُّعَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((تَسْأَلُ رَبَّکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، فَإِنَّکَ إِذَا أُعْطِیتَہُمَا فِی الدُّنْیَا ثُمَّ أُعْطِیتَہُمَا فِی الْآخِرَۃِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۳۱۶)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی دوسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا۔ پھر وہی آدمی تیسرے دن آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی دعا سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرا اپنے ربّ سے دنیا و آخرت میں معافی اور عافیت کا سوال کرنا، اگر یہ دونوں چیزیں تجھے دنیا میں عطا کر دی گئیں اور پھر آخرت میں بھی دے دی گئیں تو تو کامیاب ہو جائے گا۔
Takhreej
(۵۶۶۵) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۴۸، والترمذی: ۳۵۱۲(انظر: ۱۲۲۹۱)
5665
Sahih
۔ (۵۶۶۶۔) عَنْ أَبِی مُوسٰی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سَلِ اللّٰہَ تَعَالٰی الْہُدَی وَالسِّدَادَ وَاذْکُرْ بِالْہُدَی ہِدَایَتَکَ الطَّرِیقَ، وَاذْکُرْ بِالسِّدَادِ تَسْدِیدَکَ السَّہْمَ۔)) (مسند أحمد: ۶۶۴)
۔ سیدنا ابو موسی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور راست روی کا سوال کر، اور ہدایت سے تیری مراد یہ ہو کہ سیدھے راستے کی طرف تیری رہنمائی کر دی جائے اور راست روی سے مراد یہ ہو کہ تیر کی طرح سیدھا کر دیا جائے۔
Takhreej
(۵۶۶۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۰۷۸(انظر: ۶۶۴)
Explanation
فوائد:… سَدَاد کے مختلف معانی ہیں، مثلا: استقامت، اعتدال، راست روی، قول و فعل کی درستگی، صداقت، حقانیت۔ جیسے تیر کو سیدھا کرنے میں بڑی توجہ دی جاتی ہے اور محنت بھی کی جاتی ہے، اسی طرح انسان کو اپنی زندگی کے تمام اقوال و افعال کو درست کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور کسی معاملہ میں لا پرواہی نہیں برتنی چاہیے۔ جب آدمی ہدایت اور راست روی کا سوال کر رہا ہو تو اس وقت ان کے بھرپور معانی اس کے ذہن میںہونے چاہئیں۔
5666
Sahih
۔ (۵۶۶۷۔) عَن زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُ دُعَائً، وَأَمَرَہُ أَنْ یَتَعَاہَدَ بِہِ أَہْلَہُ کُلَّ یَوْمٍ، قَالَ: ((قُلْ کُلَّ یَوْمٍ حِینَ تُصْبِحُ: لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ وَمِنْکَ وَبِکَ وَإِلَیْکَ، اَللّٰھُمَّ مَا قُلْتُ مِنْ قَوْلٍ أَوْ نَذَرْتُ مِنْ نَذْرٍ أَوْ حَلَفْتُ مِنْ حِلْفٍ فَمَشِیئَتُکَ بَیْنَ یَدَیْہِ مَا شِئْتَ کَانَ وَمَا لَمْ تَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِکَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ وَمَا صَلَّیْتُ مِنْ صَلَاۃٍ فَعَلٰی مَنْ صَلَّیْتَ، وَمَا لَعَنْتُ مِنْ لَعْنَۃٍ فَعَلٰی مَنْ لَعَنْتَ، إِنَّکَ أَنْتَ وَلِیِّی فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ، أَسْأَلُکَ اَللّٰھُمَّ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَائ،ِ وَبَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَمَاتِ، وَلَذَّۃَ نَظَرٍ إِلٰی وَجْہِکَ وَشَوْقًا إِلٰی لِقَائِکَ مِنْ غَیْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّۃٍ وَلَا فِتْنَۃٍ مُضِلَّۃٍ، أَعُوذُ بِکَ اَللّٰھُمَّ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَعْتَدِیَ أَوْ یُعْتَدٰی عَلَیَّ،ٔ أَوْ أَکْتَسِبَ خَطِیئَۃً مُحْبِطَۃً أَوْ ذَنْبًا لَا یُغْفَرُ، اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَإِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، وَأُشْہِدُکَ وَکَفٰی بِکَ شَہِیدًا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، لَکَ الْمُلْکُ وَلَکَ الْحَمْدُ، وَأَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَأَشْہَدُ أَنَّ وَعْدَکَ حَقٌّ، وَلِقَائَکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃَ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃَ آتِیَۃٌ لَا رَیْبَ فِیہَا، وَأَنْتَ تَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُورِ، وَأَشْہَدُ أَنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تَکِلْنِی إِلٰی ضَیْعَۃٍ وَعَوْرَۃٍ وَذَنْبٍ وَخَطِیئَۃٍ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہُ، إِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَتُبْ عَلَیَّ إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۰۰۶)
۔ سیدنا زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو ایک دعا کی تعلیم دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ اس دعا کے معاملے میں ہر روز اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھے، (یعنی وہ سارے افراد روزانہ یہ دعا پڑھیں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر روز صبح کے وقت کہو: میں (تیری اطاعت کے لیے) حاضر ہوں، اے اللہ! میں حاضر ہوں، اور میں حاضر ہوں، بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، تیری طرف سے ہے ، تیرے ساتھ ہے اور تیری طرف ہے، اے اللہ! میں نے جو بات کہی، میں نے جونذر مانی اور میں نے جو قسم اٹھائی، پس تیری مشیت اس کے سامنے ہے، جو تو چاہے گا، وہ ہو گا اور جو تو نہیں چاہے گا، وہ نہیں ہو گی، برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر تیرے ساتھ، بیشک تو ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ، اے اللہ! میں نے رحمت کی جو دعا کی ہے، وہ اس کے لیے ہے، جس پر تو نے رحمت بھیجی ہے اور میں نے لعنت کی جو بد دعا کی ہے ، وہ اس پر ہو، جس پر تو نے لعنت کی ہے، بیشک تو ہی میرا دوست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، تو مجھے مسلمان فوت کرنا اور نیکوکار لوگوں کے ساتھ مجھے ملا دینا۔ اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فیصلہ کے بعد رضامند ہونے کا، موت کے بعد راحت کا، تیرے چہرے کی طرف دیکھنے کی لذت کا اور تیری ملاقات کے شوق کا سوال کرتا ہوں، لیکن اس میں نقصان پہنچانے والی کوئی تکلیف اور گمراہ کرنے والا کوئی فتنہ ہو۔ اے اللہ! میں اس چیز سے تیری پناہ میں آتا ہو کہ میں ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں زیادتی کروں، یا مجھ پر زیادتی کی جائے، یا میں اعمال کو ضائع کرنے والا گناہ کروں، یا میں نہ بخش دیے جانے والے گناہ کا ارتکاب کروں۔ اے اللہ! آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! جلال و اکرام والے! بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں اور تجھ کو گواہ بناتا ہے، جبکہ تو ہی بطورِ گواہ کافی ہے، کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے، بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری تعریف تیرے واسطے ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے، اور میں یہ شہادت بھی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، قیامت بلاشک و شبہ آنے والی ہے اور تو قبروں والوں کو اٹھانے والا ہے۔ اور میں یہ گواہی بھی دیتا ہے کہ اگر تو نے مجھ کو میرے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو نے مجھے ضائع ہونے، عیب، گناہ اور خطا کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ مجھے کوئی بھروسہ نہیں ہے، سوائے تیری رحمت کے، پس میرے لیے میرے سارے گناہوں کو بخش دے، توہی گناہوں کو بخش دینے والا ہے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
Takhreej
(۵۶۶۷) تخریج: اسنادہ ضعیف لانقطاعہ، ضمرۃ بن حبیب لم یسمع من ابی الدردائ، وابو بکر بن ابی مریم ضعیف، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۴۸۰۳، والحاکم: ۱/ ۵۱۶ (انظر: ۲۱۶۶۶)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں درج ذیل دعا کا بیان ہے:
5667
Zaeef
۔ (۵۶۶۸۔) عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّہُ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: بَیْنَمَا أَنَا أُصَلِّی إِذْ سَمِعْتُ مُتَکَلِّمًا یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ لَکَ اَلْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ذَاکَ مَلَکٌ أَتَاکَ یُعَلِّمُکَ تَحْمِیدَ رَبِّکَ۔)) (مسند أحمد: ۲۳۷۴۷)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: میں نماز پڑھا رہا تھا کہ نماز کے بیچ میں ایک آدمی کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ، عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍٔ قَدِیرٌ، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضٰی مِنْ ذَنْبِیْ، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضٰی بِہِ عَنِّیْ۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، سارا بادشاہت تیرے لے ہے، ساری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے، ساری معاملہ تیری طرف لوٹایا جائے گا، وہ علانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میں جو گناہ کر چکا ہوں، تو ان سب کو بخش دے اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے ایسا مبارک اور مقبول عمل کرنے کی توفیق دے کہ جس کے ذریعے تو مجھ سے راضی ہو جائے)۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس دعا اور آواز کے بارے میں فرمایا: یہ فرشتہ تھا، جو تجھے تیرے ربّ کی حمد بیان کرنے کی تعلیم دینے آیا تھا۔
Takhreej
(۵۶۶۸) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الراوی عن حذیفۃ (انظر: ۲۳۳۵۵)
5668
Zaeef
۔ (۵۶۶۹۔) عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِذَا کَنَزَ النَّاسُ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ فَاکْنِزُوْا ہٰؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۴۳)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرنا شروع کریں گے تو تم ان کلمات کو جمع کرنا شروع کر دینا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِی الْأَمْرِ، وَالْعَزِیمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ، وَأَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیمًا، وَأَسْأَلُکَ لِسَانًا صَادِقًا، وَأَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور استقامت کا اور رشد و ہدایت پر مضبوطی سے قائم رہنے کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے تیری نعمت کا شکر ادا کرنے کا اور تیری عبادت کے حسن کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے سالم دل اور سچی زبان کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں، جو تو جانتا ہے اور ہر اس شرّ سے تیری پناہ میں آتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، اور تجھ سے ہر اس گناہ کی بخشش چاہتا ہوں، جس کو تو جانتا ہے، بیشک تو غیبوں کو جاننے والا ہے)۔
Takhreej
(۵۶۶۹) تخریج: حدیث حسن بطرقہ (انظر: ۱۷۱۱۴)
5669
Sahih
۔ (۵۶۷۰۔) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ دَخَلَ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَرَادَ أَنْ یُکَلِّمَہُ وَعَائِشَۃُ تُصَلِّی فَقَالَ لَہَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلَیْکِ بِالْکَوَامِلِ۔)) أَوْ کَلِمَۃً أُخْرٰی فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَۃُ سَأَلَتْہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ لَہَا: ((قُولِی اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔) (مسند أحمد: ۲۵۶۵۰)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تشریف لائے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کوئی بات کرنا چاہی، جبکہ سیدہ خود نماز پڑھ رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ سے فرمایا: تو کوامل کا لازمی طور پر اہتمام کر۔ یا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس طرح کی کوئی بات کی، جب وہ فارغ ہوئیں اور اس ارشاد کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھا کر: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ عَاجِلِہِ وَآجِلِہِ مَا عَلِمْتُ مِنْہُ وَمَا لَمْ أَعْلَمْ، وَأَسْأَلُکَ الْجَنَّۃَ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ، وَأَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ مَا سَأَلَکَ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْتَعِیذُکَ مِمَّا اسْتَعَاذَکَ مِنْہُ عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، وَأَسْأَلُکَ مَا قَضَیْتَ لِی مِنْ أَمْرٍ أَنْ تَجْعَلَ عَاقِبَتَہُ رَشَدًا۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَاَسْأَلُکَ اَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ تَقْضِیْہٗ لِیْ خَیْرًا۔ (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے ہر قسم کی خیر کا سوال کرتا ہوں، وہ جلد آنے والی ہو یا بدیر، مجھے اس کا علم ہویا نہ ہو، اور میں تجھ سے ہر قسم کے شرّ سے پناہ مانگتا ہوں، وہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے، مجھے اس کا علم ہو یا نہ ہو، میں تجھ سے جنت کا اور اس کے قریب کر دینے والے قول یا عمل کا سوال کرتا ہوں، میں تجھ سے آگ سے اور اس کے قریب کر دینے والے قول اور عمل سے پناہ طلب کرتا ہوں، بلکہ میں تجھ سے ہر اس خیر کاسوال کرتا ہوں، جس کا سوال تجھ سے تیرے بندے اور رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا اور میں ہر اس چیز سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں، جس سے تیرے بندے اور رسول محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پناہ طلب کی، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس کے انجام میں خیر بنا دے۔ ایک روایت کا آخری جملہ یوں ہے: میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے بارے میں تو نے جو فیصلہ کیا ہے، اس میں خیر رکھ دے)۔
Takhreej
(۵۶۷۰) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۸۴۶(انظر: ۲۵۱۳۷)
Explanation
فوائد:… کَوَامَل ، اور ایک روایت میں ہے: عَلَیْکِ بِالْجَوَامِعِ الْکَوَامِلِ۔ اس سے مراد وہ دعائیں ہیں، جن کے الفاظ مختصر ہوں، لیکن وہ بہت زیادہ معانی پر مشتمل ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جنتی دعاؤں کی تعلیم دی ہے، وہ اپنے باب میںجامع و مانع ہیں۔
5670
Sahih
۔ (۵۶۷۱۔) )۔ عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَلَا تُعَلِّمُنِی دَعْوَۃً أَدْعُو بِہَا لِنَفْسِی، قَالَ: ((بَلٰی، قُولِی: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔)) (مسند أحمد: ۲۷۱۱۱)
۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسی دعا کی تعلیم نہیں دیں گے، جس کے ذریعے میں اپنے لیے دعا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں، تم یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ رَبَّ مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ! اِغْفِرْ لِی ذَنْبِی وَأَذْہِبْ غَیْظَ قَلْبِی، وَأَجِرْنِی مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ مَا أَحْیَیْتَنَا۔ (اے اللہ! نبی محمد کے ربّ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، میرے دل کا غصہ نکال دے اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا دے ، جب تک تو ہمیں زندہ رکھے۔)
Takhreej
(۵۶۷۱) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شھر بن حوشب (انظر: ۲۶۵۷۶)
5671
Zaeef
۔ (۵۶۷۲۔) عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَوْ غَیْرِہِ أَنَّ حُصَیْنًا أَوْ حَصِینًا أَتٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! لَعَبْدُ الْمُطَّلِبِ کَانَ خَیْرًا لِقَوْمِہِ مِنْکَ، کَانَ یُطْعِمُہُمْ الْکَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُہُمْ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُولَ۔ فَقَالَ لَہُ: مَا تَأْمُرُنِی أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ: ((قُلْ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔)) قَالَ: فَانْطَلَقَ فَأَسْلَمَ الرَّجُلُ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ: إِنِّی أَتَیْتُکَ، فَقُلْتَ لِی: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔)) فَمَا أَقُولُ: الْآنَ؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۲۳۴)
۔ سیدنا عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یا کسی اور صحابی سے مروی ہے کہ حُصَین یا حَصِین نامی آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کی بہ نسبت تو عبد المطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا، وہ ان کو جگر اور کوہان کھلاتا تھا اور آپ ان کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اونٹ نحر کریں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو وہ جواب دیا، جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا، پھر اس نے کہا: آپ مجھے کیا کہنے کا حکم دیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا پڑھ: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی (اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شرّ سے بچا اور سب سے ہدایت یافتہ معاملے پر میرے عزم کو مضبوط کر دے)۔ وہ بندہ چلا گیا، لیکن مسلمان ہو کر پھر آ گیا اور اس نے کہا: میں آپ کے پاس آیا تھا اور آپ نے مجھے اس دعا کی تعلیم دی تھی: اَللّٰھُمَّ قِنِی شَرَّ نَفْسِی، وَاعْزِمْ لِی عَلٰی أَرْشَدِ أَمْرِی۔ اب میں کیا کہا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ دعا کرو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا عَمَدْتُ وَمَا عَلِمْتُ وَمَا جَہِلْتُ۔ (اے اللہ! میرے لیے وہ گناہ بخش دے، جو میں نے مخفی طور پر کیے اور جو علانیہ کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے اور جن کے بارے میں میں جانتا تھا اور جن کے بارے میں نہیں جانتا تھا)۔ ‘
Takhreej
(۵۶۷۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ الترمذی: ۳۴۸۳(انظر: ۱۹۹۹۲)
5672
Sahih
۔ (۵۶۷۳۔) عَنْ اَبِی مَالِکِ نِ الْاَشْجَعِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ طَارِقُ بْنُ اَشْیَمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ، إِذَا أَتَاہُ الْإِنْسَانُ یَقُولُ: کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَقُولُ حِینَ أَسْأَلُ رَبِّی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی، وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْہَامَ، فَإِنَّ ہٰؤُلَائِ یَجْمَعْنَ لَکَ دُنْیَاکَ وَآخِرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۲)
۔ سیدنا ابو مالک اشجعی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے باپ سیدنا طارق بن اُشیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب کوئی آدمی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آ کر کہتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیا کہا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے فرماتے یہ کہو: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، رمجھے ہدایت دے اور مجھے رزق دے)۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
Takhreej
(۵۶۷۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۹۷(انظر: ۱۵۸۷۷)
Explanation
فوائد:… یہ دعا کل چار مطالبات پر مشتمل ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو انگلیوں کے ذریعے گن کر بتایا۔
5673
Sahih
۔ (۵۶۷۴۔) (وَعَنْہٗ اَیْضًا) قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ، إِذَا أَتَاہُ الْإِنْسَانُ یَقُولُ: کَیْفَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَقُولُ حِینَ أَسْأَلُ رَبِّی؟ قَالَ: ((قُلْ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی، وَقَبَضَ أَصَابِعَہُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْہَامَ، فَإِنَّ ہَؤُلَائِ یَجْمَعْنَ لَکَ دُنْیَاکَ وَآخِرَتَکَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۷۲)
۔ سیدنا طارق بن اشیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی آدمی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا اور وہ پوچھتا: اے اللہ کے رسول! جب میں اپنے ربّ سے سوال کروں تو کیسے اور کیا کہا کروں؟ تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: تو اس طرح کہا کر: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی وَاہْدِنِی وَارْزُقْنِی (اے اللہ! تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا کر)۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگوٹھے کے علاوہ چار انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا: یہ کلمات تیرے لیے دنیا و آخرت (کی بھلائی) کو جمع کر دیں گے۔
Takhreej
(۵۶۷۴) تخریج: انظر الحدیث السابق
5674
Sahih
۔ (۵۶۷۵۔) عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یُصَلِّی وَہُوَ یَقُولُ فِی دُعَائِہِ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الصَّبْرَ، قَالَ: ((سَأَلْتَ الْبَلَائَ فَسَلِ اللّٰہَ الْعَافِیَۃَ۔)) قَالَ: وَأَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ تَمَامَ نِعْمَتِکَ، فَقَالَ: ((ابْنَ آدَمَ! ہَلْ تَدْرِی مَا تَمَامُ النِّعْمَۃِ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! دَعْوَۃٌ دَعَوْتُ بِہَا أَرْجُو بِہَا الْخَیْرَ، قَالَ: ((فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَۃِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ، وَدُخُولُ الْجَنَّۃِ۔)) وَأَتٰی عَلٰی رَجُلٍ وَہُوَ یَقُولُ: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، فَقَالَ: ((قَدِ اسْتُجِیبَ لَکَ فَسَلْ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۰۶)
۔ سیدنا معاذبن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے، وہ نماز میں تھا اور اپنی دعا میں یہ الفاظ بھی کہہ رہا تھا: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے صبر کا سوال کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو نے تو آزمائش کا سوال کیا، تو اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کر۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک اور آدمی کے پاس سے گزرے، وہ یہ دعا کر رہا تھا: اے اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کی تکمیل کا سوال کرتا ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن آدم! کیا تو جانتا ہے کہ نعمت کی تکمیل ہے کیا؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںنے تو صرف خیر کی امید رکھتے ہوئے یہ دعا کی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جہنم سے آزادی اور جنت کا داخلہ نعمت کی تکمیل ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک اور آدمی کے پاس آئے اور وہ یہ الفاظ کہہ رہا تھا: یَا ذَا الْجِلَالِ وَالْإِکْرَامِ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تحقیق تیری دعا قبول کی جا چکی ہے، بس تو سوال کر۔
Takhreej
(۵۶۷۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۲۷ (انظر: ۲۲۰۵۶)
5675
Sahih
۔ (۵۶۷۶۔) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مِرَارٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اَللّٰھُمَّ أَجِرْہُ مِنِّی، وَلَا یَسْأَلُ الْجَنَّۃَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّۃُ: اَللّٰھُمَّ أَدْخِلْہُ إِیَّایَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۱۹۴)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب آدمی تین بار جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس شخص کو مجھ سے پناہ دے دے، اسی طرح جب آدمی تین بار جنت کا سوال کرتا ہے تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اس کو میرے اندر داخل کر دے۔
Takhreej
(۵۶۷۶) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۸/ ۲۷۹، وابن ماجہ: ۴۳۴۰، والترمذی: ۲۵۷۲(انظر: ۱۲۱۷۰)
5676
Sahih
۔ (۵۶۷۷۔) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ قَالَ: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، إِنِّی أَعْہَدُ إِلَیْکَ فِی ہٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا، أَنِّی أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، فَإِنَّکَ إِنْ تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی تُقَرِّبْنِی مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِی مِنَ الْخَیْرِ، وَإِنِّی لَا أَثِقُ إِلَّا بِرَحْمَتِکَ، فَاجْعَلْ لِی عِنْدَکَ عَہْدًا تُوَفِّینِیہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ، إِلَّا قَالَ اللّٰہُ لِمَلَائِکَتِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ: إِنَّ عَبْدِی قَدْ عَہِدَ إِلَیَّ عَہْدًا، فَأَوْفُوہُ إِیَّاہُ فَیُدْخِلُہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ سُہَیْلٌ: فَأَخْبَرْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، أَنَّ عَوْنًا أَخْبَرَ بِکَذَا وَکَذَا، قَالَ: مَا فِی أَہْلِنَا جَارِیَۃٌ إِلَّا وَہِیَ تَقُولُ ہٰذَا فِی خِدْرِہَا۔ (مسند أحمد: ۳۹۱۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے یہ دعا پڑھی: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ…… إِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ(اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے، غیب اور حاضر کو جاننے والے، بیشک میں تجھ سے اس دنیوی زندگی میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں گواہی دیتا ہوںکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں ہے اور یہ کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اگر تو نے مجھ کو میرے نفس کے سپرد کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تو مجھے شرّ کے قریب کر رہا ہے اور خیر سے دور کر رہا ہے اور میرا بھروسہ نہیں ہے، مگر تیری رحمت کے ساتھ، پس تو میرے لیے اپنے ہاں ایک وعدہ کر لے، جس کو تو قیامت کے دن پورا کرے گا، بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا )۔ جو آدمی یہ دعا پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے حق میں روزِ قیامت فرشتوں سے کہے گا: فلاں بندے نے مجھ سے وعدہ لیا تھا، تو اس کے لیے اس کا وعدہ پورا کر دو، پس اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔ قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود نے کہا: ہمارے اہل و عیال میں تو ہر بچی اپنے پردے کے اندر یہ ذکر کرتی ہے۔
Takhreej
(۵۶۷۷) تخریج: منقطع، عون بن عبد اللہ لم یسمع من عبد اللہ بن مسعود(انظر: ۳۹۱۶)
5677
Sahih

Chapters

16
01
دعا کرنے کی ترغیب، اس کی فضیلت، اس کے آداب اور اس چیز کا بیان کہ دعا لازمی طور پر فائدہ دے گی
12 Hadith
02
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
11 Hadith
03
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
5 Hadith
04
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے ، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
6 Hadith
05
دعا میں زیادتی کی کراہت کا بیان
2 Hadith
06
ان اوقات کا بیان، جن میں دعا قبول ہوتی ہے
4 Hadith
07
ان دعاؤں کا بیان کہ جن کے ذریعے دعائیں قبول ہوتی ہیں، ان میں سے مچھلی والے کی دعا اور یَاذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ کی دعاہے
7 Hadith
08
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پڑھا کرتے تھے
22 Hadith
09
ان دعاؤں کا بیان ، جو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
2 Hadith
10
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ
7 Hadith
11
آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک دعا یہ تھی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ مَا اَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ…
18 Hadith
12
اس نابینا آدمی کی دعا، جس نے اپنی بینائی حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وسیلہ دیا تھا
3 Hadith
13
تعوذ (پناہ مانگنے)، اس کے صیغوں اور فضیلت کا بیان
23 Hadith
14
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
2 Hadith
15
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود چھوڑ دینے والے شخص کی مذمت کا بیان
2 Hadith
16
نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت اور یہ عمل کرنے والے کے اجر کا کئی گناہ تک بڑھنا
12 Hadith
No chapter matched that.