TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔

Chapter 63 of The book of divorce in Sunnan Nisai. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 63 of 76 · 1 Hadith
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ الثَّلَاثَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُوهَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِطِيبٍ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ حِينَ تُوُفِّيَ أَخُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ دَعَتْ بِطِيبٍ وَمَسَّتْ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمّ قَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تَحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا . (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ ابْنَتِي تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اشْتَكَتْ عَيْنَهَا، ‏‏‏‏‏‏أَفَأَكْحُلُهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ حُمَيْدٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ لِزَيْنَبَ:‏‏‏‏ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ ؟ قَالَتْ زَيْنَبُ:‏‏‏‏ كَانَتِ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّى تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تُؤْتَى بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ تَخْرُجُ، ‏‏‏‏‏‏فَتُعْطَى بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَاءَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ تَفْتَضُّ تَمْسَحُ بِهِ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مَالِكٌ:‏‏‏‏ الْحِفْشُ الْخُصُّ.
It was narrated from Humaid bin Nafi' that Zainab bint Abi Salamah told him these three Hadiths. Zainab said: I entered upon Umm Habibah, the wife of the Prophet, when her father Abu Sufyan bin Harb died. Umm Habibah called for some perfume and put some on a young girl, then she put some on her cheeks. Then she said: 'By Allah, I do not have any need for perfume but I heard the Messenger of Allah say: It is not permissible for any woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, (for whom the mourning period is) four months and ten days.'
زینب بنت ابی سلمہ رضی الله عنہا سے روایت ہے انہوں نے یہ ( آنے والی ) تین حدیثیں بیان کیں: ۱- زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس ( تعزیت میں ) گئی، ( میں نے دیکھا کہ ) انہوں نے خوشبو منگوائی، ( پہلے ) لونڈی کو لگائی پھر اپنے دونوں گالوں پر ملا پھر یہ بھی بتا دیا کہ قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت اور خواہش نہ تھی مگر ( میں نے یہ بتانے کے لیے لگائی ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”کسی عورت کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے سوائے شوہر کے انتقال کرنے پر، کہ اس پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ( اس لیے میں اپنے والد کے مر جانے پر تین دن کے بعد سوگ نہیں منا رہی ہوں ) ۔ ۲- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ) کہتی ہیں: جب ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہو گیا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے خوشبو منگائی اور اس میں سے خود لگایا پھر ( مسئلہ بتانے کے لیے ) کہا: قسم اللہ کی مجھے خوشبو لگانے کی کوئی حاجت نہ تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ( و اعلان کرتے ) ہوئے سنا ہے: ”جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ شوہر کے سوا کسی کے مرنے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی“۔ ۳- زینب ( زینب بنت ابی سلمہ ) کہتی ہیں: میں نے ( ام المؤمنین ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کا شوہر انتقال کر گیا ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا میں اس کی آنکھوں میں سرمہ لگا سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا: ”نہیں“، پھر آپ نے فرمایا: ”ارے یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( جاہلیت میں کیا ہوتا تھا وہ بھی دھیان میں رہے ) زمانہ جاہلیت میں تمہاری ( بیوہ ) عورت ( سوگ کا ) سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکتی تھی“۔ حمید بن نافع کہتے ہیں: میں نے ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: سال پورا ہونے پر مینگنی پھینکنے کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے کہا عورت کا شوہر جب انتقال کر جاتا تھا تو اس کی بیوی تنگ و تاریک جگہ ( چھوٹی کوٹھری ) میں جا رہتی اور خراب سے خراب کپڑا پہن لیتی تھی اور سال پورا ہونے تک نہ خوشبو استعمال کرتی اور نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتی۔ ( سال پورا ہو جانے کے بعد ) پھر کوئی جانور گدھا، بکری یا چڑیا اس کے پاس لائی جاتی اور وہ اس سے اپنے جسم اور اپنی شرمگاہ کو رگڑتی اور جس جانور سے بھی وہ رگڑتی ( دبوچتی ) وہ ( مر کر ہی چھٹی پاتا ) مر جاتا، پھر وہ اس تنگ تاریک جگہ سے باہر آتی پھر اسے اونٹ کی مینگنی دی جاتی اور وہ اسے پھینک دیتی ( اس طرح وہ گویا اپنی نحوست دور کرتی ) ، اس کے بعد ہی اسے خوشبو وغیرہ جو چاہے استعمال کی اجازت ملتی۔ مالک کہتے ہیں: «تفتض» کا مطلب «تمسح به» کے ہیں ( یعنی اس سے رگڑتی ) ۔ محمد بن سلمہ مالک کہتے ہیں: «حفش»،‏‏‏‏ «خص» کو کہتے ہیں ( یعنی بانس یا لکڑی کا جھونپڑا ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: ۳۵۳۱
3563
Sahih

Chapters

76
01
باب: عورتوں کو اللہ کے حکم کے مطابق طلاق دی جانے والی عدت کا بیان۔
5 Hadith
02
باب: مسنون طلاق کا بیان۔
2 Hadith
03
باب: حالت حیض میں مرد عورت کو طلاق دیدے تو کیا کرے۔
2 Hadith
04
باب: عدت کا لحاظ کیے بغیر طلاق دینے کا بیان۔
1 Hadith
05
باب: عدت کا لحاظ کیے بغیر طلاق دے دینے پر کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟
2 Hadith
06
باب: اکٹھی تین طلاقیں دینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
1 Hadith
07
باب: ایک ساتھ تین طلاقیں دے دینے کی رخصت کا بیان۔
4 Hadith
08
باب: دخول سے پہلے عورت کو الگ الگ تین طلاقیں دینے کا بیان۔
1 Hadith
09
باب: دوسری شادی کرنے والی عورت کو دخول سے پہلے طلاق ہو جائے تو اس کے حکم کا بیان۔
2 Hadith
10
باب: قطعی طلاق کا بیان۔
1 Hadith
11
باب: شوہر عورت سے کہے تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے؟
1 Hadith
12
باب: تین طلاق والی عورت کا حلالہ اور اس کے لیے حلال و جائز کر دینے والے نکاح کا بیان۔
5 Hadith
13
باب: تین طلاق والی عورت سے حلالہ کرنے اور کرانے والے کے لیے وارد وعید کا بیان۔
1 Hadith
14
باب: شوہر عورت کا منہ دیکھتے ہی اسے طلاق دے دے۔
1 Hadith
15
باب: شوہر دوسرے سے بیوی کو طلاق بھیج دے اس کا بیان۔
2 Hadith
16
باب: آیت کریمہ: ”اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا اسے آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں“ کی تفسیر۔
1 Hadith
17
باب: اس آیت کی ایک دوسرے انداز سے تفسیر۔
1 Hadith
18
باب: شوہر بیوی سے کہے ”جاؤ اپنے گھر والوں میں رہو“ اس کے حکم کا بیان۔
6 Hadith
19
باب: غلام کے طلاق دینے کا بیان۔
2 Hadith
20
باب: بچہ کی طلاق کس عمر میں واقع ہو گی۔
3 Hadith
21
باب: کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
1 Hadith
22
باب: اپنے جی میں طلاق دینے والے کی طلاق کے حکم کا بیان۔
3 Hadith
23
باب: سمجھ میں آنے والے اشارہ سے طلاق کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
24
باب: اگر کسی بات کے کئی معنی نکلتے ہوں تو کہنے والا جو معنی مراد لے گا وہی معنی صحیح مانا جائے گا۔
1 Hadith
25
باب: زبان سے ادا کیے ہوئے کلمہ کا اگر کوئی وہ معنی و مفہوم مراد لے جو اس سے نہیں نکلتا تو اس سے کوئی حکم ثابت نہ ہو گا۔
1 Hadith
26
باب: شوہر کے پاس رہنے یا اس سے الگ ہونے کے اختیار کی مدت متعین کرنے کا بیان۔
2 Hadith
27
باب: اختیار دی گئی عورتوں کا اپنے شوہروں کو اختیار کر لینے کا بیان۔
5 Hadith
28
باب: آزاد کیے گئے غلام میاں بیوی کو اختیار حاصل ہو گا یا نہیں؟
1 Hadith
29
باب: آزادی پانے والی لونڈی کو اپنے غلام شوہر کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار ہے۔
2 Hadith
30
باب: آزاد شخص کی غلام بیوی آزاد ہو تو اسے اختیار کا حق حاصل ہو گا۔
2 Hadith
31
باب: شوہر غلام ہو اور لونڈی بیوی آزاد کر دی جائے تو اسے حق خیار حاصل ہو گا۔
4 Hadith
32
باب: ایلاء یعنی ناراضگی کی بناء پر بیوی سے علیحدہ رہنے کی قسم کھا لینے کا بیان۔
2 Hadith
33
باب: ظہار کا بیان۔
4 Hadith
34
باب: خلع کا بیان۔
5 Hadith
35
باب: لعان کے آغاز کا بیان۔
1 Hadith
36
باب: حمل کی حالت میں عورت سے لعان کرنے کا بیان۔
1 Hadith
37
باب: بیوی پر متعین شخص سے بدکاری کی تہمت پر لعان کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
38
باب: لعان کس طرح کیا جائے؟
1 Hadith
39
باب: امام اور حاکم یہ کہے کہ اے اللہ تو اس معاملے کو واضح فرما دے۔
2 Hadith
40
باب: لعان کرنے والے پانچویں بار جب قسم کھانے چلیں تو ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں روکنے کی کوشش کرنے کا حکم۔
1 Hadith
41
باب: لعان کرتے وقت امام اور حاکم مرد اور عورت کو سمجھائے اور نصیحت کرے۔
1 Hadith
42
باب: لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان تفریق کر دینے کا بیان۔
1 Hadith
43
باب: لعان کرنے والے مرد اور عورت سے لعان کے بعد توبہ کرانے کا بیان۔
1 Hadith
44
باب: لعان کرنے والے مرد اور عورت کا دوبارہ اجتماع (ممکن ہے یا نہیں؟)۔
1 Hadith
45
باب: لعان کے ذریعہ بیٹے کا انکار اور اسے ماں کے حوالے کرنے کا بیان۔
1 Hadith
46
باب: مرد عورت پر بدکاری کا شبہ کرے اور بیٹے کے بارے میں شک کرے اور اس سے اپنی برأت کا ارادہ کرے تو اس کے حکم کا بیان۔
3 Hadith
47
باب: لڑکے کا انکار کرنے پر وارد وعید اور شناعت کا بیان۔
1 Hadith
48
باب: شوہر اگر بچے کا انکار نہ کرے تو جس کی عورت ہو گی بچہ اسی کا مانا جائے گا۔
5 Hadith
49
باب: لونڈی مالک کا بچھونا ہے۔
1 Hadith
50
باب: کسی لڑکے کے نسبت کے بارے میں جھگڑا ہو جائے تو قرعہ اندازی کی جائے گی اور زید بن ارقم رضی الله عنہ کی حدیث میں شعبی کے اختلاف کا ذکر۔
5 Hadith
51
باب: قیافہ شناسوں کا بیان۔
2 Hadith
52
باب: میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلام قبول کر لے تو نابالغ بیٹے کو کسی ایک کے ساتھ ہو جانے کا اختیار دیا جائے گا۔
2 Hadith
53
باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان۔
2 Hadith
54
باب: عدت سے مستثنیٰ مطلقہ عورتوں کا بیان۔
1 Hadith
55
باب: بیوہ کی عدت کا بیان۔
6 Hadith
56
باب: حاملہ عورت (جس کا شوہر مر گیا ہو) کی عدت کا بیان۔
18 Hadith
57
باب: دخول سے پہلے مر جانے والے شوہر کی بیوی کی عدت کا بیان۔
1 Hadith
58
باب: سوگ منانے کا بیان۔
2 Hadith
59
باب: شوہر کی وفات پر کتابیہ سے سوگ کے ساقط ہو جانے کا بیان۔
1 Hadith
60
باب: جس کا شوہر مر جائے وہ حلال ہونے تک اپنے گھر ہی میں عدت گزارے۔
3 Hadith
61
باب: شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
1 Hadith
62
باب: شوہر کے انتقال کی خبر والے دن سے عورت کی عدت کے شمار کا بیان۔
1 Hadith
63
باب: سوگ منانے والی مسلمان عورت عدت کے ایام میں زیب و زینت ترک کر دے گی، یہود یہ اور نصرانیہ عورت کیا کرے؟ اس سے کوئی غرض نہیں۔
1 Hadith
64
باب: سوگ منانے والی عورت رنگین کپڑے پہننے سے اجتناب کرے۔
2 Hadith
65
باب: سوگ منانے والی عورت کے خضاب نہ لگانے کا بیان۔
1 Hadith
66
باب: سوگ منانے والی عورت بیری کے پتے سے سر دھو کر کنگھی کر سکتی ہے۔
1 Hadith
67
باب: سوگ منانے والی عورت کو سرمہ لگانا منع ہے۔
4 Hadith
68
باب: سوگ منانے والی عورت کے لیے قسط (عود ہندی) اور اظفار (ناخن کے مشابہہ ایک خوشبودار چیز) کے استعمال کا بیان۔
1 Hadith
69
باب: میراث کی فرضیت کے بعد شوہر کی وفات کے بعد بیوہ کو ملنے والے خرچ کے منسوخ ہونے کا بیان۔
2 Hadith
70
باب: تین طلاق والی عورت کو عدت گزارنے کے لیے اپنے گھر سے دوسری جگہ جانے کی رخصت کا بیان۔
5 Hadith
71
باب: جس کا شوہر مر گیا ہو کیا وہ (دوران عدت) دن میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے؟
1 Hadith
72
باب: مطلقہ بائنہ کے نفقہ (اخراجات) کا بیان۔
1 Hadith
73
باب: قطعی طلاق والی حاملہ کے نفقہ کا بیان۔
1 Hadith
74
باب: قرء کا بیان۔
1 Hadith
75
باب: تین طلاق کے بعد حق مراجعت کے ختم منسوخ ہونے کا بیان۔
1 Hadith
76
باب: (طلاق سے) رجعت کا بیان۔
6 Hadith
No chapter matched that.