أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ .
It was narrated that 'Adiyy bin Hatim said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever swears an oath, then sees something better than it, let him do that which is better and offer expiation for his oath.'
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ۹۸۷۱)، مسند احمد (۴/۲۵۶، ۳۷۸)، سنن الدارمی/النذور والأیمان ۹ (۲۳۹۰) (صحیح)
Explanation
وضاحت: ۱؎: عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی پچھلی حدیث میں قسم توڑنے سے پہلے ہی کفارہ ادا کرنے کا ذکر ہے، اور عدی بن حاتم طائی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں قسم توڑنے کے بعد کفارہ ادا کرنے کی بات ہے، امام نسائی اور امام بخاری نے ان دونوں حدیثوں سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ چاہے تو کفارہ پہلے ادا کر دے، یا چاہے تو بعد میں ادا کرے دونوں صورتیں جائز ہیں، بعض علماء قسم توڑنے کے بعد ہی کفارہ ادا کرنے کے قائل ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ذکر میں تقدیم تاخیر اتفاقیہ ہے، یا رواۃ کی طرف سے ہے کیونکہ خود عبدالرحمٰن بن سمرہ کی حدیث (رقم:۲۸۲۰،۲۸۲۲)میں کفارہ کا تذکرہ بعد میں ہے، یعنی قسم کا ٹوٹنا پہلے ہونا چاہیئے، مگر یہ نص شریعت کے مقابلے میں قیاس ہے اور بس۔
3816
Sahih