جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ عمرو رضی اللہ عنہ نے جابیہ میں لوگوں سے خطاب كیا، كہنے لگے: اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میری طرح ایسی ہی جگہ كھڑے ہوئے اور فرمایا: میرے صحابہ سے حسنِ سلوك كرو، پھر ان لوگوں سے كرنا جو ان سے متصل ہوں، پھر ان لوگوں سے جو ان سے متصل ہوں۔ پھر ایسے لوگ آئیں گےجو قسم مانگنےسے پہلے ہی قسم كھائیں گےاورگواہی مانگنے سے پہلے ہی گواہی دیں گے۔تم میں سے جوشخص جنت کی آسائش پسندکرتا ہےوہ جماعت سے چمٹا رہے، كیوں كہ شیطان ایك كے ساتھ ہوتا ہے اور دو سے دور رہتا ہے۔ كوئی شخص كسی عورت سے علیحدگی میں نہ ملے ، كیوں كہ ان میں تیسرا شیطان ہوتا ہے اور جس شخص كو اس كی نیكی خوش كرے اور برائی نا پسند لگے تو وہ مومن ہے۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں( عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے) كہتے ہیں كہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس موجود تھا ، آپ كے پاس ہوازن كے وفود آئے اور كہنے لگے: اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم بال بچوں والے اور خاندان والے ہیں، ہم پر احسان كیجئے اللہ آپ پر احسان كرے گا۔ ہم ایسی مصیبت میں گرفتار ہیں جو آپ پر مخفی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے اموال اور بال بچوں میں سے كسی ایك كو چن لو۔ انہوں نے كہا: آپ نے ہمارے اموال اور اولاد میں اختیار دے دیا ہے، ہم اپنے بیٹے لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اور بنی عبدالمطلب کا حصہ تمہارے لئے ہے۔ جب میں ظہر كی نماز پڑھوں تو تم كہنا: ہم مومنین كے سامنےاپنے بیوی بچوں كے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی سفارش ركھتے ہیں۔ انہوں نے ایسا ہی كیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جو میرے لئے اور بنی عبدالمطلب كے لئے حصہ ہے وہ تمہارا ہوا۔ مہاجرین نے كہا: ہمارا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے لئے ہے۔ انصار نے بھی یہی بات كہی ۔ عیینہ بن بدر نے كہا: میرا اور بنی فزار ہ کا حصہ نہیں۔ اقرع بن حابس نے كہا: میرا اور بنو تمیم كا حصہ بھی نہیں۔ عباس بن مرداس نے كہا: میرا اور بنو سلیم كا حصہ بھی نہیں۔ حیان نے كہا: اس نے جھوٹ بولا ،یہ حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے لئے ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو ! ان کے بیوی بچے ان کو واپس كر دو، جو شخص مالِ فئی میں سے لینا چاہے اس كے لئے مالِ فئی (غنیمت) میں سے جو اللہ تعالیٰ ہمیں دے گا۔ چھ گناہ ہے۔ پھر آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ لوگ آپ سے چمٹ گئے اور كہنے لگے ہمارا حصہ ہم میں تقسیم كریں، یہاں تک کہ آپ كو ایك كیكر كے درخت سے لگادیا، اور آپ كی چادر کانٹوں میں پھنس گئی۔ اچك لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! مجھے میری چادر واپس كر دو، اللہ كی قسم! اگر تہامہ كے درختوں كے برابر بھی تمہارے لئے اونٹ ہوتے تو میں تمہارے درمیان تقسیم كر دیتا ۔ پھر تم مجھے نہ بخیل پاؤ گے، نہ بزدل اور نہ جھوٹا ۔پھر آپ اپنے اونٹ كے قریب ہوئے اور اس كی كوہان سے كچھ بال لے كر اپنی شہادت اور درمیانی انگلیوں میں پكڑے،پھر انہیں بلند كر كے فرمایا: اے لوگو ! میرے لئے اس مالِ غنیمت اور ان بالوں سوائے خمس كے اور خمس کچھ بھی نہیں۔ بھی تم میں واپس لوٹا دیا جائے گا۔ سوئی اور دھاگہ بھی واپس كرو، كیوں كہ خیانت ، قیامت كے دن خیانت كرنے والے كے لے عار ،ذلت اور آگ كا باعث ہوگی
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي الْأَئِمَّةُ الْمُضِلُّونَ .
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنی امت كے بارے میں سب سے زیادہ خوف گمراہ كرنے والے ائمہ (حكام ) كا ہے۔( ) یہ حدیث سیدنا عمر بن خطاب، ابودرداء، ابوذر غفار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان، شداد بن اوس اور علی رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب دو خلیفوں كی بیعت كی جائے تو بعد والے کو قتل کردو۔ یہ حدیث سیدنا ابو سعید، ابوہریرہ، معاویہ بن ابی سفیان، انس بن مالک اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے مروی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3089)، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ، رقم (3444) .
علقمہ بن وائل بن حجر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، ایك آدمی آپ سے سوال كر رہا تھا: اگرہم پر ایسے امراء مقرر ہو جائیں جو ہمارا حق نہ دیں اور اپنا حق (زبردستی) لیں تو آپ كا اس بارے میں كیا خیال ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت كرو، كیوں كہ ان كے ذمے وہ ہے جس كے وہ ذمے دار ہیں اور تمہارے ذمے وہ ہے جس كے تم ذمے دار ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3176)، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب فِي طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ...، رقم (3433) .
عوف بن مالك اشجعی رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہجیر میں خطبہ دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرعوب تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تك میں تمہارے درمیان ہوں میری اطاعت كرو، اور اللہ عزوجل كی كتاب كو مضبوطی سے تھام لو۔ اس كے حلال كو حلال سمجھو اور اس كے حرام كو حرام سمجھو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1472)، أخرجه تمام في الفوائد ( 6 / 111 / 1 - 2 ) .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ دینے كے لئے كھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا: خبردار قریب ہے كہ مجھے بلایا جائے اور میں بلاواقبول كرلوں۔ میرے بعد تمہیں ایسے حكام ملیں گے جو ایسی بات كہیں گے جس كا علم ہوگا اور نیك اعمال كریں گے۔ ان كی اطاعت ہی حقیقی اطاعت ہے۔ تم ایك لمبا عرصہ اسی طرح گزاروگے۔ پھر ان كے بعد تمہیں ایسے حكام ملیں گے جو ایسی بات كہیں گے جس كا علم نہیں ہوگا اور برے اعمال كریں گے۔ جن لوگوں نے ان كی خیر خواہی كی ان كی مدد كی اور انہیں تقویت پہنچائی تو یہ لوگ خود بھی ہلاك ہوں گے اور دوسروں كو بھی برباد كریں گے۔ اپنے جسموں سے ان میں شامل ہو جاؤ لیكن اپے اعمال سے ان كا اثر زائل كردو۔ نیك آدمی كی گواہی دو كہ یہ نیك ہے اور برے آدمی كے بارے میں بھی بتاؤ كہ یہ برا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (475)، المعجم الأوسط للطبراني رقم (7185) .
عبدالرحمن بن شماسہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ كہتے ہیں كہ میں کچھ پوچھنے کے لئے عائشہ رضی اللہ عنہا كے پاس آیا، انہوں نے كہا: تم كن لوگوں سے تعلق ركھتے ہو؟ میں نے كہا: اہل مصر سے تعلق ہے۔ انہوں نے كہا: تمہارے اس معركے میں تم نے اپنے امیر كو كیسا پایا؟ اس مصری نے كہا: ہمیں اس كی كوئی بات بری محسوس نہیں ہوئی، اگر ہم میں سے كسی كا اونٹ مرجاتا تو اسے اونٹ دے دیتا، اگر غلام مر جاتا تو اسے غلام دے دیتا، اگر خرچے كی ضرورت ہوتی تو خرچہ دیتا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا كہنے لگیں: محمد بن ابو بكر(میرے بھائی) نے جو کیا وہ مجھے اس بات سے نہیں روکے گی کہ سے كیا كہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی وہ بات نہ بتاؤں جو آپ نے میرے اس گھر میں كہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ جو شخص میری امت كے كسی معاملے كا والی بنا اور اس نے ان پر سختی كی تو تو بھی اس پر سختی كر اور جو شخص میری امت كے كسی معاملے كا نگران بنا اس نے ان پر نرمی كی تو تو بھی اس پر نرمی كر۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3456)، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِل... ، رقم (3407)
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اللہ تعالیٰ ہر نگران سے اس كی رعایا كے بارے میں سوال كرے گا۔ اس نے رعایا كی حفاظت كی یا اسے ضائع كر دیا۔ حتی كہ آدمی سے اس كے گھر والوں كے بارے میں بھی پوچھا جائے گا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الہثیم سے فرمایا:كیا تمہارا كوئی خادم ہے؟ اس نے كہا:نہیں۔آپ نے فرمایا:جب ہمارے پاس قیدی آئیں تب آنا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس دو قیدی آئے تیسرا ان كے ساتھ نہیں تھا۔ ابو الہیثم آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے پسند كر لو۔ ابو الہیثم نے كہا:اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے پسند كیجئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس سے مشورہ لیا جائے وہ اس كے پاس امانت ہوتا ہے۔ اسےلے لو كیوں كہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیكھاہے اور اس سے اچھا سلوك كرنا۔ اس كی بیوی نے اس سے كہا:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ تم اسے آزاد کردو۔ ابو الہیثم نے كہا:یہ آزاد ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نے كسی نبی یا خلیفہ كو مبعوث كیا تو اس كے دو دوست بنائے، ایك دوست اسے نیكی كا حكم دیتا ہے اور برائی سے روكتا ہے اور دوسرا دوست اس كے نقصان پہنچانے کا کوئی موقعہ خالی نہیں جانے دیتا۔ اور جو شخص برے دوست سے بچا لیا گیا وہ یقینا بچ گیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1641)، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7284)
سالم اپنے والد( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما )سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:آپ منبر پر تھے: اگر تم اس كی امارت میں نكتہ چینی كرتے ہو، (آپ كی مراد اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے)تو اس سے پہلے تم نے اس کے والد كی امارت میں بھی نكتہ چینی كی تھی، اور اللہ كی قسم وہ اس كے لائق تھے اور اللہ كی قسم وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔ اور اللہ كی قسم یہ بھی امارت كے لائق ہے۔ (آپ كی مراد اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے)اور اللہ كی قسم اس كے والد كے بعد یہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ میں تمہیں اس كے بارے میں وصیت(حکم ) كرتا ہوں، كیوں كہ یہ تمہارے نیك لوگوں میں سے ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3496) ، صحيح مسلم،كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَاب فَضَائِلِ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، رقم (4453) .
عوف بن مالك رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگ تم چاہو تو میں تمہیں امارت كے بارے میں بتادوں كہ یہ كیا ہے؟ اس كا پہلا مرحلہ ملامت ہے، اس كا دوسرا مرحلہ ندامت ہے اور اس كا تیسرا مرحلہ قیامت كے دن عذاب ہے ۔سوائے اس شخص كے جس نے انصاف كیا، لیكن اقرباء كی موجودگی میں وہ انصاف كس طرح كر سكتا ہے
حسن رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ ( جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ میں سے تھے)عبیداللہ بن زیاد كے پاس آئے اور كہا:اے بیٹے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنافرما رہے تھے:بدترین نگران ظلم كرنے والے ہیں، تم ان میں شامل ہونے سے بچو۔ عبیداللہ نے اس سے كہا:بیٹھ جاؤ، كیوں كہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابہ كے کچرے (بےکارشخص ہو)میں سے ہو۔عائذنےكہا:كیاان میں کچراتھا؟کچراتوان كےبعداوران كےعلاوہ میں ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2885) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب فَضِيلَةِ الْإِمَامِ الْعَادِلِ ... ، رقم (3411) .
جبیر بن مطعمرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی ، آپ نے اسے حكم دیا كہ وہ دوبارہ آپ كے پاس آئے ۔ اس نے كہا: اگر میں آؤں اور آپ كو نہ پاؤں تو پھر آپ كا كیا خیال ہے؟ وہ آپ کی موت مرادلے رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پاؤ تو پھر ابو بكر رضی اللہ عنہ كے پاس آنا
Takhreej
الصحيحة رقم (3117) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ، بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا...، رقم (3386) .
ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایك گھر كے دروازے پر كھڑے ہوئے جس میں قریش كے كچھ لوگ بیٹھے تھے۔ آپ دروازے كا كواڑ پكڑ كر كھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے: كیا قریش كے علاوہ بھی كوئی گھر میں ہے؟ آپ كو بتایا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہماری بہن كافلاں بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کا بھانجا انہی میں سے ہے، پھر فرمایا: یہ امارت قریش میں ہوگی،جب تك وہ اس بات پر رہیں کہ جب ان سے رحم طلب كیا جائے تو رحم كریں، جب فیصلہ كریں تو انصاف كر یں اور جب تقسیم كریں تو انصاف كریں۔ ان میں سے جس نے ایسا نہیں كیا تو اس پر اللہ كی لعنت، فرشتوں كی اور تمام لوگوں كی لعنت ہے۔ اس سے فرض و نفل قبول نہیں كئے جائیں گے
زہری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ محمد بن جبیر مطعم بیان كرتے ہیں كہ معاویہ رضی اللہ عنہ تك یہ خبر پہنچی(وہ قریش كے وفد میں ان كے ساتھ تھے)كہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما حدیث بیان كرتے ہیں كہ عنقریب كوئی قحطانی بادشاہ ہوگا، معاویہ رضی اللہ عنہ غصے سے كھڑے ہوگئے۔ اللہ كی حمدوثناء بیان كی، پھر كہا: اما بعد! مجھ تك یہ بات پہنچی ہے كہ تم میں سے كچھ آدمی ایسی احادیث بیان كرتے ہیں جو اللہ كی كتاب میں نہیں، نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ تمہارے كم علم لوگ ہیں، گمراہ كن خواہشات سے بچو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: یہ امارت قریش میں رہے گی، جو جب تك قریش اللہ كا دین قائم رکھیں گےان سے دشمنی كرے گا اللہ تعالیٰ اسے چہرے كے بل گرادے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2856) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْمَنَاقِبِ ، بَاب مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ ، رقم (3239)
مقدام بن معدیكرب كندی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ وہ عبادہ بن صامت ابو درداءاور حارث بن معاویہ كندی رضی اللہ عنہم كے پاس بیٹھے یہ صحابہ کرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا ذکر کر رہے تھے۔ ابو درداء نے عبادہ رضی اللہ عنہما سے كہا: عبادہ رضی اللہ عنہ ! فلاں فلاں غزوے میں خمس كے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے الفاظ كس طرح ہیں؟ عبادہ رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایك غزوے میں تقسیم كے اونٹوں كے پہلو میں نماز پڑھائی۔ جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كھڑے ہوگئے۔ اور اونٹ كے بال اپنی انگلیوں میں پكڑ كر كہا: یہ تمہاری غنیمت سے ہے۔ اس میں میرا بھی اتنا حصہ ہے جتنا تمہارا ،سوائے خمس كے اور خمس بھی تم میں واپس كر دیا جائے گا۔ سوئی، دھاگہ ان سے بڑھ كر اور ان سے كم ترسب واپس كر دو، خیانت نہ كرو، كیوں كہ دنیا و آخرت میں خیانت كرنے والے كے لئے آگ اور عار كا باعث ہے۔ اللہ كے راستے میں لوگوں سے دور اور قریب جہاد كرو۔ اللہ كے راستے میں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت كی پرواہ نہ كرو۔ حضرو سفر میں اللہ كی حدود قائم كرو۔ اللہ كے راستے میں جہاد كرو،كیوں كہ جہاد جنت كے دروازوں میں سے عظیم دروازہ ہے۔ اس كی وجہ سے اللہ تبارك و تعالی غم اور پریشانی سے نجات دیتا ہے۔
شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ثقیف كے وفد میں ایك كوڑھی شخص تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس كی طرف پیغام بھیجا كہ ہم نے تجھ سے بیعت لے لی اور اب واپس چلے جاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1968) ، صحيح مسلم ،كِتَاب السَّلَامِ، بَاب اجْتِنَابِ الْمَجْذُومِ وَنَحْوِهِ ، رقم (4138) .
ابو موسیٰرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں میرے دو چچا زاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئے۔ ایك نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ نے آپ كو جو حكمرانی دی ہے اس میں سے ہمیں بھی دیجئے۔ دوسرے نے بھی ایسی ہی بات کہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم كسی ایسے شخص كو ذمہ داری نہیں دیتے جو اس كا مطالبہ كرے، نہ ہی كسی ایسے شخص كو جو اس كی حرص ركھتا ہے