ایک خوش گوار قسم کی ہوا کا چلنا، جو اہل ایمان کی روحیں قبض کر لے گی
Chapter 41 of قیامت ‘ احوالِ آخرت اور ان سے قبل برپا ہونے والے فتنوں
اور علامتوں کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیدنا عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک ہوا چلے گی، اس میں ہر اہل ایمان کی روح قبض کر لی جائے گی۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے ایک حدیث ذکر کی، اس کے شروع مین دجال کے ظہور کا اور اللہ کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کا اور دجال کو قتل کرنے کا ذکر ہے، بیچ میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد اللہ تعالیٰ ارضِ شام کی طرف سے ایک خوشگوار قسم کی ہوا چلائے گا، جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، وہ اس کی روح قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی مومن کسی پہاڑ کے بیچ میں ہوا تو وہ وہاں بھی جا پہنچے گی۔ سیدناعبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر صرف بدترین لوگ رہ جائیں گے، ……۔
سیدنا مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ یکے بعد دیگرے فوت ہوتے جائیں گے، یہاں تک کہ بچی ہوئی خراب اور ردی کھجور یا جو کی طرح گھٹیا قسم کے لوگ رہ جائیں گے، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کوئی پروا ہ نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۳۰۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۴۱۵۶ (انظر: ۱۷۷۲۹)
Explanation
فوائد:… جب اس ہوا کی وجہ سے سارے مؤمن فوت ہو جائیں گے تو صرف برے لوگ رہ جائیں گے اور ان ہی پر قیامت قائم ہو گی۔