TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 4599 سنن نسائ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 1 of 9 in this chapter
باب: اپنی ملکیت اور قبضہ میں لینے سے پہلے غلہ بیچنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ،‏‏‏‏ عَنْ مَالِكٍ،‏‏‏‏ عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ .
It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah said: 'Whoever buys food, let him not sell it until he has taken possession of it. '
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے اس وقت تک نہ بیچے جب تک اسے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے“ ۱؎۔
4599
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
Reference : Sunan an-Nasa'i 4595 In-book reference : Book 44, Hadith 147 English translation : Vol. 5, Book 44, Hadith 4599
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4595
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع ۵۱ (۲۱۲۶)، ۵۴(۲۱۳۵)، ۵۵ (۲۱۳۶)، صحیح مسلم/البیوع ۸ (۱۵۲۶)، سنن ابی داود/البیوع ۶۷ (۳۴۹۲)، سنن ابن ماجہ/التجارات ۳۷ (۲۲۲۶)، (تحفة الأشراف: ۸۳۲۷)، موطا امام مالک/البیوع ۱۹ (۴۰)، مسند احمد (۱/۵۶، ۶۲)، سنن الدارمی/البیوع ۲۵ (۲۶۰۲)
Explanation
شرح و تفصیل
وضاحت: ۱؎ : خرید و فروخت میں شریعت اسلامیہ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ خریدی ہوئی چیز کو خریدار جب تک بیچنے والے سے مکمل طور پر اپنی تحویل میں نہ لے لے دوسرے سے نہ بیچے، اور یہ تحویل و تملک اور قبضہ ہر چیز پر اسی چیز کے حساب سے ہو گا، نیز اس سلسلے میں ہر علاقہ کے عرف (رسم رواج) کا اعتبار بھی ہو گا کہ وہاں کس چیز پر کیسے قبضہ مانا جاتا ہے، البتہ منقولہ چیزوں کے سلسلے میں شریعت نے ایک عام اصول برائے مکمل قبضہ یہ بتایا ہے کہ اس چیز کو بیچنے والے کی جگہ سے خریدار اپنی جگہ میں منتقل کر لے، یا ناپنے والی چیز کو ناپ لے اور تولنے والی چیز کو تول لے، اور اندازہ والی چیز کی جگہ بدل لے۔

Related Chapters

343
1
باب: جو اناج ناپ کر خریدا جائے، اسے پورا اپنی تحویل میں لے لینے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Food Until It has Been Acquired
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا ناجائز ہے
Jam e Tirmazi
3
CHAPTER: Regarding Selling Food Before Taking Possession Of It.
باب: قبضہ سے پہلے غلہ بیچنا منع ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
4
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Meet The Owners Of The Goods
باب: مال بیچنے والوں سے بازار میں پہنچنے سے پہلے جا کر ملنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
5
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Fruits Until They Began To Blossom
باب: پختگی ظاہر ہونے سے پہلے پھل کو بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
6
غلام کو آزاد کرنے والے کا، یا اس پر اپنی خدمت کی شرط لگانے والے کا، محرم رشتہ کا مالک بننے والے کا اور غیر ملکیتی غلام کو آزاد کرنے والے کا بیان
Musnad Ahmad
7
قطع رحمی اور غیر ملکیتی چیز کے بارے میں قسم اٹھا لینے کا بیان
Musnad Ahmad
8
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ a کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
Musnad Ahmad
9
لعان کے حکم کے نزول سے پہلے اس خاوند پر تہمت کی حد نافذ کرنے کے وجوب کا بیان، جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے اور چار گواہ پیش نہ کر سکے
Musnad Ahmad
10
حفظ کر لینے کے بعد مکمل قرآن مجید کو یا بعض حصے کو بھلانے والے، یا اپنی قراء ت کی وجہ سے ریاکاری کرنے والا، یا اس کے ذریعے کھانے والا، یا اس پر عمل نہ کرنے والے کے لیے سخت وعید کا بیان
Musnad Ahmad
11
(87) CHAPTER. If somebody sells fruits before their benefit is evident and free from blights and then they get afflicted with some defects, they will be given back to the seller.
اگر کسی نے پختہ ہونے سے پہلے ہی پھل بیچے پھر ان پر کوئی آفت آئی تو وہ نقصان بیچنے والے کو بھرنا پڑے گا
Sahih Bukhari
12
(2) CHAPTER. The partner should inform his partner, who has the right of pre-emption, of his intention to sell his share before selling it.
شفعہ کا حق رکھنے والے کے سامنے بیچنے سے پہلے شفعہ پیش کرنا
Sahih Bukhari
13
(5) CHAPTER. Allah's Statement: “And it is He Who sends the winds as heralds of glad tidings, going before his Mercy (rain)...” (V.25:48)
اللہ پاک کا سورۃ الاعراف میں یہ ارشاد کہ ” وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو اپنی رحمت ( بارش ) سے پہلے خوشخبری دینے والی ہواؤں کو بھیجتا ہے ‘‘ ۔
Sahih Bukhari
14
(13) CHAPTER. The expenditure of a poor man on his family.
مفلس آدمی کو ( جب کچھ ملے تو ) پہلے اپنی بیوی کو کھلاناواجب ہے ۔
Sahih Bukhari
15
Chapter: The virute of manumitting one's slave girl, then marrying her
اپنی لونڈی کو آزاد کرنے پھر اس سے شادی کر لینے کی فضیلت
Sahih Muslim
16
مجلس (ایک جگہ موجود گی )ختم ہونے سے پہلے بیچنے یا خریدنے والے کو سودا واپس کرنے کا اختیار ہے
Sahih Muslim
17
Chapter: The Prohibition Of Making A Man Get Up From A Place That He Reached First
جو شخص اپنی جائز جگہ پر پہلے سے بیٹھا ہوا ہے اسے اس کی جگہ سے اٹھا نا حرام ہے
Sahih Muslim
18
CHAPTER: Selling A Mudabbir.
باب: مدبر ( یعنی وہ غلام جس کو مالک نے اپنی موت کے بعد آزاد کر دیا ہو ) کو بیچنے کا بیان ۔
Sunnan Abu Dawood
19
ایک آدمی نے اپنی عورت کو تین طلاق دی، اس نے دوسرے سے شادی کر لی پھر دوسرے شوہر نے جماع سے پہلے اسے طلاق دیدی تو کیا اب وہ پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے؟
Sunnan Ibn e Maja
20
جب دو بااختیار شخص کسی چیز کو بیچیں تو پہلے بیچنے والے کی بات معتبر ہو گی
Sunnan Ibn e Maja
21
بیع مزابنہ (یعنی درخت کے اوپر کچے پھل کو سوکھے پھل کے بدلے بیچنے) اور بیع محاقلہ (یعنی غلہ کے بدلے زمین دینے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
22
اپنی اولاد کو کچھ دے کر واپس لینے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
23
حالت حیض میں جماع سے اللہ عزوجل کی ممانعت جان لینے کے بعد جو شخص اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے تو اس کے کفارہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
24
مقتدی کا امام کی نماز سے نکل جانے اور جا کر مسجد کے ایک گوشے میں اپنی نماز پڑھ لینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
25
باب: پھلوں کو پختگی ظاہر ہونے سے پہلے نہ بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
26
باب: پکنے سے پہلے بالی کو بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: اندازہ لگا کر خریدا ہوا اناج اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پہلے بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
28
باب: ایک شخص ایک مدت تک کے لیے ادھار اناج (غلہ) خرید لے اور بیچنے والا قیمت کے بدلے کوئی چیز گروی رکھ لے۔
Sunnan Nisai
29
باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت بیچنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
30
Chapter: What Has Been Related About One Who Does Not Bring His Back To Rest While Bowing and Prostrating
باب: جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے اس کے حکم کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About Where A Man Placed His Face When He Prostrates
باب: آدمی جب سجدہ کرے تو اپنی پیشانی کہاں رکھے؟
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About One Who Becomes Sleepy During The Friday Prayer, And That He Is To Change His Location
باب: جمعہ کے دن جو کوئی اونگھے وہ اپنی جگہ بدل دے
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About: Can The One Performing I'tikaf Leave For His Needs Or Not?
باب: معتکف اپنی ضرورت کے لیے نکل سکتا ہے یا نہیں؟
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What has been related about a man who divorces his wife irrevocably
باب: آدمی کے اپنی بیوی کو قطعی طلاق (بتہ) دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What has been related about the man who thinks to himself about divorcing his wife
باب: جو شخص دل میں اپنی بیوی کی طلاق کا خیال لائے تو کیسا ہے؟
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What has been related about a man whose father asks him to divorce (his wife)
باب: باپ لڑکے سے کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What has been related about: No woman should ask for the divorce of her sister
باب: عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been related About The Sale Of A Mudabbar
باب: مدبر غلام کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About The Sale Of Habalil-Habalah
باب: حمل کے حمل کو بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Sell Wala' And To Confer It
باب: میراث ولاء کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Barter Animals For Animals On Credit
باب: جانور کو جانور سے ادھار بیچنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About That Wheat Is To Be Exchanged For Wheat, Kind For Kind, And That An Increase In It Is Disliked
باب: گیہوں کو گیہوں سے برابر برابر بیچنے اور اس کے اندر کمی و بیشی کے درست نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Purchasing Date-Palms After Pollination And A Slave That Has Property
باب: پیوند کاری کے بعد کھجور کے درخت کو بیچنے کا اور ایسے غلام کو بیچنے کا بیان جس کے پاس مال ہو
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About 'Both The Buyer And The Seller Retain The Option As Long As They Have Not Separated'
باب: بیچنے والا اور خریدار دونوں کو جب تک وہ جدا نہ ہوں بیع کو باقی رکھنے یا فسخ کرنے کا اختیار ہے
Jam e Tirmazi
45
Chapter: What Has Been Related About The Prohibition For The Muslim To Give Wine To The Dhimmi When Bartering With Him
باب: مسلمان ذمی کو شراب بیچنے کے لیے دے یہ منع ہے
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About When The Buyer And Seller Disagree
باب: بائع (بیچنے والے) اور مشتری (خریدنے والے) کے اختلاف کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Selling Surplus Water
باب: ضرورت سے زائد پانی کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Selling Skins Of Dead Animals And Idols
باب: مردار کی کھالوں اور بتوں کے بیچنے کا بیان
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What has been Related About The Prohibition From Selling The Wala' And From Conferring it
باب: ولاء کے بیچنے اور اسے ہبہ کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
باب: اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور جہنمیوں کو اپنی کتاب میں لکھ رکھا ہے
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

415
Sunnan Nisai
20
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَافِعِ بْنِ إِسْحَاقَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ بِمِصْرَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي كَيْفَ أَصْنَعُ بِهَذِهِ الْكَرَايِيسِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْغَائِطِ أَوِ الْبَوْلِ فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا .
It was narrated from Rafi' bin Ishaq that he heard Abu Ayyub Al-Ansari say - when he was in Egypt: By Allah, I do not know what I should do with these Karais (toilets). The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When any one of you goes to defecate or urinate, let him not face toward the Qiblah, nor turn his back towards it.
رافع بن اسحاق سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو مصر میں ان کے قیام کے دوران کہتے سنا: اللہ کی قسم! میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کھڈیوں کو کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:  جب تم میں سے کوئی پاخانے یا پیشاب کے لیے جائے تو قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ نہ کرے ۔
Sunnan Nisai
186
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سُوَيْدَ بْنَ النُّعْمَانِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ وَهِيَ مِنْ أَدْنَى خَيْبَرَ صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالْأَزْوَادِ فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِالسَّوِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَ بِهِ فَثُرِّيَ فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ إِلَى الْمَغْرِبِ فَتَمَضْمَضَ وَتَمَضْمَضْنَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ .
سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ خیبر کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب لوگ مقام صہبا  ( جو خیبر سے قریب ہے ) میں پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر ادا کی، پھر توشوں کو طلب کیا، تو صرف ستو لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے گھولا گیا، آپ نے کھایا اور ہم نے بھی کھایا، پھر آپ مغرب کی نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے کلی کی اور ہم نے  ( بھی )  کلی کی، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
Sunnan Nisai
750
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً، ‏‏‏‏‏‏عَلَيْهُ وَأَنَا أَسْمَعُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْنَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَبِلَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ:‏‏‏‏ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى وَجَعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ نَحْوًا مِنْ ثَلَاثَةِ أَذْرُعٍ .
Narrated Abdullah bin Umar: It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) entered the Ka'bah with Usamah bin Zaid, Bilal and Uthman bin Talha al Hajabi, and locked the door behind him. Abdullah bin Umar said: I asked Bilal when he came out: What did the Messenger of Allah (ﷺ) do? He said: He stood with one pillar to his left, two pillars to his right and three pillars behind him - at that time the House stood on six pillars - and he prayed with approximately three forearm's length between him and the wall.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اسامہ بن زید، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ عنہم چاروں خانہ کعبہ میں داخل ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ بند کر لیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ جب وہ لوگ نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  ( کعبہ کے اندر )  کیا کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھمبا  ( ستون )  اپنے بائیں طرف کیا، دو کھمبے اپنے دائیں طرف، اور تین کھمبے اپنے پیچھے،  ( ان دنوں خانہ کعبہ چھ ستونوں پر تھا )  پھر آپ نے نماز پڑھی، اور اپنے اور دیوار کے درمیان تقریباً تین ہاتھ کا فاصلہ رکھا ۱؎۔
Sunnan Nisai
1096
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ بَصُرَتْ عَيْنَايَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَبِينِهِ وَأَنْفِهِ أَثَرُ الْمَاءِ وَالطِّينِ مِنْ صُبْحِ لَيْلَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ مُخْتَصَرٌ .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said: My two eyes saw the traces of water and mud on the forehead and nose of the Messenger of Allah (ﷺ), from his praying Qiyam on the night of the twenty-first.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری آنکھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ  ( رمضان کی )  اکیسویں رات کی صبح کو آپ کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کا نشان تھا، یہ ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۱؎۔
Sunnan Nisai
1286
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ:‏‏‏‏ أَمَرَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَكَيْفَ نُصَلِّ عَلَيْكَ،‏‏‏‏ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ،‏‏‏‏ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ،‏‏‏‏ وَالسَّلَامُ كَمَا عَلِمْتُمْ .
It was narrated that Abu Mas'ud Al-Ansari siad: The Messenger of Allah (ﷺ) came to us in the Majlis of Sa'd bin 'Ubadah and Bashir bin Sa'd said to him: 'Allah has commanded us to send Salah upon you, O Messenger of Allah; so how should we send salah upon you?' The Messenger of Allah (ﷺ) remained silent until we wished that he had not asked him. Then he said: 'Say: 'Alahumma salli 'ala Muhammad wa 'ala ali Muhammad, kama sallaita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammad kama barakta 'ala ali Ibrahim fil-'alamin, innaka hamidun majid (O Allah, send salah upon Muhammad and upon the family of Muhammad, as You sent salah upon the family of Ibrahim, and send blessings upon Muhammad and upon the family of Muhammad as You sent blessings upon the family of Ibrahim among the nations. You are indeed Worthy of praise, Full of glory.) And the salam is as you know.'
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی بیٹھک میں ہمارے پاس تشریف لائے، تو آپ سے بشر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں آپ پر صلاۃ  ( درود )  بھیجنے کا حکم دیا ہے تو ہم آپ پر کیسے صلاۃ  ( درود )  بھیجیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے یہاں تک کہ ہماری یہ خواہش ہونے لگی کہ کاش انہوں نے آپ سے نہ پوچھا ہوتا، پھر آپ نے فرمایا: کہو «اللہم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على آل إبراهيم وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على آل إبراهيم في العالمين إنك حميد مجيد»  اے اللہ! محمد اور آل محمد پر اسی طرح صلاۃ  ( درود )  بھیج جس طرح تو نے آل ابراہیم پر صلاۃ  ( درود )  بھیجا ہے، اور برکتیں نازل فرما محمد پر اور آل محمد پر اسی طرح جیسے تو نے آل ابراہیم پر تمام عالم میں برکتیں نازل فرمائی ہیں، بلاشبہ تو ہی تعریف اور بزرگی کے لائق ہے ) اور سلام بھیجنا تو تم جانتے ہی ہو ۔
Sunnan Nisai
1578
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ .
It was narrated from Abu Hurairah that: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you say to your companion: 'Be quiet and listen' when the imam is delivering the Khutbah, you have engaged in idle speech.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جب تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو، اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو حرکت کی ۔
Sunnan Nisai
1695
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى .
It was narrated from Abdullah bin 'Umar that: A man asked the Messenger of Allah (ﷺ) about prayer at night and the Messenger of Allah (ﷺ) said: Prayer at night is two by two, then if one of you fears that dawn will break, pray one rak'ah to make the total number that he prayed odd.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز  ( تہجد )  کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  رات کی نماز  ( تہجد )  دو دو رکعت ہے، اور تم میں سے کسی کو جب صبح ہو جانے کا خدشہ ہو تو وہ ایک رکعت اور پڑھ لے یہ جو اس نے پڑھی ہے سب کو وتر ( طاق )  کر دے گی ۔
Sunnan Nisai
1698
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ،‏‏‏‏ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزِيدُ فِي رَمَضَانَ وَلَا غَيْرِهِ عَلَى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي أَرْبَعًا فَلَا تَسْأَلْ عَنْ حُسْنِهِنَّ وَطُولِهِنَّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُصَلِّي ثَلَاثًا قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَتَنَامُ قَبْلَ أَنْ تُوتِرَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ يَا عَائِشَةُ،‏‏‏‏ إِنَّ عَيْنِي تَنَامُ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي .
It was narrated from Abu Salamah bin Abdur-Rahman that : He asked Aishah, the Mother of the Believers, about how the Messenger of Allah (ﷺ) used to pray in Ramadan. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) did not pray more than eleven rak'ahs during Ramadan or at any other time. He would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray four, and do not ask how beautiful or how long they were. Then he would pray three. Aishah said: I said: 'O Messenger of Allah, do you sleep before you pray witr?' He said: 'O Aishah, my eyes sleep but my heart does not.'
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں اور غیر رمضان میں کسی میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے، آپ چار رکعت پڑھتے تو ان کا حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو ۱؎، پھر چار رکعت پڑھتے تو تم ان کا  ( بھی )  حسن اور ان کی طوالت نہ پوچھو، پھر تین رکعت پڑھتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ وتر پڑھنے سے پہلے سوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں، لیکن میرا دل نہیں سوتا  ۲؎۔
Sunnan Nisai
2040
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، ‏‏‏‏‏‏قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ،‏‏‏‏ عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ:‏‏‏‏ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَلَبِسَ ثِيَابَهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ،‏‏‏‏ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي بَرِيرَةَ تَتْبَعُهُ فَتَبِعَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَوَقَفَ فِي أَدْنَاهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقِفَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْصَرَفَ فَسَبَقَتْهُ بَرِيرَةُ فَأَخْبَرَتْنِي، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَذْكُرْ لَهُ شَيْئًا حَتَّى أَصْبَحْتُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ لِأُصَلِّيَ عَلَيْهِمْ .
It was narrated that 'Alqamah bin Abi 'Alqamah, from his mother, that she heard 'Aishah say: The Messenger of Allah got up one night and got dressed, then he went out. I told my slave girl Barirah to follow him, so she followed him until he came to Al-Baqi. Then he stood near if for as long as Allah willed that he should stand, then he left. Barirah came back before he did and told me, but I did not mention anything until morning came, then I mentioned that to him. He said: 'I was sent to the people of Al-Baqi' to pray for them. '
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنا کپڑا پہنا پھر ( باہر ) نکل گئے، تو میں نے اپنی لونڈی بریرہ کو حکم دیا کہ وہ پیچھے پیچھے جائے، چنانچہ وہ آپ کے پیچھے پیچھے گئی یہاں تک کہ آپ مقبرہ بقیع پہنچے، تو اس کے قریب کھڑے رہے جتنی دیر اللہ تعالیٰ نے کھڑا رکھنا چاہا، پھر آپ پلٹے تو بریرہ آپ سے پہلے پلٹ کر آ گئی، اور اس نے مجھے بتایا، لیکن میں نے آپ سے اس کا کوئی ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ صبح کیا، تو میں نے آپ کو ساری باتیں بتائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اہل بقیع کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ میں ان کے حق میں دعا کروں“۔