أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تَحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا، وَلَا ثَوْبَ عَصْبٍ، وَلَا تَكْتَحِلُ، وَلَا تَمْتَشِطُ، وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا حِينَ تَطْهُرُ نُبَذًا مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ .
It was narrated that Umm 'Atiyyah said:
The Messenger of Allah said: 'No woman should mourn for anyone who dies for more than three days, except for a husband, for whom she should mourn for four months and ten days. She should not wear garments that are dyed or patterned, or put on kohl or comb her hair, and she should not put on any perfume except when purifying herself after her period, when she may use a little of Qust or Azfar.'
ام عطیہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت شوہر کے سوا کسی میت کے لیے تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے، شوہر کے مرنے پر چار مہینہ دس دن سوگ منائے گی، نہ رنگ کر کپڑا پہنے، نہ ہی رنگین دھاگے سے بنا ہوا کپڑا ( پہنے ) ، نہ سرمہ لگائے، نہ کنگھی کرے، اور نہ خوشبو ملے۔ ہاں جب حیض سے پاک ہو تو اس وقت تھوڑے سے قسط و اظفار کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۱۲ (۳۱۳)، والجنائز ۳۰ (۱۲۷۸)، الطلاق ۴۷ (۵۳۳۹، ۴۹ (۵۳۴۲)، صحیح مسلم/الطلاق ۹ (۹۳۸)، سنن ابی داود/الطلاق ۴۶ (۲۳۰۳)، سنن ابن ماجہ/الطلاق ۳۵ (۲۰۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۸۱۳۴)، مسند احمد (۵/۸۵، ۴۰۸)، ویأتي برقم: ۳۵۶۶، سنن الدارمی/الطلاق ۱۳ (۲۳۳۲)، ویأتي برقم: ۳۵۷۲
Explanation
وضاحت: ۱؎ : قسط و اظفار ایک طرح کی دھوئیں دار چیزیں ہیں جنہیں حیض کی نا پسندیدہ بو ختم کرنے کے لیے سلگاتے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ دونوں ایک طرح کی خوشبو ہیں۔
3564
Sahih