TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1401 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 1 in this chapter
Whole chapter
Previous Hadith Next Hadith
جمعہ کے دن امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ:‏‏‏‏ أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَارْكَعْ .
Amr bin Dinar narrated that: He heard Jabir bin 'Abdullah say: A man came when the Prophet (ﷺ) was on the minbar on a Friday. He said to him: 'Have you prayed two rak'ahs?' He said: 'No.' He said: 'Pray.'
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی  ( مسجد میں )  آیا تو آپ نے اس سے پوچھا:  کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟  اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا:  تو پڑھ لو  ۱؎۔
1401
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Sunnah.com reference : Book 14, Hadith 37 English reference : Vol. 2, Book 14, Hadith 1401 Arabic reference : Book 14, Hadith 1411
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1401
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ۳۲ (۹۳۰)، ۳۳ (۹۳۱)، صحیح مسلم/الجمعة ۱۴ (۸۷۵)، سنن ابی داود/الصلاة ۲۳۷ (۱۱۱۵)، سنن الترمذی/فیہ ۲۵۰ (الجمعة ۱۵) (۵۱۰)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ۸۷ (۱۱۱۳)، (تحفة الأشراف: ۲۵۵۷)، مسند احمد ۳/۲۹۷، ۳۰۸، ۳۶۹، ۳۸۰، سنن الدارمی/الصلاة ۱۹۶ (۱۴۰۶) (صحیح)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃالمسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔

Related Chapters

1,048
1
Chapter: What Has Been Related About If Being Disliked to Talk While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں گفتگو کرنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About Al-Habwah Being Disliked While The Imam Is Delivering The Khutbah
باب: امام کے خطبہ دینے کی حالت میں احتباء کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
(41) CHAPTER. Can the Imam offer the Salat (prayer) with only those who are present (for the prayer)? And can he deliver a Khutba (religious talk) on Friday if it is raining?
جو لوگ ( بارش یا اور کسی آفت میں ) مسجد میں آ جائیں تو کیا امام ان کے ساتھ نماز پڑھ لے اور برسات میں جمعہ کے دن خطبہ پڑھے یا نہیں ؟
Sahih Bukhari
4
نماز امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
5
Chapter: What Has Been Related About The 'The Tasbih Is For The Men And Clapping Is For The Women'
باب: نماز میں امام کے سہو پر مردوں کے ”سبحان اللہ“ کہنے اورعورتوں کے دستک دینے کا بیان​
Jam e Tirmazi
6
بَاب الْخطْبَة وَالصَّلَاة
خطبہ اور نماز جمعہ کا بیان
Mishkat
7
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
8
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
Musnad Ahmad
9
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
10
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
Musnad Ahmad
11
جمعہ کے خطبہ میں بارش کے لیے دعا کرنے اور نماز کے بغیر یہ دعا کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
12
(95) CHAPTER. Recitation of the Quran (Surat Al-Fatiha) is compulsory for the Imam and the followers, at home and on journey, in all As-Salat (the prayers) whether the recitation is done silently or aloud.
امام اور مقتدی کے لیے قرآت کا واجب ہونا ، حضر اور سفر ہر حالت میں ، سری اور جہری سب نمازوں میں
Sahih Bukhari
13
(32) CHAPTER. When the Imam sees a person entering the mosque during the Khutba, he should order him to offer two Raka Salat (prayer) before sitting (Tahayyat-ul-Masjid).
امام خطبہ کی حالت میں کسی شخص کو جو آئے دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم دے سکتا ہے
Sahih Bukhari
14
(33) CHAPTER. Whoever comes when the Imam is delivering the Khutba (religious talk) should offer a light two Raka Salat (prayer) (Tahayyat-ul-Masjid).
جب امام خطبہ دے رہا ہو اور کوئی مسجد میں آئے تو ہلکی سی دو رکعت نماز پڑھ لے
Sahih Bukhari
15
(38) CHAPTER. If some people leave the Imam during the Salat-ul-Jumuah (Jumuah prayer), then the Salat (prayer) of the remaining people and the Imam is permissible.
اگر جمعہ کی نماز میں کچھ لوگ امام کو چھوڑ کر چلے جائیں تو امام اور باقی نمازیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی
Sahih Bukhari
16
(4) CHAPTER. A Khutba (delivered) by the Imam on the eclipse.
گرہن کی نماز میں امام کا خطبہ پڑھنا
Sahih Bukhari
17
CHAPTER: Correcting The Imam In The Prayer.
باب: نماز میں امام بھول جائے تو اس کو لقمہ دینے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
18
نماز جمعہ سے پہلے حلقہ بنا کر اور دوران خطبہ گوٹ مار کر بیٹھنے کی ممانعت
Sunnan Ibn e Maja
19
مؤذن کا امام کو نماز کی خبر دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
امام کے خطبہ کے لیے نکل جانے کے بعد مسجد میں آنے والے کی نماز کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
امام کے کھڑے ہو کر خطبہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
جمعہ میں امام کے منبر پر ہونے کی حالت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنا منع ہے۔
Sunnan Nisai
23
امام کا اپنے خطبہ میں جمعہ کے دن کے غسل کی ترغیب دلانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
جمعہ کے دن امام کے اپنے خطبہ میں صدقہ پر ابھارنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
امام (حاکم) کے خطبہ جمعہ میں منبر پر رعایا سے مخاطب ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
جمعہ کے دن خطبہ کے خاتمہ سے پہلے امام کے منبر سے اترنے اور خطبہ سے رک جانے پھر دوبارہ منبر کی طرف لوٹنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
جمعہ کے بعد امام کے نفلی نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
سورج گرہن کی نماز کے بعد (خطبہ دینے کے لی) منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
29
عیدین کا خطبہ نماز کے بعد دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
امام کا لوگوں کی طرف منہ کر کے خطبہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
31
باب: عرفات میں نماز سے پہلے خطبہ دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
32
Chapter: What Has Been Related About Hastening The Salat When The Imam Delays It
باب: جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Prays With Two Men
باب: کوئی دو آدمیوں کے ساتھ (بطور امام) نماز پڑھ رہا ہو تو کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About: When One Of You Leads The People In Prayer, Then Let Him Be Brief.
باب: جب تم میں سے کوئی امامت کرے تو نماز ہلکی پڑھائے
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related (On the Prophet's Saying) 'When The Imam Performs Salat While Seated, then You (People) Perform Salat Seated'
باب: جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدی بھی بیٹھ کر پڑھیں
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About The Prophet (S) Saying: I Hear The Crying Of A Small Boy During Salat and Shorten It
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے نماز میں بچے کے رونے کی آواز سن کر نماز ہلکی کر دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Related About The Khutbah On the Minbar
باب: منبر پر خطبہ دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Direction The Imam Faces When Delivering The Khutbah
باب: خطبہ کے وقت امام کی طرف منہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: [What Has Been Related] About Two Rak'ah When One Arrives While the Imam Is Delivering The Khubah
باب: خطبہ کے دوران آدمی آئے تو پہلے دو رکعت نماز پڑھے
Jam e Tirmazi
41
Chapter: [What Has Been Related] About It Being Disliked To Step Over (The Necks Of Others) On Friday
باب: جمعہ کے دن (دوران خطبہ) لوگوں کی گردنیں پھاندنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About the Recitation During The Friday Prayer
باب: نماز جمعہ میں قرأت کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: [What Has Been Related] About The Eid Prayers Before The Khutbah
باب: عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: About It Being Disliked For The People To Wait For The Imam While They Are Standing At The Beginning Of The Prayer
باب: نماز شروع کرنے کے وقت کھڑے ہو کر امام کے انتظار کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Where The Imam Is To Stand For the Man And For The Women
باب: مرد اور عورت دونوں ہوں تو امام نماز جنازہ پڑھاتے وقت کہاں کھڑا ہو؟
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Abandoning The Salat
باب: نماز چھوڑ دینے پر وارد وعید کا بیان
Jam e Tirmazi
48
بَابٌ خُطْبَةُ يَوْمِ النَّحْرِ
قربانی کے دن خطبہ دینے ، ایام تشریق میں کنکریاں مارنے اور وداع کا بیان
Mishkat
49
تارکِ نماز کو کافر قرار دینے کی دلیل کا بیان
Musnad Ahmad
50
بچوں کو نماز کا حکم دینے کا بیان اور ان لوگوں کی تفصیل کہ جن سے قلم اٹھا لیا گیا ہے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

1,288
Sahih Muslim
322
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ قَتَلُوا فَأَكْثَرُوا، وَزَنَوْا فَأَكْثَرُوا، ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ، وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا كَفَّارَةً، فَنَزَلَ: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: 68] وَنَزَلَ {يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ
It is narrated on the authority of Ibn 'Abbas that some persons amongst the polytheist had committed a large number of murders and had excessively indulged in fornication. Then they came to Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Whatever you assert and whatever you call to is indeed good. But if you inform us that there is atonement of our past deeds (then we would embrace Islam). Then it was revealed: And those who call not unto another god along with Allah and slay not any soul which Allah has forbidden except in the cause of justice, nor commit fornication; and he who does this shall meet the requital of sin. Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced, except him who repents a believes and does good deeds. Then these! for the Allah shall change their vices into virtues. Verily Allah is Ever Forgiving, Merciful (xxv. 68-70). Say thou: O my bondsmen woo have committed extravagance against themselves despair not of the Mercy of Allah I Verily Allah will forgive the sins altogether. He is indeed the Forgiving, the Merciful (xxxix. 53).
حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ ( جاہلی دور میں ) مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے قتل کیے تھے تو بہت کیے تھے اور زنا کیا تھا تو بہت کیا تھا ، پھر وہ حضرت محمدﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگے : آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس ( راستے ) کی دعوت دیتے ہیں ، یقیناً وہ بہت اچھا ہے ۔ اگر آپ ہمیں بتا دیں کہ جو کام ہم کر چکے ہیں ، ان کا کفارہ ہو سکتا ہے ( تو ہم ایمان لے آئیں گے ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا ‘ ‘ ( ہر مسلمان پر ان ابدی احکام کی پابندی ضروری ہے ) اور یہ آیت نازل ہوئی : ’’اے میرے بندو! جو اپنے اوپر زیادتی کر چکے ہو ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ۔ ( جو اسلام سے پہلے یہ کام کر چکے ان کے بارے میں وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں ۔ ‘ ‘
Sunnan Abu Dawood
1133
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مِرَارًا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ.
Narrated Abdullah ibn Umar: Ibn Jurayj said: Ata told me that he saw Ibn Umar pray after the Friday prayer. He moved a little from the place where he offered the Friday prayer. Then he would pray two rak'ahs. He then walked far away from that place and would offer four rak'ahs. I asked Ata: How many times did you see Ibn Umar do that? He replied: Many times. Abu Dawud said: This has been narrated by AbdulMalik ibn Abu Sulayman, but did not narrate it completely.
ابن جریج عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے بعد نفل پڑھتے تو اپنی اس جگہ سے جہاں انہوں نے جمعہ پڑھا تھا، تھوڑا سا ہٹ جاتے زیادہ نہیں، پھر دو رکعتیں پڑھتے پھر پہلے سے کچھ اور دور چل کر چار رکعتیں پڑھتے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا: آپ نے ابن عمر کو کتنی بار ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے کہا: بارہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے نامکمل طریقہ پر روایت کیا ہے۔
Sunnan Abu Dawood
1134
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عُمَرَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْمَازُ عَنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْجُمُعَةَ قَلِيلًا غَيْرَ كَثِيرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ يَمْشِي أَنْفَسَ مِنْ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ كَمْ رَأَيْتَ ابْنَ عُمَرَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مِرَارًا . قَالَ أَبُو دَاوُد:‏‏‏‏ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ وَلَمْ يُتِمَّهُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ منبر پر آنے کے بعد بیٹھ جاتے، حتیٰ کہ مؤذن فارغ ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے۔ پھر بیٹھ جاتے اور کلام نہ کرتے۔ پھر کھڑے ہوتے اور خطبہ دیتے۔
Sunnan Nisai
532
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قُلْتُ لِعَطَاءٍ:‏‏‏‏ أَيُّ حِينٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَتَمَةَ إِمَامًا أَوْ خِلْوًا ؟ قال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتَيْقَظُوا وَرَقَدُوا وَاسْتَيْقَظُوا. فَقَامَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الْآنَ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى شِقِّ رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَشَارَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَثْبَتُّ عَطَاءً كَيْفَ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْمَأَ إِلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏كَمَا أَشَارَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَبَدَّدَ لِي عَطَاءٌ بَيْنَ أَصَابِعِهِ بِشَيْءٍ مِنْ تَبْدِيدٍ ثُمَّ وَضَعَهَا فَانْتَهَى أَطْرَافُ أَصَابِعِهِ إِلَى مُقَدَّمِ الرَّأْسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ضَمَّهَا يَمُرُّ بِهَا كَذَلِكَ عَلَى الرَّأْسِ حَتَّى مَسَّتْ إِبْهَامَاهُ طَرَفَ الْأُذُنِ مِمَّا يَلِي الْوَجْهَ ثُمَّ عَلَى الصُّدْغِ وَنَاحِيَةِ الْجَبِينِ لَا يُقَصِّرُ وَلَا يَبْطُشُ شَيْئًا إِلَّا كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ أَنْ لَا يُصَلُّوهَا إِلَّا هَكَذَا .
It was narrated that Ibn Juraij said: I said to 'Ata': 'What is the best time you think I should pray Al-'Atamah, either in congregation or on my own?' He said: 'I heard Ibn 'Abbas say: The Messenger of Allah (ﷺ) delayed Al-'Atamah one night until the people had slept and woken up, then slept and woken up again. Then 'Umar got up and said: 'The prayer, the prayer!' 'Ata' said: 'Ibn 'Abbas said: The Messenger of Allah (ﷺ) came out, and it is as if I can see him now, with water dripping from his head, putting his hand on the side of his head. [He said: And he indicated (how) ].' I checked with 'Ata' how the Prophet (ﷺ) put his hand on his head, and he showed me the same way as Ibn 'Abbas had done. 'Ata' spread his fingers a little, then placed them with the tips of his fingers on his forehead, then he drew his fingers together on his head until his thumb touched the edge of the ear that is next to the face, then moved it to his temple and forehead, then he said: 'Were it not that I would impose too much difficulty for my Ummah, I would have commanded them to offer this prayer only at this time.'
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا: عشاء کی امامت کرنے یا تنہا پڑھنے کے لیے کون سا وقت آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہم کو کہتے سنا کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء مؤخر کی یہاں تک کہ لوگ سو گئے،  ( پھر )  بیدار ہوئے  ( پھر )  سو گئے،  ( پھر ) بیدار ہوئے، تو عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور کہنے لگے: صلاۃ! صلاۃ! تو اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے۔ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا، اور آپ اپنا ہاتھ سر کے ایک حصہ پر رکھے ہوئے تھے۔ راوی  ( ابن جریج )  کہتے ہیں: میں نے عطاء سے جاننا چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر کیسے رکھا؟ تو انہوں نے مجھے اشارہ کے ذریعہ بتایا جیسا کہ ابن عباس نے انہیں اشارہ سے بتایا تھا، عطاء نے اپنی انگلیوں کے درمیان تھوڑا فاصلہ کیا، پھر اسے رکھا یہاں تک کہ ان کی انگلیوں کے سرے سر کے اگلے حصہ تک پہنچ گئے، پھر انہیں ملا کر سر پر اس طرح گزارتے رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں انگوٹھے کان کے کناروں کو جو چہرہ سے ملا ہوتا ہے چھو لیتے، پھر کنپٹی اور پیشانی کے کناروں پر پھیرتے، نہ دیر کرتے نہ جلدی سوائے اتنی تاخیر کے - پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  اگر میں اپنی امت کے لیے دشوار نہیں سمجھتا تو انہیں حکم دیتا کہ وہ اسی قدر تاخیر سے عشاء پڑھیں ۔
Sunnan Nisai
633
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ حَتَّى جَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ قُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ:‏‏‏‏ إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ وَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ، ‏‏‏‏‏‏قال لَهُ:‏‏‏‏ خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ فَكُنَّا بِبَعْضِ طَرِيقِ حُنَيْنٍ مَقْفَلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَقِيَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عَنْهُ مُتَنَكِّبُونَ فَظَلِلْنَا نَحْكِيهِ وَنَهْزَأُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا حَتَّى وَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ ؟ فَأَشَارَ الْقَوْمُ إِلَيَّ وَصَدَقُوا، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَامْدُدْ صَوْتَكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قُلْ:‏‏‏‏ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، ‏‏‏‏‏‏لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَرْتُكَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ عَامِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Abdul-'Aziz bin 'Abdul-Malik bin Abu Mahdhurah narrated that 'Abdullah bin Muhairiz - who was an orphan under the care of Abu Mahdhurah until he prepared him to go to Ash-Sham - informed him: he said: I said to Abu Mahdhurah: 'I am going to Ash-Sham and I am afraid that I will be asked about how you say the Adhan. 'He told me that Abu Mahdhurah said to him, I went out with a group of people and we were somewhere on the road to Hunain when the Messenger of Allah (ﷺ) was coming back from Hunain. The Messenger of Allah met us somewhere on the road and the Muadhdhin of the Messenger of Allah called the Adhan for prayer in the presence of the Messenger of Allah. We heard the voice of the Muadh'dhin and we were careless about it (the Adhan), so we started yelling, immitating and mocking it. The Messenger of Allah (ﷺ) heard us, so he sent some people who brought us to stand infront of him. He said, 'Who is the one whose voice I heard so loud?' The people all pointed to me, and they were telling the truth. He sent them all away, but kept me there and said to me: 'Stand up and call the Adhan for the Prayer.' I stood up and the Messenger of Allah taught me the Adhan himself. He Said, 'Say: 'Allahu Akbar, Allahu akbar, Allahu Akbar, Allahu Akbar; Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah (Allah is the Greatest,Allah is the Greatest, Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah,I bear witness that Muhammad is the Messenger Allah).' Then he said: 'Then repeat and say in a loud voice:Ashhadu an la ilaha illallah, Ashhadu an la ilaha illallah; Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah, Ashhadu anna Muhammadan Rasulallah; Hayya 'alas-salah, Hayya 'ala-salah; Hayya 'alal-falah Hayya 'alal-falah; Allahu Akbar, Allahu Akbar; La ilaha ill-Allah (I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, I bear witness that there is none worthy of worship except Allah; I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah, I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah; Come to prayer, come to prayer; come to prosperity, come to prosperity; Allah is the Greatest, Allah is the Greatest; there is none worthy of worship except Allah).' Then he called me when I had finished saying the Adhan, and he gave me a bundle in which there was some silver. I said: 'O Messenger of Allah, let me be the one doing the Adhan in Makkah.' He said: 'I command you to do so.' Then I came to 'Attab bin Asid who was the governor of the Messenger of Allah in Makkah, and I called the Adhan for prayer with him upon the orders of the Messenger of Allah (ﷺ).
عبداللہ بن محیریز جو ابومحذورہ کے زیر پرورش ایک یتیم کے طور پر رہے تھے یہاں تک کہ انہوں نے ان کے شام کے سفر کے لیے سامان تیار کیا ) کہتے ہیں کہ میں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں شام جا رہا ہوں، اور میں ڈرتا ہوں کہ آپ کی اذان کے متعلق مجھ سے کہیں سوال کیا جائے ( اور میں جواب نہ دے پاؤں، اس لیے مجھے اذان سکھا دو ) ، تو آپ نے کہا: میں چند لوگوں کے ساتھ نکلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حنین سے لوٹتے وقت ہم حنین کے راستہ میں تھے، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے نماز کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ہی ) اذان دی، ہم نے مؤذن کی آواز سنی، تو ہم اس کی نقل اتارنے، اور اس کا مذاق اڑانے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز سنی تو ہمیں بلوایا تو ہم آ کر آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: میں نے ( ابھی ) تم میں سے کس کی آواز سنی ہے؟ تو لوگوں نے میری جانب اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا تھا، آپ نے ان سب کو چھوڑ دیا، اور مجھے روک لیا اور فرمایا: اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو، تو میں اٹھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود مجھے اذان سکھائی، آپ نے فرمایا: کہو: «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوبارہ اپنی آواز کھینچو ( بلند کرو ) ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن لا إله إلا اللہ»، «أشهد أن محمدا رسول اللہ»،«أشهد أن محمدا رسول اللہ»، «حى على الصلاة»، «حى على الصلاة»، «حى على الفلاح»، «حى على الفلاح»، «اللہ أكبر اللہ أكبر»، «لا إله إلا اللہ»، پھر جس وقت میں نے اذان پوری کر لی تو آپ نے مجھے بلایا، اور ایک تھیلی دی جس میں کچھ چاندی تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مکہ میں اذان دینے پر مامور فرما دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں اس کے لیے مامور کر دیا ، چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عامل عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ آیا تو میں نے ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے نماز کے لیے اذان دی۔
Sunnan Nisai
4580
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ،‏‏‏‏ وَعَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ،‏‏‏‏ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا الْمِنْهَالِ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ،‏‏‏‏ وَزَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ،‏‏‏‏ فَقَالَا:‏‏‏‏ كُنَّا تَاجِرَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّرْفِ ؟،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ يَدًا بِيَدٍ فَلَا بَأْسَ،‏‏‏‏ وَإِنْ كَانَ نَسِيئَةً فَلَا يَصْلُحُ .
Abu Al-Minhal said: I asked Al-Bara bin 'Azib and Zaid bin Arqam and they said: 'We were merchants at the time of the Messenger of Allah and we asked the Prophet of Allah about money exchange. He said: If it is done hand to hand there is nothing wrong with it, but if it is done on credit then it is not right.
ابومنہال کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم دونوں تاجر تھے، ہم نے آپ سے بیع صرف ( اثمان کی خرید و فروخت ) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”اگر وہ نقدا نقد ہو تو کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار ہو تو یہ صحیح نہیں“۔
Sunnan Nisai
4653
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لإِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَضَرْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ،‏‏‏‏ أَتَاهُ رَجُلَانِ تَبَايَعَا سِلْعَةً،‏‏‏‏ فَقَالَ أَحَدُهُمَا:‏‏‏‏ أَخَذْتُهَا بِكَذَا وَبِكَذَا،‏‏‏‏ وَقَالَ هَذَا:‏‏‏‏ بِعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا،‏‏‏‏ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ:‏‏‏‏ أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ فِي مِثْلِ هَذَا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ حَضَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمِثْلِ هَذَا،‏‏‏‏ فَأَمَرَ الْبَائِعَ أَنْ يَسْتَحْلِفَ،‏‏‏‏ ثُمَّ يَخْتَارَ الْمُبْتَاعُ،‏‏‏‏ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ،‏‏‏‏ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ .
It was narrated that 'Abdul-Malik bin'Ubaid said: We were with Abu 'Ubaidah bin 'Abdullah bin Mas'ud when two men who were involved in a transaction came to him. One of them said: 'I bought it for such and such', and the other said; 'I sold it to him for such and such,' Abu 'Ubaidah said 'something like this was brought to Ibn Masud, and he said; I was with something like this was brought to him. He told the seller to swear an oath, them he gave the purchaser the choice; If he wished, he could buy it, and if he wished he could cancel (the transaction)''
عبدالملک بن عبید کہتے ہیں کہ ہم ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود کے پاس حاضر ہوئے، ان کے پاس دو آدمی آئے جنہوں نے ایک سامان کی خرید و فروخت کر رکھی تھی، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں لیا ہے، دوسرے نے کہا: میں نے اسے اتنے اور اتنے میں بیچا ہے تو ابوعبیدہ نے کہا: ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بھی ایسا ہی مقدمہ آیا تو انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ کے پاس ایسا ہی مقدمہ آیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائع کو قسم کھانے کا حکم دیا پھر ( فرمایا: خریدار ) کو اختیار ہے، چاہے تو اسے لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔
Sunnan Nisai
4667
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ عَنْ حَجَّاجٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ،‏‏‏‏ أَنَّ أَبَا الْمِنْهَالِ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ لَا تَبِيعُوا فَضْلَ الْمَاءِ،‏‏‏‏ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ نَهَى عَنْ بَيْعِ فَضْلِ الْمَاءِ .
Iya bin 'Abd, the companion of the Prophet said: do not sell surplus water, for the Prophet forbade the sale of surplus water.
ابومنہال نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ایاس بن عبد رضی اللہ عنہ نے کہا: فاضل پانی مت بیچو، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاضل پانی بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
Sunnan Nisai
4681
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ،‏‏‏‏ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ،‏‏‏‏ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَخْبَرَهُ،‏‏‏‏ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ عَنْ الرَّجُلِ يُعْدِمُ إِذَا وُجِدَ عِنْدَهُ الْمَتَاعُ بِعَيْنِهِ وَعَرَفَهُ أَنَّهُ لِصَاحِبِهِ الَّذِي بَاعَهُ .
It was narrated from Abu Hurairah from the Prophet, that: if a man becomes bankrupt, then a specific item is found with him, and is recognized, then it belongs to the one who sold it to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے بارے میں جو مفلس ہو جائے اور اس کے پاس بعینہ کسی کا سامان موجود ہو اور وہ اسے پہچان لے فرمایا: ”اس سامان کا مستحق وہ ہے جس نے اسے اس کے ہاتھ بیچا تھا“۔