ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زكاۃ وصول کرنے کے لئے بھیجنے کا ارادہ کیا، پھر فرمایا: ابو مسعود جاؤ، میں قیامت كے دن تجھے اس حال میں نہ پاؤں كہ تمہاری گردن پر زكاۃ كا اونٹ ہو جو بلبلا رہا ہو، جسے تم نے خیانت سے حاصل كیا ہو۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے كہا: تب تو میں نہیں جاؤں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں مجبور نہیں كروں گا
Takhreej
الصحيحة رقم (1576) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ، بَاب فِي غُلُولِ الصَّدَقَةِ، رقم (2558)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عنقریب تم امارت كی حرص كرو گے، اور عنقریب قیامت كے دن یہ امارت ندامت (اور حسرت) كا باعث ہوگی۔ اس لئے دودھ پلانے والی اچھی ہوتی ہے اور دودھ چھڑانے والی بری۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2530) ، صحيح البخاري ،كِتَاب الْأَحْكَامِ، بَاب مَا يُكْرَهُ مِنْ الْحِرْصِ عَلَى الْإِمَارَةِ، رقم (6615) .
عبداللہ(بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ عنقریب میرے بعد تمہارے معاملات كے ایسے نگران آئیں گے جو سنت كو ختم كریں گے اور بدعت كو پروان چڑھائیں گے۔ نماز كو ان كے اوقات سے مو خر كریں گے۔ عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ نے كہا: اگر میں انہیں پاؤں تو كیا كروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(اے ام عبد كے بیٹے)جس شخص نے اللہ كی نا فرمانی كی اس کی اطاعت نہیں آپ نے یہ بات تین مرتبہ فرمائی۔
عبداللہ بن بریدہ رحمۃ اللہ علیہ كہتے ہیں كہ میں نے ابو بریدہ رضی اللہ عنہ سے سنا كہہ رہے تھے : ہم نے خیبر كا محاصرہ كیا، ابو بكر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پكڑا لیكن انہیں فتح نہ ملی،دوسرے دن عمررضی اللہ عنہ نے جھنڈا پكڑا لیكن انہیں بھی فتح نہیں ملی اور واپس پلٹ آئے۔ اس دن لوگوں كو سخت مشقت محسوس ہوئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:كل میں ایسے شخص كو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس كے رسول سے محبت كرتا ہوگا اور اللہ اور اس كا رسول اس سے محبت كرتے ہوں گے۔ جب تك فتح نہیں ہوگی وہ واپس نہیں پلٹے گا۔ ہم رات خوش ہو كر سوئے كہ كل فتح ہو جائے گی، جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح كی نماز پڑھائی، پھر كھڑے ہو كر جھنڈا منگوایا ۔ لوگ اپنی صفوں میں تھے، ہم میں سے جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی بھی حد تك قریب تھا وہ امید لگائے ہوئے تھا كہ جھنڈا اسے ملے گا۔ آپ نے علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب كو بلایا ان كی آنكھوں میں تكلیف تھی۔ آپ نے ان كی آنكھوں میں لعاب مبارك ڈالا ان پر ہاتھ پھیرا اور جھنڈا انہیں دے دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح دی۔ میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے خیبر كی طرف پیش قدمی كی۔
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس قریش كے اسی(۸۰)آدمیوں میں تےے،ان میں صرف قریشی ہی تھے۔ اللہ كی قسم میں نے اس دن لوگوں كے چہروں سے زیادہ ہشاش بشاش چہرے نہیں دیكھے۔ انہوں نے عورتوں كا ذكر كیا تو ان كے بارے میں باتیں كرنے لگے۔ آپ بھی ان كے ساتھ شامل ہوگئے حتی كہ میں خواہش كرنے لگا كہ آپ خاموش ہو جائیں۔ پھر میں آپ كے پاس آیا تو آپ نے کلمہ شہادت پڑھا، پھر فرمایا: اما بعد: اے قریش كی جماعت! تم اس امارت كے اہل ہو جب تك تم اللہ كی نا فرمانی نہ كرو گے۔ جب تم اللہ كی نافرمانی كرنے لگ جاؤ گے تو تمہاری طرف ایسے لوگ بھیجے جائیں گے جو تمہیں اس چھڑی کی طرح چھیل دیں گے، آپ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی كی طرف اشارہ كیا ، پھر اسے چھیل دیا تو وہ اندر سے سفید نكلی۔
عرباض بن ساریہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح كی نماز كے بعد ایك فصیح و بلیغ (دلوں تك اثر كرنے والا) وعظ كیا جس سے آنكھیں بہہ پڑیں اور دل ڈر گئے۔ آپ كے صحابہ میں سے ایك آدمی نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو الوداع ہونے والے كی گفتگو ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اللہ كے تقویٰ اور سمع و اطاعت كی وصیت كرتا ہوں اگرچہ تم پر كوئی حبشی غلام ہی كیوں نہ مقرر ہو، كیوں كہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت زیادہ اختلاف دیكھے گا۔ اس لئے تم میرے بعد میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء كا طریقہ لازمی طور پر اختیار كرنا، اسے دانتوں سے مضبوطی سے پكڑ لینا۔(دین میں) نئے كاموں سے بچنا، كیوں كہ ہر نیا كام بدعت ہے ، اور ہر بدعت گمراہی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2735) مسند الشاميين للطبراني رقم (1348) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دین كا ابتدائی حصہ نبوت اور رحمت ہے۔ پھر خلافت اور رحمت ہوگا، پھر بادشاہت او رحمت ہوگا ، پھر اس بادشاہت پر لوگ گدھوں كی طرح ایک دوسرے کو کاٹیں گے ، تب تم پر جہاد لازم ہے، اور افضل جہاد رِبَاطْ (سرحدوں كی حفاظت ) ہے۔ اور افضل رباط عسقلان كا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3270) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10975) .
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے كہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیماری سے نڈھال ہو گئے اور تكلیف بڑھ گئی تو آپ نے اپنی بیویوں سے میرے گھر میں بیماری كے ایام گزارنے كی اجازت لی۔ سب نے آپ كو اجازت ے دی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں كے سہارے زمین پر پاؤں گھسیٹتے ہوئے باہر نكلے۔ عباس رضی اللہ عنہ اور ایك دوسرے شخص كے درمیان ، عبیداللہ نے كہا كہ عبداللہ بن عباسرضی اللہ عنہ نے كہا: جانتے ہو دوسراآدمی كون تھا؟ میں نے كہا: نہیں۔ انہوں نے كہا: وہ علیرضی اللہ عنہ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان كرتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر میں داخل ہوئے اور بخار كی شدت بڑ گئی تو آپ نے فرمایا: مجھ پر سات ایسے مشكیزوں سے پانی ڈالو جن كے منہ نہ كھولے گئے ہوں۔ ممكن ہے میں لوگوں سے عہد لوں، انہیں حفصہ رضی اللہ عنہا كے ٹب میں بٹھایا گیا، پھر ہم ان پر ان مشكیزوں سے پانی ڈالنا شروع ہوئے ،حتی كہ آپ نے ہمیں اشارہ كیا كہ تم نے اپنا كام كر لیا۔ پھر آپ لوگوں كی طرف چلے گئے
Takhreej
الصحيحة رقم (3304) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْوُضُوء، بَاب الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ ... ، رقم (191) .
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّمَا رَاعٍ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَغَشَّهَا فَهُوَ فِي النَّارِ .
معقل بن یساررضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كوئی بھی شخص رعایا كا نگران بنا اور اس نے ان سے دھوكہ كیا تو وہ آگ میں جائے گا۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم نے تنگی ،آسانی ،پسند، نا پسند، ہم پر ترجیح كے باوجود سمع و اطاعت پر بیعت کی، اور اس بات پر كہ ہم یہ امارت اس كے اہل لوگوں سے نہیں چھینیں گے( سوائے اس صورت میں كہ ہم كفر بواح(ظاہری كفر) دیكھیں اور تار رے پاس اللہ کی طرف سے واضح دلیل ہو) اور اس بات پر كہ ہم جہاں كہیں بھی ہوں حق كہیں گے۔ اللہ كے بارے میں كسی ملامت كرنے والے كی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3418) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ ... ، رقم (3426) .
جابر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مكہ میں دس سال قیام كیا۔ عكاظ اور مجنۃ میں لوگوں كے گھروں اور دوكانوں پر اور حج كے موسم میں منی جاتے اور فرماتے : كون مجھے پناہ دے گا؟ كون میری مدد كرے گا؟ تاكہ میں اپنے رب كا پیغام پہنچاؤں ، اور اس شخص كے لئے بدلے میں جنت ہے۔ صورتحال یہ تھی كہ اگر كوئی آدمی یمن سے یا مضر قبیلے کا آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم كی قوم كے لوگ اس سے كہتے: قریش كے جوان سے بچنا كہیں وہ تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گلیوں سے گزرتے تو لوگ انگلیوں سے اشارے كرتے، آخر كار اللہ تعالیٰ نے ہمیں یثرب سے آپ طرف بھیجا۔ ہم نے آپ كو پناہ دی اور آپ كی تصدیق كی، ہم میں سے كوئی آدمی آپ كی طرف آتا تو آپ پر ایمان لے آتا۔ آپ اسے قرآن پڑھاتے، وہ واپس پلٹ آتا تو اس كے گھر والے اس کے اسلام لانے كی وجہ سے اسلام لے آتے، حتی كہ انصار كا كوئی گھر ایسا نہ بچا جس میں مسلمان نہ ہوں اور اسلام كا اظہار نہ كرتے ہوں۔ پھر سب نے مشورہ كیا ہم كب تك رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو مكے كے پہاڑوں میں ٹھوكریں كھانے كے لئے چھوڑے ركھیں گے؟ اور آپ خوف كی حالت میں كب تك رہیں گے؟ پھر ہم میں سے ستر آدمی آپ كے پاس گئے اور موسم حج میں آپ كے پاس آئے۔ ہم نے آپ سے عقبہ كی گھاٹی میں ملنے كا وعدہ كیا۔ ہم ایك ایك دو دو كر كے سارے كے سارے آپ كے پاس جمع ہو گئے۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ كی بیعت كرنا چاہتے ہیں آپ نے فرمایا: چستی اور كاہلی میں سمع واطاعت پر ، تنگی اور آسانی میں خرچ كرنے، پر نیكی كا حكم كرنے اور برائی سے منع كرنے پر میری بیعت کرو، اور اللہ كے بارے میں حق بات كہنے ،كسی ملامت كرنے والے كی ملامت سے نہ ڈرنے ، اور میری مدد كرنے، اور جب میں تمہارے پاس آؤں تو جس چیز سے اپنے آپ اپنی بیویوں اور بچوں كی حفاظت كرتے ہو میری بھی حفاظت كرنے پر مجھ سے بیعت كرو تو تمہارے لئے جنت ہے۔ ہم آپ كی طرف اٹھ كر گئے اور آپ كی بیعت كرنے لگے، ابن زرارہرضی اللہ عنہ نے آپ كا ہاتھ پكڑ كر كہا: جو ہم میں سے سب سے چھوٹے تھے، اے یثرب والو ! ذرا ٹھہرو، ہم نے یہ سفر اس لئے كیا ہے كہ ہم جانتے ہیں كہ آپ اللہ كے رسول ہیں، انہیں آج كے دن نكالنا تمام عرب سے جدائی ہے، تمہارے بہترین لوگوں كا قتل ہے، اور تمہیں تلواریں كاٹیں گی، اگر تم ان مصیبتوں پر صبر كرو گے تو تمہار اجر اللہ كے ذمے ہے اور اگر تمہیں اپنی جانوں كا خوف لاحق ہوگیا ہے تو یہ بات بیان كر دو، اللہ كے ہاں یہ تمہارا عذر ہوگا۔ وہ كہنے لگے: سعد رضی اللہ عنہ !ہمارے معاملے میں مت بولو، ہم كبھی بھی یہ بیعت نہیں چھوڑیں گے، نہ ہی ان سے ہاتھ كھینچیں گے۔ پھر ہم كھڑے ہو كر آپ كی بیعت كرنے لگے، آپ نے ہم سے بیعت اور شرط لی اور اس پر ہمیں جنت كا وعدہ دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3418) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب وُجُوبِ طَاعَةِ الْأُمَرَاءِ ... ، رقم (3426) .
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا)كہ: آؤ مجھ سے بیعت كرو كہ تم اللہ كے ساتھ كسی كو شریك نہ كرو گے، چوری نہ كرو گے، زنا نہ كرو گے، اپنی اولاد كو قتل نہ كرو گے، كسی پر بہتان نہ لگاؤ گے، نیكی كے كام میں میری نا فرمانی نہ كرو گے، جس شخص نے بیعت كو پورا كیا اس كا اجر اللہ كے ذمے ہے۔اور جس شخص نے ان میں سے كسی گناہ كا ارتكارب كیا اور دنیا میں اسے سزا دی گئی تو یہ اس كے لئے كفارہ ہے، اور جس شخص نے ان میں سے كسی گناہ كا ارتكاب كیا اور اللہ تعالیٰ نے اس كی پردہ پوشی كی تو اس كا معاملہ اللہ كے ذمے ہے، چاہے تو سزا دے اور چاہے تو معاف كر دے
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم ایك مسجد میں بیٹھے تھے۔ بشیر رضی اللہ عنہ ایسا شخص تھا جو اپنی حدیث یاد رکھتے ۔ ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور كہنے لگے بشیر بن سعد! كیا تمہیں امراءكے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی حدیث یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے كہا:مجھے آپ كا خطبہ اچھی طرح یاد ہے۔ ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے۔ حذیفہ كہنے لگے كہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تك اللہ چاہے گا كہ تم میں نبوت رہے تو نبوت رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔ پھر نبوت كے طریقے پر خلافت ہوگی، جب تك اللہ چاہے گا خلافت رہے گی، پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا۔ پھرظلم والی بادشاہت آجائے گی جب تك اللہ چاہے گا یہ بادشاہت رہے گی، جب اللہ تعالیٰ اسے اٹھانا چاہے گا اٹھالے گا، پھرسرکشی والی بادشاہت ہوگی جب تك اللہ چاہے گا یہ رہے گی، پھر جب اسے اٹھانا چاہے گا اٹھا لے گا، پھر نبوت كے منہج پر خلافت ہوگی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے۔
عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک شخص پر ہجوم کی صورت میں آؤ گے جس نے دھاری دار چادر اوڑھ رکھی ہو گی وہ لوگوں سے بیعت کرے گا اور جنتی ہوگا ۔عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر ہم عثمان بن عفانرضی اللہ عنہ کے پاس ہجوم کی صورت میں آئے وہ دھاری دار چادر اوڑھے ہوئے تھے ور لوگوں سے بیعت لے رہے تھے۔عبد اللہ نے کہا :یعنی خرید و فروخت
Takhreej
الصحيحة رقم (3118) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (4514) .
عن سَلْمَان رضی اللہ عنہ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ثلاثةٌ لَايدخلونَ الجنَّةَ: الشّيخُ الزّانِي، والإِمامُ الكذّابُ، والعائلُ المَزْهُوُّ
سلمان رضی اللہ عنہ كہتےہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:تین شخص جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔بوڑھا زانی،جھوٹاحكمران اورمتکبرفقیر۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3461) ، مسند البزار رقم (6/493/2529) .
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین بندے ایسے ہیں جن كی دعا اللہ تعالیٰ رد نہیں فرماتے : اللہ كا بہت زیادہ ذكر كرنے والا، مظلوم كی بددعا، اور عادل حكمران كی دعا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3374) ، مسند البزار رقم (4/39/3140) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین بندے ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت كے دن بات نہیں کرے گا ۔ نہ ان كی طرف دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاك كرے گا اور ان كے لئے درد ناك عذاب ہے۔ وہ شخص جس كے پاس بیابان جنگل میں زائد پانی تھا لیكن اس نے مسافر كو نہیں دیا، وہ شخص جس نے عصر كے بعد كسی شخص كو كوئی چیز فروخت كی، اس نے اللہ كی قسم كھائی كہ اس نے فلاں فلاں قیمت میں یہ چیز لی ہے اور خریدنے والے نے اسے صحیح سمجھا ، لیكن معاملہ اس كے برعكس تھا۔ اور وہ شخص جس نے حاكم كی بیعت صرف دنیا حاصل كرنے كے لئے كی، اگر اسے دیتا ہے تو وفا كرتا ہے اور اگر نہیں دیتا تو بد عہدی كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3621) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب بَيَانِ غِلَظِ تَحْرِيمِ ...، رقم (157) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیبر كی طرف) نكلے ۔ آپ نے سباع بن عرفطہ رضی اللہ عنہ كو مدینے كا عارضی نگران بنایا۔میں ہجرت كرتے ہوئے مدینے آیا میں نے صبح كی نماز سباع كے پیچھے پڑھی،(تو انہوں نے پہلی ركعت میں كھیعص اور دوسری ركعت میں ویل للمطففین پڑھی، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نمازمیں سوچ رہا تھا : ابو فلاں كے لئے ہلاكت ہو، اس كے دو پیمانے ہیں ،جب كسی سے لیتا ہے تو پورا تولتا ہے اور جب كسی كو دیتا ہے تو كم تولتا ہے۔ جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو سباع كے پاس آئے انہوں نے ہمیں تھوڑا سا سامان سفر دے دیا اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ (تب تک) خیبر فتح ہوچکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے بات کی تو انہوں نے ہمیں بھی (مال غنیمت) حصے میں شریک کرلیا
Takhreej
الصحيحة رقم (2965) ، مسند أحمد رقم ( 2 / 345 - 346 ) .
عوف بن مالك اشجعیرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تمہارے بہترین حكمران وہ ہیں جن سے تم بھی محبت كرتے ہو اور وہ بھی تم سے محبت كرتے ہیں ، وہ تمہارے لئے دعائیں كرتے ہیں اور تم ان كے لئے دعائیں كرتے ہو۔ اور تمہارے بدترین حكمران وہ ہیں جن سے تم نفرت كرتے ہو اور وہ تم سے نفرت كرتے ہیں،تم ان پر لعنت كرتے اور وہ تم پر لعنت كرتے ہیں۔ كہا گیا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم كیا ہم تلوار كے ذریعے ان سے امارت نہ چھین لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، جب تك وہ نماز قائم كریں۔ جب تم اپنے حكمرانوں كی طرف سے كوئی نا پسندیدہ معاملہ دیكھو تو اس كے عمل كو نا پسند كرو اور اس كی اطاعت سے ہاتھ نہ كھینچو
Takhreej
الصحيحة رقم (907) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِمَارَةِ، بَاب خِيَارِ الْأَئِمَّةِ وَشِرَارِهِمْ ، رقم (3447) .