أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْكَعْ .
Amr bin Dinar narrated that:
He heard Jabir bin 'Abdullah say: A man came when the Prophet (ﷺ) was on the minbar on a Friday. He said to him: 'Have you prayed two rak'ahs?' He said: 'No.' He said: 'Pray.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی ( مسجد میں ) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ۳۲ (۹۳۰)، ۳۳ (۹۳۱)، صحیح مسلم/الجمعة ۱۴ (۸۷۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۲۳۷ (۱۱۱۵)، سنن الترمذی/فیہ ۲۵۰ (الجمعة ۱۵) (۵۱۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۸۷ (۱۱۱۳)، (تحفة الأشراف: ۲۵۵۷)، مسند احمد ۳/۲۹۷، ۳۰۸، ۳۶۹، ۳۸۰، سنن الدارمی/الصلاة ۱۹۶ (۱۴۰۶) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃالمسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
1401
Sahih